اسماعليی مذہب، بوہرہ مذہب

مصنف : خالد قيوم تنولی

سلسلہ : مذاہب عالم

شمارہ : مارچ 2025

مذاہب عالم

اسماعليی مذہب، بوہرہ مذہب

خالد قيوم تنولی

اسماعیلی فرقہ شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے، جو امام جعفر صادق ؒ کے بعد امامت کے مسئلے پر اختلاف کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ شیعہ اثنا عشریہ کے مطابق، امام جعفر صادق (رح) کے بعد ان کے بیٹے امام موسیٰ کاظم (رح) کو امامت ملی، لیکن کچھ افراد نے امام جعفر صادق کے بڑے بیٹے اسماعیلؒ کی نسل میں امامت کو مان لیا، جس سے اسماعیلی فرقہ کی بنیاد پڑی۔اسماعیل کی امام جعفر صادق کی زندگی میں ہی وفات ہو گئی تھی، لیکن ان کے ماننے والوں نے کہا کہ امامت انہیں ہی ملنی چاہیے تھی اور ان کے بعد ان کی نسل میں جاری رہنی چاہیے۔ ان کو شروعات میں ”شش امامی“ اور ”واقفیہ“ بھی کہا جاتا رہا۔ اس طرح اسماعیلی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی، اور اسماعیلی خود کو اہلِ بیت کے حقیقی پیروکار سمجھتے ہیں۔

فاطمی خلافت (909ء - 1171ء)

اسماعیلی تاریخ کا سب سے اہم دور فاطمی خلافت کا قیام ہے، جسے عبیدی خلافت بھی کہا جاتا ہے۔فاطمی خلافت کا قیام :اسماعیلی داعیوں نے نوویں صدی میں شمالی افریقہ میں ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا، اور سن 909ء میں عبید اللہ المہدی اللہ نے شمالی افریقہ کے علاقے موجودہ تیونس میں فاطمی خلافت کی بنیاد رکھی۔ وہ خود کو اہلِ بیت کی نسل سے بتاتے تھے۔

مصر میں فاطمی خلافت :969ء میں فاطمی خلیفہ المعز الدین اللہ کے دور میں مصر فتح ہوا، اور فاطمی حکومت کا دارالحکومت تیونس سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔ جامعۃ الازہر کی بنیاد بھی اسی خلافت میں رکھی گئی، جو آج بھی دنیا کی معروف اسلامی درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

فاطمی خلفاء اور ان کے کارنامے :

المعز الدین اللہ (953-975ء): مصر کی فتح اور قاہرہ کا قیام

الحاکم بامر اللہ (996-1021ء): متنازع اصلاحات اور مذہبی عقائد میں تبدیلیاں

المستنصر باللہ (1036-1094ء): اسماعیلی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ حکمرانی، جس کے بعد فرقہ بندی ہوئی۔

اسماعیلی فرقے کی تقسیم: نزاری اور مستعلوی :

1094ء میں فاطمی خلیفہ المستنصر باللہ کی وفات کے بعد اسماعیلی دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے:

1. نزاری اسماعیلی: وہ گروہ جو المستنصر کے بڑے بیٹے نزار کو امام مانتا تھا۔ اختلاف امامت کے بعد یہ گروہ ایران منتقل ہو گیا تھا۔

2. مستعلوی اسماعیلی: وہ گروہ جو المستنصر کے چھوٹے بیٹے مستعلی کو امام مانتا تھا۔ یہ گروہ مصر سے یمن چلا گیا تھا۔

مستعلوی اسماعیلی بعد میں "بوہری" کہلائے، جبکہ نزاری اسماعیلی "آغا خانی" کہلائے۔ یہ بوہری بھی کچھ عرصہ بعد تقسیم ہو گۓ اور ایک جماعت داؤدی بوہری اور دوسری سلیمانی بوہری کہلائی-

