فكر ونظر
كيا دوسرے مذاہب كے بارے ميں جاننا ايمان كے منافی ہے ؟
شاہد رشيد
وادیء کٹھمنڈو میں قیام کے دوران مجھے ہندو مت اور بدھ مت کی وسیع دنیا میں موجود مختلف روایتوں، تحریکوں اور دھاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ کئی گرو کُل، آشرم اور مندر دیکھے، پنڈتوں سے ملا، راہبوں اور بھکشوؤں کے ساتھ بیٹھا، تبتی زبان اور سنسکرت کے اساتذہ سے ملا۔ طرح طرح کے لوگوں سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کے ساتھ ساتھ، اس سفر کا ایک بڑا حصہ ان باتوں کے بارے میں تنہائی میں سوچنا بھی تھا۔
میری اس یاترا پر بعض اہلِ ایمان نے سوال اٹھائے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں۔ مختلف مذاہب اور مذہبی روایتوں کو اتنی قریب سے دیکھنے کی ضرورت کیا ہے؟ جب آدمی مسلمان ہے، اپنے عقیدے پر ایمان رکھتا ہے تو پھر اسے دوسری مذہبی دنیا میں اتنی دور تک جانے کی کیا ضرورت پیش آتی ہے؟ان سوالوں کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے اپنے ہی معاشرے اور مسلم امت کی ایک کیفیت زیادہ نمایاں طور پر دکھائی دینے لگی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کو جب اپنے عقیدے کا ذرا سا ذائقہ ملتا ہے تو اسے اپنے گرد ایک مانوس دنیا بنانا اچھا لگتا ہے۔ اس میں کچھ غلط بھی نہیں۔ انسان کو ذہنی اور جذباتی طور پر رہنے کے لیے کسی نہ کسی گھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں گھر کی حفاظت کے لیے ہم اس کی تمام کھڑکیاں بند کر دیتے ہیں۔
ہمیں سوال سے خوف آنے لگتا ہے۔ دوسری آواز سننا اپنے ایمان کے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جاننے کی خواہش بھی دب جاتی ہے۔ زندگی کا ایک سیدھا سا نقشہ ہمارے سامنے ہوتا ہے: نماز پڑھو، قرآن پڑھو، اور زیادہ سے زیادہ پیسے کماؤ۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کی روحانی رسوم و اقدار سے تو خوفزدہ سے ہوتے ہیں لیکن مغربی تہذیب کی مادیت فوراً قبول بھی کر لیتے ہیں اور اسے اسلامائز بھی کر لیتے ہیں۔مجھے بہت سے اسلامی اسکولوں کے اساتذہ سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ بعض حضرات، خاص طور پر بچیوں کے بارے میں، یہ رائے رکھتے ہیں کہ انہیں یونیورسٹی کی تعلیم نہیں دینی چاہیے۔ اسلامی اسکول سے او لیول یا میٹرک تک تعلیم حاصل کر لینے کے بعد یا تو عالمہ کا کورس کروایا جائے، یا زیادہ سے زیادہ انہیں ایم بی بی ایس کروا دیا جائے، تاکہ دنیا میں عزت بھی ملے اور شادی کے لیے اچھا رشتہ بھی مل جائے۔ میں اس سوچ کے محرکات کو سمجھتا ہوں۔ خوف یہ ہے کہ یونیورسٹی میں جا کر بچیاں یا بچے مغرب زدہ نہ ہو جائیں، دہریت کا شکار نہ ہو جائیں، مذہب سے دور نہ ہو جائیں۔ چنانچہ عافیت اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ ایک محفوظ گوشہ بنا لیا جائے، معاش کمانے کا کوئی ذریعہ پیدا کر لیا جائے، بچوں کی شادیاں کر دی جائیں اور زندگی نسبتاً پرسکون طریقے سے گزر جائے۔
لیکن مجھے ایک سوال بہت پریشان کرتا ہے:زمانے کے بڑے فکری اور علمی چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت ہم اپنے بچوں میں کب پیدا کریں گے؟اگر ہم نے انہیں ہر سوال سے پہلے ہی بچا لیا، ہر اختلافی خیال سے دور رکھا، ہر دوسری تہذیب کی کھڑکی بند کر دی، تو کیا ہم انہیں واقعی مضبوط بنا رہے ہیں؟میرے سامنے ایک اور بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا تجسس ایمان کے منافی ہے؟کیا دوسرے مذاہب کے بارے میں جاننا، دوسری زبانیں سیکھنا، دوسری تہذیبوں کو سمجھنا، دوسری قوموں کے چلن اور تاریخ کے رازوں پر غور کرنا، انسانی فطرت کے اسرار کو جاننے کی کوشش کرنا ایمان کے خلاف ہے؟
