فكر ونظر

عصر حاضر کے بنیادی افکار

پروفیسر وائل حلاق کا فکر انگیز انٹرویو

انٹرویو نگار: ہادى محمد اللواتى --مرتب: محمد ابو عمر حقانی

بحوالہ معارف

پروفیسر وائل حلاق کا شمار دورِ حاضر کے ممتاز ترین، نامور اور جید مفکرین اور دانا ناقدین میں ہوتا ہے، آپ اسلامی مطالعات پر ایک انتہائی متوازن، محکم اور گہری نظر رکھتے ہیں، ان کے افکار متعدد بنیادی اسلامی فکری قضایا کو محیط ہیں، اس فکری راہرو نے شریعتِ اسلامیہ، اسلامی فقہ اور قانون کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا-آپ نے 1955ء میں فلسطین کے ایک مسیحی خاندان میں آنکھ کھولی، 1983ء میں یونیورسٹی آف واشنگٹن سے اسلامی شریعت پر اپنے تحقیقی مقالے ”کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا تھا؟ Was the Gate of Ijtihad Closed? پر پی ایچ ڈی کی- اس کے بعد 1985ء میں کینیڈا کی میگل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز سے منسلک ہوئے اور 2009ء سے کولمبیا یونیورسٹی میں انسانیات اور اسلامی علوم کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ اسی سے زائد علمی مقالات اور متعدد کتب کے ذریعے اپنے فکری اور علمی کام کی آبیاری میں مصروف ہیں- ان کی تحریروں کے دنیا کی بیسیوں زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، جن میں عربی، ترکی، انڈونیشین، جاپانی، فارسی، عبرانی، جرمن، فرانسیسی، البانین، روسی، بنگالی اور اردو شامل ہیں- انسانیات اور سماجی علوم میں انکی اجتہادی تحقیقات کے اعتراف میں2021ء میں انہیں ترکی کی سائنس اکیڈمی کے TÜBA ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ 2024ء میں انہیں اسلامی مطالعات کا انٹرنیشنل ملك فيصل ایوارڈ دیا گیا، زیرِ نظر گفتگو نومبر 2022ء میں یوٹیوب کے ثقافتی چینل ”حیرۃ“ پر نشر ہونے والے ایک فکر انگیز انٹرویو پر مبنی ہے- اس میں حلاق نے اپنے علمی سفر، فکری خدوخال اور مستقبل کے آفاق پر روشنی ڈالی ہے- نیز انہوں نے اپنے اہم ترین نظریات جیسے نقدِ استشراق، جدیدیت کی جڑوں پر تنقید، ناقدینِ جدیدیت کا جائزہ، سیاسی اسلام، ان کا معرکہ الآراء کتاب The Impossible State، شریعت کی داخلی قوت، اخلاق اور شریعت کا باہمی تعلق اور اسلام کے صوفیانہ و عرفانی ابعاد پر سیر حاصل گفتگو کی ہے، ان کی تحقیقات کا بنیادی محور مغربی استشراق کا ناقدانہ جائزہ، جدید ریاست کے ڈھانچے پر نقد اور شریعت کے اخلاقی اور سماجی وجود کی بحالی ہے-ذیل میں اس طویل اور فکر انگیز انٹرویو کا ملخص اردو ترجمہ پیش خدمت ہے -

​فکری اسلامی میں تخصص کی وجہ

​ ہادی محمد اللواتی: ایک مسیحی خاندان میں پرورش پانے کے باوجود کس جذبے نے آپ کو فقہ، تاریخ اور علمیات کے اعتبار سے فکرِ اسلامی میں تخصص اور غواصی پر ابھارا؟ کیا یہ صرف اور صرف تحقیقاتی کاوش تھی- مستشرقانہ مطالعہ یا پھر اس تراث میں موجود ان اخلاقی و معنوی حقائق کا اثر تھا جس نے اس جغرافیہ کی تاریخی یاد داشت کو تشکیل دیا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں نے یہ مطالعہ ایک طویل عرصہ پہلے شروع کیا تھا اور اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سفر کہاں تک جائے گا- آغاز میں میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث وہ ارادہ قائم نہ رہ سکا اور میں نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اور سیاسی امور کی طرف رخ کیا- بعد ازاں جب 1978–1979ء میں ،میں امریکہ منتقل ہوا تو میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم میں دوبارہ قانون کی طرف لوٹنے کا قصد کیا لیکن اس بار میرے پیشِ نظر قانون کے متبادل کے طور پر ”شریعتِ اسلامیہ“ کا فہم تھا، اس کی بنیادی وجہ استاد ”فرحات زیادۃ“ کا ساتھ تھا، جو مؤرخ سے زیادہ قانون دان تھے- انہوں نے مجھے قائل کیا کہ مجھے شریعت کا میدان منتخب کرنا چاہیے کیونکہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے باعث شریعت کی اہمیت بہت جلد نکھر کر سامنے آنے والی ہے- وقت نے ثابت کیا کہ استاد زیادۃ کی نظر کتنی دور رس تھی- اس انقلاب کے اثرات نے پوری اسلامی دنیا کے مفکرین کو چونکا دیا، کم از کم شرعی اور قانونی نقطہ نظر سے، یوں میں نے قانون کے بدل کے طور پر شریعت کا مطالعہ شروع کر دیا- اگرچہ اصولِ فقہ ایک دشوار مضمون تھا لیکن یہ ان بنیادی موضوعات میں سے تھا جن سے میں نے آغاز کیا- میں جتنا اس میں گہرا اترتا گیا، اس سے میرا لگاؤ بڑھتا گیا- رفتہ رفتہ میرا تحقیقی دائرہ ادب، علمِ کلام اور تصوف تک پھیل گیا- اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں ایک زبردست دنیا آباد ہے، جو ایسے فلسفوں اور طرزِ فکر سے معمور ہے جن سے ہم ناواقف ہیں- ایک ایسی دنیا جو اندلس سے لے کر ہند و چین تک پھیلے ہوئے ایک عریض و عمیق معاشرے میں ہزار سال سے زائد قائم رہی، تب سے میں نے اپنے حال پر سوالات اٹھانے شروع کئے کہ ہم اس ورثے سے اپنے دور میں کیسے استفادہ کر سکتے ہیں؟ اور اس کی مدد سے ایسے افکار اور حل کیسے وضع کر سکتے ہیں جو اس جدید دنیا کے پیدا کردہ بحرانوں کا متبادل بن سکیں؟

​فکری تغیرات کیسے رونما ہوئے

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے علمی سفر کے دوران فکری تغیرات، تحولات اور تبدیلیاں کیسے رونما ہوئيں؟ کیا آپ کی تصانیف زندگی کے تجربات اور اندرونی بے چینی سے وجود میں آئیں؟ آپ کا عمومی فکری نظام کیا ہے اور کیا کوئی ایسا گوشہ باقی ہے جسے آپ اپنی آنے والی تحریروں میں پُر کرنا چاہتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شروعات میں میری انگریزی زبان کافی کمزور تھی، اس لئے مطالعہ اور فہم میں کافی وقت لگتا تھا تاہم مجھے شدید احساس تھا کہ مغرب میں اسلام کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی بنیادی خرابی ہے- اپنے علمی سفر کے پہلے عشرے میں میرا بنیادی معرکہ یہی تھا کہ مغربی تحقیقات میں عمومی طور پر اسلام اور بالخصوص شریعت کی کیا تصویر کشی کی جا رہی ہے- یہ وہ دور تھا جب 1978ء میں ایڈورڈ سعید کی کتاب Orientalism منظرِ عام پر آئی، یہ وہی سال تھا جب میں نے یونیورسٹی آف واشنگٹن میں اپنی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا لیکن ایڈورڈ سعید نے قانون کے پہلو کو بالکل تشنہ چھوڑ دیا تھا، جس پر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ دنیا کو سمجھنے کی میری منطق میں قانون کا نظام ریاست کے قیام اور استعمار کے عروج کےلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے- استعمار کا وجود ہی ریاست کے ذریعے ہوا ہے لہذا ریاست اور استعمار ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں- مغرب میں اسلام اور شریعت کے متعلق غلط پروپیگنڈا اور مستشرقین کی مخصوص زبان کا ادراک ہونے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تحقیقاتی حلقوں میں اسلامی شریعت کے نصاب اور منہج کو تبدیل کیا جائے- یہی میرا سب سے بڑا خواب تھا حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس میں میری پوری عمر صرف ہوجائے گی- 2009ء کے قریب مجھے لگا کہ میرے اس بڑے منصوبے کا شریعت والا حصہ ایک حد تک مکمل ہوچکا ہے اور یہ میرے علمی سفر کا پہلا اور اہم ترین دائرہ رہا ہے، اسکے بعد میں نے وہ سوالات اٹھانے شروع کئے جو اس تعلیمی ماحول میں عام طور پر نہیں پوچھے جاتے تھے کہ مغرب میں اسلام کی نمائندگی میں کیا قباحتیں ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ میری یہ خواہش بھی تھی کہ اسلام کا ایک ایسا بیانیہ ترتیب دیا جائے جو نہ صرف مغربی جدیدیت پر نقد کا کام کرے بلکہ عمومی طور پر آج کی عالمی جدیدیت پر بھی محاکمہ ہو کیونکہ جدیدیت اب صرف مغرب تک محدود نہیں رہی- اگرچہ اس کے بانی مغربی فلاسفرز ہی ہیں لیکن بیسویں صدی کے وسط کے بعد سے جدیدیت ایک عالمی مظہر بن چکی ہے، اس سے میری مراد صرف جدیدیت کے ظاہری مظاہر نہیں ہیں بلکہ یہ کہ انسان کی ”ذات“ کی نفسیاتی، علمی، فکری اور معنوی تشکیل جدیدیت کے قالب میں ڈھل چکی ہے، چنانچہ میں نے سوال اٹھایا کہ اسلام کا وہ مطالعہ جس میں، میں نے اپنی زندگی کے تین عشرے لگائے ہیں وہ آج کے طرزِ زندگی کو سمجھنے میں میری کیسے مدد کر سکتا ہے؟ کیونکہ اگر علم کا کوئی با مقصد وجود نہ ہو تو اس کا کوئی حاصل نہیں، تمام علوم فائدہ مند نہیں ہوتے؛ لوگ پوری زندگی ایسے علوم میں صرف کر دیتے ہیں جو بے سود ہوتے ہیں-2000ء کے قریب میں نے خود سے پوچھا کہ علم کیا ہے؟ نافع علم اور بے سود علم کے درمیان کیا حدِ فاصل ہے؟ اور ہم یہ حد کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ اس نے مجھے مزید بنیادی سوالات کی طرف موڑا کہ ہم مخصوص امور کو کیوں مسلمات مان لیتے ہیں؟ لیکن اسلامی تراث کی معرفت نے مجھے انتہائی جوہری سوالات اٹھانے میں مدد دی، جیسے کہ ہمارے ہاں اسلامی دنیا میں اینتھروپالوجی، تاریخ اور بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے شعبے قائم ہونے کے باوجود ہم ترقی کیوں نہیں کر سکے؟ یوں میں نے تاریخ کا مطالعہ اس کی تمام تر الجھنوں کے ساتھ شروع کیا- اینتھروپالوجی کو دیکھا تو اس کے اپنے مسائل تھے، یوں یہ دائرہ وسیع ہوتا گیا اور میری تشویش یہ ہے کہ میری میز پر کام بہت زیادہ ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس فانی زندگی کے ختم ہونے سے پہلے میں اسے پورا کر پاؤں گا یا نہیں -

​اسلام کو سمجھنے میں اخلاقیات اور تصوف کی محوریت

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کی تصانیف پڑھنے والے کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے ہاں اخلاقيات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہاں تک کہ آپ شریعت کو بھی اخلاقی تناظر میں دیکھتے ہیں، اس حوالے سے اور آپ کے فکری نظام میں صوفیانہ، روحانی اور عرفانی بعد کی کیا اہمیت ہے؟ مختصر یہ کہ اسلام کو سمجھنے میں یہ ابعاد آپ کے نزدیک کیا حیثیت رکھتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں تصوف کو انتہائی باریک بینی سے دیکھتا ہوں اور میں اسے موجودہ دور کی طرح کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ میں اسے ایک ایسے مظہر کے طور پر دیکھتا ہوں جو اسلامی دنیا میں خاص طور پر تیسری صدی ہجری کے بعد پھیلا اور جو اسلام کے ساختیاتی وجود کی تشریح کا بہترین ذریعہ ہے، تصوف کے مطالعے میں پوری زندگی صرف کی جا سکتی ہے، جب میں نے شریعت سے تصوف، پھر علمِ کلام اور دیگر علوم کی طرف پیش قدمی کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ تصوف تقریباً ہر چیز میں شریعت ہی کی توسیع اور تسلسل ہے، یہ شریعت کو بلندیوں اور گہرائیوں تک لے جاتا ہے، بلندیوں میں یہ شریعت کو ان روحانی اور الٰہی عوالم سے جوڑتا ہے جن کی تفصیلات میں شریعت خود نہیں پڑتی اور بنیادی باتوں پر اکتفاء کرتی ہے- یوں تصوف اوپر سے شریعت کو ایک معنوی وضاحت فراہم کرتا ہے، پھر سماجی سطح پر تصوف نے شریعت کے اجتماعی اور معاشی وجود کو محکم کیا، یہ صرف ایک معنوی اور روحانی چیز نہیں، اگرچہ روحانی پہلو ہی اس کا سب سے اہم عنصر ہے- تصوف کا مقصد فرد کی ایسی تربیت اور نفسیاتی تیاری تھا کہ وہ شریعت کو بہترین طریقے سے قبول، جذب اور نافذ کر سکے تاکہ ایک ایسا فرد تیار ہو جو مکمل طور پر شریعت کی سمت گامزن ہو- جب میں اسلام کے ورکنگ سسٹم کو دیکھتا ہوں تو میں ”مرکزی“ اور ”فروعی/حاشیائی“ دائروں کے نظریے کی طرف مائل ہوتا ہوں (جیسے فوکو اور الفرڈ شمٹ کے ہاں ہے) مرکزی دائرے وہ ہوتے ہیں جو نظام کے اندر زبردست طاقت رکھتے ہیں جبکہ حاشیائی دائرے اس تصویر کو مکمل کرنے کا کام کرتے ہیں، اگر میں اس کی ایک سادہ سی تصویر بناؤں کہ اسلام کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ تو میں کہوں گا کہ اسلام کے دو ہی مرکزی دائرے ہیں، ایک شریعت اور دوسرا تصوف کیونکہ اگر آپ دیگر شعبوں کو دیکھیں تو وہ یا تو ان دونوں میں شامل ہیں یا ان کے معاون ہیں-مثال کے طور پر انیسویں صدی سے پہلے کا روايتی ”اسلامی ادب“ شریعت اور تصوف دونوں کا ایک ستون تھا، جس سے دونوں نکھار اور فائدہ حاصل کرتے تھے، جہاں تک ”علمِ کلام“ کا تعلق ہے، اگرچہ اس نے دین کے عقائدی اصول قائم کئے لیکن وہ شریعت کا خادم اور معاون ہی رہا کیونکہ شریعت کو عملی زندگی سے جڑنے کی ضرورت تھی، یہ ایک ایسا عملی نظام ہے جو معاشرے کو نظم دیتا ہے، شریعت خود عقائد کے اساسی مباحث سے بحث نہیں کرتی جیسے علمِ کلام، علومِ قرآن اور اصولِ دین کرتے ہیں (مثلاً مفہومِ وجود، نبوت اور امامت جو کلامی کتب کا آخری باب ہوتا ہے) تاہم یہ تمام علوم شریعت کی مرکزی حیثیت کو سہارا دینے کےلئے ضروری تھے اور اس کے بعد ”تصوف“ دوسرا مرکزی دائرہ بن کر آیا اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جدلیاتی تعلق قائم کیا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف اسلام سے الگ تھلگ چیز ہے وہ غلطی پر ہیں، ہر نظام میں معتدل اور شدید عناصر ہوتے ہیں، ہم شریعت کا فیصلہ صرف ابن جریر طبری یا ابن عربی کے کسی منفرد قول سے نہیں کر سکتے، تصوف ایک کثیر الجہات میدان ہے جس کا مقصد شریعتِ اسلامیہ کی ضروریات کو پورا کرنا تھا، اسی لئے میں نے اس میں دلچسپی لی کہ یہاں اخلاق اور قانون کا کیا کردار ہے اور شریعت نے تمام فروعی علوم کو اپنے اندر کیسے سمیٹا؟ _

