میں مستقبل ہوں اپنی قوم کا 
میں وہ جسے اپنی خبر نہیں 
 
میں امید ہوں ایسے روشن کل کا 
جس کے دیے میں تیل نہیں 
 
ہمت ، خواب ، جذبہ ، جنون 
کیا ہے جو کہ مجھ میں نہیں 
 
منزل کا نام سنا ہے میں نے 
پر راستے کا مجھ کو پتا نہیں 
 
اے صاحب اقتدار ، اے ارباب اختیار 
تمہاری کسی کتاب میں میرا کہیں نام نہیں