نزاری اسماعیلی اور حسن بن صباح (حشاشین تحریک) :نزاری اسماعیلیوں نے مصر سے نکل کر ایران اور شام میں اپنی تحریک جاری رکھی۔ حسن بن صباح، جو ایک مشہور نزاری داعی تھا، نے قلعہ الموت (موجودہ ایران) کو نزاریوں کا مرکز بنایا اور ایک خفیہ جنگجو گروہ "حشاشین" کی بنیاد رکھی، جو سیاسی قتل و غارت گری کے لیے مشہور ہوا جنہوں نے سنی مکتبہ فکر کے علما و آئمہ کے علاوہ سلجوکی ، ترک اور عرب حکومتوں کی نمایاں سیاسی شخصیات پر کامیاب قاتلانہ حملے کیے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس سے قبل ان سے امن کا معاہدہ  بھی کیا تھا۔

مصر میں فاطمی (اسماعیلی) خلافت کا خاتمہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا جبکہ 1256ء میں منگول حکمران ہلاکو خان نے قلعہ الموت پر حملہ کر کے نزاریوں کا اقتدار ختم کر دیا، اور نزاری اسماعیلی چھپ کر اپنی تحریک جاری رکھنے پر مجبور ہو گئے۔

آغا خانی سلسلہ اور جدید نزاری اسماعیلی :

نزاری اسماعیلی قیادت کئی صدیوں تک ایران میں رہی۔ 19ویں صدی میں ایران کے قاجاری حکمرانوں نے ان کے امام حسن علی شاہ کو "آغا خان" کا لقب دیا۔ بعد میں آغا خان اوّل نے ایران میں بغاوت کی اور شکست کھانے کے بعد سندھ اور پھر بمبئی منتقل ہو گئے، جہاں انہیں برطانوی حکومت کی حمایت حاصل ہوئی۔

جدید دور کے آغا خان :

آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ، 1885-1957ء):

تحریک پاکستان کے حامی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ابتدائی رہنماؤں میں شامل۔

تعلیم، صحت، اور فلاحی کاموں میں سرگرم عمل۔

آغا خان چہارم (پرنس کریم آغا خان، 1957) :

اسماعیلی امامت کے موجودہ امام جو 4 فروری کو پرتگال میں انتقال کر گئے۔ انھیں بیس برس کی عمر میں امامت کی وراثت ملی تھی۔ مغربی طرزِ زندگی اپنانے والے اور ترقیاتی منصوبوں میں فعال

مستعلوی اسماعیلی (بوہری فرقہ)

فاطمی خلافت کے خاتمے کے بعد مستعلوی اسماعیلیوں نے یمن اور ہندوستان میں اپنا مرکز بنایا۔ ان کے اندر بھی دو شاخیں بن گئیں:

1. داؤدی بوہرہ:

ان کا مرکز بھارت کے شہر سورت میں ہے۔ان کے داعی موجودہ دور میں سیدنا مفضل سیف الدین ہیں جو سابق پیشوا برہان الدین کے فرزند ہیں۔ نماز، روزہ، اور دیگر اسلامی احکام کی سختی سے پیروی کرتے ہیں۔

2. سلیمانی بوہرہ: ان کا مرکز یمن میں ہے، اور جنوبی ہندوستان میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کے داعی یمن میں قیام پذیر ہیں۔

اسماعیلی عقائد :

اسماعیلی عقائد میں دیگر اسلامی فرقوں سے چند بنیادی فرق پائے جاتے ہیں:

1. امامت کا تصور:اسماعیلی ، اپنے حاضر امام کو اللہ کا نائب سمجھتے ہیں، جو روحانی اور دنیاوی قیادت کا حقدار ہوتا ہے۔

2. باطنی اور ظاہری شریعت: نزاری اسماعیلی بعض ظاہری شرعی احکام اور ارکان كے بارے باطنی تاویلات اور جواز دیتے ہیں۔

3. نماز کا منفرد طریقہ :

آغا خانی اسماعیلی روایتی اسلامی نماز کے بجائے اپنی عبادات میں امام کی تعلیمات کو اہمیت دیتے ہیں۔ روزہ ، زکاة اور حج کے ضمن میں بھی ان کے عقاٸد معروف اسلامی احکامات سے صریح متضاد ہیں۔

4. معاد جسمانی کا انکار :

بعض اسماعیلی گروہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور اسے ایک روحانی حقیقت مانتے ہیں۔