​فقہ اور اخلاقیات کا باہمی تعلق

​ ہادی محمد اللواتی: کیا آپ اس موضوع پر کوئی مستقل تصنیف شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ جہاں ”شریعت اور حقیقت“، ”ظاہر اور باطن“ اور ان کے درمیان مکمل تکامل کا ذکر ہوتا ہے، جہاں ظاہری عبادات خالق کے ساتھ ایک خاص معنوی تعلق قائم کرتی ہیں اور انسان کو ایمان و تقویٰ کی منازل تک لے جاتی ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: جی بالکل اسی چیز نے مجھے تصوف کے مطالعے کی طرف راغب کیا، میں نے محسوس کیا کہ شریعت درحقیقت ایک ایسی ”ثقافت“ ہے جو آپ کو تصوف و احسان کو اپنانے پر ابھارتی ہے، میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے، میں فرد کی اس ذاتی و باطنی کیفیت کے عمق اور ابعاد کو سمجھنا چاہتا تھا، اسی لئے میں نے تصوف میں تحقیق شروع کی اور اسے شریعت کو سمجھنے کےلئے لازمی پایا، جیسا کہ امام غزالی نے فرمایا تھا کہ جو شخص منطق نہیں سمجھتا وہ اصولِ فقہ کو صحیح طور پر استعمال نہیں کر سکے گا، میں یہی بات تصوف اور شریعت کے بارے میں کہتا ہوں کہ ”اگر آپ تصوف سے واقف نہیں ہیں تو شریعت سے دور رہیں کیونکہ آپ اسے کبھی نہیں سمجھ سکیں گے“، تصوف میں میری دلچسپی کی بنیادی وجہ یہ دریافت کرنا تھی کہ ”ذات کی تشکیل“ کیسے ہوتی ہے؟ اور کیسے اخلاقیات کو اپنانے کی تکنیک کے ذریعے وہ انسانی شخصیت بنتی ہے جو شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کےلئے لازمی شرط ہے- صرف یہی نہیں، تصوف عقلانیت (Rationality) کا اسلامی مفہوم سمجھنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے- تصوف کے تمام بڑے شیوخ نے ”عقل اور عقلانیت“ کے مفہوم کی گہری چھان بین کی ہے، اگر کوئی شخص اسلامی مفہومِ عقلانیت کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ تصوف سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا- اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عقلانیت کا صوفیانہ مفہوم ہمیں ”جدیدیت پر تنقید“ کا ایک محکم زاویہ فراہم کرتا ہے کیونکہ جدیدیت کے بحران کا اگر صحیح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ”جدید انسان“ ہمیشہ ایک ایسی غائب چیز کی تلاش میں بھٹک رہا ہے جسے وہ چھو سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے ذہن پر جاگیر دارانہ اور جدیدیت کی علامات کا قبضہ ہے- ہم اپنی زندگی کی سب سے اہم چیز یعنی ”عقل“ کے بارے میں سوچتے ہوئے بہت محدود ہو چکے ہیں، عقل ہمارے اندرونی وجود کے اعماق پر اثر انداز ہوتی ہے، یہ سینے، نفس، فؤاد اور دل کے مختلف مقامات و طبقات تک رسائی رکھتی ہے، یہی دراصل عقلانیت کے واقعی دائرے ہیں لہٰذا تصوف نہ صرف شریعت کو سمجھنے کےلئے مفید ہے بلکہ یہ شریعت کے اندر عقل کے تصور کی وضاحت کرتا ہے اور ہمیں جدید عقلانیت کے تنقیدی جائزے کےلئے آلات فراہم کرتا ہے- یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام کے تمام علوم ایک دوسرے سے مربوط اور مکمل تھے، علمِ حدیث علمِ جرح و تعدیل سے مربوط ہے جو راویوں کی حالات اور اینتھروپالوجی کا معمور ذخیرہ ہے، پھر اصولِ فقہ کا انحصار حدیث کی نقل پر ہے تاکہ قواعد کا استنباط کیا جا سکے، یوں شریعت کے مطالعے کےلئے ان تمام علوم اور بالخصوص تصوف کا مطالعہ ضروری ہے -

​شریعتِ اسلامیہ کی برتری و تفوق

​ ہادی محمد اللواتی: شریعتِ اسلامیہ کی وہ کون سی نمایاں قوتیں اور امتیازات ہیں جو اسے آج کے دور میں وضعی قوانین کے متبادل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں؟ خاص طور پر جبکہ آپ کا یہ موقف ہے کہ پچھلی دو صدیوں کے دوران شریعت کو خشک، جامد اور اخلاقیات سے عاری وضعی قوانین میں بدل دیا گیا لیکن جب اس تناظر میں شریعت کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو اعتراضات ہوتے ہیں کہ یہ انسانی حقوق، انسانی کرامت اور جدید معاییر سے مطابقت نہیں رکھتی- بعض فتاویٰ میں ناانصافی، طبقہ داری اور تعصب پایا جاتا ہے اور جہاد کو ظلم و تعدی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے آپ شریعت کی خوب صورتی اور قوت تک کیسے پہنچے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: انیسویں صدی سے پہلے اور مغربی استعمار کے ہاتھوں تباہی سے پہلے، شریعت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک اخلاقی نظام (Moral System) تھی جس نے قانون کو ایک دنیوی نظم و ضبط (Worldly Order) کے اظہار کےلئے استعمال کیا بالفاظِ دیگر شریعت کی بنیادیں اور اس کا سیاق و سباق سب سے پہلے اخلاقی تھا، پھر اس نے قانون کی تکنیکوں کا سہارا لیا تاکہ سماجی نظام کو منظم کیا جا سکے، علماء و ائمہ طلباء کو اس جامع نظام کے تحت جینے اور معاشرے میں اس پر عمل کرنے کی تربیت دیتے تھے کیونکہ شریعت کا بنیادی وظیفہ ہی معاشرے کی تنظیم اور دیکھ بھال تھا، سب سے پہلا کام اپنی حقیقی تاریخ کو جاننا ہے، یعنی مسلمانوں، عربوں اور دیگر اقوام کی تاریخ کو انیسویں صدی سے پہلے کے تناظر میں خود ان کی نظر سے دیکھنا نہ کہ استعماری قوتوں، مستشرقین کی مرتب کردہ تاریخ پر انحصار کرنا جو انہوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے تحت لکھی- آپ کے سوال کے حوالے سے کہ شریعت کے بنیادی مثبت نکات کیا ہیں اور یہ میرے اکیڈمک پروجیکٹ سے کیسے مربوط ہے؟ تو میں کہوں گا كہ

اولاً ہمیں اپنی تاریخ کو واپس حاصل کرنے کےلئے اس کا مطالعہ کرنا ہے -

ثانیاً ایک ایسی نایاب چیز کو بے نقاب کرنا ہے جو آج کے دور میں مفقود ہے، یعنی وہ طریق کار جس کے تحت اسلامی قانونی نظام ایک انتہائی مربوط اخلاقی و قدرتی ڈھانچے کے اندر کام کرتا تھا -

​پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ میں ایسی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے اخلاقیات کو قانون اور دیگر تمام علوم سے الگ کرنے کا داعیہ پیش کیا، یہ تحریکیں بعد میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اپنے عروج کو پہنچیں اور انہوں نے اپنے اس تاثر کو دوسروں پر مسلط کر دیا، یوں یہی جدید تاریخ ہمارے لئے دنیا کو دیکھنے کا المیہ بن گئی، اس کے مقابلے میں اس وقت شریعتِ اسلامیہ کے سوا کوئی دوسرا ماڈل نہیں ہے جو ہمیں ایک ایسا زندہ قانونی نظام فراہم کرے جس نے استعمار سے پہلے بارہ سو سال تک شاندار علمی و عملی کامیابی کے ساتھ کام کیا اور وہ بھی دنیا کے مختلف اور متنوع خطوں میں، اسلامی اسپین، شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، ایران، ہندوستان، مغربی چین، انڈونیشیا اور ملائیشیا تک، ان تمام متنوع معاشروں میں شریعت نے خود کو ڈھالا لیکن اپنے اندر ہمیشہ اخلاقی عنصر کو زندہ رکھا- اسی لئے میں قانون اور اخلاق کے باہمی نامیاتی تعلق میں دلچسپی رکھتا ہوں، میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ شریعتِ اسلامیہ میں قانون اور اخلاقیات دو الگ چیزیں نہیں ہیں، یہی بات میں نے 2009ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ”شریعت“ میں تفصیل سے بیان کی ہے-

​جہاد، طلاق اور قوامیت کے مفاہیم

​ ہادی محمد اللواتی: اس نقطہ نظر کی روشنی میں جو فقہی حکم اور اخلاق میں فرق نہیں کرتا، کیا آپ جہاد، طلاق اور قوامیت کے مفاہیم کی کچھ تفصیل بیان کر سکتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں نے ان مسائل کو اپنی کتاب Shari'a: Theory, Practice, Transformations میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے، میں نے ہمیشہ ”عدل“ کی اندرونی منطق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ فقہاء اور عام لوگوں نے اسلامی معاشرے میں زندگی کی ترجیحات کیسے طے کی تھیں؟

​لہٰذا جب ہم جہاد کی بات کرتے ہیں تو ہم اسے اس کے وسیع تناظر (تصوف کی طرح) سے الگ نہیں کرسکتے، اسے ہمیشہ ان چیلنجز کے تناظر میں سمجھنا چاہیے جو مسلمانوں پر مسلط کئے گئے اور اس تشریعی نظام کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ”قرآن“ سے مسلمانوں کو ملا، یعنی ان کو بہترین انسان بننے اور اعمالِ خیر میں مسابقت کی دعوت-جہاں تک طلاق کا تعلق ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اسے خاندان کے ڈھانچے کے اندر کیسے دیکھتے ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ معاصر محقق ان مسائل کو پڑھتے وقت انیسویں صدی سے پہلے کے خاندانی ڈھانچے کو بھول جاتا ہے اور طلاق و جہاد کے قوانین کو جدید نقطہ نظر سے دیکھتا ہے، یہاں سے شریعت کے قدیم اور جدید مفہوم میں دراڑ پیدا ہوتی ہے- طلاق کے معاملے میں مرد اور عورت کی علیحدگی ایک پیچیدہ اور مالی طور پر گراں پروسیس تھا- اسی لئے سماجی اور اینتھروپولوجیکل لحاظ سے طلاق کوئی آسان یا عام بات نہیں تھی، بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ طلاق کی صورت میں مسلم خواتین کو نہ صرف مہر مؤجل اور مؤخر کا حق حاصل تھا بلکہ انہیں دورانِ نکاح اپنے گھریلو کام اور بچوں کو دودھ پلانے کا معاوضہ مانگنے کا بھی قانونی حق حاصل تھا- پچھلی صدی میں جب جدید فیملی قوانین بنائے گئے تو ان تمام حقوق کو سلب کر لیا گیا اور یہ توازن ختم ہوگیا لہٰذا طلاق کو شریعت کے اس سماجی ماحولیاتی نظام سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس میں خود کار توازن موجود تھا، جہاں تک قضاۃ اور فقہاء کا تعلق ہے، وہ معاشرے کا حصہ تھے، اس سے کٹے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی اس کے اعراف سے معزول تھے- جدیدیت نے اس پورے نظام کو الٹ دیا، اسلامی شریعت کا نظام ایک مساواتی اور سماجی نظام تھا جو معاشرے کے اندر سے ابھرا نہ کہ کسی سیاسی مرکز یا اعلیٰ اتھارٹی کا ساختہ پرداختہ تھا- ابتدائی اسلامی صدیوں میں فقہاء اور مفتیان تاجر اور دستکار ہوا کرتے تھے، ان کی اپنی دکانیں ہوتی تھیں اور درس و تدریس کے حلقے مساجد کے ساتھ ساتھ ان کی دکانوں میں لگتے تھے- پانچویں صدی ہجری (گیارہویں صدی عیسوی) تک قانون بحیثیت ایک پیشہ وجود نہیں رکھتا تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے علمی اور اجتماعی عمل کا نام تھا جو انہوں نے اپنی اسلامی زندگی گزارنے کےلئے تشکیل دیا تھا- اسی لئے میں زور دیتا ہوں کہ شریعت جوہر کے اعتبار سے ایک سماجی پیداوار ہے، نہ کہ سیاسی پیداوار- بعد میں جب مدارس قائم ہوئے تو سیاسی انتظامیہ نے مداخلت شروع کی لیکن وہ مداخلت انتہائی محدود تھی، کوئی حکمران یہ جرأت نہیں کر سکتا تھا کہ وہ آ کر کہے کہ میں اپنا نیا قانون نافذ کرتا ہوں اور شریعت کو معطل کرتا ہوں کیونکہ شریعت سماجی تانے بانے میں جڑی ہوئی تھی- آج بھی مسلم خاندان عبادات اور عادات میں شریعت ہی پر عمل پیرا ہیں- حتیٰ کہ فلسطین میں مسیحی برادری بھی اپنی روایتی ثقافت میں شریعت کے بعض اجزاء پر عمل کرتی ہے-

