حج
 
ہم نے دیکھا اک گھر ایسا
روئے زمیں پہ کوئی نہ ویسا
 
رات جہاں پہ دن بن جائے 
نور میں ہر اک چیز نہائے
 
لب گائیں لبیک ترانہ
دور کہیں غم بھاگا جائے
 
روح اور دل پہ داغ تھے جتنے
رحمت نے سب تیری مٹائے
 
کعبہ کا دربار عجب ہے 
کوئی بھی خالی ہاتھ نہ جائے
 
حسب و نسب نہ اعلی و ادنی
ہاتھ پھیلائے جو ، سو پائے
 
بِن اس کے رہنا ممکن نہ تھا
سو دل میں بسا کے ساتھ ہیں لائے
 
نسرین آفتاب، لاہور