تعليم و تربيت
بچوں كو پر اعتماد كيسے بنائيں
علی قيصرانی
بچوں کو پُراعتماد بنانا ہے تو گھر میں یہ 25 کام کرنا شروع کر ديں
1۔ بچوں کو اپنی بات مکمل کرنے ديں، بیچ میں مت ٹوکيں۔ جب بچہ لمبی چوڑی اور اُلجھی ہوئی کہانی سنانے لگے تو اُس کی بات خود مکمل کرنے کی جلدی مت کريں۔ بچوں کی آواز میں تبھی دم آتا ہے جب اُنہیں لگے کہ کوئی اُن کی بات سن بھی رہا ہے۔
2۔ ہر چھوٹی غلطی پر آسمان سر پر مت اٹھائيں۔ دودھ گر جانا، رنگین پنسل ٹوٹ جانا یا سوال کا غلط جواب دینا، یہ سب بڑے ہونے کے چکر کا حصہ ہیں۔ اُنہیں غلطی سدھارنا سکھائيں، ہر وقت غلطی کرنے سے ڈرنا نہیں۔
3۔ بچوں کے ڈر کا کبھی مذاق مت اڑائيں۔ آپ كو بستر کے نیچے بھوت والی بات فضول لگ سکتی ہے، لیکن بچے کے لیے وہ خوف حقیقت جیسا ہوتا ہے۔ اُس کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنيں، شرمندگی کی ایک اور وجہ نہیں۔
4۔ بچوں کو اپنا کھانا خود آرڈر کرنے ديں۔ اُنہیں چھوٹے چھوٹے موقع ديں کہ لوگوں سے بات کریں، اپنی پسند کا فیصلہ کریں اور خودمختاری کی پریکٹس کریں۔ اعتماد بڑی بڑی تقریروں سے نہیں، روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے تجربات سے ملتا ہے۔
5۔ صرف نتیجے پر نہیں، ہمت اور کوشش پر بھی شاباش ديں۔ ہر بار یہ مت کہيں کہ تم بہت ذہین ہو بلکہ یہ بھی کہيں كہ مجھے اچھا لگا کہ مشکل ہونے کے باوجود تم نے کوشش نہیں چھوڑی۔
6۔ بچوں کو نہیں کہنا بھی سکھائيں ۔ صرف اچھا بچہ کہلانے کے لیے اُنہیں ہر رشتے دار کو گلے لگانے، اپنی ہر چیز دوسروں کو دینے یا سب کی ہاں میں ہاں ملانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
7۔ اپنی غلطی ہو تو بچوں سے معافی مانگيں۔ یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ مجھے تم پر چیخنا نہیں چاہیے تھا مجھے بہتر طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔اس سے بچے سیکھتے ہیں کہ اپنی غلطی ماننا کمزوری نہیں، مضبوط کردار کی نشانی ہے۔
8۔ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا بند کريں۔ پڑوسی کا بچہ شاید جلدی پڑھنے لگ گیا ہو، تیز دوڑتا ہو یا زیادہ نمبر لے آتا ہو۔ آپ كے بچے کو آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ چاہیے، ساری زندگی مقابلہ بازی نہیں۔
9۔ بچوں کو اپنی رائے رکھنے ديں۔ اگر وہ آپ سے ادب کے ساتھ اختلاف کریں تو فوراً بدتمیز قرار مت دے ديں۔ آپ ایک آزادانہ سوچ رکھنے والا انسان تیار کر رہے ہيں، ایسا بندہ نہیں جو سب سے اونچی آواز والے کی اندھی تقلید کرے۔
10۔ بچوں کو اُن کی عمر اور صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں ديں۔ اپنا سکول بیگ خود تیار کرنے ديں، کپڑے خود چننے ديں یا کوئی آسان سا ناشتہ بنانے میں مدد لینے ديں۔ بچے کو ذمہ داری سونپنا بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ مجھے تم پر بھروسا ہے۔
