جنرل رانی، طلسم ہوشربا

مصنف : سردار محمد چودھری

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : ستمبر 2025

پاكستانيات

جنرل رانی، طلسم ہوشربا

سردار محمد چودھری ،سابق آئی جی پنجاب

اقلیم اختر کو جسے جنرل یحییٰ خان کی قریب ترین دوست ہونے کے باعث عام طور پر جنرل رانی کے نام سے پکارا جاتا تھا، بھٹو کے برسراقتدار آنے کے بعد گجرات میں نظر بند کر دیا گیا۔ ایک ٹیم نے جو ڈی ایس پی رائے شاہد اور انسپکٹر ملک محمد وارث پر مشتمل تھی میری نگرانی میں 23 دن تک اس سے پوچھ گچھ کی تھی۔

وہ پولیس انسپکٹر رضا کی بیوی تھی اور گجرات سے تعلق رکھتی تھی۔ یحیی خان اور جنرل رانی کے مابین تعلقات اس وقت قائم ہوئے جب یحیی خان نے سیالکوٹ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے سی ایم ایچ کا دورہ کیا جہاں وہ زیر علاج تھی۔ ان کی دوستی میں جلد ہی بے تکلفی اور اعتماد بڑھ گیا۔ یحیی خان ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت بھی ہیلی کاپٹر پر اس کے گھر جاتا رہا جب وہ گجرات کے نزدیک چھمب جوڑیاں سیکٹر کا انچارج تھا۔ ایک دن یحیی خان داد عیش دینے کی غرض سے اس کے پاس گیا تو وہ ایک دوسرے ڈی ایس پی مخدوم کے ساتھ رنگ رلیاں منارہی تھی۔ شراب کے نشہ میں دھت مخدوم یحیی خان کو دیکھ کر اس قدر مشتعل ہوا کہ اس نے اپنے سرکاری پستول سے جنرل رانی کے خفیہ اعضا پر گولیاں ماریں۔ فائرنگ کی آواز سن کر یحیی خان ڈر گیا اور اپنے ہیلی کاپٹر پر واپس بھاگ گیا۔ رانی نے مخدوم کے آئندہ غیظ و غضب سے بچنے کے لیے اپنی نوخیز لڑکی اس کے عقد میں دے دی۔ مخدوم بعد ازاں عادی نشئی بن گیا اور انتہائی عبرت انگیز انجام سے دو چار ہوا۔

جنرل رانی کے پاس یحیی خان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں معلومات کا طومار تھا۔ اسکے بقول یحیی خان نے نومبر 1968ء میں اس وقت سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی تھی جب ایوب خاں کے خلاف احتجاجی تحریک میں شدت پیدا ہوئی۔ وہ فوج کے تقریبا ہر اہم آدمی کو جانتی تھی اور جرنیلوں کی رنگ رلیوں سمگلنگ زراندوزی اور دیگر کرتوتوں پر منی بہت سی کہانیوں سے واقف تھی۔میجر جنرل خداداد کے ڈپٹی مارشل لا ایڈ منسٹریٹو لاہور بننے کے بعد جنرل رانی اور مذکورہ جنرل نے مارشل لا کے نفاذ اور یحییٰ خان سے قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت جمع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ رفیق سہگل کو جوان دنوں سہگل گروپ آف انڈسٹریز کے سربراہ تھے ایک سودے کی پیشکش کی گئی۔ اگلے دن سہگل نے فلیٹیز ہوٹل میں رانی سے ملاقات کی اور اسے 10 لاکھ روپے کے علاوہ نئی ٹیوٹا کار پیش کی ۔ سہگل کے روانہ ہوتے ہی جنرل خداداد رانی کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے کار رانی کو دے دی اور رقم خود لے کر چمیت ہو گیا۔