​جدیدیت سے پہلے اور بعد کی شریعت

​ ہادی محمد اللواتی: آپ نے برطانوی استعمار کے تحت ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں فقہ کو محض ”پرسنل لاء“ یا ایک جامد قانونی کوڈ میں تبدیل کر دیا گیا، جس نے قضاۃ کے اجتہاد اور لچکدار فہم کا گلا گھونٹ دیا، فتاویٰ کے سیاق و سباق کو روک دیا اور اس جمود کا سبب بیورو کریسی اور انتظامی فورس کے ساتھ جدیدیت کی فتح تھی جس نے فقہ کو مسخ کر دیا تو شریعت کس طرح مری اور اسے قانونی نصوص میں ڈھالنے میں کیا قباحت ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شریعت بنیادی طور پر ایک سماجی تأویلی نظام (Socio-Hermeneutical System) ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا، ہمارے واقعے کو پیدا کیا اور کائنات کے قوانین بنائے لہٰذا ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اسے حکمتِ الٰہی کے مطابق ہونا چاہیے- یہ منطق کہتی ہے کہ شریعت جوہر کے اعتبار سے اخلاقی ہے کیونکہ اللہ نے دنیا کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے، اللہ ہمارے ساتھ ہے اور سنتا ہے لیکن ہم اس سے روبرو بات نہیں کر سکتے لہٰذا مسلم فقیہ کا کام یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے نصوص کے ساتھ ساتھ معاشرے کے عرف، عادات اور کائناتی اشارات کو دیکھ کر کسی خاص واقعے میں مرادِ الٰہی اور حکمت کو دریافت کرنے کی کوشش کرے، جب کوئی معاشرہ اپنے جاری عرف و روایات کو تدوین کر لیتا ہے تو اس میں جمود آ جاتا ہے، ہندوستان اور بعد میں دیگر اسلامی ممالک میں یہی ہوا کہ شریعت کو وضعی قانون کی طرز پر قانون بنانے کے سانچے میں ڈھال دیا گیا اور اس کے اس تاویلی پروسیس کو ختم کر دیا گیا جو فیصلے سے پہلے جاری رہتا تھا- انیسویں صدی میں جدید ریاست نے فقہ کو اس کے اجتہادی اور سماجی ماحول سے کاٹ کر خشک قانون بنا کر رکھ دیا- آج ہمارے پاس شریعت کا صرف ظاہری خول باقی ہے، اس کا داخلی میکانزم ختم ہو چكا ہے -

​کتب فقہ کے مختصرات

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا فقہ کو مختصرات اور تدوین کی شکل دینا جدید ریاست سے پہلے بھی جاری نہیں تھا، جیسے مختلف مذاہب کی فقہی مدونات (رسالہ عملیہ یا احکام شرعیہ) جو عقائد و اخلاق سے مجرد ہوتی تھیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: آپ کا اشارہ ”مختصرات“ (جیسے مختصر خلیل) کی طرف ہے، جو پانچویں صدی ہجری کے بعد سامنے آئے لیکن وہ ریاست کا قانون یا جدید ریاست کے قانونی احکامات کی مانند بالکل نہیں تھے- ان مختصرات کا مقصد محض تدریس اور تعلیم کےلئے آسان طریقہ فراہم کرنا تھا- استاد ان کے ایک ایک سطر کی شرح کرتے ہوئے اسے پورے قانونی جسم اور اجتہادی مناہج سے جوڑتا تھا لہٰذا وہ معاملہ بالکل مختلف تھا _

​فقہاء کی عقلمندی

​ ہادی محمد اللواتی: بعض فقہی کتب میں عقدِ نکاح کو اخلاق، تربیت اور قرآنی ویژن سے ہٹ کر حقوق و فرائض کے کم سے کم معاہدے (خرید و فروخت کی طرح) کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ وہی مصنف اخلاق پر کتاب میں رحم و کرم کی بات کرتا ہے، اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شریعت کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کےلئے پورے سسٹم کی اندرونی منطق کو سمجھنا پڑے گا، وہ نظام کچھ خاص مفروضات کے تحت کام کرتا تھا، ہم اکیسویں صدی میں آ کر ان لوگوں پر (جو ہزار سال پہلے گزر چکے ہیں) یہ حکم نہیں لگا سکتے کہ وہ غیر اخلاقی تھے جبکہ ہم ان کے طرزِ زندگی کو بھی نہیں سمجھتے، اگر ہم ان کے عرف اور مسائل کے حل کے طریقے کو سمجھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ وہ انتہائی عقلمند اور اخلاقی لوگ تھے، اگر ہم ان پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں خود پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ ہم ہزار سال بعد ان کا دفاع سنے بغیر حکم لگا رہے ہیں _

​فقہی کتب پر اعتراض کا جواب

​ ہادی محمد اللواتی: فقہی کتب پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ وہ زمانے کی تبدیلیوں کا لحاظ نہیں رکھتیں اور ان میں غلامی جیسے متروک مسائل اب بھی دہرائے جاتے ہیں جس سے انسانی کرامت پر حرف آتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: یہ کہنا کہ فقہ اور شریعتِ اسلامیہ معاشی و سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتی، ایک بڑا مغالطہ ہے، کوئی بھی سنجیدہ محقق یہ دعویٰ نہیں کر سکتا، یہ مستشرقین کا پروپیگنڈہ اور ایک مستشرقانہ مفروضہ تھا لیکن پچھلے چند عشروں میں منصف مزاج محققین کی رائے بدل چکی ہے- اسلامی فقہ ہمیشہ اپنے اپنے عہد کے حالات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے لیکن جدیدیت کی تیز رفتار تبدیلی اور تغیرات ایک بالکل الگ معاملہ ہے اور جہاں تک شریعت کا تعلق ہے تو وہ پچھلے دو سو سالوں سے عملی میدان میں موجود ہی نہیں تھی کہ اس کا امتحان لیا جاتا- اسے 1850ء کے قریب معطل کر دیا گیا، ہم نے شریعت کو عمل کا موقع ہی نہیں دیا تو اس کا عملی میدان سے باہر ہونا فطری بات ہے -

​کیا اسلامی ریاست ناممکن ہے؟

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کی مشہور کتاب ”The Impossible State“ میں آپ کا موقف ہے کہ جدیدیت اور جدید ریاست کے دور میں ”اسلامی ریاست“ کا قیام ناممکن ہے، اس کی بنیاد کیا ہے؟ جبکہ ریاست بالآخر پولیس، عدلیہ اور حکومت کا ایک نظام ہے جو ہر معاشرے ميں مل جاتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: کیونکہ اسلامی حکومت (Islamic Governance) کا نفاذ بالکل مختلف طریق کار اور منطق کے تحت ہوتا تھا اور جدیدیت اس سے بہت دور نکل چکی ہے،​جب تک جدیدیت اور جدید ریاست اپنی موجودہ قوت کے ساتھ قائم ہیں، جدیدیت اور جدید ریاست کے فریم ورک کے اندر اسلامی حکومت کا ظاہر ہونا ناممکن ہے-شریعت اسلامی حکومت کا بنیادی ڈھانچہ تھی، میں ”ریاست“ کا لفظ بھی استعمال نہیں کروں گا کیونکہ ریاست خود ایک جدید اصطلاح ہے- شریعت اسلامی نظامِ حکمرانی کی بنیاد تھی، شریعت کی فطرت انسان کی ”پاکیزہ زندگی“ (Good Life) کے گرد گھومتی ہے، اس کا مقصد فرد کی تربیت اور اسے اخلاقیات کی بلند ترین سطح پر پہنچانا ہے- جدید ریاست کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے، جدید ریاست سیاست (Politics) اور سیاسیات (Political) کی ہوس میں مبتلا ہے- سیاست یہاں طاقت اور تسلط کا آلہ ہے، میں اس ”سیاسی عنصر“ کو اس ”فطری بگاڑ“ (Natural Decay) سے جوڑتا ہوں جس نے پچھلے پچاس سالوں میں ماحولیات کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے- جدید ریاست کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ انسان کی اخلاقی تربیت کرے یا ماحول کو آلودگی سے بچائے، آج خوراک آلودہ ہے، ذہنی و جسمانی بیماریاں عام ہیں اور حیاتاتی انواع تباہی کا شکار ہو رہی ہیں، یہ سب جدیدیت کا نتیجہ ہے- ہم جس سیاسی و سماجی دلدل میں دھنس چکے ہیں، اس پر جدید ریاستوں کا مکمل کنٹرول ہے-شریعت نے جس طرح سے کام کیا، وہ اس موجودہ تلخ واقعے کو کبھی قبول نہ کرتی- قدیم ہند اور چین میں بھی حکومت کے ایسے ماڈل نہیں تھے جنہوں نے جسموں اور ماحول کو یوں تباہ کیا ہو _

​جدیدیت کی جڑوں پر نقد

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا جدیدیت کے فراہم کردہ مادی فوائد، سائنسی پیش رفت، شعبہ طب اور آسان مواصلات کا انکار کیا جا سکتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اصل سوال یہ ہے کہ ان تمام کامیابیوں کی قیمت (Cost) کیا ہے جو ہم ادا کر رہے ہیں؟ جی ہاں! جدیدیت نے ہمیں وہ مادی آسائشیں دی ہیں جو انسانی تاریخ کے کسی دور میں میسر نہیں تھیں لیکن اس کی قیمت ہم کیا دے رہے ہیں؟​مغربی طبی نظام کو دیکھ لیں، تاریخ میں کسی تہذیب نے علاج معالجے میں اتنی پیشرفت حاصل نہیں کی جتنی آج ہے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد کی دو صدیوں پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ طبی پیشرفت دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ بیماریوں کا لازمی اور عارضی حل ہے- جتنا یہ صنعتی ادارہ پھیلے گا، اتنی ہی بیماریاں بڑھیں گی، سرطان کی اتنی اقسام ہیں کہ ان پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، یہ صرف تہذیب کی ترقی نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنے کی ایک مجبوری ہے- لوگ صرف ظاہری سہولیات کو دیکھتے ہیں لیکن پرہیز کے ذریعے ایک صحت مند جسم اور ذہن کیسے حاصل کیا جائے؟ عقل و ذہن کا علاج کیسے ہوگا؟ جبکہ ذہنی بیماریاں بے تحاشا بڑھ رہی ہیں اور خود کشی ایک عالمی وبا بنتی جا رہی ہے، ہم ماحولیاتی تباہی کا علاج کیسے کریں گے؟ انسانی حقوق جیسے مفاہیم بھی خود جدیدیت کے پیدا کردہ بحرانوں کا ردِ عمل ہیں- انسانی تاریخ میں پچھلے سو سال سے پہلے کبھی اتنے بڑے پیمانے پر ماحول، خاندان اور انسانی صحت کی تباہی نہیں ہوئی تھی _

​ابتدائی صدیوں میں اسلامی ریاست

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا جدیدیت سے پہلے والی اسلامی ریاست میں جابرانہ، اموی و عباسی خلفاء کی عیاشیاں، درباری علماء اور طبقاتی عناصر موجود نہیں تھے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: وہ سب تاریخ کا حصہ ہے، میں اس کا انکار نہیں کرتا لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کس تناظر میں ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں؟ اگر آپ یورپی تاریخ کو دیکھیں تو وہ اسلامی تاریخ سے کہیں زیادہ خونریز رہی ہے، یورپ مسلسل جنگوں، غداریوں اور قتل عام کا میدان بنا رہا- اگر ہم صرف بیسویں صدی کی بات کریں تو وہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن صدی تھی- فرانسیسی انقلاب یا روس کے بالشوی انقلاب سے موازنہ کر کے دیکھیں، لینن سے لے کر اسٹالن تک کا دور کس قدر خونریز تھا، ہر قوم کے سیاسی سیاق و سباق نے خون مانگا ہے- آپ کا سوال یہ ہے کہ اسلامی تاریخ ظالمانہ تھی لیکن یہ وہی پرانی کہانی ہے جو مستشرقین نے وضع کی تھی تاکہ مغربی استعمار کے منصوبوں کو جواز فراہم کیا جا سکے- میں مستشرقین کے ”مطلق استبداد“ کے نظریے کو مسترد کرتا ہوں، اگر ہم کچھ جابر مسلم حکمرانوں کی بات کریں تو اقتدار ہمیشہ فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے لیکن ہم یہی کچھ جدید لبرل ڈیموکریسیز میں بھی دیکھ رہے ہیں- مغربی خفیہ ایجنسیاں جس طرح دوسرے ممالک کی حکومتیں گراتی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈکٹیٹرشپ خود جمہوری مغرب کے دل میں قائم ہے- آج کے مسلمانوں کا اپنی سیاسی تاریخ کے بارے میں علم جو عام فہم ہے، وہ میرے نزدیک انتہائی سطحی ہے- معاصر مسلمان اپنی تاریخ کو نہیں جانتے بلکہ وہ مستشرقین کے شش و پنج کا شکار ہو کر احساسِ کمتری کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ جدید محققین بالکل مختلف نتائج تک پہنچے ہیں- مسلمانوں کو استشراق کے اثرات سے آزاد ہو کر خود مختارانہ انداز میں اپنی تاریخ کو دوبارہ دیکھنا ہوگا، اٹھارہویں صدی کے اختتام تک کا اسلامی نظامِ حکمرانی قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کی وجہ سے قابلِ فخر تھا- اسلامی تاریخ کو صرف ظالمانہ دکھانے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے، اس استشرقی تاثر کو اب ختم ہونا چاہیے _

​سیاسی اسلام

​ ہادی محمد اللواتی: آپ ”سیاسی اسلام“ اور بالخصوص ایرانی انقلاب کا کیسے جائزہ لیتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میری نظر میں ایرانی تجربہ جدید ریاست کے سانچے میں ڈھلنے کی ایک اسلامی جدیدیت کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے- ایران جدید ریاست کے فریم ورک کے اندر اسلامی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے اور جدید ریاست کے اندر اسلامی حکمرانی کا دعویٰ کرنا ایک ناممکن امر ہے- میری کتاب The Impossible State اسی کا تجزیہ کرتی ہے، آیت اللہ خمینی نے اپنی وفات سے قبل اشارہ کیا تھا کہ اگر ریاست کی ضرورت ہو تو وہ اسلام کے بنیادی ارکان (جیسے حج) کو بھی معطل کر سکتی ہے، بالفاظِ دیگر ریاست کو دین پر مقدم کر دیا گیا -تو پھر ان کے تصورِ ریاست اور جدید ریاست میں کیا فرق رہ گیا؟ جدید ریاست بھی دین کی اہمیت کو کم کر کے اسے فرد کا ذاتی معاملہ بنا دیتی ہے، ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایک دائرے کو مربع بنانے کی ناکام کوشش ہے، آپ جدید ریاست کے نظام میں دین کو اصل ترجیح نہیں بنا سکتے کیونکہ جدید ریاست کا قیام ہی دین کو حاشیے پر دھکیلنے کےلئے ہوا تھا- لہٰذا ایران کی انقلابی جدو جہد ایک ”ناممکن“ کی کوشش ہے _

​جدید ریاست کا متبادل

​ ہادی محمد اللواتی: تو پھر جدید ریاست کا متبادل کیا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اگر کوئی طبیب کسی بیماری کا علاج کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے بیماری کی درست تشخیص کرنی ہوگی، اگر آپ مسئلے کو سمجھے ہی نہیں تو حل نکالنا ناممکن ہے- میرے نزدیک ہم ابھی تک یہ سمجھے ہی نہیں ہیں کہ جدیدیت ہمیں کس تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، ہمیں اس عصر کا ایک نیا، تنقیدی فہم حاصل کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ ہر چیز کو الگ تھلگ کر کے دکھاتی ہے، ہم پڑھتے ہیں کہ سمندر کیسے تباہ ہو رہے ہیں لیکن ہم مادی اور معنوی کا باہمی ربط نہیں سمجھتے، سمندروں کی تباہی کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم بطورِ انسان کیسے سوچتے ہیں؟ علمیاتی اور وجودی اعتبار سے انسان کو پہلے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ”ہم کون ہیں؟“ ہم دنیا کی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں لیکن خود اپنے بارے میں نہیں جانتے، اگر کوئی میاں بیوی تنازع کا شکار ہوں تو جب تک دونوں افراد اپنے اندرونی وجود اور نقائص کو نہیں سمجھیں گے، کوئی حل نہیں نکل سکتا- جدیدیت کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کی ہر چیز کو دیکھتے ہیں لیکن خود اپنے اندر نہیں جھانکتے- حل صرف پلاسٹک کی بوتلیں یا بائیکاٹ کرنا نہیں ہے بلکہ اصل حل یہ سمجھنا ہے کہ بطور انسان ہماری ذات اور شعور کی حقیقت کیا ہے؟ اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ انسان دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر کا جائزہ لے _

