سيرت النبی ﷺ
ايمان ِ جناب ابو طالب
فہد حارث
جناب ابو طالب کے ایمان کے لیے میں وہی بات کرونگا جو سیدنا عباس بن عبدالمطلب سے سیدنا عمر نے اس وقت فرمائی تھی جب فتح مکہ سے ایک دو روز قبل سیدنا عباس سیدنا ابوسفیان کو اپنی معیت میں معافی کی خواستگاری کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر جارہے تھے اور سیدنا عمر نے حمیت اسلام میں سیدنا ابو سفیان کو قتل کرنے کی بات کی تھی جس پر سیدنا عباس نے ناراض ہوکر فرمایا تھا کہ اگر ابو سفیان کا تعلق بنو عبد مناف کے بجائے بنو عدی سے ہوتا تو میں دیکھتا کہ تم کیسے ان کو قتل کرنے کی بات کرتے جس پر سیدنا عمر نے فرمایا تھا کہ واللہ مجھے اپنے والد خطاب کے ایمان لانے کی اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی آپ (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) کے ایمان لانے کی ہوئی تھی ۔
تو پس اگر جناب ابو طالب کا ایمان ثابت ہوجائے تو ہمارے لیے نہایت خوشی کی بات ہوگی کہ ابو طالب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ سن رسیدہ چچا ہیں جو خاندانی حمیت اور یتیم بھتیجے کی محبت میں ہمیشہ دشمنان اسلام کے خلاف اسکی ڈھال بننے کی کوشش کرتے اور جنھوں نے بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دن کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاندانی عصبیت سے محروم نہ رہنا دیا اور انکو بنو عبدالمطلب کی مکمل حمیت و حفاظت میں رکھا۔
زبیر بن عبدالمطلب کی وفات کے بعد چونکہ جناب ابو طالب کے سر پر بنو ہاشم کی سرداری کا تاج آپڑا تھا، پس ابو طالب نے قریش کے عام دستور کے مطابق اپنے منصب کی لاج رکھی اور سگے بھتیجے سے اختلاف مذہب کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کی خاندانی حمیت و عصبیت کے تحت قریش کے انتقامانہ برتاؤ سے حتی الامکان بچاتے رہے۔
تاہم یہاں ایک نکتہ جو عموماً ابو طالب کی حمایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے یا پھر اسکا ذکر ہی نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ قریش کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہاشمی حمیت و عصبیت کو بطور ڈھال استعمال کرنے میں صرف ابو طالب ممتاز نہ تھے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی دو چچا یعنی حمزہ اور عباس ابنائے عبدالمطلب جو بعد ازاں ایمان کی دولت سے بھی بہرہ ور ہوئے وہ بھی بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے دن سے ہی قریش کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بنے کھڑے رہے تھے حتی کہ سیدنا حمزہ کے قبول اسلام کا اولین محرک بھی اپنے بھتیجے کے لیے یہی محبت و حمیت تھی اور سیدنا حمزہ ہی تھے جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محبت و حمایت اور پشت پناہی اس قدر واضح اور زور آور تھی کہ مکے میں اسلام کو پہلی شوکت اور قریش کے مظالم کے خلاف مسلمانوں کے حالات بہتر ہونے کی پہلی کرن سیدنا حمزہ کے قبول اسلام کے بعد ہی نصیب ہوئی تھی۔جبکہ سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ نے اگرچہ فتحِ مکہ سے پہلے تک ظاہراً اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، لیکن ہجرت سے قبل کئی نہایت اہم مواقع پر وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ، آپ کے محافظ اور مددگار کی حیثیت سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ واقعہ بیعتِ عقبہ ثانیہ ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے منیٰ میں پیش آیا۔ جب مدینہ کے 73 مرد اور 2 عورتیں رسول اللہ ﷺ سے خفیہ بیعت کر رہے تھے تو سیدنا عباسؓ اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے انصاریوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:"محمد ﷺ ہماری قوم میں عزت اور حفاظت سے ہیں، اگر تم ان کی حفاظت نہ کر سکو تو ابھی صاف بتا دو۔"
یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ صرف ابو طالب ہی نہیں سیدنا عباس بھی بعثت کے بعد سے رسول ﷺ کے سرپرست اور خاندانی محافظ کی حیثیت سے ساتھ کھڑے تھے۔اسی طرح شعبِ بنی ہاشم کے محاصرے کے وقت جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا سماجی و معاشی بائیکاٹ کیا تو ابو طالب کی طرح حمزہ و عباس بھی اس تین سالہ محاصرے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شعبِ بنی ہاشم میں محصور سختیاں جھیلتے رہے۔ سیدنا عباس کی بابت تو سیرت نویس یہ بھی لکھتے ہیں کہ چچا عباس رات کو سوتے ہوئے بعض اوقات رسول ﷺ سے اپنی جگہ بدل دیتے تاکہ اگر حملہ ہو تو پہلے خود نشانہ بنیں۔ بعینہ جب رسول اللہ ﷺ سفر طائف سے زخمی حالت میں واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ میں داخلہ ایک بڑا خطرہ تھا۔ بعض روایات کے مطابق اس موقع پر سیدنا عباسؓ نے پسِ پردہ مکہ کے سرداروں سے رابطوں میں کردار ادا کیا تاکہ آپ ﷺ کو امان مل سکے۔ آخرکار مطعم بن عدی کی امان کے تحت آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔
