فكر ونظر
صداقتوں ميں جينا
شاہد رشيد
نیپال میں مجھے بدھ مت کے اسکالرز سے بھی ملنے کا موقع ملا اور راہبوں سے بھی۔ کسی دینی روایت کا علمی مطالعہ عام طور پر اس کے تصورات، عقائد اور تاریخ کے مطالعے تک محدود ہوتا ہے۔ ایسا علمی مطالعہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی انسانی جسم کو محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ سمجھ کر اس کا مطالعہ کرے، جبکہ اس روایت پر عمل پیرا اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والا انسان ہی اس ڈھانچے میں زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے۔یہاں سے میرا ذہن اس طرف بھی گیا کہ کچھ صداقتیں صرف انہیں جینے سے ہی سمجھ میں آتی ہیں۔ اس لیے ہر صداقت کو تجزیاتی عقل کے ذریعے پہلے سے سمجھ لینے کی ضد ایک طرح کی بچگانہ ضد ہے۔ زندگی میں زیادہ چیزیں ایسی ہیں جن کی معنویت ہم ان پر عمل کرنے کے بعد، یا ان کے تجربے سے گزرتے ہوئے، سمجھ پاتے ہیں۔اس سلسلے میں اگر ہم اپنے فطری اخلاقی میلانات کے نظام ہی کو دیکھیں تو بات کچھ واضح ہو جاتی ہے۔ ہم بہت سے اخلاقی اصولوں پر اس سے بہت پہلے عمل کرتے ہیں کہ ان کی باقاعدہ فلسفیانہ توجیہہ ہمارے سامنے آئے۔ محبت، ایثار، رحم، انصاف اور وفاداری جیسی قدروں کو ہم محض اس لیے نہیں اپناتے کہ ہم نے ان کے حق میں کوئی منطقی استدلال قائم کر لیا ہے۔ بلکہ اس لیے کہ ہم ان کی طرف ایک گہرا فطری میلان رکھتے ہیں۔
یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو کسی برتر صداقت کے قائل نہیں، عموماً اپنی زندگی اپنے فلسفے کے منطقی نتائج کے مطابق نہیں گزارتے۔ وہ بھی اپنے اندر موجود اسی فطری اخلاقی نظام سے تشکیل پانے والی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں۔
صداقتوں کو صرف جان لینا اور انہیں جِینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی صداقت کو جینے کے لیے انسان کو اپنے آپ کو ایک نظم و ضبط کے حوالے کرنا پڑتا ہے، اسے کسی نہ کسی معنی میں خود کو submit کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس سے اکثر ہم بچنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ ہر وقت تبصرہ، تجزیہ اور گفتگو میں مصروف رہتے ہیں، بسا اوقات وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ محض بحث و مباحثے اور فکری تجزیے کے ذریعے صداقت تک پہنچا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے کسی عملی نظم و ضبط کا پابند ہونا ضروری نہیں۔
جیسے سائنس محض نظری گفتگو نہیں بلکہ تجربے پر منحصر ہے، اسی طرح ان صداقتوں کی تفہیم بھی محض صداقتوں پر بحث کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ ان صداقتوں کو جینے سے ہی انہیں چھوا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اعلیٰ سچائیاں صرف دماغ کے اریتھمیٹک اینڈ لاجکل یونٹ کی نہیں بلکہ پورے وجود کی سرشاری کا تقاضا کرتی ہیں۔
بشکریہ : https://www.facebook.com/raoshahid.rasheed/posts/pfbid02y5FdgXJfpuNStVMXrjZBYnbZAicvaU3xGFSWv8VkPbz1Spr1KMutbimRtEekLxskl