اسماعیلی فرقہ کی تاریخ طویل اور متنوع ہے، جس میں سیاسی عروج و زوال، فرقہ بندی، اور عقائد میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ آج، اسماعیلی تین بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں:

1. نزاری اسماعیلی (آغا خانی)

2. مستعلوی اسماعیلی (بوہری)

3. دروزی (جو لبنان اور شام میں موجود ایک شاخ ہے)

بوہری فرقہ عمومی طور پر اسلامی روایات کی پیروی کرتا ہے تاہم یہ تینوں گروہ اپنے فرقے کی تبلیغ نہیں کرتے اور نہ کسی کو خود میں ضم ہونے دیتے ہیں۔ یہ تصور انھوں نے یہودیت سے مستعار لیا ھے کہ کوٸی بھی دوسرے مذہب کا پیروکار یہودیت قبول نہیں کر سکتا۔ دنیا بھر میں ان کی مجموعی تعداد محتاط اندازے کے مطابق بارہ ملین ھے۔

آغا خان فیملی :

آغا خان“ دراصل ایران کی قاچاری حکومت کی طرف سے لقب تھا جو پرنس کریم، آغا خان چہارم کے پڑدادا کو عطا کیا گیا تھا۔ چوتھے آغا خانی امام پرنس کریم 04 فروری 2025 کو 88 سال کی عمر میں پرتگال کے شہر لزبن میں انتقال کرگئے۔ آپ نزاری اسماعیلی فرقے کے 49 ویں امام تھے جنہیں روایات سے ہٹ کر انکے دادا سر سلطان آغا خان کے بعد 20 سال کی عمر میں امامت منتقل ہوئی، جبکہ انکے والد (علی کریم) کو امامت کا عہدہ نہیں مل سکا تھا۔ پرنس کریم آغا خان نے اپنی پوری زندگی سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں گزاری البتہ وہ پاکستان، وسطی ایشیا، افریقہ سمیت مختلف ممالک میں رفاہی منصوبوں کی سرپرستی اور بسا اوقات دورہ جات کرتے رہے۔ پاکستان میں شاہ کریم آغا خان کو فلاح و بہبود کے منصوبوں اور صحت و تعلیم کے شعبے میں پراجیکٹس کیوجہ سے خاص شہرت حاصل ہے، آغاخان ہیلتھ سروسز، آغاخان ہسپتال و یونیورسٹی، اور آغا خان ہایئر سیکنڈری سکولز ان میں سر فہرست ہیں۔ ڈویلپمنٹ سیکٹر، کلچر، رورل سپورٹ، ماحولیات، مائیکروفنانس وغیرہ میں بھی انکے اداروں کا نیٹ ورک فعال ہے۔ ڈیزاسٹرز کے دوران بھی آغا خان کے ادارے عوام کی بحالی میں پیش پیش رہے، اور سرکاری محکموں کے علاوہ عالمی این جی اوز کیساتھ بھی ان کے ادارے نے مشترکہ پراجیکٹس پر کام کئے اور کررہے ہیں۔ دوسری جانب یورپ و امریکا میں انکی تخصیص عام عوام میں بادشاہوں اور حکمرانوں کیساتھ ذاتی تعلقات کے علاوہ مہنگے ترین ریسنگ گھوڑے پالنے کی وجہ سے ہے یا ٹاپ ماڈلز کیساتھ شادیوں کیوجہ سے۔ جی ہاں انکی شادیوں کا چرچا عام اخبارات سے لیکر ٹاپ بزنس کلاس اور پریمیم میگزین کی زینت بنتے رہے جہاں سے عام افراد تک انکی شہرت پہنچتی رہی۔ شاہ کریم آغا خان سمیت انکے دادا و پڑ دادا انگریزوں کے انڈیا پر حکومت کے دوران "سر"، "آغا خان"، اور "پرنس" جیسے القابات سے مشرف ہوئے، جبکہ قیام پاکستان میں انکے دادا سر سلطان آغا خان سوئم نے قائد اعظم اور مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا۔ مگر حیرت انگیز طور پر ان کی فیملی نے آزادی کے بعد پاکستان میں قیام کو ضروری نہیں سمجھا اور فرانس، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی وغیرہ میں شاہانہ زندگی کو ترجیح دی۔ شاہ کریم آغا خان نے دو شادیاں کیں۔ انکی پہلی شادی انگریز فیشن ماڈل بیگم سلیمہ آغا خان (سارہ فرانسز کروکر پول) سے ہوئی۔ سارہ فرانسز آغا خان کیساتھ شادی سے پہلے لارڈ جیمز چارلس سے طلاق یافتہ تھی۔ بیگم سلیمہ سے طلاق کے بعد شاہ کریم آغا خان کی دوسری شادی جرمن خاتون انارا آغا خان (گیبرائل ہومی) سے ہوئی جو جرمنی کے شہزادے پرنس کارل امیچ سے طلاق یافتہ تھیں۔ دونوں شادیاں چند سالوں بعد طلاق پر منتج ہوگئیں۔ پہلی شادی سلیمہ آغا خان سے انکی ایک بیٹی زہرا آغا خان اور دو بیٹے رحیم آغا خان اور حسین آغا خان ہوئے، جبکہ دوسری بیگم انارا آغا خان سے ایک بیٹا علی محمد آغا خان ہوا۔ دوسری بیگم کے ساتھ پرنس کریم آغا خان کے طلاق کا مقدمہ دس سال تک چلا۔ ان کی بڑی اولاد زہرا آغا خان ، جس کی شادی یہودی النسل شوبز ماڈل مارک بوئیڈ کیساتھ 1997 میں ہوئی جوکہ 2005 میں طلاق پر ختم ہوگئی۔ مارک بوئیڈ کے سے زہرا آغا خان کے دو بچے ہیں۔پرنس کریم آغا خان کے دو بڑے بیٹوں کی شادیاں بھی اپنے والد اور بڑی بہن کی طرح مشہور ماڈلز سے ہوئیں، جو چند برسوں میں ہی طلاق پر منتج ہوگئیں۔

