شاعری
خالد علیگ کے اشعار
موتی تو نہیں تھے کوئی پلکوں سے جو چنتا---ہم آنکھ سے ٹپکے ہوۓ آنسو کی طرح تھے
اگر چہ خود کو سمجھنے میں اک زمانہ لگا---برا کہا بھی کسی نے تو پھر برا نہ لگا
دنیا نے تو ہر موڑ پہ سو دام بچھائے---ہم تیرے خیالوں کی طرح ہاتھ نہ آئے
حرم سے دور ہی کتنا ہے میکدہ خالد---اب آ گیا ہوں ادھر، تو اُدھر بھی ہو لوں میں
ہم جوگی بھوکے پیار کے ہیں ہمیں اور کسی سے کیا لینا--دو میٹھے بول محبت کے پھر ڈھیروں ڈھیر دعا دینا
اس فصلِ گل میں دل پہ جو خالد گزر گئی---اب اس کے بعد نام نہ لینا بہار کا
اچھا چلو صحرائے لق و دق ہی سہی ہم---صحرا پہ جو برسے وہ گھٹا تم بھی نہیں ہو
لازم ہے گفتگو میں سلیقے سے اختلاف---یہ کیا ضرور آپ سے تم تم سے تو کریں
سو گیا آخرِ شب تھک کے تمنا کا خمار---چاند بھی پچھلے پہر نیند میں ڈوبا نکلا
میں نے اُن آنکھوں میں دیکھا ہے خمارِ تشنگی--دیکھنے والوں نے جن آنکھوں کو میخانہ کہا
آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں--جو آپ چاہتے ہیں وہی چاہتا ہوں میں
ہر چند کہ اس کی سے تپش تو نہ تھی ہم میں--سورج کے اُجالے کی طرح عام رہے ہم
وہ چراغِ بزمِ وفا ہوں میں جسے بزم نے یہ صلا دیا--سرِ شام مجھ کو جلا دیا سرِ صبح مجھ کو بجھا دیا
خود اپنی روح میں دل میں نظر میں اترا تھا--سراب تھا کہ سمندر سفر میں اترا تھا
کلیاں کھلیں، پھوار پڑی، پھول ہنس پڑے--تھا تذکرہ چمن میں تمھارے شباب کا
آپ سے چھوٹے تو گویا چھٹ گیا سارا جہاں--زندگی میں زندگی سے دور ہو کر رہ گئے
دستِ ساقی میں جام شراب آ گیا--روشنی ہو گئی آفتاب آ گیا
چلا ہوں پھر اسی محفل میں ڈھونڈنے دل کو--اُمید تو نہیں تا ہم تلاش کرتا ہوں
یہ شب،یہ چاند، یہ موجِ رواں،یہ تختہء گل--چلے بھی آؤ کہ ان سب کی زندگی کم ہے
پلکوں میں چھپا لیں نہ کہیں چاہنے والے--تم پھول ہو یوں خار کے سائے میں نہ بیٹھو
تیری عطا کے تصدق تیرے کرم کے نثار--میرا جواب میرے دستِ بے سوال میں ہے
کپکپاتے ہونٹ، اکھڑتی سانس ،پتھرائی نظر--زندگی یوں مسکرائی موت بھی شرما گئ
کھنچے کھنچے جو یہ رہتی ہو ماجرا کیا ہے--تمہی کہو که یہ آخر تمہیں ہوا کیا ہے
ترکِ تعلقات کا تم سے گله نہیں--تم سے تو میری جان شکایت کچھ اور ہے
ذرہ ذرہ درد کا حامل نظر آیا مجھے--ان کے پہلو میں بھی اپنا دل نظر آیا مجھے
میں بھلا کر چکا ہوں تیرے ساتھ--تو میرا اجر دے برائی دے
اک جاں ہے سو وہ بھی وار دیں گے--اک دل تھا سو ان پہ وار آئے
اے دوست اب حدودِ وفا میں نہ کر تلاش--دیوانہ اس مقام سے آگے نکل گیا
نکلے تھے اک ذرا تیری زلفوں کی چھاؤں سے--محسوس یہ ہوا کہ بڑی تیز دھوپ ہے
سیل غم فراق نے دونوں چراغ گل کیے--کتنا بجھا بجھا ہوں میں کتنی تھکی تھکی ہے تو
دل بھول گیا تیرے تبسم کی ادا تک--غم لکھا تھا قسمت میں خدا جانے کہاں کا
یقیناً اس سے بھی پہلے که تیری آرزو کرتے--یہ لازم تھا کے کچھ دن ہم خود اپنی جستجو کرتے
جتنے مثلاً آپ کے گیسو ہیں پریشان--دنیا نے تو اتنا بھی سنوارا نہیں ہم کو
تم نے کن ہاتھوں کو توڑا کاش تم بھی جانتے--تھے انہی ہاتھوں سے تم پر پھول برسانے کو ہم