فكر ونظر
بر صغيری اسلام، ايك ٹایم بم
فہد حارث
برصغیری معاشرہ مذہبی انتہا پسندی کے زیرِ اثر ایک چلتا پھرتا ٹائم بم بن چکا ہے، جہاں کسی کی زبان سے معمولی سی لغزش پر اس پر توہینِ مذہب، توہینِ رسالت اور گستاخی صحابہ کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔بے شک ایک مسلمان کو اپنے دین کے لیے حساس ہونا چاہیئے لیکن اس حساسیت کی ڈومین کیا ہوگی یہ چیز ہمیں اسوۂ صحابہ سے سیکھنی ہوگی کیونکہ بہرحال ان سے زیادہ نہ کوئی دین کے لیے حساس ہوسکتا ہے اور نہ رسول اللہﷺ کی عصمت و عفت کے لیے۔
ہمارے ہاں تو مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے عمومی آراء دیدی جاتی ہیں کہ نبیﷺ کی مخالفت کرنے والا، آپﷺ کی کسی رائے سے اختلاف کرنے والا وغیرہ وغیرہ واجب القتل ہے، کا فر ہے اور جانے کیا کیا ہے۔
صحابہ نبیﷺ پر ہمہ وقت اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے لیکن ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ
۱۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفارِ قریش کے مطالبے پر نبیﷺ نے جب سیدنا علی کو صلحنامہ پر سے رسول اللہﷺ منھا کرنے کو کہا تو سیدنا علیؓ نے نبیﷺ کا حکم ماننے سے صاف انکار کردیا لیکن اس وقت کسی صحابی نے اٹھ کر سیدنا علیؓ پر توہینِ رسالت کا فتویٰ نہیں لگایا۔
۲۔ یہی نہیں بلکہ صلح حدیبیہ کی شرائط پر سوائے ابو بکر اور دو تین اور صحابہ کے تمام ۱۴۰۰ کے قریب صحابہ نے دل میں کجی محسوس کی حتیٰ کہ سیدنا عمر نے تو کسی قدر نبیﷺ کے سامنے تلخ کلامی اور غصہ کا اظہار تک کردیا لیکن صحابہ توکجا خود اللہ نے اس بات کو نہ کفر جانا بلکہ الٹا اس صلح میں شامل حضرات کو جنت کی بشارت دیدی۔
۳۔جناب مغیث سیدہ بریرہؓ کے عشق میں روتے جاتے تھے، حتیٰ کہ ان کی یہ حالت دیکھ کر نبیﷺ نے سیدہ بریرہؓ سے ان کی سفارش کی کہ مغیث کو اپنالو لیکن سیدہ بریرہؓ نے یہ کہتے ہوئے انکارکردیا کہ اگر آپ کی سفارش وحی کے تابع ہے تو میں اسے ماننے کی پابند ہوں اور اگر آپ کی ذاتی رائے ہے تو میں اپنے فیصلے پر قائم رہونگی۔ سوچئے آج کا کوئی مسلمان ہوتا تو شاید سیدہ بریرہؓ کی اس "زبان درازی" پر انکا سر ہی دھڑ سے الگ کردیتا۔
۴۔ پھر غزوۂ حنین والے واقعہ کو کون بھول سکتا ہے جہاں انصار نے مالِ غنیمت میں سے وافر حصہ قریش کو دینے پر اعتراض کرتے ہوئے طنزاً کہا تھا کہ مصیبت میں ہم کام آئیں، پناہ دیں، تلواریں چلائیں (او کما قالوا) اور مال قریش لے جائیں۔ بجائے اس "گستاخی اور طنز "کرنے پر انصار پر بے ادبی رسولﷺ کا فتویٰ لگایا جاتا، نبیﷺ نے بنفسِ نفیس جاکر انصار کی دلجوئی کرتے ہیں۔
۵۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب دو مواقع پر نبیﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو سالار لشکر بنایا تو بہت سے صحابہ نے اس پر اعتراض کیا لیکن ان کے اس اعتراض کو نہ نبیﷺ نے اور نہ ہم عصر صحابہ نے منافی ایمان یا گستاخی جانا۔
