دين و دانش
الحاد کے اسباب، اعتراضات، اور جوابات
طفيل ہاشمی
الحاد (Atheism) ایک فکری و نظریاتی رویہ ہے جس میں انسان خدا کے وجود کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا کسی بھی مذہبی عقائد کو رد کر دیتا ہے۔ الحاد کے کئی اسباب ہوتے ہیں اور ملحدین کے اسلام پر مختلف اعتراضات ہوتے ہیں، جن کے عقلی، سائنسی اور دینی جوابات موجود ہیں۔
1. الحاد کے اسباب -الحاد اختیار کرنے کے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
(1) سائنسی و عقلی وجوہات
میکانکی کائنات کا تصور: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس نے کائنات کے ارتقاء اور وجود کی وضاحت کر دی ہے، لہٰذا خدا کے تصور کی ضرورت نہیں رہی۔
ڈارون کا نظریۂ ارتقاء: بعض ملحدین نظریۂ ارتقاء (Theory of Evolution) کو مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ زندگی خودبخود ارتقائی مراحل سے گزری ہے، جس میں خدا کا کوئی کردار نہیں۔
دلیلِ شر (Problem of Evil): بہت سے لوگ دنیا میں ظلم، قدرتی آفات اور تکلیفوں کو دیکھ کر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو وہ ظلم و شر کو کیوں ہونے دیتا ہے؟
(2) نفسیاتی و جذباتی وجوہات
مذہبی شخصیات یا اداروں کی بدعملی: بعض لوگ مذہبی رہنماؤں کی بدعنوانیوں، شدت پسندی، یا دوہرے معیار کی وجہ سے مذہب سے بدظن ہو جاتے ہیں۔
ذاتی صدمات: بعض افراد کو بچپن میں ایسے صدمات پہنچتے ہیں (مثلاً کسی عزیز کی ناگہانی موت یا کسی مذہبی ادارے میں بدسلوکی) کہ وہ خدا کے وجود پر شک کرنے لگتے ہیں۔
(3) سماجی و فلسفیانہ وجوہات
مغربی فلسفہ اور سیکولرازم: مغربی الحادی فلسفے، جیسے کہ نطشے (Nietzsche)، ڈیوڈ ہیوم (David Hume)، کارل مارکس (Karl Marx)، اور برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) کے نظریات بعض لوگوں کو مذہب سے دور کر دیتے ہیں۔
مادیت پرستی (Materialism): بعض لوگ صرف محسوس چیزوں پر یقین رکھتے ہیں اور ہر چیز کو طبعی قوانین (Natural Laws) کے تحت دیکھتے ہیں۔
2. اسلام پر الحادی اعتراضات اور ان کے جوابات
(1) خدا کے وجود پر اعتراض
اعتراض: اگر خدا موجود ہے تو اس کا واضح ثبوت کیا ہے؟
جواب:کائناتی دلیل (Cosmological Argument): ہر مخلوق کا کوئی خالق ہوتا ہے، اور کائنات بھی کسی سبب کے بغیر خودبخود وجود میں نہیں آسکتی، لہٰذا ایک اعلیٰ خالق (God) کا ہونا لازم ہے۔
طبعیاتی دلیل (Fine-Tuning Argument): کائنات میں بے شمار قوانین، جیسے کہ کششِ ثقل، روشنی کی رفتار، اور ایٹمی طاقت، انتہائی دقیق انداز میں طے شدہ ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی ذی شعور ہستی کے بنائے گئے ہیں۔
عقلی دلیل (Ontological Argument): خدا سب سے اعلیٰ اور کامل ہستی ہے، اور کامل ہستی کا وجود ہی اس کی حقیقت کا ثبوت ہے۔
(2) شر اور تکالیف کا مسئلہ
اعتراض: اگر خدا رحیم و کریم ہے تو دنیا میں ظلم، بیماری، اور مصیبتیں کیوں ہیں؟
جواب :امتحان کا نظریہ: دنیا انسان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ مشکلات اور مصائب انسان کے ایمان کو جانچنے کے ذرائع ہیں۔ (القرآن، 2:155)
آزاد ارادہ (Free Will): خدا نے انسان کو آزادی دی ہے، اور انسان اپنی آزادی کے تحت اچھے یا برے اعمال کرتا ہے۔ ظلم خدا کا پیدا کردہ نہیں، بلکہ انسان کا کیا دھرا ہے۔
عظیم تر مقصد: بعض شرور ایسے ہوتے ہیں جن کے پیچھے بڑے مقاصد ہوتے ہیں، مثلاً ایک ڈاکٹر کسی مریض کا آپریشن کرتا ہے، جو وقتی تکلیف دیتا ہے لیکن صحت یابی کا باعث بنتا ہے۔
(3) اسلام اور سائنس
اعتراض: اسلام سائنسی ترقی کے خلاف ہے؟
جواب :قرآن اور سائنس: قرآن کئی سائنسی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے کہ کائنات کی تخلیق (Big Bang Theory)، جنین کی تشکیل (Embryology)، اور پانی کی زندگی کے لیے بنیادی ضرورت۔
اسلامی تاریخ: مسلم سائنسدان جیسے ابن الہیثم (Optics)، الرازی (Medicine)، ابن سینا (Philosophy & Medicine)، اور الخوارزمی (Mathematics) نے سائنسی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
(4) قرآن اور انسانی حقوق
اعتراض: اسلام میں خواتین، غیر مسلموں، اور غلاموں کے حقوق محدود ہیں؟
جواب :عورتوں کے حقوق: اسلام نے خواتین کو جائیداد کا حق، تعلیم، اور معاشرتی عزت دی جبکہ دیگر مذاہب میں انہیں یہ حقوق حاصل نہ تھے۔ (النساء 4:7)
غیر مسلموں کے حقوق: اسلام تمام مذاہب کے ساتھ حسنِ سلوک اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جو کسی غیر مسلم پر ظلم کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دوں گا۔" (ابو داؤد)
غلامی: اسلام نے غلامی کو مکمل ختم کرنے کا نظام دیا، جیسے کہ غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب (البلد 90:13) اور مساوات کا درس۔
(5) مذہب کی ضرورت
اعتراض: مذہب کے بغیر بھی اخلاقیات ممکن ہیں، تو پھر اسلام کی ضرورت کیوں؟
جواب :مذہب اور اخلاقیات: مذہب ایک ایسا اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد ایک اعلیٰ مقصد پر ہوتی ہے، جبکہ الحاد میں اخلاقیات ایک وقتی مفاد یا معاشرتی معاہدے پر مبنی ہو سکتی ہیں، جو وقت اور حالات کے مطابق بدل سکتی ہیں۔
روحانی تسکین: مذہب انسان کو ایک مقصد، سکون، اور امید فراہم کرتا ہے، جو خالص مادیت پرستی میں نہیں ملتی۔
آخرت کا تصور: اسلام نیک اعمال پر اجر اور برے اعمال پر سزا کا ایک مستقل اور عقلی نظام پیش کرتا ہے، جو انسانی معاشرت میں انصاف کے اصول کو مضبوط کرتا ہے۔