موجودہ نامزد پچاسواں امام پرنس رحیم، آغا خان پنجم بھی اپنی سابق امریکی ماڈل بیگم سلوا آغا خان( کنڈرا ارنی سپئیرز) کو 2022 میں طلاق دے چکے ہیں جن سے ان کے دو بیٹے پرنس عرفان اور پرنس سنان ہیں۔

کریم آغا خان کے منجھلے بیٹے پرنس حسین آغا خان کی پہلی شادی فیشن ماڈل خالیہ (کرسٹین جے وہائٹ) کے ساتھ 2006 میں ہوئی، جس میں سے ایک بیٹا ہے۔ انکی طلاق 2011 میں ہوگئی۔ سن 2019 میں حسین آغا خان نے الزبتھ ہوگ (بعد ازاں فارینہ) نامی خاتون سے جنیوا میں دوسری شادی کرلی۔کریم آغا خان کے سب سے چھوٹے بیٹے علی خان 2000 میں فرانس میں پیدا ہوئے جوکہ ہارورڈ یونیورسٹی گریجویٹ ہیں۔

بعض سادہ لوح لوگ آغا خانیوں کو پٹھان سمجھ رہے ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ ہر ”خان“ پٹھان نہیں ہوتا۔ خان ، منگولیاٸی زبان کا لفظ ھے جس کا مطلب آقا یا سردار ھے۔

بوہری اور آغا خانی ميں فرق

چوہدری محسن حسن

اسماعیلی فرقوں کی دوشاخیں بوہری اور آغا خانی ہیں- بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے اور کیا بوہری اور آغا خانی مسلمان ہیں؟