​تراثی مطالعہ اور تحقیقاتی مناہج

​ ہادی محمد اللواتی: کیا آپ کو الازہر یا نجف اشرف جیسے روایتی اداروں میں نہ پڑھنے کا افسوس ہے؟ اور کیا آپ کا علمی کام تحقیقاتی مناہج کا مرہونِ منت ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: مجھے اس بات کا بالکل افسوس ہے کہ مجھے الازہر، نجف یا قم جیسے اداروں میں باقاعدہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا، یہ میرے لئے بڑی نعمت ہوتی لیکن میں نے ان تمام تراثی علوم کو وہاں جائے بغیر گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی، جب میں نے اصولِ فقہ کا مطالعہ شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے منطق کا علم چاہیے، چنانچہ میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال صرف منطق سیکھنے کےلئے وقف کر دیے (ابن تيمية، ابن سینا اور ارسطو کے مطالعے کے ساتھ)، میں نے یہی کام علمِ کلام، زبان اور تصوف کے ساتھ کیا تاکہ شریعت کو اسی گہرائی سے سمجھ سکوں جیسے قدیم علماء سمجھتے تھے-​جہاں تک تحقیقاتی مناہج کا تعلق ہے تو انہوں نے مجھے یقیناً ایک تنقیدی زاویہ اور ہر چیز کا تاریخی جائزہ لینے کا طریقہ دیا، میں نے فرینکفرٹ اسکول کی تنقیدی تھیوری اور مغربی فلسفے سے استفادہ کیا، پس میرا کام مشرق اور مغرب دونوں کے علمی امتزاج کا نتیجہ ہے _

​صوفیانہ اور معنوی معرفت

​ ہادی محمد اللواتی: صوفیانہ اور معنوی معرفت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: تصوف یا عرفان صرف ایک ذاتی معنوی معاملہ نہیں تھا، یہ شریعت کے ساتھ مکمل مربوط تھا، تصوف نے انسان اور ایک اعلیٰ اخلاقی وجود کے درمیان تعلق کو محکم کیا- اس کے علاوہ، تصوف اور عرفان میرے لئے تحقیق کا ایک منہج بھی ہیں، جب میں جدیدیت کے مسائل پر بات کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تمام اشیاء کے درمیان باہمی ربط کو سمجھنا ضروری ہے تو یہ مفہوم ہمیں ابن عربی کی فکر میں ملتا ہے- ابن عربی ہمیں تحقیق کا وہ منہج دیتے ہیں جس کی آج کے اس دور میں شدید ضرورت ہے- ابن عربی کے ”وحدت الوجود“ کا مفہوم ایک تحقیقاتی منہج میں ڈھالا جا سکتا ہے، یہ منہج ہمیں انسان، فطرت اور کائنات کے باہمی تعلق کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، جدیدیت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے اپنا کائناتی زاویہ کھو دیا ہے، تصوف کا یہ منہج ہمیں بتاتا ہے کہ اس کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے؟ یہ دنیا صرف ایک طبعی ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ زندگی سے دھڑک رہی ہے _

​اسلامی مذاہب کےلئے فکری انفرادیت اور وسعتِ نظر

​ ہادی محمد اللواتی: میں نے آپ کی تحریروں میں دیکھا ہے کہ آپ تمام اسلامی مذاہب اور مکاتبِ فکر اہلِ سنت، شیعہ، اباضیہ اور دیگر کی طرف بلا تعصب کھلے پن اور وسعتِ نظر کا مظہر پیش کرتے ہیں، کیا اس کا تعلق بھی آپ کے اس کلّی صوفیانہ اور عرفانی ویژن سے ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: جی بالکل! میں جب تک کسی ایسے تفصیلی فقہی مسئلے پر بحث نہ کر رہا ہوں جہاں مجھے کسی مخصوص مذہب (مثلاً صرف حدیثِ سنّی کی حجیت) تک محدود رہنا پڑے، میں باقی تمام شعبوں میں ہر قسم کے اسلامی تراث کےلئے مکمل طور پر کھلا ہوا ہوں، جیسا کہ میں کہتا ہوں، یہ تمام دھارے اور مذاہب ہمارے عظیم الشان تراث کا حصہ ہیں اور ایک کا وجود دوسرے کی تکمیل کرتا ہے _

​ ہادی محمد اللواتی: میں نے آپ کی بعض تصانیف میں فرانسیسی مفکر عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں) کی بہت تعریف و توصیف دیکھی ہے، کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے جدیدیت پر شدید ترین نقد پیش کیا اور صوفیانہ و عرفانی ویژن پر زور دیا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: رینے گینوں کا مطالعہ کرنے اور اپنی کتاب Restating Orientalism میں ان کا ذکر کرنے کی بنیادی طور پر تین بڑی وجوہات ہیں _

وہ ایک انتہائی گہرے اور معرکۃ الآراء مفکر تھے جو تعلیمی اداروں اور فلسفے کے اکثر اساتذہ سے کہیں زیادہ جدیدیت کی حقیقت اور اس کی ساخت کو سمجھے تھے اور جدیدیت کا گہرا فہم رکھتے تھے _

دنیا میں یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ ایڈورڈ سعید استشراق کے سب سے بڑے اور بنیادی ناقد ہیں، میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے، ایڈورڈ سعید کی کتاب نے استشراق پر حقیقی اور گہرے نقد کو چالیس سال پیچھے دھکیل دیا اور لوگوں کو ایک سطحی حل کا اسیر بنا کر رکھا- سعید نے صرف استشراق کے سیاسی بعد پر تنقید کی لیکن اس کے گہرے فکری و علمیاتی ڈھانچے کو نہیں چھوا- اس کے مقابلے میں رینے گینوں نے 1920ء کی دہائی میں جو کتابیں لکھی تھیں (اور ان کے بعد مصری مفکر انور عبد الملک نے جو لکھا)، وہ ایڈوارڈ سعید کی کتاب سے کہیں زیادہ گہری، غنی اور محکم تھیں لیکن چونکہ وہ اپنی فکر میں انتہائی ریڈیکل اور بے باک تھے، اس لئے تعلیمی و تحقیقی حلقوں نے انہیں نظر انداز کر کے فکری طور پر مفلوج کر دیا -

گینوں عرفان سے شدید متاثر تھے اور ان کا ایک ایسا کائناتی و وجودی ویژن تھا جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسانی زندگی کےلئے کچھ ثابت اور غیر متغیر اعلیٰ اصول (Higher Transcendent Principles) کا ہونا لازمی ہے، ہم ہر چند سال بعد اپنی مرضی سے فیصلے بدل کر دنیا کے بنیادی اصول نہیں بدل سکتے- ہم خدا نہیں ہیں، نیز ان کا اخلاق کا مفہوم پچھلی چار صدیوں کے یورپی فکر سے کہیں زیادہ عمیق اور گہرا تھا _

​طہ عبد الرحمن کے ہاں انسان اور اخلاق

​ ہادی محمد اللواتی: آپ نے اپنی کتاب Reforming Modernity میں نقدِ جدیدیت کےلئے معاصر مراکشی مفکر ڈاکٹر طہ عبد الرحمن کا انتخاب کیوں کیا؟

​ پروفیسر وائل حلاق: ڈاکٹر طہ عبد الرحمن ایک فکری پل اور ایک انتہائی تخلیقی فلسفی ہیں، انہوں نے اسلام کے روایتی علوم کو اس جدید زبان میں منتقل کر دیا ہے جس کے ذریعے ہم جدیدیت کے ساتھ مکالمہ کر سکتے ہیں، اگر میں امام غزالی کو براہِ راست آج کی جدیدیت کے سامنے لاتا تو وہ گفتگو محدود رہتی، میں نے ان کا انتخاب اس لئے کیا تاکہ میں ان کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے ان سے آگے کی بات کروں- طہ عبد الرحمن کا اب بھی ماننا ہے کہ جدیدیت کی اصلاح ممکن ہے جبکہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، ہمیں ”جدیدیت کی اصلاح“ کی بجائے ”جدیدیت کے متبادل“ کی بات کرنی چاہیے لہٰذا میں ان کے کام کو ایک زینے کے طور پر استعمال کر کے اگلے مرحلے میں داخل ہوا ہوں _

​فلسطین اور استشراق پر نقد

​ ہادی محمد اللواتی: فلسطین سے بچھڑنے کا غم اور اسرائیل کا استعماری کردار آپ کی تحریروں میں کیسے ظاہر ہوتا ہے؟

​پروفیسر وائل حلاق: میں نے اپنی زندگی کے پہلے تئیس سال فلسطین میں اسرائیلی استعمار کے خوفناک سایہ تلے گزارے ہیں، میرے اسرائیلی استعمار کے تحت گزرے ہوئے تجربات اور جدیدیت پر میری تنقید کے درمیان ایک براہِ راست تعلق ہے، میں استشراق کو تعلیمی و تحقیقاتی اداروں کا ایک حصہ مانتا ہوں، مغرب نے جب دنیا کو مستعمر بنایا تو اس میں صرف سیاستدان اور فوجی شامل نہیں تھے بلکہ ان کا پورا تعلیمی اور سائنسی نظام شامل تھا، اگر کوئی سچی اور منصف عالمی عدالت ہوتی تو موجودہ مغربی تعلیمی ادارے کٹہرے میں کھڑے کئے جاتے جنہوں نے پچھلی دو صدیوں میں پوری دنیا کو تباہ کرنے میں معاونت کی- اس تناظر میں اسرائیلی تعلیمی ادارے مکمل طور پر مجرم ہیں کیونکہ وہ عسکری قبضہ اور ظلم کے پروجیکٹ میں براہِ راست شریک ہیں، وہاں تعلیمی اداروں کا ہر شعبہ فوجی اور استخباراتی ادارے کی آبیاری کرتا ہے، یہاں تک کہ طب جیسے شعبے کو بھی قیدیوں پر تشدد کےلئے استعمال کیا جاتا ہے _

​زبان اور اصطلاحات کا کردار

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے منصوبے میں زبان اور اصطلاحات کے فہم کا کیا کردار ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں جب اعلیٰ تعلیم کے طلباء کو پڑھاتا ہوں تو ہم اسلامی نصوص کو ان کی اصل عربی زبان میں پڑھتے ہیں، ہماری پہلی توجہ اصطلاحات اور مفاہیم پر ہوتی ہے کیونکہ اس قدیم دنیا میں داخل ہونے کا واحد راستہ وہ زبان اور الفاظ ہیں جو ان علماء نے لکھے، مثال کے طور پر، ”وقف“ کا مفہوم آپ عمارتوں کو دیکھ کر نہیں سمجھ سکتے، جب تک آپ فقہاء کی کتب نہ پڑھیں، یہی معاملہ ”عدل“، ”غنى“ اور ”ظلم“ کا ہے (مثلاً قدیم اسلامی تراث میں ”غنی“ اس شخص کو نہیں کہا جاتا تھا جس کے پاس بہت مال و دولت ہو بلکہ ”غنی“ وہ شخص تھا جو مستغنی ہو یعنی جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات میسر ہوں اور وہ دوسروں سے بے نیاز ہو) دیکھئے! معنی میں کتنا بنیادی فرق ہے، اگر آپ معاصر ذہن کے ساتھ قدیم کتب پڑھیں گے تو نتائج بالکل غلط نکلیں گے لہٰذا زبان کی طرف لوٹنا اور اس کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا لازمی ہے _

​نقدِ جدیدیت کے دیگر مناہج

​ ہادی محمد اللواتی: آپ عبد الوہاب المسیری اور زیگمنٹ باؤمن کے نقدِ جدیدیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: دونوں نے جدیدیت پر انتہائی گہرا نقد پیش کیا ہے، باؤمن نے یہ ثابت کیا کہ جدیدیت کی برائیاں کوئی حادثہ نہیں ہیں بلکہ وہ جدیدیت کا اصل جوہر ہیں، ان کی کتاب Modernity and the Holocaust نے ثابت کیا کہ ہولوکاسٹ جدیدیت کی اصل شناختی علامت ہے- ڈاکٹر عبد الوہاب المسیری نے بھی زبردست نقد لکھا لیکن انہوں نے اپنی بحث میں اخلاقی عنصر کو محور نہیں بنایا، میرے نزدیک اخلاقیات کا اصل مقصد حدود کو پہچاننا ہے، یہ جاننا کہ انسان کو کہاں رکنا چاہیے! اگر ہم اپنی حدود کو نہیں پہچانیں گے تو ہم ہلاک ہو جائیں گے _

​جدیدیت کے مرکز میں رہ کر جدیدیت پر تنقید

​ ہادی محمد اللواتی: کیا امریکہ میں رہ کر جدیدیت پر تنقید کرنا ایک تضاد نہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اس میں کوئی تضاد نہیں ہے، کسی بھی نظام کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ اندر رہ کر کی جائے- اسی لئے میں کولمبیا یونیورسٹی آیا تاکہ میں جدیدیت کے ماحول کے مرکز میں بیٹھ کر اس کے نقائص کی نشاندہی کر سکوں _

​آنے والے فکری منصوبے

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے مستقبل کے علمی منصوبے کیا ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں اس وقت ایک کتاب پر کام کر رہا ہوں جس کا عنوان The Islamic Constitution between Theory and Practice ہے، اس میں یہ دکھایا جائے گا کہ استعمار سے پہلے مسلمانوں نے آئینی طور پر اپنے اوپر کیسے حکمرانی کی؟ ہمیں اسلامی آرکائیوز میں گہرا کھود کر اس آئینی نظام کو دریافت کرنا ہوگا جو مسلمانوں کے پاس موجود تھا، اس کے بعد کا اگلا منصوبہ اس سوال کی طرف لوٹنا ہے کہ ”ہم کون ہیں؟ اور ہمیں کیسا ہونا چاہیے؟“ یہ ایک فلسفیانہ منصوبہ ہے جو نقدِ جدیدیت کا تسلسل ہوگا، میں آخری بات یہ کہوں گا کہ اسلامی دنیا کی نئی آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا ہوگا اور اسے اپنے زاویہ نظر سے دوبارہ لکھنا ہوگا، انہیں اپنی تاریخ کے ساتھ ساتھ یورپ کی تاریخ کا بھی گہرا مطالعہ کرنا چاہیے جس نے ان کی فکر کو گھیرا ہوا ہے، فکری استقلال اور خود مختاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے _

https://www.facebook.com/drhafizmubasher/posts/pfbid0fDQMeSRCwnTbuW1UE19iwD7V4Zn34Q4ZBACHmLkumKdwZeyQMcScem79bb5mzAVGl