۶۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اوس بن صامت اور خولہ بنت ثعلبہ کے ظہار والے واقعہ میں جب نبیﷺ طلاق واقعہ ہونے کی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو خولہ بنت ثعلبہ باقاعدہ دلیل و حجت کرتیں اور آپﷺ سے جھگڑتی ہیں حتی کہ قرآن تک نے سیدہ خولہ کے لیے نبیﷺ سے جھگڑنے کے الفاظ یعنی "تجادلک" استعمال کیے لیکن کبھی یہ نہیں سمجھا گیا کہ یہ چیز توہين رسولﷺ تھی۔
۷۔ چشم تصور میں لائیے کہ پاکستانی معاشرے میں اگر نبیﷺ موجود ہوتے اور ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے پر سیدنا علیؓ پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فاطمہ کو طلاق دینے کی بات کرتے، تو قوی امکان تھا کہ کوئی منچلا اٹھ کر نبیﷺ کو "اذیت دینے کے جرم میں "سیدنا علیؓ کی گردن اڑا کر عاشقانِ رسول میں اپنا نام لکھوا چکا ہوتا۔
خیر ایسی کئی مثالیں دورِ نبویﷺ سے دی جاسکتی ہیں، جہاں الفاظ اور رویوں کا نہیں نیتوں اور مزاجوں کا اعتبار کیا گیا۔ یہی وجہ رہی کہ دورِ خیر القرون میں مذہب کے نام پر تشدد پسندی کبھی رواج نہ پاسکی۔
لیکن برصغیری معاشرے میں مذہب کو سب سے حساس، کمزور اور ہر وقت خطرے میں رہنے والی چیز بنادیا گیا ہے جہاں دین کے معاملے میں غلو نے حساسیت کو تشدد پسندی سے جوڑا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ نبیﷺ کے لیے موت (مات) کے لفظ پر ذاکر نائیک پر توہینِ رسالت کے فتوی لگاکر واجب القتل قرار دیا گیا تو کبھی توہینِ رسالت کے قانون کی غیر شرعی و غیر قانونی شقوں پر تنقید کرنے پر سلمان تاثیر کو "جہنم" پہنچا کر "ممتاز قادری" کو جنت پہنچادیا گیا۔ کبھی سری لنکن مینیجر کو مار دیا جاتا ہے تو کبھی کسی وہابی کو قرآن کے پھٹے اوراق کو بے ادبی سے بچانے کے لیے جلانے پر، اس کو ہی بے ادبی قرار دیکر "جہنم واصل کردیا جاتا ہے"۔
حیرت تو اس امر پر ہوتی ہے کہ آپ دنیا کےتمام اسلامی ممالک گھوم جائیے، سیکولر سے سیکولر مسلم ملک دیکھ لیجئے، ملائیشیا اور لبنان جیسے مسلم مالک کی سیر کر آئیے جہاں مسلمان ۵۵ فیصد اور غیر مسلم آبادی ۴۵ فیصد ہے، ان ملکوں میں آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گا کہ کوئی غیر مسلم کبھی نبیﷺ کی توہین کامرتکب ہو، لیکن پاکستان جہاں مسلمانوں کی آبادی ۹۷ فیصد ہے، جہاں مذہبی طبقہ حکومتوں کے مقابلے میں اپنا اثرورسوخ رکھتا ہے، وہاں آئے دن غیر مسلم توہینِ رسالت کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔کورونا کے زمانے میں خلیجی ممالک سے لیکر انڈونیشیا، ملائیشیا، ازبکستان، مراکش، اردن وغیرہ تک میں مساجد کو مکمل بند کردیا گیااور کھولا تو بھرپور ایس او پیز کےساتھ لیکن وہاں آپ کو کبھی سننے کو نہ ملا کہ کورونا مسلمانوں کو مسجد سے دور رکھنے کی سازش ہے یا پھر مساجد کو بند کرنے سے اسلام خطرے میں پڑرہا ہے، البتہ پاکستان میں یہ صدائے بازگشت بارہا سنائی دی جاتی رہی اور مساجد کو بند ہونے نہ دیا گیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اسلام کو خطرہ برصغیر "میں" نہیں بلکہ برصغیر "سے" ہے۔