رانی نے جرنیلوں، سیاستدانوں اور سینئر افسروں کے ساتھ میل ملاپ کے نتیجہ میں بے پناہ دولت اکٹھی کر لی تھی۔ جنرل یحیی خان کے برسراقتدار آنے کے بعد گجرات کے ایک مشہور سیاستدان نے اسے چھ ہزار روپے ماہوار الاؤنس دینا شروع کر دیا۔ میرے افسر بالا شیخ محمد اکرم ڈی آئی جی سپشل برانچ (پنجاب) کے بھی اس کے ساتھ بڑے گہرے مراسم تھے۔ جب انہوں نے میری رپورٹ میں اپنا نام اورسرگرمیوں کی تفصیل پڑھی تو بہت غضب ناک ہوئے۔رانی نے بتایا کہ وہ ناگہانی طور پر رفیق سہگل کے عشق میں گرفتار ہو گئی تھی کیونکہ وہ انتہائی خوب صورت تھے۔ تا ہم سہگل نے اس کی پیش قدمیوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ انہیں اس کی دلچسپ سزا بھگتنی پڑی۔ ایک دن پشاور کے گورنر ہاؤس میں ایک پارٹی کے دوران رانی نے یحییٰ خان سے شکایت کی کہ:" آغاجی رفیق سہگل میرے نال محبت نئی کردا۔"یحیی خان نے گورنر ہاؤس کے نگران کو طلب کر کے اس سے پوچھا کہ ” جب ملکہ الز بتھ اپنےدورے کے دوران یہاں آئی تھیں تو کون سے کمرے میں سوئی تھیں ؟ نگران نے کمرہ کی نشاندہی کی۔ اس پر جنرل یحیی خان نے جو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی تھارفیق سہگل کو حکم دیا کہ:آج رات تم مارشل لا احکام کے تحت اسی کمرے میں اس کے ساتھ سوؤ گے۔رفیق اس حکم کی تعمیل سے انکار کی جرات نہیں کر سکے۔اس کے بعد یحییٰ خان رانی سے مخاطب ہوا۔ لگا دیا گیا۔موٹی تم اس کے پیچھے جاؤ ۔ خدا حافظ-رانی رفیق کے پیچھے روانہ ہوگئی اور دونوں کے داخل ہو جانے کے بعد کمرے کو باہر سے تالا-رانی نے پوچھ کچھ کرنے والوں کو بتایا کہ ایک بار کراچی میں قیام کے دوران شاہ ایران کو روانہ ہونے میں خاصی تاخیر ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یحیی خان گورنر ہاؤس میں اپنی خوابگاہ سے باہر نہیں آ رہا تھا۔ پروٹوکول کے حوالے سے بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا لیکن کوئی بھی صدر کی خواب گاہ میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔ آخر کار ملٹری سیکرٹری جنرل اسحاق نے رانی سے درخواست کی کہ وہ اندر جائے اور صدر کو باہر لائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ملک کی ایک مشہور ترین گلوکارہ کو صدرکے ساتھ رنگ رلیاں مناتے پایا۔ خود رانی کو اس منظر سے بڑی کراہت محسوس ہوئی۔ اس نے کپڑے پہننے میں صدر کی مدد کی اور بدقت تمام اسے باہر لائی۔..رانی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جنرل یحییٰ خان کے شیخ مجیب کے ساتھ اس وقت سے تعلقات تھے جب اس نے زمام اقتدار بھی نہیں سنبھالی تھی۔ ایک رات کو وہ یحیی خان کے پہلو میں تھی جب شیخ مجیب اچانک کمرے میں آگئے۔ وہ گھبرا کر اور کسی قدر خوفزدہ ہو کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ مجیب جو گول میز کانفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ ایک گھنٹہ تک جنرل کے ساتھ رہے۔ ان کے چلےجانے کے بعد رانی نے یحیی خان سے کہا:

آغا جی! آپ کو اس آدمی سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اس کے ساتھ ملاقات خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ صدر کو پتہ چل گیا تو وہ ناراض ہوں گے۔تم فکر نہ کرو موٹی یحیی نے جواب دیا۔ایوب خان ختم ہو چکا ہے۔ اب تم حکومت کرو گی ۔ لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا۔ یہ ایک خفیہ معاملہ ہے۔رانی نے مزید بتایا کہ 1960ء میں راولپنڈی کلب کی ایک محفل میں اس کی ملاقات بھٹو سے ہوئی جہاں اس کا کزن تجمل حسین بھی موجود تھا۔ بعد میں وہ پارٹی فلشمین ہوٹل منتقل ہوگئی جہاں بھٹو اور تجمل حسین میں اس بات پر لڑائی ہوئی کہ رانی نے بھٹو کو لفٹ کیوں کرائی۔ رانی نے کہا کہ بھٹو نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا لیکن تجمل نے سارا کھیل خراب کر دیا۔ رانی کے بقول بھٹو بعد میں اس کی بھابھی کو ترجیح دینے لگے اور رانی کو رقابت کی آگ میں جلنے کے لیے چھوڑ دیا۔

اقلیم اختر کی بابت میری رپورٹ حمود الرحمن کمیشن کے سامنے بھی پیش کی گئی جب کمیشن نے یحیی خان سے رانی کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا،میں اس خاندان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب میرے والد آغا سعادت علی کی بطور ایس پی گجرات میں پوسٹنگ ہوئی۔ یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ رانی میری بہن کی طرح ہے-