مجھے تو قرآن کا بنیادی مزاج اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔قرآن انسان کو کائنات کی عجیب و غریب چیزوں کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے، خواہ وہ اونٹ کا جسم ہو یا تاروں بھرا آسمان۔ قرآن کے نزدیک دراصل ہر چیز ہی عجیب ہے، فطرت کا ہر مظہر ایک معجزہ ہے۔ وہ عام، روز مرہ اور فطری چیزوں کو بھی حیرت اور تجسس سے دیکھنے کی بات کرتا ہے، اور انسان کی اس غفلت کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہے جس کا سرچشمہ familiarity کا وہم ہے۔ انسان کو لگنے لگتا ہے کہ سورج، چاند، ستارے، بادل، برکھا اور بدلتی رُتیں جانی پہچانی سی کہانی ہے۔ عام سے مشاہدے ہیں۔ معجزہ تو کچھ ان سے بڑھ کر ہے۔ قرآن کے مطابق یہ سب بھی معجزات اور علامات ہی ہیں لیکن ہم انہیں غفلت سے دیکھ رہے ہیں، حیرت اور تجسس سے نہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص سائنس دان بنے، ہر شخص فلسفی بنے، ہر شخص دوسری زبانیں سیکھے یا ہر شخص مذاہبِ عالم کا مطالعہ کرے۔ لیکن کسی معاشرے میں کچھ لوگ تو ایسے ہونے چاہئیں جو یہ کام کریں۔ کچھ لوگ ہوں جو سوال پوچھیں، نئی زبانیں سیکھیں، دوسری تہذیبوں میں جائیں، مختلف مذاہب کو سمجھیں، انسانی نفس کا مطالعہ کریں اور کائنات کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں۔
مجھے ابتدائی مسلم تہذیب کا وہ مزاج یاد آتا ہے جس نے دوسری تہذیبوں کے علمی سرمائے سے خوف نہیں کھایا۔ بغداد میں ترجمے ہوئے، یونانی فلسفہ اور سائنس عربی میں آئے، ہندوستانی ریاضی اور فلکیات سے واقفیت بڑھی، ایرانی علمی روایت کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ بیت الحکمت اس وسیع علمی سرگرمی کی ایک علامت بن گیا۔ مسلمانوں نے دوسری دنیا کو صرف اس لیے نہیں دیکھا کہ اسے رد کر سکیں۔ انہوں نے اسے پڑھا، ترجمہ کیا، سمجھا، اس پر گفتگو کی اور جہاں مناسب سمجھا وہاں اس سے سیکھا۔ان میں ایک خاص قسم کا اعتماد تھا۔ شاید اپنے ایمان پر بھی اور عقل پر بھی۔مجھے نہیں معلوم کہ ہم نے یہ اعتماد کب کھو دیا۔ اور اپنی insecurities کو ایمان سمجھنے لگے۔
دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی ان کے ہر تصور کو درست مان لے۔ کسی دوسری تہذیب کی زبان سیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی زبان بھول جائے۔ کسی فلسفے کو پڑھنے کا مطلب اس کا مقلد بن جانا نہیں۔ مطالعہ دراصل کسی چیز کو اس طرح دیکھنے کی ایک کوشش ہے جیسی وہ ہے اور پھر اپنے اصولوں کی روشنی میں اس کے ساتھ مکالمہ کرنے کے قابل ہونا ہے۔
صوفیاء کرام کی روایت میں بھی انسانی باطن ایک مسلسل موضوع رہا ہے۔ نفس کے احوال، دل کی کیفیات، محبت، خوف، غرور، توکل، معرفت، یہ سب انسانی وجود کے مختلف مقامات کے مشاہدے کی کوشش تھی۔ اپنے اندر اترنے کی کوشش تھی۔ دوسری طرف ہمارے سائنس دانوں نے آفاق کا مشاہدہ کیا۔ شاید یہ دونوں کام اتنے مختلف بھی نہیں تھے جتنے آج ہمیں دکھائی دیتے ہیں: ایک باہر کی دنیا میں نشانیاں تلاش کر رہا تھا، دوسرا اپنے اندر۔اسی لیے اب مجھے کبھی کبھی یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دنیا کے فکری سوالات سے دور رکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں محفوظ کر لیا ہے۔ ممکن ہے ہم نے صرف ان کے سوالوں کو مؤخر کیا ہو۔ سوال ختم نہیں ہوتے۔ وہ کسی نہ کسی وقت واپس آتے ہیں۔ اور جب یہ واپس آتے ہیں تو ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے کوئی مضبوط فکری بنیاد موجود نہیں ہوتی۔
نیپال سے واپس آتے ہوئے میرے ساتھ بہت سی کتابیں تھیں، بہت سے لوگوں کی یادیں تھیں، کئی نئی زبانوں کے الفاظ تھے اور مذہبی روایتوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ سوالات تھے۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ ان سوالات نے میرے ایمان کو مجھ سے چھینا نہیں۔
انفس و آفاق کی علامات کو حیرت اور تجسس بھری نظروں سے نہ دیکھ پانا مجھے ایمان کا تقاضا تو ہرگز نہیں لگتا، کہیں یہ تنگ نظری، بزدلی اور بے ذوقی تو نہیں؟