فكر ونظر

عصر حاضر کے بنیادی افکار

پروفیسر وائل حلاق کا فکر انگیز انٹرویو

انٹرویو نگار: ہادى محمد اللواتى --مرتب: محمد ابو عمر حقانی

بحوالہ معارف

پروفیسر وائل حلاق کا شمار دورِ حاضر کے ممتاز ترین، نامور اور جید مفکرین اور دانا ناقدین میں ہوتا ہے، آپ اسلامی مطالعات پر ایک انتہائی متوازن، محکم اور گہری نظر رکھتے ہیں، ان کے افکار متعدد بنیادی اسلامی فکری قضایا کو محیط ہیں، اس فکری راہرو نے شریعتِ اسلامیہ، اسلامی فقہ اور قانون کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا-آپ نے 1955ء میں فلسطین کے ایک مسیحی خاندان میں آنکھ کھولی، 1983ء میں یونیورسٹی آف واشنگٹن سے اسلامی شریعت پر اپنے تحقیقی مقالے ”کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا تھا؟ Was the Gate of Ijtihad Closed? پر پی ایچ ڈی کی- اس کے بعد 1985ء میں کینیڈا کی میگل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز سے منسلک ہوئے اور 2009ء سے کولمبیا یونیورسٹی میں انسانیات اور اسلامی علوم کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ اسی سے زائد علمی مقالات اور متعدد کتب کے ذریعے اپنے فکری اور علمی کام کی آبیاری میں مصروف ہیں- ان کی تحریروں کے دنیا کی بیسیوں زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، جن میں عربی، ترکی، انڈونیشین، جاپانی، فارسی، عبرانی، جرمن، فرانسیسی، البانین، روسی، بنگالی اور اردو شامل ہیں- انسانیات اور سماجی علوم میں انکی اجتہادی تحقیقات کے اعتراف میں2021ء میں انہیں ترکی کی سائنس اکیڈمی کے TÜBA ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ 2024ء میں انہیں اسلامی مطالعات کا انٹرنیشنل ملك فيصل ایوارڈ دیا گیا، زیرِ نظر گفتگو نومبر 2022ء میں یوٹیوب کے ثقافتی چینل ”حیرۃ“ پر نشر ہونے والے ایک فکر انگیز انٹرویو پر مبنی ہے- اس میں حلاق نے اپنے علمی سفر، فکری خدوخال اور مستقبل کے آفاق پر روشنی ڈالی ہے- نیز انہوں نے اپنے اہم ترین نظریات جیسے نقدِ استشراق، جدیدیت کی جڑوں پر تنقید، ناقدینِ جدیدیت کا جائزہ، سیاسی اسلام، ان کا معرکہ الآراء کتاب The Impossible State، شریعت کی داخلی قوت، اخلاق اور شریعت کا باہمی تعلق اور اسلام کے صوفیانہ و عرفانی ابعاد پر سیر حاصل گفتگو کی ہے، ان کی تحقیقات کا بنیادی محور مغربی استشراق کا ناقدانہ جائزہ، جدید ریاست کے ڈھانچے پر نقد اور شریعت کے اخلاقی اور سماجی وجود کی بحالی ہے-ذیل میں اس طویل اور فکر انگیز انٹرویو کا ملخص اردو ترجمہ پیش خدمت ہے -

​فکری اسلامی میں تخصص کی وجہ

​ ہادی محمد اللواتی: ایک مسیحی خاندان میں پرورش پانے کے باوجود کس جذبے نے آپ کو فقہ، تاریخ اور علمیات کے اعتبار سے فکرِ اسلامی میں تخصص اور غواصی پر ابھارا؟ کیا یہ صرف اور صرف تحقیقاتی کاوش تھی- مستشرقانہ مطالعہ یا پھر اس تراث میں موجود ان اخلاقی و معنوی حقائق کا اثر تھا جس نے اس جغرافیہ کی تاریخی یاد داشت کو تشکیل دیا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں نے یہ مطالعہ ایک طویل عرصہ پہلے شروع کیا تھا اور اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سفر کہاں تک جائے گا- آغاز میں میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث وہ ارادہ قائم نہ رہ سکا اور میں نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اور سیاسی امور کی طرف رخ کیا- بعد ازاں جب 1978–1979ء میں ،میں امریکہ منتقل ہوا تو میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم میں دوبارہ قانون کی طرف لوٹنے کا قصد کیا لیکن اس بار میرے پیشِ نظر قانون کے متبادل کے طور پر ”شریعتِ اسلامیہ“ کا فہم تھا، اس کی بنیادی وجہ استاد ”فرحات زیادۃ“ کا ساتھ تھا، جو مؤرخ سے زیادہ قانون دان تھے- انہوں نے مجھے قائل کیا کہ مجھے شریعت کا میدان منتخب کرنا چاہیے کیونکہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے باعث شریعت کی اہمیت بہت جلد نکھر کر سامنے آنے والی ہے- وقت نے ثابت کیا کہ استاد زیادۃ کی نظر کتنی دور رس تھی- اس انقلاب کے اثرات نے پوری اسلامی دنیا کے مفکرین کو چونکا دیا، کم از کم شرعی اور قانونی نقطہ نظر سے، یوں میں نے قانون کے بدل کے طور پر شریعت کا مطالعہ شروع کر دیا- اگرچہ اصولِ فقہ ایک دشوار مضمون تھا لیکن یہ ان بنیادی موضوعات میں سے تھا جن سے میں نے آغاز کیا- میں جتنا اس میں گہرا اترتا گیا، اس سے میرا لگاؤ بڑھتا گیا- رفتہ رفتہ میرا تحقیقی دائرہ ادب، علمِ کلام اور تصوف تک پھیل گیا- اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں ایک زبردست دنیا آباد ہے، جو ایسے فلسفوں اور طرزِ فکر سے معمور ہے جن سے ہم ناواقف ہیں- ایک ایسی دنیا جو اندلس سے لے کر ہند و چین تک پھیلے ہوئے ایک عریض و عمیق معاشرے میں ہزار سال سے زائد قائم رہی، تب سے میں نے اپنے حال پر سوالات اٹھانے شروع کئے کہ ہم اس ورثے سے اپنے دور میں کیسے استفادہ کر سکتے ہیں؟ اور اس کی مدد سے ایسے افکار اور حل کیسے وضع کر سکتے ہیں جو اس جدید دنیا کے پیدا کردہ بحرانوں کا متبادل بن سکیں؟

​فکری تغیرات کیسے رونما ہوئے

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے علمی سفر کے دوران فکری تغیرات، تحولات اور تبدیلیاں کیسے رونما ہوئيں؟ کیا آپ کی تصانیف زندگی کے تجربات اور اندرونی بے چینی سے وجود میں آئیں؟ آپ کا عمومی فکری نظام کیا ہے اور کیا کوئی ایسا گوشہ باقی ہے جسے آپ اپنی آنے والی تحریروں میں پُر کرنا چاہتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شروعات میں میری انگریزی زبان کافی کمزور تھی، اس لئے مطالعہ اور فہم میں کافی وقت لگتا تھا تاہم مجھے شدید احساس تھا کہ مغرب میں اسلام کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی بنیادی خرابی ہے- اپنے علمی سفر کے پہلے عشرے میں میرا بنیادی معرکہ یہی تھا کہ مغربی تحقیقات میں عمومی طور پر اسلام اور بالخصوص شریعت کی کیا تصویر کشی کی جا رہی ہے- یہ وہ دور تھا جب 1978ء میں ایڈورڈ سعید کی کتاب Orientalism منظرِ عام پر آئی، یہ وہی سال تھا جب میں نے یونیورسٹی آف واشنگٹن میں اپنی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا لیکن ایڈورڈ سعید نے قانون کے پہلو کو بالکل تشنہ چھوڑ دیا تھا، جس پر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ دنیا کو سمجھنے کی میری منطق میں قانون کا نظام ریاست کے قیام اور استعمار کے عروج کےلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے- استعمار کا وجود ہی ریاست کے ذریعے ہوا ہے لہذا ریاست اور استعمار ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں- مغرب میں اسلام اور شریعت کے متعلق غلط پروپیگنڈا اور مستشرقین کی مخصوص زبان کا ادراک ہونے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تحقیقاتی حلقوں میں اسلامی شریعت کے نصاب اور منہج کو تبدیل کیا جائے- یہی میرا سب سے بڑا خواب تھا حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس میں میری پوری عمر صرف ہوجائے گی- 2009ء کے قریب مجھے لگا کہ میرے اس بڑے منصوبے کا شریعت والا حصہ ایک حد تک مکمل ہوچکا ہے اور یہ میرے علمی سفر کا پہلا اور اہم ترین دائرہ رہا ہے، اسکے بعد میں نے وہ سوالات اٹھانے شروع کئے جو اس تعلیمی ماحول میں عام طور پر نہیں پوچھے جاتے تھے کہ مغرب میں اسلام کی نمائندگی میں کیا قباحتیں ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ میری یہ خواہش بھی تھی کہ اسلام کا ایک ایسا بیانیہ ترتیب دیا جائے جو نہ صرف مغربی جدیدیت پر نقد کا کام کرے بلکہ عمومی طور پر آج کی عالمی جدیدیت پر بھی محاکمہ ہو کیونکہ جدیدیت اب صرف مغرب تک محدود نہیں رہی- اگرچہ اس کے بانی مغربی فلاسفرز ہی ہیں لیکن بیسویں صدی کے وسط کے بعد سے جدیدیت ایک عالمی مظہر بن چکی ہے، اس سے میری مراد صرف جدیدیت کے ظاہری مظاہر نہیں ہیں بلکہ یہ کہ انسان کی ”ذات“ کی نفسیاتی، علمی، فکری اور معنوی تشکیل جدیدیت کے قالب میں ڈھل چکی ہے، چنانچہ میں نے سوال اٹھایا کہ اسلام کا وہ مطالعہ جس میں، میں نے اپنی زندگی کے تین عشرے لگائے ہیں وہ آج کے طرزِ زندگی کو سمجھنے میں میری کیسے مدد کر سکتا ہے؟ کیونکہ اگر علم کا کوئی با مقصد وجود نہ ہو تو اس کا کوئی حاصل نہیں، تمام علوم فائدہ مند نہیں ہوتے؛ لوگ پوری زندگی ایسے علوم میں صرف کر دیتے ہیں جو بے سود ہوتے ہیں-2000ء کے قریب میں نے خود سے پوچھا کہ علم کیا ہے؟ نافع علم اور بے سود علم کے درمیان کیا حدِ فاصل ہے؟ اور ہم یہ حد کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ اس نے مجھے مزید بنیادی سوالات کی طرف موڑا کہ ہم مخصوص امور کو کیوں مسلمات مان لیتے ہیں؟ لیکن اسلامی تراث کی معرفت نے مجھے انتہائی جوہری سوالات اٹھانے میں مدد دی، جیسے کہ ہمارے ہاں اسلامی دنیا میں اینتھروپالوجی، تاریخ اور بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے شعبے قائم ہونے کے باوجود ہم ترقی کیوں نہیں کر سکے؟ یوں میں نے تاریخ کا مطالعہ اس کی تمام تر الجھنوں کے ساتھ شروع کیا- اینتھروپالوجی کو دیکھا تو اس کے اپنے مسائل تھے، یوں یہ دائرہ وسیع ہوتا گیا اور میری تشویش یہ ہے کہ میری میز پر کام بہت زیادہ ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس فانی زندگی کے ختم ہونے سے پہلے میں اسے پورا کر پاؤں گا یا نہیں -

​اسلام کو سمجھنے میں اخلاقیات اور تصوف کی محوریت

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کی تصانیف پڑھنے والے کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے ہاں اخلاقيات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہاں تک کہ آپ شریعت کو بھی اخلاقی تناظر میں دیکھتے ہیں، اس حوالے سے اور آپ کے فکری نظام میں صوفیانہ، روحانی اور عرفانی بعد کی کیا اہمیت ہے؟ مختصر یہ کہ اسلام کو سمجھنے میں یہ ابعاد آپ کے نزدیک کیا حیثیت رکھتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں تصوف کو انتہائی باریک بینی سے دیکھتا ہوں اور میں اسے موجودہ دور کی طرح کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ میں اسے ایک ایسے مظہر کے طور پر دیکھتا ہوں جو اسلامی دنیا میں خاص طور پر تیسری صدی ہجری کے بعد پھیلا اور جو اسلام کے ساختیاتی وجود کی تشریح کا بہترین ذریعہ ہے، تصوف کے مطالعے میں پوری زندگی صرف کی جا سکتی ہے، جب میں نے شریعت سے تصوف، پھر علمِ کلام اور دیگر علوم کی طرف پیش قدمی کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ تصوف تقریباً ہر چیز میں شریعت ہی کی توسیع اور تسلسل ہے، یہ شریعت کو بلندیوں اور گہرائیوں تک لے جاتا ہے، بلندیوں میں یہ شریعت کو ان روحانی اور الٰہی عوالم سے جوڑتا ہے جن کی تفصیلات میں شریعت خود نہیں پڑتی اور بنیادی باتوں پر اکتفاء کرتی ہے- یوں تصوف اوپر سے شریعت کو ایک معنوی وضاحت فراہم کرتا ہے، پھر سماجی سطح پر تصوف نے شریعت کے اجتماعی اور معاشی وجود کو محکم کیا، یہ صرف ایک معنوی اور روحانی چیز نہیں، اگرچہ روحانی پہلو ہی اس کا سب سے اہم عنصر ہے- تصوف کا مقصد فرد کی ایسی تربیت اور نفسیاتی تیاری تھا کہ وہ شریعت کو بہترین طریقے سے قبول، جذب اور نافذ کر سکے تاکہ ایک ایسا فرد تیار ہو جو مکمل طور پر شریعت کی سمت گامزن ہو- جب میں اسلام کے ورکنگ سسٹم کو دیکھتا ہوں تو میں ”مرکزی“ اور ”فروعی/حاشیائی“ دائروں کے نظریے کی طرف مائل ہوتا ہوں (جیسے فوکو اور الفرڈ شمٹ کے ہاں ہے) مرکزی دائرے وہ ہوتے ہیں جو نظام کے اندر زبردست طاقت رکھتے ہیں جبکہ حاشیائی دائرے اس تصویر کو مکمل کرنے کا کام کرتے ہیں، اگر میں اس کی ایک سادہ سی تصویر بناؤں کہ اسلام کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ تو میں کہوں گا کہ اسلام کے دو ہی مرکزی دائرے ہیں، ایک شریعت اور دوسرا تصوف کیونکہ اگر آپ دیگر شعبوں کو دیکھیں تو وہ یا تو ان دونوں میں شامل ہیں یا ان کے معاون ہیں-مثال کے طور پر انیسویں صدی سے پہلے کا روايتی ”اسلامی ادب“ شریعت اور تصوف دونوں کا ایک ستون تھا، جس سے دونوں نکھار اور فائدہ حاصل کرتے تھے، جہاں تک ”علمِ کلام“ کا تعلق ہے، اگرچہ اس نے دین کے عقائدی اصول قائم کئے لیکن وہ شریعت کا خادم اور معاون ہی رہا کیونکہ شریعت کو عملی زندگی سے جڑنے کی ضرورت تھی، یہ ایک ایسا عملی نظام ہے جو معاشرے کو نظم دیتا ہے، شریعت خود عقائد کے اساسی مباحث سے بحث نہیں کرتی جیسے علمِ کلام، علومِ قرآن اور اصولِ دین کرتے ہیں (مثلاً مفہومِ وجود، نبوت اور امامت جو کلامی کتب کا آخری باب ہوتا ہے) تاہم یہ تمام علوم شریعت کی مرکزی حیثیت کو سہارا دینے کےلئے ضروری تھے اور اس کے بعد ”تصوف“ دوسرا مرکزی دائرہ بن کر آیا اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جدلیاتی تعلق قائم کیا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف اسلام سے الگ تھلگ چیز ہے وہ غلطی پر ہیں، ہر نظام میں معتدل اور شدید عناصر ہوتے ہیں، ہم شریعت کا فیصلہ صرف ابن جریر طبری یا ابن عربی کے کسی منفرد قول سے نہیں کر سکتے، تصوف ایک کثیر الجہات میدان ہے جس کا مقصد شریعتِ اسلامیہ کی ضروریات کو پورا کرنا تھا، اسی لئے میں نے اس میں دلچسپی لی کہ یہاں اخلاق اور قانون کا کیا کردار ہے اور شریعت نے تمام فروعی علوم کو اپنے اندر کیسے سمیٹا؟ _