امام جعفر صادق کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام جعفر صادق کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام جعفر کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، چنانچہ امام جعفر نے اسماعیل کی وفات کے بعد ان کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی تاکہ کوئی اسماعیل کی وفات سے انکار نہ کر سکے۔ جب امام صادق کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، لہذا اس گروہ نے ان کے بیٹے کو امام مان لیا اسی وجہ سے یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں نے امام صادق کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔ جن لوگوں نے امام جعفر صادق کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور وہاں قزوین نامی شہر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام “حسن علی ذکرہ السّلام” آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی، کہا جاتا ہے کہ 19 یا 21 رمضان تھی-جب اس امام نے ظاہری شریعت ہٹائی تھی، انہوں نے اپنے امام کے حکم پر اپنے روزے توڑے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے شراب سے افطار کیا۔ کیونکہ ان کے امام نے یہی حکم دیا تھا کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، اپنے باطن کی تربیت کرو یہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔ آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو “آغا خان” کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب “محلاّت” نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی جہاں آغاخان مکمّل داخلی خودمختاری کے ساتھ حکومت کرتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس امام کو “آغا خان محلاّتی” بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی- پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو “سر” کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔ ان کی وفات ہندوستان میں ہی ہوئی اور ان کے بعد امامت ان کے بیٹے کو ملی جو تحریک پاکستان کے ابتدائی رہنماؤں میں سے رہی ہے۔ صدرالدّین آغا خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی موجودگی میں ہی انہوں نے اپنے پوتے “پرنس کریم” کو جانشین بنایا جن کی والدہ یورپی تھیں اور مغربی بودو باش رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسماعیلیوں کی امامت کا مرکز “محلاّت، کرمان” سے نکل کر “بمبئی ہندوستان” آیا اور وہاں سے اب مغرب منتقل ہو گیا۔

دوسری طرف بوہریوں کی خلافت ایک طویل عرصے تک مصر میں رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلاح الدّین ایّوبی نے پے در پے حملوں کے بعد اس شیعہ اسماعیلی حکومت کو ختم کر دیا۔ جب مصر میں بوہریوں کی امامت ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔ ان کی امامت کا سلسلہ خلافت فاطمی کے ختم ہوتے ہی ختم ہو چکا ہے، البتہ ان کے ہاں داعیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ برھان الدّین ان کے داعی ہیں جن کا انتقال پچھلے دنوں ہوا۔ آگے چل کر بوہریوں کے ہاں بھی دو فرقے ہوئے؛ 1) داؤدی بوہرہ اور 2) سلیمانی بوہرہ۔ ان کا اختلاف محض علاقائی ہے۔ داؤدی بوہروں کے داعی ہندوستانی ہوتے ہیں اور گجرات کے شہر سورت میں ان کا مرکز ہے جبکہ سلیمانی بوہروں کے داعی یمن میں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی ہیں۔ البتہ پاکستان میں بھی سلیمانی بوہروں کی ایک قلیل تعداد ہے۔ داؤدی بوہرہ کے لوگ بہت آرام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مرد مخصوص لباس پہنتے ہیں اور ان کی عورتیں ایک مخصوص حجاب کرتی ہیں، جبکہ سلیمانی بوہرہ پہچانے نہیں جاتے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں-کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظم کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔ بوہری اب بھی جوق در جوق کربلا اور نجف زیارت کے لئے جاتے ہیں اور شیعہ مراکز کے دروازے بوہریوں کے لئے کھلے ہیں۔ دوسری طرف آغاخانیوں کا اسلام اس لئے مشکوک ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے کئی چیزوں کے منکر ہیں۔ نماز کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ نماز سے انکار نہیں کرتے لیکن نماز کا طریقہ الگ ہے۔ جو چیز ان کے اسلام کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ “حلول” کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا نور علی(ع) میں حلول کر گیا اور علی(ع) کا نور ان کے ہر امام میں آتا رہا، ان کے حساب سے پرنس کریم آغا خان اس وقت کا علی ہے، اور جب یہ لوگ “یاعلی مدد” کہتے ہیں تو ان کی مراد ہماری طرح مولا علی نہیں ہوتے بلکہ پرنس کریم آغا خان ہوتے ہیں-لیکن ہندوستان کے اثناعشری شیعہ خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی سلام کے طور پر یاعلی مدد کہنا شروع کیا۔ آغا خانیوں میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ “معاد جسمانی” کے منکر ہیں یعنی ان کے نزدیک میدان حشر، پل صراط، جنّت و جہنّم کا کوئی ظاہری وجود نہیں بلکہ یہ اشارہ یا کنایہ ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اس جسم کے ساتھ حشر کے دن نہیں اٹھائے جائیں گے۔انکے اسلام پر کئی علماء نے اشتباہ کیا ہے-