بسيار خوری اور تكاثر

مصنف : سليم زمان خان

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : دسمبر 2025

فكر ونظر

بسيار خوری اور تكاثر

سليم زمان خان

الہامی کتب نے ہمیشہ انسان کو بڑے گناہوں جیسے قتل، چوری اور جھوٹ سے خبردار کیا ہے۔ لیکن بائبل اور قرآن نے ایک ایسے رویے پر بھی شدید ضرب لگائی ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے مگر درحقیقت معاشروں کی تباہی، غربت اور روحانی انتشار کا باعث بنتا ہے—یہ ہے حد سے بڑھی ہوئی ہوس، جس کی ایک شکل بسیار خوری ہے۔

انسان کی فطرت میں ایک عجیب اور کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ شامل ہے—"مزید حاصل کرنے کی دوڑ"۔ یہ ہوس صرف دولت یا طاقت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ زندگی کی معمولی ضروریات، جیسے کھانے پینے، میں بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ جب یہ خواہش اعتدال کی حد پار کر کے بے لگام ہو جاتی ہے تو الہامی تعلیمات اسے ایک روحانی بیماری یا اخلاقی کمزوری قرار دیتی ہیں۔

۔ پیٹو پن: جب جسمانی لذت ہی معبود بن جائے

عیسائی روایت اور بائبل میں، اس حد سے بڑھی ہوئی کھانے پینے کی خواہش اور لالچ کو "پیٹو پن" (Gluttony) کہا گیا ہے۔ بائبل اسے ایک ایسی اخلاقی کمزوری مانتی ہے جو انسان کو ضبطِ نفس ("Self-control") سے دور کر کے صرف جسمانی لذت کا پجاری بنا دیتی ہے۔ یہ صرف زیادہ کھانے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ ضرورت سے زیادہ خواہش اور اعتدال کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

بائبل کی کتاب امثال ("Proverbs") میں اسے واضح طور پر غربت اور سستی کا باعث قرار دیا گیا ہے: رسول( پال) نے اس سے خبردار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کیونکہ شرابی اور پیٹو غریب ہو جائیں گے" ("امثال 23: 21")۔ نئے عہد نامے میں، فلپیوں کے نام خط میں، رسول پال نے اُن لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جن کا "معبود اُن کا پیٹ ہے" ("فلپیوں 3: 19")۔ پیٹو پن دراصل خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بجائے نفسانی خواہشات کو زندگی کا محور بنا لینا ہے، جو کہ ایک طرح کی روحانی بت پرستی ہے۔

۔ سورہ التکاثر: دنیاوی ہوس کا وسیع جال اور قبر کا انجام

اسلامی تناظر میں، قرآن مجید کی سورہ التکاثر ("کثرت کی ہوس") اس پیٹو پن کے روحانی اور سماجی پہلو کو مزید وسیع دائرے میں بے نقاب کرتی ہے۔ یہ سورت انسان کی اُس نفسیات کو نشانہ بناتی ہے جس میں وہ مال و دولت، اولاد، جاہ و منصب اور عیش و عشرت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی لامتناہی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ پیٹو پن اسی تکاثر کی ایک شکل ہے، جہاں انسان اپنے جسم اور اس کی لذتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا انتباہ ہے:"الہٰکُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2)"

> ترجمہ: "تمہیں کثرت کی چاہ نے غافل کر دیا (1) یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ (2)"

یہ مبارک آیات اس ہوس کے وقتی اور عارضی ہونے کو بیان کرتی ہیں جو انسان کو اس کے روحانی فرائض اور "آخرت کی تیاری" سے یکسر غافل کر دیتی ہے۔ یہ تکاثر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی ہر دوڑ، ہر فخر اور ہر کثرت، قبر میں پہنچتے ہی بے معنی ہو جائے گی۔ وہ لوگ تباہی کے راستے پر ہیں جو دنیا کی چند روزہ لذتوں کو دائمی حقیقت پر فوقیت دیتے ہیں۔

۔ اسوۂ رسولؐ: اعتدال، کم خوری اور قناعت کا عملی معیار

ان تمام ہوس اور غفلت کا سب سے خوبصورت، سادہ اور عملی حل ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سُنت میں موجود ہے۔ آپؐ کی ذاتِ اقدس سادگی، اعتدال اور میانہ روی کا سب سے بڑا عملی نمونہ ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپؐ کی زندگی کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، بلکہ اکثر فاقہ رکھا۔" یہ گواہی واضح کرتی ہے کہ کم خوری اور اعتدال آپؐ کی زندگی کا مستقل معمول تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، آپ کی وفات تک، آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتیں بھی مسلسل گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔"(​صحیح مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کم خوری اور معدے کو خالی رکھنے کے حوالے سے ایک ایسا طبی اور روحانی اصول عطا فرمایا جو پیٹو پن اور جسمانی خواہشات کی بندگی کا بہترین توڑ ہے۔

المقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"کسی آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے تو چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے۔" ("سنن ترمذی: 2380")

یہ نبوی رہنمائی ایک مکمل دستور ہے جو پیٹو پن کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ کھانے کا مقصد صرف جسم کو اللہ کی بندگی کے لیے طاقت دینا ہے، نہ کہ پیٹ کو مکمل بھر کر اسے سستی، غفلت اور دنیاوی ہوس کا مرکز بنانا۔

خلاصہ: بسیار خوری اور تکاثر کا حتمی علاج

بسیار خوری اور تکاثر کی دوہری لعنت کا حتمی علاج قناعت اور نبوی اعتدال میں پوشیدہ ہے۔ حقیقی اطمینان اور کامیابی نہ تو خوب سیر ہو کر کھانے میں ہے اور نہ ہی دنیاوی چیزوں کو جمع کرنے میں۔ بلکہ وہ شکر گزاری، میانہ روی اور اعتدال میں ہے۔

ہمیں اس کثرت کی دوڑ سے باہر نکل کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سادگی اور اعتدال کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا میں صحت مند اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