​فقہ اور اخلاقیات کا باہمی تعلق

​ ہادی محمد اللواتی: کیا آپ اس موضوع پر کوئی مستقل تصنیف شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ جہاں ”شریعت اور حقیقت“، ”ظاہر اور باطن“ اور ان کے درمیان مکمل تکامل کا ذکر ہوتا ہے، جہاں ظاہری عبادات خالق کے ساتھ ایک خاص معنوی تعلق قائم کرتی ہیں اور انسان کو ایمان و تقویٰ کی منازل تک لے جاتی ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: جی بالکل اسی چیز نے مجھے تصوف کے مطالعے کی طرف راغب کیا، میں نے محسوس کیا کہ شریعت درحقیقت ایک ایسی ”ثقافت“ ہے جو آپ کو تصوف و احسان کو اپنانے پر ابھارتی ہے، میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے، میں فرد کی اس ذاتی و باطنی کیفیت کے عمق اور ابعاد کو سمجھنا چاہتا تھا، اسی لئے میں نے تصوف میں تحقیق شروع کی اور اسے شریعت کو سمجھنے کےلئے لازمی پایا، جیسا کہ امام غزالی نے فرمایا تھا کہ جو شخص منطق نہیں سمجھتا وہ اصولِ فقہ کو صحیح طور پر استعمال نہیں کر سکے گا، میں یہی بات تصوف اور شریعت کے بارے میں کہتا ہوں کہ ”اگر آپ تصوف سے واقف نہیں ہیں تو شریعت سے دور رہیں کیونکہ آپ اسے کبھی نہیں سمجھ سکیں گے“، تصوف میں میری دلچسپی کی بنیادی وجہ یہ دریافت کرنا تھی کہ ”ذات کی تشکیل“ کیسے ہوتی ہے؟ اور کیسے اخلاقیات کو اپنانے کی تکنیک کے ذریعے وہ انسانی شخصیت بنتی ہے جو شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کےلئے لازمی شرط ہے- صرف یہی نہیں، تصوف عقلانیت (Rationality) کا اسلامی مفہوم سمجھنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے- تصوف کے تمام بڑے شیوخ نے ”عقل اور عقلانیت“ کے مفہوم کی گہری چھان بین کی ہے، اگر کوئی شخص اسلامی مفہومِ عقلانیت کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ تصوف سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا- اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عقلانیت کا صوفیانہ مفہوم ہمیں ”جدیدیت پر تنقید“ کا ایک محکم زاویہ فراہم کرتا ہے کیونکہ جدیدیت کے بحران کا اگر صحیح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ”جدید انسان“ ہمیشہ ایک ایسی غائب چیز کی تلاش میں بھٹک رہا ہے جسے وہ چھو سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے ذہن پر جاگیر دارانہ اور جدیدیت کی علامات کا قبضہ ہے- ہم اپنی زندگی کی سب سے اہم چیز یعنی ”عقل“ کے بارے میں سوچتے ہوئے بہت محدود ہو چکے ہیں، عقل ہمارے اندرونی وجود کے اعماق پر اثر انداز ہوتی ہے، یہ سینے، نفس، فؤاد اور دل کے مختلف مقامات و طبقات تک رسائی رکھتی ہے، یہی دراصل عقلانیت کے واقعی دائرے ہیں لہٰذا تصوف نہ صرف شریعت کو سمجھنے کےلئے مفید ہے بلکہ یہ شریعت کے اندر عقل کے تصور کی وضاحت کرتا ہے اور ہمیں جدید عقلانیت کے تنقیدی جائزے کےلئے آلات فراہم کرتا ہے- یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام کے تمام علوم ایک دوسرے سے مربوط اور مکمل تھے، علمِ حدیث علمِ جرح و تعدیل سے مربوط ہے جو راویوں کی حالات اور اینتھروپالوجی کا معمور ذخیرہ ہے، پھر اصولِ فقہ کا انحصار حدیث کی نقل پر ہے تاکہ قواعد کا استنباط کیا جا سکے، یوں شریعت کے مطالعے کےلئے ان تمام علوم اور بالخصوص تصوف کا مطالعہ ضروری ہے -

​شریعتِ اسلامیہ کی برتری و تفوق

​ ہادی محمد اللواتی: شریعتِ اسلامیہ کی وہ کون سی نمایاں قوتیں اور امتیازات ہیں جو اسے آج کے دور میں وضعی قوانین کے متبادل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں؟ خاص طور پر جبکہ آپ کا یہ موقف ہے کہ پچھلی دو صدیوں کے دوران شریعت کو خشک، جامد اور اخلاقیات سے عاری وضعی قوانین میں بدل دیا گیا لیکن جب اس تناظر میں شریعت کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو اعتراضات ہوتے ہیں کہ یہ انسانی حقوق، انسانی کرامت اور جدید معاییر سے مطابقت نہیں رکھتی- بعض فتاویٰ میں ناانصافی، طبقہ داری اور تعصب پایا جاتا ہے اور جہاد کو ظلم و تعدی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے آپ شریعت کی خوب صورتی اور قوت تک کیسے پہنچے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: انیسویں صدی سے پہلے اور مغربی استعمار کے ہاتھوں تباہی سے پہلے، شریعت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک اخلاقی نظام (Moral System) تھی جس نے قانون کو ایک دنیوی نظم و ضبط (Worldly Order) کے اظہار کےلئے استعمال کیا بالفاظِ دیگر شریعت کی بنیادیں اور اس کا سیاق و سباق سب سے پہلے اخلاقی تھا، پھر اس نے قانون کی تکنیکوں کا سہارا لیا تاکہ سماجی نظام کو منظم کیا جا سکے، علماء و ائمہ طلباء کو اس جامع نظام کے تحت جینے اور معاشرے میں اس پر عمل کرنے کی تربیت دیتے تھے کیونکہ شریعت کا بنیادی وظیفہ ہی معاشرے کی تنظیم اور دیکھ بھال تھا، سب سے پہلا کام اپنی حقیقی تاریخ کو جاننا ہے، یعنی مسلمانوں، عربوں اور دیگر اقوام کی تاریخ کو انیسویں صدی سے پہلے کے تناظر میں خود ان کی نظر سے دیکھنا نہ کہ استعماری قوتوں، مستشرقین کی مرتب کردہ تاریخ پر انحصار کرنا جو انہوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے تحت لکھی- آپ کے سوال کے حوالے سے کہ شریعت کے بنیادی مثبت نکات کیا ہیں اور یہ میرے اکیڈمک پروجیکٹ سے کیسے مربوط ہے؟ تو میں کہوں گا كہ

اولاً ہمیں اپنی تاریخ کو واپس حاصل کرنے کےلئے اس کا مطالعہ کرنا ہے -

ثانیاً ایک ایسی نایاب چیز کو بے نقاب کرنا ہے جو آج کے دور میں مفقود ہے، یعنی وہ طریق کار جس کے تحت اسلامی قانونی نظام ایک انتہائی مربوط اخلاقی و قدرتی ڈھانچے کے اندر کام کرتا تھا -

​پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ میں ایسی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے اخلاقیات کو قانون اور دیگر تمام علوم سے الگ کرنے کا داعیہ پیش کیا، یہ تحریکیں بعد میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اپنے عروج کو پہنچیں اور انہوں نے اپنے اس تاثر کو دوسروں پر مسلط کر دیا، یوں یہی جدید تاریخ ہمارے لئے دنیا کو دیکھنے کا المیہ بن گئی، اس کے مقابلے میں اس وقت شریعتِ اسلامیہ کے سوا کوئی دوسرا ماڈل نہیں ہے جو ہمیں ایک ایسا زندہ قانونی نظام فراہم کرے جس نے استعمار سے پہلے بارہ سو سال تک شاندار علمی و عملی کامیابی کے ساتھ کام کیا اور وہ بھی دنیا کے مختلف اور متنوع خطوں میں، اسلامی اسپین، شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، ایران، ہندوستان، مغربی چین، انڈونیشیا اور ملائیشیا تک، ان تمام متنوع معاشروں میں شریعت نے خود کو ڈھالا لیکن اپنے اندر ہمیشہ اخلاقی عنصر کو زندہ رکھا- اسی لئے میں قانون اور اخلاق کے باہمی نامیاتی تعلق میں دلچسپی رکھتا ہوں، میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ شریعتِ اسلامیہ میں قانون اور اخلاقیات دو الگ چیزیں نہیں ہیں، یہی بات میں نے 2009ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ”شریعت“ میں تفصیل سے بیان کی ہے-

​جہاد، طلاق اور قوامیت کے مفاہیم

​ ہادی محمد اللواتی: اس نقطہ نظر کی روشنی میں جو فقہی حکم اور اخلاق میں فرق نہیں کرتا، کیا آپ جہاد، طلاق اور قوامیت کے مفاہیم کی کچھ تفصیل بیان کر سکتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں نے ان مسائل کو اپنی کتاب Shari'a: Theory, Practice, Transformations میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے، میں نے ہمیشہ ”عدل“ کی اندرونی منطق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ فقہاء اور عام لوگوں نے اسلامی معاشرے میں زندگی کی ترجیحات کیسے طے کی تھیں؟

​لہٰذا جب ہم جہاد کی بات کرتے ہیں تو ہم اسے اس کے وسیع تناظر (تصوف کی طرح) سے الگ نہیں کرسکتے، اسے ہمیشہ ان چیلنجز کے تناظر میں سمجھنا چاہیے جو مسلمانوں پر مسلط کئے گئے اور اس تشریعی نظام کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ”قرآن“ سے مسلمانوں کو ملا، یعنی ان کو بہترین انسان بننے اور اعمالِ خیر میں مسابقت کی دعوت-جہاں تک طلاق کا تعلق ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اسے خاندان کے ڈھانچے کے اندر کیسے دیکھتے ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ معاصر محقق ان مسائل کو پڑھتے وقت انیسویں صدی سے پہلے کے خاندانی ڈھانچے کو بھول جاتا ہے اور طلاق و جہاد کے قوانین کو جدید نقطہ نظر سے دیکھتا ہے، یہاں سے شریعت کے قدیم اور جدید مفہوم میں دراڑ پیدا ہوتی ہے- طلاق کے معاملے میں مرد اور عورت کی علیحدگی ایک پیچیدہ اور مالی طور پر گراں پروسیس تھا- اسی لئے سماجی اور اینتھروپولوجیکل لحاظ سے طلاق کوئی آسان یا عام بات نہیں تھی، بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ طلاق کی صورت میں مسلم خواتین کو نہ صرف مہر مؤجل اور مؤخر کا حق حاصل تھا بلکہ انہیں دورانِ نکاح اپنے گھریلو کام اور بچوں کو دودھ پلانے کا معاوضہ مانگنے کا بھی قانونی حق حاصل تھا- پچھلی صدی میں جب جدید فیملی قوانین بنائے گئے تو ان تمام حقوق کو سلب کر لیا گیا اور یہ توازن ختم ہوگیا لہٰذا طلاق کو شریعت کے اس سماجی ماحولیاتی نظام سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس میں خود کار توازن موجود تھا، جہاں تک قضاۃ اور فقہاء کا تعلق ہے، وہ معاشرے کا حصہ تھے، اس سے کٹے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی اس کے اعراف سے معزول تھے- جدیدیت نے اس پورے نظام کو الٹ دیا، اسلامی شریعت کا نظام ایک مساواتی اور سماجی نظام تھا جو معاشرے کے اندر سے ابھرا نہ کہ کسی سیاسی مرکز یا اعلیٰ اتھارٹی کا ساختہ پرداختہ تھا- ابتدائی اسلامی صدیوں میں فقہاء اور مفتیان تاجر اور دستکار ہوا کرتے تھے، ان کی اپنی دکانیں ہوتی تھیں اور درس و تدریس کے حلقے مساجد کے ساتھ ساتھ ان کی دکانوں میں لگتے تھے- پانچویں صدی ہجری (گیارہویں صدی عیسوی) تک قانون بحیثیت ایک پیشہ وجود نہیں رکھتا تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے علمی اور اجتماعی عمل کا نام تھا جو انہوں نے اپنی اسلامی زندگی گزارنے کےلئے تشکیل دیا تھا- اسی لئے میں زور دیتا ہوں کہ شریعت جوہر کے اعتبار سے ایک سماجی پیداوار ہے، نہ کہ سیاسی پیداوار- بعد میں جب مدارس قائم ہوئے تو سیاسی انتظامیہ نے مداخلت شروع کی لیکن وہ مداخلت انتہائی محدود تھی، کوئی حکمران یہ جرأت نہیں کر سکتا تھا کہ وہ آ کر کہے کہ میں اپنا نیا قانون نافذ کرتا ہوں اور شریعت کو معطل کرتا ہوں کیونکہ شریعت سماجی تانے بانے میں جڑی ہوئی تھی- آج بھی مسلم خاندان عبادات اور عادات میں شریعت ہی پر عمل پیرا ہیں- حتیٰ کہ فلسطین میں مسیحی برادری بھی اپنی روایتی ثقافت میں شریعت کے بعض اجزاء پر عمل کرتی ہے-

