نعت رسول كريم
ملتا ہے ترے در پہ تمنا سے زیادہ
ہے کم سے بھی کم بھیک ،زیادہ سے زیادہ
ہے عشق ترا باعثِ تسکینِ دو عالم
کچھ بھی نہیں اِس نعمتِ تنہا سے زیادہ
ہر ذرّہ ضیا پائے تری چشمِ کرم سے
دنیا میں ترا نور ہے دنیا سے زیادہ
جس خاک میں روشن ہے ترا نورِ مجسّم
ہے اس کی دمک عرشِ معلّیٰ سے زیادہ
قرآں کی ضیا، لوح کا خط، کُن کی صدا تُو
تُو لفظ میں ہے لفظ کے معنیٰ سے زیادہ
یا عشق بلالی سا ہو یا عشق اویسی
صحرا سے زیادہ کبھی دریا سے زیادہ
سرکار کی قربت میں نہیں نجم کوئی بھی
حسنین و علی، فاطمہ زہرا سے زیادہ
نجم سہروردی