فكر ونظر
عورت كی كمائی اور بركت
عاصم اللہ بخش
"عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی" ۔۔۔ یہ فقرہ ان دنوں فیس بک مباحث میں کافی رش لے رہا ہے۔ بالخصوص خواتین اس جملے سے بہت خفا ہیں۔ عرض یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ پر آپ کوئی بھی رائے رکھ سکتے ہیں، اور یہ آپ کا حق ہے، تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ بات کا سیاق و سباق بھی معلوم ہو تاکہ یہ علم ہو سکے کہ جس چٹھی کا ہم اس شدومد سے جواب دے رہے ہیں وہ ہمارے لیے ہے بھی یا نہیں۔اصل بات یہ ہے یہ بات خواتین کے لیے نہیں، مردوں کے لیے کہی گئی ہے۔ مردوں کو کہا گیا ہے کہ کمائی کی ذمہ داری ان کی ہے، اور انہیں ہی اسے نبھانا ہے۔ یہ نہیں کہ خود گھر پر بیکار پڑے اینٹھتے رہیں اور خاتون کو کام کرنے پر لگا دیا جائے۔ اگر خواتين بغیر کسی مناسب وجہ کے کام کریں گی یا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو پورا گھرانہ اس کا نقصان اٹھائے گا۔ خاتونِ خانہ کے گھر نہ رہنے سے گھر کا سب نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پیسے سے جو سکون آپ حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ گھر کا ڈسپلن خراب ہونے اور اولاد کی تربیت میں کمی رہ جانے سے ختم ہو کر رہ جائے گا۔ لڑائی جھگڑے جو بڑھیں گے، وہ الگ۔
عورت کی اولین ذمہ داری اس کا گھر ہے اور اس سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ پیسے بھی کمائے۔ (ضرورت اور مجبوری ایک الگ باب ہے اور عموم کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا)۔