​جدیدیت سے پہلے اور بعد کی شریعت

​ ہادی محمد اللواتی: آپ نے برطانوی استعمار کے تحت ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں فقہ کو محض ”پرسنل لاء“ یا ایک جامد قانونی کوڈ میں تبدیل کر دیا گیا، جس نے قضاۃ کے اجتہاد اور لچکدار فہم کا گلا گھونٹ دیا، فتاویٰ کے سیاق و سباق کو روک دیا اور اس جمود کا سبب بیورو کریسی اور انتظامی فورس کے ساتھ جدیدیت کی فتح تھی جس نے فقہ کو مسخ کر دیا تو شریعت کس طرح مری اور اسے قانونی نصوص میں ڈھالنے میں کیا قباحت ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شریعت بنیادی طور پر ایک سماجی تأویلی نظام (Socio-Hermeneutical System) ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا، ہمارے واقعے کو پیدا کیا اور کائنات کے قوانین بنائے لہٰذا ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اسے حکمتِ الٰہی کے مطابق ہونا چاہیے- یہ منطق کہتی ہے کہ شریعت جوہر کے اعتبار سے اخلاقی ہے کیونکہ اللہ نے دنیا کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے، اللہ ہمارے ساتھ ہے اور سنتا ہے لیکن ہم اس سے روبرو بات نہیں کر سکتے لہٰذا مسلم فقیہ کا کام یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے نصوص کے ساتھ ساتھ معاشرے کے عرف، عادات اور کائناتی اشارات کو دیکھ کر کسی خاص واقعے میں مرادِ الٰہی اور حکمت کو دریافت کرنے کی کوشش کرے، جب کوئی معاشرہ اپنے جاری عرف و روایات کو تدوین کر لیتا ہے تو اس میں جمود آ جاتا ہے، ہندوستان اور بعد میں دیگر اسلامی ممالک میں یہی ہوا کہ شریعت کو وضعی قانون کی طرز پر قانون بنانے کے سانچے میں ڈھال دیا گیا اور اس کے اس تاویلی پروسیس کو ختم کر دیا گیا جو فیصلے سے پہلے جاری رہتا تھا- انیسویں صدی میں جدید ریاست نے فقہ کو اس کے اجتہادی اور سماجی ماحول سے کاٹ کر خشک قانون بنا کر رکھ دیا- آج ہمارے پاس شریعت کا صرف ظاہری خول باقی ہے، اس کا داخلی میکانزم ختم ہو چكا ہے -

​کتب فقہ کے مختصرات

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا فقہ کو مختصرات اور تدوین کی شکل دینا جدید ریاست سے پہلے بھی جاری نہیں تھا، جیسے مختلف مذاہب کی فقہی مدونات (رسالہ عملیہ یا احکام شرعیہ) جو عقائد و اخلاق سے مجرد ہوتی تھیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: آپ کا اشارہ ”مختصرات“ (جیسے مختصر خلیل) کی طرف ہے، جو پانچویں صدی ہجری کے بعد سامنے آئے لیکن وہ ریاست کا قانون یا جدید ریاست کے قانونی احکامات کی مانند بالکل نہیں تھے- ان مختصرات کا مقصد محض تدریس اور تعلیم کےلئے آسان طریقہ فراہم کرنا تھا- استاد ان کے ایک ایک سطر کی شرح کرتے ہوئے اسے پورے قانونی جسم اور اجتہادی مناہج سے جوڑتا تھا لہٰذا وہ معاملہ بالکل مختلف تھا _

​فقہاء کی عقلمندی

​ ہادی محمد اللواتی: بعض فقہی کتب میں عقدِ نکاح کو اخلاق، تربیت اور قرآنی ویژن سے ہٹ کر حقوق و فرائض کے کم سے کم معاہدے (خرید و فروخت کی طرح) کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ وہی مصنف اخلاق پر کتاب میں رحم و کرم کی بات کرتا ہے، اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: شریعت کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کےلئے پورے سسٹم کی اندرونی منطق کو سمجھنا پڑے گا، وہ نظام کچھ خاص مفروضات کے تحت کام کرتا تھا، ہم اکیسویں صدی میں آ کر ان لوگوں پر (جو ہزار سال پہلے گزر چکے ہیں) یہ حکم نہیں لگا سکتے کہ وہ غیر اخلاقی تھے جبکہ ہم ان کے طرزِ زندگی کو بھی نہیں سمجھتے، اگر ہم ان کے عرف اور مسائل کے حل کے طریقے کو سمجھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ وہ انتہائی عقلمند اور اخلاقی لوگ تھے، اگر ہم ان پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں خود پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ ہم ہزار سال بعد ان کا دفاع سنے بغیر حکم لگا رہے ہیں _

​فقہی کتب پر اعتراض کا جواب

​ ہادی محمد اللواتی: فقہی کتب پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ وہ زمانے کی تبدیلیوں کا لحاظ نہیں رکھتیں اور ان میں غلامی جیسے متروک مسائل اب بھی دہرائے جاتے ہیں جس سے انسانی کرامت پر حرف آتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: یہ کہنا کہ فقہ اور شریعتِ اسلامیہ معاشی و سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتی، ایک بڑا مغالطہ ہے، کوئی بھی سنجیدہ محقق یہ دعویٰ نہیں کر سکتا، یہ مستشرقین کا پروپیگنڈہ اور ایک مستشرقانہ مفروضہ تھا لیکن پچھلے چند عشروں میں منصف مزاج محققین کی رائے بدل چکی ہے- اسلامی فقہ ہمیشہ اپنے اپنے عہد کے حالات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے لیکن جدیدیت کی تیز رفتار تبدیلی اور تغیرات ایک بالکل الگ معاملہ ہے اور جہاں تک شریعت کا تعلق ہے تو وہ پچھلے دو سو سالوں سے عملی میدان میں موجود ہی نہیں تھی کہ اس کا امتحان لیا جاتا- اسے 1850ء کے قریب معطل کر دیا گیا، ہم نے شریعت کو عمل کا موقع ہی نہیں دیا تو اس کا عملی میدان سے باہر ہونا فطری بات ہے -

​کیا اسلامی ریاست ناممکن ہے؟

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کی مشہور کتاب ”The Impossible State“ میں آپ کا موقف ہے کہ جدیدیت اور جدید ریاست کے دور میں ”اسلامی ریاست“ کا قیام ناممکن ہے، اس کی بنیاد کیا ہے؟ جبکہ ریاست بالآخر پولیس، عدلیہ اور حکومت کا ایک نظام ہے جو ہر معاشرے ميں مل جاتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: کیونکہ اسلامی حکومت (Islamic Governance) کا نفاذ بالکل مختلف طریق کار اور منطق کے تحت ہوتا تھا اور جدیدیت اس سے بہت دور نکل چکی ہے،​جب تک جدیدیت اور جدید ریاست اپنی موجودہ قوت کے ساتھ قائم ہیں، جدیدیت اور جدید ریاست کے فریم ورک کے اندر اسلامی حکومت کا ظاہر ہونا ناممکن ہے-شریعت اسلامی حکومت کا بنیادی ڈھانچہ تھی، میں ”ریاست“ کا لفظ بھی استعمال نہیں کروں گا کیونکہ ریاست خود ایک جدید اصطلاح ہے- شریعت اسلامی نظامِ حکمرانی کی بنیاد تھی، شریعت کی فطرت انسان کی ”پاکیزہ زندگی“ (Good Life) کے گرد گھومتی ہے، اس کا مقصد فرد کی تربیت اور اسے اخلاقیات کی بلند ترین سطح پر پہنچانا ہے- جدید ریاست کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے، جدید ریاست سیاست (Politics) اور سیاسیات (Political) کی ہوس میں مبتلا ہے- سیاست یہاں طاقت اور تسلط کا آلہ ہے، میں اس ”سیاسی عنصر“ کو اس ”فطری بگاڑ“ (Natural Decay) سے جوڑتا ہوں جس نے پچھلے پچاس سالوں میں ماحولیات کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے- جدید ریاست کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ انسان کی اخلاقی تربیت کرے یا ماحول کو آلودگی سے بچائے، آج خوراک آلودہ ہے، ذہنی و جسمانی بیماریاں عام ہیں اور حیاتاتی انواع تباہی کا شکار ہو رہی ہیں، یہ سب جدیدیت کا نتیجہ ہے- ہم جس سیاسی و سماجی دلدل میں دھنس چکے ہیں، اس پر جدید ریاستوں کا مکمل کنٹرول ہے-شریعت نے جس طرح سے کام کیا، وہ اس موجودہ تلخ واقعے کو کبھی قبول نہ کرتی- قدیم ہند اور چین میں بھی حکومت کے ایسے ماڈل نہیں تھے جنہوں نے جسموں اور ماحول کو یوں تباہ کیا ہو _

​جدیدیت کی جڑوں پر نقد

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا جدیدیت کے فراہم کردہ مادی فوائد، سائنسی پیش رفت، شعبہ طب اور آسان مواصلات کا انکار کیا جا سکتا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اصل سوال یہ ہے کہ ان تمام کامیابیوں کی قیمت (Cost) کیا ہے جو ہم ادا کر رہے ہیں؟ جی ہاں! جدیدیت نے ہمیں وہ مادی آسائشیں دی ہیں جو انسانی تاریخ کے کسی دور میں میسر نہیں تھیں لیکن اس کی قیمت ہم کیا دے رہے ہیں؟​مغربی طبی نظام کو دیکھ لیں، تاریخ میں کسی تہذیب نے علاج معالجے میں اتنی پیشرفت حاصل نہیں کی جتنی آج ہے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد کی دو صدیوں پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ طبی پیشرفت دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ بیماریوں کا لازمی اور عارضی حل ہے- جتنا یہ صنعتی ادارہ پھیلے گا، اتنی ہی بیماریاں بڑھیں گی، سرطان کی اتنی اقسام ہیں کہ ان پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، یہ صرف تہذیب کی ترقی نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنے کی ایک مجبوری ہے- لوگ صرف ظاہری سہولیات کو دیکھتے ہیں لیکن پرہیز کے ذریعے ایک صحت مند جسم اور ذہن کیسے حاصل کیا جائے؟ عقل و ذہن کا علاج کیسے ہوگا؟ جبکہ ذہنی بیماریاں بے تحاشا بڑھ رہی ہیں اور خود کشی ایک عالمی وبا بنتی جا رہی ہے، ہم ماحولیاتی تباہی کا علاج کیسے کریں گے؟ انسانی حقوق جیسے مفاہیم بھی خود جدیدیت کے پیدا کردہ بحرانوں کا ردِ عمل ہیں- انسانی تاریخ میں پچھلے سو سال سے پہلے کبھی اتنے بڑے پیمانے پر ماحول، خاندان اور انسانی صحت کی تباہی نہیں ہوئی تھی _

​ابتدائی صدیوں میں اسلامی ریاست

​ ہادی محمد اللواتی: لیکن کیا جدیدیت سے پہلے والی اسلامی ریاست میں جابرانہ، اموی و عباسی خلفاء کی عیاشیاں، درباری علماء اور طبقاتی عناصر موجود نہیں تھے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: وہ سب تاریخ کا حصہ ہے، میں اس کا انکار نہیں کرتا لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کس تناظر میں ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں؟ اگر آپ یورپی تاریخ کو دیکھیں تو وہ اسلامی تاریخ سے کہیں زیادہ خونریز رہی ہے، یورپ مسلسل جنگوں، غداریوں اور قتل عام کا میدان بنا رہا- اگر ہم صرف بیسویں صدی کی بات کریں تو وہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن صدی تھی- فرانسیسی انقلاب یا روس کے بالشوی انقلاب سے موازنہ کر کے دیکھیں، لینن سے لے کر اسٹالن تک کا دور کس قدر خونریز تھا، ہر قوم کے سیاسی سیاق و سباق نے خون مانگا ہے- آپ کا سوال یہ ہے کہ اسلامی تاریخ ظالمانہ تھی لیکن یہ وہی پرانی کہانی ہے جو مستشرقین نے وضع کی تھی تاکہ مغربی استعمار کے منصوبوں کو جواز فراہم کیا جا سکے- میں مستشرقین کے ”مطلق استبداد“ کے نظریے کو مسترد کرتا ہوں، اگر ہم کچھ جابر مسلم حکمرانوں کی بات کریں تو اقتدار ہمیشہ فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے لیکن ہم یہی کچھ جدید لبرل ڈیموکریسیز میں بھی دیکھ رہے ہیں- مغربی خفیہ ایجنسیاں جس طرح دوسرے ممالک کی حکومتیں گراتی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈکٹیٹرشپ خود جمہوری مغرب کے دل میں قائم ہے- آج کے مسلمانوں کا اپنی سیاسی تاریخ کے بارے میں علم جو عام فہم ہے، وہ میرے نزدیک انتہائی سطحی ہے- معاصر مسلمان اپنی تاریخ کو نہیں جانتے بلکہ وہ مستشرقین کے شش و پنج کا شکار ہو کر احساسِ کمتری کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ جدید محققین بالکل مختلف نتائج تک پہنچے ہیں- مسلمانوں کو استشراق کے اثرات سے آزاد ہو کر خود مختارانہ انداز میں اپنی تاریخ کو دوبارہ دیکھنا ہوگا، اٹھارہویں صدی کے اختتام تک کا اسلامی نظامِ حکمرانی قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کی وجہ سے قابلِ فخر تھا- اسلامی تاریخ کو صرف ظالمانہ دکھانے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے، اس استشرقی تاثر کو اب ختم ہونا چاہیے _

​سیاسی اسلام

​ ہادی محمد اللواتی: آپ ”سیاسی اسلام“ اور بالخصوص ایرانی انقلاب کا کیسے جائزہ لیتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میری نظر میں ایرانی تجربہ جدید ریاست کے سانچے میں ڈھلنے کی ایک اسلامی جدیدیت کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے- ایران جدید ریاست کے فریم ورک کے اندر اسلامی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے اور جدید ریاست کے اندر اسلامی حکمرانی کا دعویٰ کرنا ایک ناممکن امر ہے- میری کتاب The Impossible State اسی کا تجزیہ کرتی ہے، آیت اللہ خمینی نے اپنی وفات سے قبل اشارہ کیا تھا کہ اگر ریاست کی ضرورت ہو تو وہ اسلام کے بنیادی ارکان (جیسے حج) کو بھی معطل کر سکتی ہے، بالفاظِ دیگر ریاست کو دین پر مقدم کر دیا گیا -تو پھر ان کے تصورِ ریاست اور جدید ریاست میں کیا فرق رہ گیا؟ جدید ریاست بھی دین کی اہمیت کو کم کر کے اسے فرد کا ذاتی معاملہ بنا دیتی ہے، ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایک دائرے کو مربع بنانے کی ناکام کوشش ہے، آپ جدید ریاست کے نظام میں دین کو اصل ترجیح نہیں بنا سکتے کیونکہ جدید ریاست کا قیام ہی دین کو حاشیے پر دھکیلنے کےلئے ہوا تھا- لہٰذا ایران کی انقلابی جدو جہد ایک ”ناممکن“ کی کوشش ہے _

​جدید ریاست کا متبادل

​ ہادی محمد اللواتی: تو پھر جدید ریاست کا متبادل کیا ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اگر کوئی طبیب کسی بیماری کا علاج کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے بیماری کی درست تشخیص کرنی ہوگی، اگر آپ مسئلے کو سمجھے ہی نہیں تو حل نکالنا ناممکن ہے- میرے نزدیک ہم ابھی تک یہ سمجھے ہی نہیں ہیں کہ جدیدیت ہمیں کس تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، ہمیں اس عصر کا ایک نیا، تنقیدی فہم حاصل کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ ہر چیز کو الگ تھلگ کر کے دکھاتی ہے، ہم پڑھتے ہیں کہ سمندر کیسے تباہ ہو رہے ہیں لیکن ہم مادی اور معنوی کا باہمی ربط نہیں سمجھتے، سمندروں کی تباہی کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم بطورِ انسان کیسے سوچتے ہیں؟ علمیاتی اور وجودی اعتبار سے انسان کو پہلے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ”ہم کون ہیں؟“ ہم دنیا کی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں لیکن خود اپنے بارے میں نہیں جانتے، اگر کوئی میاں بیوی تنازع کا شکار ہوں تو جب تک دونوں افراد اپنے اندرونی وجود اور نقائص کو نہیں سمجھیں گے، کوئی حل نہیں نکل سکتا- جدیدیت کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کی ہر چیز کو دیکھتے ہیں لیکن خود اپنے اندر نہیں جھانکتے- حل صرف پلاسٹک کی بوتلیں یا بائیکاٹ کرنا نہیں ہے بلکہ اصل حل یہ سمجھنا ہے کہ بطور انسان ہماری ذات اور شعور کی حقیقت کیا ہے؟ اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ انسان دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر کا جائزہ لے _