اسی طرح تاریخی روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی سیدنا عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور پشت پناہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور مکہ میں رہ کر قریش کی سازشوں اور منصوبوں کی خبریں رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر انہیں رسول ﷺ نے "مکہ میں ہمارا آدمی" کے الفاظ سے مخاطب کیا تھا-پس طائف کے سفر سے واپسی پر سرداران مکہ سے مذاکرات کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ داخلے پر پناہ و امان کو یقینی بنانا ہو یا بیعت عقبہ ثانیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ رہنا ہو یا پھر شعب بنی ہاشم کی سختیاں جھیلنا ہوں یا پھر ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں قریش کی اندرونی سرگرمیوں پر مطلع کرنا ہو، ہمیں ہر جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب نظر آتے ہیں۔ پس قریش کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کی خاندانی حمیت اور حصار کے تحت محفوظ رکھنے میں صرف ایک چچا ابو طالب ہی ممتاز نہ تھے بلکہ سیدنا حمزہ و عباس بھی اس سلسلے میں کسی صورت ابو طالب سے پیچھے نظر نہیں آتے۔ البتہ اس سلسلے میں ابو طالب کا نام جو نمایاں نظر آتا ہے تو وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ بعثت کے وقت ابو طالب بنو ہاشم کے سردار تھے جس سبب سے قریش قبائلی نظام کے تحت پابند تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر شکایت لیکر ابو طالب کے پاس حاضر ہوں۔ پس ابو طالب نے بطور سردار بنو ہاشم اپنے عہدے کی پاسداری اور بھتیجے سے محبت کمال خوبی سے نبھائی اور اپنے جیتے جی حتی الامکان کوشش کی کہ سربراہ خاندان ہونے کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھرپور تحفظ و حمیت فراہم کریں۔جبکہ دوسری جگہ سیدنا حمزہ و عباس یہ کام بغیر کسی مستقل قبائلی و خاندانی عہدے کی پاسداری کے محض اپنے بھتیجے کی محبت اور خاندان بنو ہاشم کا فرد ہونے کی حیثیت سے مسلسل سرانجام دیتے رہے۔تاہم ان دونوں اعمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ و عباس کو جناب ابو طالب پر یہ ابدی و ناجی تفوق حاصل ہوگیا کہ ان دونوں نے اس دین کو قبول کرلیا جس کی تبلیغ کے "جرم" میں قریش کی طرف سے ملنے والی ایذا رسانیوں کے خلاف یہ اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری زندگی تحفظ فراہم کرتے رہے جبکہ دوسری جگہ ابو طالب نے اسی مشرکانہ مذہب پر جان دینے کو ترجیح دی جس کے ماننے والوں کی شر پسندی اور انتقامی کارروائیوں سے خود ابو طالب بوقت ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بن جایا کرتے تھے۔
پس جہاں جناب ابو طالب بستر مرگ پر قریش کے عار دلانے کے خوف سے "عبدالمطلب کے دین پر" کے الفاظ کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کرتے ہیں وہیں سیدنا حمزہ اسی قریش کے مشرکین کے خلاف "اللہ کے دین کی حفاظت" میں شہادت کا درجہ پاتے ہوئے جنت کی نعمتوں سے مالا مال ہوجاتے ہیں۔ پس یاد رکھیے کہ قریش کی ایذارسانیوں اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف صرف ابو طالب ہی نہیں بلکہ باقی دونوں چچا حمزہ و عباس بھی ہر ہر موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت و تحفظ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
یقین جانیے اگر سیدنا عباس و حمزہ کی طرح جناب ابو طالب بھی ایمان لے آتے تو ان کے ایمان پر بھی ایسی ہی دلی مسرت و راحت محسوس ہوتی جیسا کہ سیدنا عباس و حمزہ کے اسلام پر ہوتی ہے۔ ابو طالب تو نہایت ہی نجیب و شریف اور بلند کردار انسان تھے، اللہ اگر ابو لہب جیسے شرپسند اور اذیت دینے والے چچا کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرمادیتا تو یقیناً وہ بھی ہمارے سر کا تاج بن جاتا اور اسکا ایمان ہماری دینی راحت کا سبب ہوتا۔
میری دل سے دعا ہے کہ روز قیامت ایمان ابو طالب کے لاطائل مباحث کچھ یوں حل ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیق چچا ابو طالب کا ایمان حقیقت ٹھہرے تاہم فیصلہ کی گھڑی کے آنے تک ہم سب اپنے اپنے علم کے تحت اس بابت اپنی اپنی رائے رکھنے کے مجاز ہیں اور فی الحال تو ایمان ابو طالب کی بابت اہلسنت کے سواد اعظم کا موقف ہی دلائل کی دنیا میں زیادہ وزنی محسوس ہوتا ہے۔ واللہ اعلم