فكرو نظر

مذہبی طبقے كا تمول اور تعيش

سيد عزيز الرحمان

ہمیں شاید ابھی تک اندازہ ہی نہیں ہے کہ خصوصیت کے ساتھ مذہبی طبقے نے تمول اور تعیش کو کس درجے اختیار کر لیا ہے اور ان کے اس تمول اور تعیش کو،جو جیسے بھی ہے، قطع نظر اس بات سے کہ اس کی بنیاد کس حد تک جائز مال پر ہے اور کس حد تک مشکوک مال پر۔ان کو فالو ہی تمول اور تعیش کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ ایک پڑھے لکھے معقول کسی مدرسے میں اچھی سطح کے مدرس،امام خطیب اور عالم کو لے لیجیے، جو موٹر سائیکل پر کہیں سے گزر رہا ہو،اور ایک ایسے شخص کو بھی تصور ذہن میں لائیے جو بے شک چند برس بیشتر ہی کسی مدرسے سے فارغ ہوا ہو لیکن اس کے پاس ڈیڑھ دو کروڑ کی گاڑی ہو، گارڈز ہوں اور ایک الگ گاڑی میں اس کی میڈیا ٹیم ہو تو ہمارے طالب علم، مدرسے سے وابستہ حضرات حتی کہ عام دینی رجحان رکھنے والا کس کی طرف لپکے گا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

کسی بھی دینی تعلیمی ادارے میں ہماری طرح کرتا شلوار اور سادہ سی ٹوپی پہن کر موٹرسائیکل پر بیٹھ کر چلے جائیے،شاید چوکیدار ہی اندر گھسنے نہ دے۔اسے کے برس کسی لمبی چوڑی گاڑی کا اہتمام کر لیجئے نیچے سے اوپر تک سارے دروازے از خود کھلتے چلے جائیں گے، چاہے سات پشتوں میں کوئی عالم پیدا نہ ہوا۔یہ بات بہت س کو بری محسوس ہوگی۔ ہمیں بھی برا بھلا کہہ لیجیے، کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن یہ بہت بڑا المیہ ہے،اور بہت بڑا سوالیہ نشان بھی۔

https://www.facebook.com/aziz.zawwar/posts/pfbid025onk4V8u7BnQTczoNrJCsZhXxkmDhadFrYgtoWkdmwkseKmkfNaFEYprA4j3KoU7l

 

 

بشکریہ : https://www.facebook.com/aziz.zawwar/posts/pfbid025onk4V8u7BnQTczoNrJCsZhXxkmDhadFrYgtoWkdmwkseKmkfNaFEYprA4j3KoU7l