​تراثی مطالعہ اور تحقیقاتی مناہج

​ ہادی محمد اللواتی: کیا آپ کو الازہر یا نجف اشرف جیسے روایتی اداروں میں نہ پڑھنے کا افسوس ہے؟ اور کیا آپ کا علمی کام تحقیقاتی مناہج کا مرہونِ منت ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: مجھے اس بات کا بالکل افسوس ہے کہ مجھے الازہر، نجف یا قم جیسے اداروں میں باقاعدہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا، یہ میرے لئے بڑی نعمت ہوتی لیکن میں نے ان تمام تراثی علوم کو وہاں جائے بغیر گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی، جب میں نے اصولِ فقہ کا مطالعہ شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے منطق کا علم چاہیے، چنانچہ میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال صرف منطق سیکھنے کےلئے وقف کر دیے (ابن تيمية، ابن سینا اور ارسطو کے مطالعے کے ساتھ)، میں نے یہی کام علمِ کلام، زبان اور تصوف کے ساتھ کیا تاکہ شریعت کو اسی گہرائی سے سمجھ سکوں جیسے قدیم علماء سمجھتے تھے-​جہاں تک تحقیقاتی مناہج کا تعلق ہے تو انہوں نے مجھے یقیناً ایک تنقیدی زاویہ اور ہر چیز کا تاریخی جائزہ لینے کا طریقہ دیا، میں نے فرینکفرٹ اسکول کی تنقیدی تھیوری اور مغربی فلسفے سے استفادہ کیا، پس میرا کام مشرق اور مغرب دونوں کے علمی امتزاج کا نتیجہ ہے _

​صوفیانہ اور معنوی معرفت

​ ہادی محمد اللواتی: صوفیانہ اور معنوی معرفت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: تصوف یا عرفان صرف ایک ذاتی معنوی معاملہ نہیں تھا، یہ شریعت کے ساتھ مکمل مربوط تھا، تصوف نے انسان اور ایک اعلیٰ اخلاقی وجود کے درمیان تعلق کو محکم کیا- اس کے علاوہ، تصوف اور عرفان میرے لئے تحقیق کا ایک منہج بھی ہیں، جب میں جدیدیت کے مسائل پر بات کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تمام اشیاء کے درمیان باہمی ربط کو سمجھنا ضروری ہے تو یہ مفہوم ہمیں ابن عربی کی فکر میں ملتا ہے- ابن عربی ہمیں تحقیق کا وہ منہج دیتے ہیں جس کی آج کے اس دور میں شدید ضرورت ہے- ابن عربی کے ”وحدت الوجود“ کا مفہوم ایک تحقیقاتی منہج میں ڈھالا جا سکتا ہے، یہ منہج ہمیں انسان، فطرت اور کائنات کے باہمی تعلق کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، جدیدیت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے اپنا کائناتی زاویہ کھو دیا ہے، تصوف کا یہ منہج ہمیں بتاتا ہے کہ اس کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے؟ یہ دنیا صرف ایک طبعی ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ زندگی سے دھڑک رہی ہے _

​اسلامی مذاہب کےلئے فکری انفرادیت اور وسعتِ نظر

​ ہادی محمد اللواتی: میں نے آپ کی تحریروں میں دیکھا ہے کہ آپ تمام اسلامی مذاہب اور مکاتبِ فکر اہلِ سنت، شیعہ، اباضیہ اور دیگر کی طرف بلا تعصب کھلے پن اور وسعتِ نظر کا مظہر پیش کرتے ہیں، کیا اس کا تعلق بھی آپ کے اس کلّی صوفیانہ اور عرفانی ویژن سے ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: جی بالکل! میں جب تک کسی ایسے تفصیلی فقہی مسئلے پر بحث نہ کر رہا ہوں جہاں مجھے کسی مخصوص مذہب (مثلاً صرف حدیثِ سنّی کی حجیت) تک محدود رہنا پڑے، میں باقی تمام شعبوں میں ہر قسم کے اسلامی تراث کےلئے مکمل طور پر کھلا ہوا ہوں، جیسا کہ میں کہتا ہوں، یہ تمام دھارے اور مذاہب ہمارے عظیم الشان تراث کا حصہ ہیں اور ایک کا وجود دوسرے کی تکمیل کرتا ہے _

​ ہادی محمد اللواتی: میں نے آپ کی بعض تصانیف میں فرانسیسی مفکر عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں) کی بہت تعریف و توصیف دیکھی ہے، کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے جدیدیت پر شدید ترین نقد پیش کیا اور صوفیانہ و عرفانی ویژن پر زور دیا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: رینے گینوں کا مطالعہ کرنے اور اپنی کتاب Restating Orientalism میں ان کا ذکر کرنے کی بنیادی طور پر تین بڑی وجوہات ہیں _

وہ ایک انتہائی گہرے اور معرکۃ الآراء مفکر تھے جو تعلیمی اداروں اور فلسفے کے اکثر اساتذہ سے کہیں زیادہ جدیدیت کی حقیقت اور اس کی ساخت کو سمجھے تھے اور جدیدیت کا گہرا فہم رکھتے تھے _

دنیا میں یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ ایڈورڈ سعید استشراق کے سب سے بڑے اور بنیادی ناقد ہیں، میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے، ایڈورڈ سعید کی کتاب نے استشراق پر حقیقی اور گہرے نقد کو چالیس سال پیچھے دھکیل دیا اور لوگوں کو ایک سطحی حل کا اسیر بنا کر رکھا- سعید نے صرف استشراق کے سیاسی بعد پر تنقید کی لیکن اس کے گہرے فکری و علمیاتی ڈھانچے کو نہیں چھوا- اس کے مقابلے میں رینے گینوں نے 1920ء کی دہائی میں جو کتابیں لکھی تھیں (اور ان کے بعد مصری مفکر انور عبد الملک نے جو لکھا)، وہ ایڈوارڈ سعید کی کتاب سے کہیں زیادہ گہری، غنی اور محکم تھیں لیکن چونکہ وہ اپنی فکر میں انتہائی ریڈیکل اور بے باک تھے، اس لئے تعلیمی و تحقیقی حلقوں نے انہیں نظر انداز کر کے فکری طور پر مفلوج کر دیا -

گینوں عرفان سے شدید متاثر تھے اور ان کا ایک ایسا کائناتی و وجودی ویژن تھا جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسانی زندگی کےلئے کچھ ثابت اور غیر متغیر اعلیٰ اصول (Higher Transcendent Principles) کا ہونا لازمی ہے، ہم ہر چند سال بعد اپنی مرضی سے فیصلے بدل کر دنیا کے بنیادی اصول نہیں بدل سکتے- ہم خدا نہیں ہیں، نیز ان کا اخلاق کا مفہوم پچھلی چار صدیوں کے یورپی فکر سے کہیں زیادہ عمیق اور گہرا تھا _

​طہ عبد الرحمن کے ہاں انسان اور اخلاق

​ ہادی محمد اللواتی: آپ نے اپنی کتاب Reforming Modernity میں نقدِ جدیدیت کےلئے معاصر مراکشی مفکر ڈاکٹر طہ عبد الرحمن کا انتخاب کیوں کیا؟

​ پروفیسر وائل حلاق: ڈاکٹر طہ عبد الرحمن ایک فکری پل اور ایک انتہائی تخلیقی فلسفی ہیں، انہوں نے اسلام کے روایتی علوم کو اس جدید زبان میں منتقل کر دیا ہے جس کے ذریعے ہم جدیدیت کے ساتھ مکالمہ کر سکتے ہیں، اگر میں امام غزالی کو براہِ راست آج کی جدیدیت کے سامنے لاتا تو وہ گفتگو محدود رہتی، میں نے ان کا انتخاب اس لئے کیا تاکہ میں ان کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے ان سے آگے کی بات کروں- طہ عبد الرحمن کا اب بھی ماننا ہے کہ جدیدیت کی اصلاح ممکن ہے جبکہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، ہمیں ”جدیدیت کی اصلاح“ کی بجائے ”جدیدیت کے متبادل“ کی بات کرنی چاہیے لہٰذا میں ان کے کام کو ایک زینے کے طور پر استعمال کر کے اگلے مرحلے میں داخل ہوا ہوں _

​فلسطین اور استشراق پر نقد

​ ہادی محمد اللواتی: فلسطین سے بچھڑنے کا غم اور اسرائیل کا استعماری کردار آپ کی تحریروں میں کیسے ظاہر ہوتا ہے؟

​پروفیسر وائل حلاق: میں نے اپنی زندگی کے پہلے تئیس سال فلسطین میں اسرائیلی استعمار کے خوفناک سایہ تلے گزارے ہیں، میرے اسرائیلی استعمار کے تحت گزرے ہوئے تجربات اور جدیدیت پر میری تنقید کے درمیان ایک براہِ راست تعلق ہے، میں استشراق کو تعلیمی و تحقیقاتی اداروں کا ایک حصہ مانتا ہوں، مغرب نے جب دنیا کو مستعمر بنایا تو اس میں صرف سیاستدان اور فوجی شامل نہیں تھے بلکہ ان کا پورا تعلیمی اور سائنسی نظام شامل تھا، اگر کوئی سچی اور منصف عالمی عدالت ہوتی تو موجودہ مغربی تعلیمی ادارے کٹہرے میں کھڑے کئے جاتے جنہوں نے پچھلی دو صدیوں میں پوری دنیا کو تباہ کرنے میں معاونت کی- اس تناظر میں اسرائیلی تعلیمی ادارے مکمل طور پر مجرم ہیں کیونکہ وہ عسکری قبضہ اور ظلم کے پروجیکٹ میں براہِ راست شریک ہیں، وہاں تعلیمی اداروں کا ہر شعبہ فوجی اور استخباراتی ادارے کی آبیاری کرتا ہے، یہاں تک کہ طب جیسے شعبے کو بھی قیدیوں پر تشدد کےلئے استعمال کیا جاتا ہے _

​زبان اور اصطلاحات کا کردار

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے منصوبے میں زبان اور اصطلاحات کے فہم کا کیا کردار ہے؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں جب اعلیٰ تعلیم کے طلباء کو پڑھاتا ہوں تو ہم اسلامی نصوص کو ان کی اصل عربی زبان میں پڑھتے ہیں، ہماری پہلی توجہ اصطلاحات اور مفاہیم پر ہوتی ہے کیونکہ اس قدیم دنیا میں داخل ہونے کا واحد راستہ وہ زبان اور الفاظ ہیں جو ان علماء نے لکھے، مثال کے طور پر، ”وقف“ کا مفہوم آپ عمارتوں کو دیکھ کر نہیں سمجھ سکتے، جب تک آپ فقہاء کی کتب نہ پڑھیں، یہی معاملہ ”عدل“، ”غنى“ اور ”ظلم“ کا ہے (مثلاً قدیم اسلامی تراث میں ”غنی“ اس شخص کو نہیں کہا جاتا تھا جس کے پاس بہت مال و دولت ہو بلکہ ”غنی“ وہ شخص تھا جو مستغنی ہو یعنی جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات میسر ہوں اور وہ دوسروں سے بے نیاز ہو) دیکھئے! معنی میں کتنا بنیادی فرق ہے، اگر آپ معاصر ذہن کے ساتھ قدیم کتب پڑھیں گے تو نتائج بالکل غلط نکلیں گے لہٰذا زبان کی طرف لوٹنا اور اس کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا لازمی ہے _

​نقدِ جدیدیت کے دیگر مناہج

​ ہادی محمد اللواتی: آپ عبد الوہاب المسیری اور زیگمنٹ باؤمن کے نقدِ جدیدیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: دونوں نے جدیدیت پر انتہائی گہرا نقد پیش کیا ہے، باؤمن نے یہ ثابت کیا کہ جدیدیت کی برائیاں کوئی حادثہ نہیں ہیں بلکہ وہ جدیدیت کا اصل جوہر ہیں، ان کی کتاب Modernity and the Holocaust نے ثابت کیا کہ ہولوکاسٹ جدیدیت کی اصل شناختی علامت ہے- ڈاکٹر عبد الوہاب المسیری نے بھی زبردست نقد لکھا لیکن انہوں نے اپنی بحث میں اخلاقی عنصر کو محور نہیں بنایا، میرے نزدیک اخلاقیات کا اصل مقصد حدود کو پہچاننا ہے، یہ جاننا کہ انسان کو کہاں رکنا چاہیے! اگر ہم اپنی حدود کو نہیں پہچانیں گے تو ہم ہلاک ہو جائیں گے _

​جدیدیت کے مرکز میں رہ کر جدیدیت پر تنقید

​ ہادی محمد اللواتی: کیا امریکہ میں رہ کر جدیدیت پر تنقید کرنا ایک تضاد نہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: اس میں کوئی تضاد نہیں ہے، کسی بھی نظام کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ اندر رہ کر کی جائے- اسی لئے میں کولمبیا یونیورسٹی آیا تاکہ میں جدیدیت کے ماحول کے مرکز میں بیٹھ کر اس کے نقائص کی نشاندہی کر سکوں _

​آنے والے فکری منصوبے

​ ہادی محمد اللواتی: آپ کے مستقبل کے علمی منصوبے کیا ہیں؟

​ پروفیسر وائل حلاق: میں اس وقت ایک کتاب پر کام کر رہا ہوں جس کا عنوان The Islamic Constitution between Theory and Practice ہے، اس میں یہ دکھایا جائے گا کہ استعمار سے پہلے مسلمانوں نے آئینی طور پر اپنے اوپر کیسے حکمرانی کی؟ ہمیں اسلامی آرکائیوز میں گہرا کھود کر اس آئینی نظام کو دریافت کرنا ہوگا جو مسلمانوں کے پاس موجود تھا، اس کے بعد کا اگلا منصوبہ اس سوال کی طرف لوٹنا ہے کہ ”ہم کون ہیں؟ اور ہمیں کیسا ہونا چاہیے؟“ یہ ایک فلسفیانہ منصوبہ ہے جو نقدِ جدیدیت کا تسلسل ہوگا، میں آخری بات یہ کہوں گا کہ اسلامی دنیا کی نئی آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا ہوگا اور اسے اپنے زاویہ نظر سے دوبارہ لکھنا ہوگا، انہیں اپنی تاریخ کے ساتھ ساتھ یورپ کی تاریخ کا بھی گہرا مطالعہ کرنا چاہیے جس نے ان کی فکر کو گھیرا ہوا ہے، فکری استقلال اور خود مختاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے _

https://www.facebook.com/drhafizmubasher/posts/pfbid0fDQMeSRCwnTbuW1UE19iwD7V4Zn34Q4ZBACHmLkumKdwZeyQMcScem79bb5mzAVGl

 

بشکریہ : https://www.facebook.com/drhafizmubasher/posts/pfbid0fDQMeSRCwnTbuW1UE19iwD7V4Zn34Q4ZBACHmLkumKdwZeyQMcScem79bb5mzAVGl