11۔ گھر کو ایسی جگہ بنائيں جہاں سوال پوچھنے پر ڈانٹ نہ پڑے۔ چاہے بچہ پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے یا بڑے عجیب حرکتیں کیوں کرتے ہیں، اُس کے تجسس کو بڑھائيں۔ ہر وقت یہ مت کہيں کہ بس کرو، کتنے سوال پوچھتے ہو۔
12۔ بچے کی ہر مایوسی پر لمبا لیکچر مت جھاڑئيں۔ بعض اوقات بچے کو نہ مشورہ چاہیے ہوتا ہے، نہ مسئلے کا حل اور نہ موٹیویشنل تقریر۔ اُسے بس کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو کہے، یار واقعی تمہیں بہت بُرا لگا ہے نا؟
13۔ بچوں کو سکھائيں کہ لوگوں سے نظریں ملا کر بات کیسے کرتے ہیں اور سلام دعا کیسے کرتے ہیں۔ گھر میں تعارف اور گفتگو کی پریکٹس کرواؤ، مگر ہر بات میں پرفیکٹ ہونے کا دباؤ مت ڈاليں۔ لوگوں میں گھلنے ملنے کا اعتماد پریکٹس سے آتا ہے، سب کے سامنے شرمندہ کرنے سے نہیں۔
14۔ بچوں کی ذاتی پریشانیوں کو کبھی خاندان کی محفل کا لطیفہ مت بنائيں۔ بستر گیلا کر دینا، سکول میں کسی کو پسند کرنے لگنا، شرمندگی والے واقعات یا ذاتی خوف، یہ سب کھانے کی میز پر مذاق اڑانے کی چیزیں نہیں ہیں۔ اُن کی عزتِ نفس کی حفاظت کريں۔
15۔ بچوں کو کھیل میں ہارنے ديں۔ اُن کے جذبات بچانے کے چکر میں ہر بار جان بوجھ کر مت ہاريں۔ اُنہیں سکھائيں کہ شکست کو کیسے برداشت کرنا ہے، جیتنے والے کو مبارک باد کیسے دینی ہے اور خود کو ناکارہ سمجھے بغیر دوبارہ کوشش کیسے کرنی ہے۔
16۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی اہمیت ديں۔ اُس نے اپنے جوتوں کے تسمے باندھ لیے، کلاس میں سوال کا جواب دے دیا یا نیا دوست بنا لیا؟ اُسے احساس دلائيں کہ آپ نے اُس کی کوشش دیکھی ہے اور اُس پر خوشی ہوئی ہے۔
17۔ بچوں کی شخصیت پر ٹھپے لگانا بند کريں۔سست یا شرارتی کہنے سے بچہ ان الفاظ کو اپنی پہچان سمجھنے لگتا ہے۔ بچے کی پوری شخصیت کو برا بھلا کہنے کے بجائے اُس کے غلط رویے کی نشاندہی کريں۔
18۔ بچوں کو دکھائيں کہ تنقید کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔ جب کوئی تم سے اختلاف کرے تو اُنہیں سکھائيں کہ بات کیسے سنی جاتی ہے، سکون سے جواب کیسے دیا جاتا ہے اور بدتمیزی کیے بغیر اپنے مؤقف پر کیسے قائم رہا جاتا ہے۔ بچے آپ كا اعتماد دیکھ کر اپنا اعتماد بناتے ہیں۔
19۔ بچوں کو سمجھائيں کہ اچھا اور مہربان ہونے کا مطلب دب کر رہنا نہیں۔ وہ دوسروں کی عزت کرتے ہوئے بھی کہہ سکتے ہیں، مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی براہِ کرم ایسا کرنا بند کریں یا یہ ٹھیک نہیں ہے۔
20۔ ہر مشکل صورتِ حال میں فوراً بچے کو بچانے مت پہنچ جائيں۔ اُسے چھوٹے موٹے جھگڑے خود سلجھانے، ضرورت پڑنے پر مدد مانگنے اور مشکلات سے نمٹنے کا موقع ديں۔ قریب رہيں، لیکن ہر معاملے میں اُس کی جگہ خود مت سنبھاليں۔
21۔ بچے کو اپنی محبت کا حقدار بننے کے لیے ہر وقت اچھا بچہ بن کر دکھانے پر مجبور مت کريں۔ اُسے ڈانٹ بھی پڑ جائے، کوئی غلطی بھی ہو جائے یا کسی دن وہ خوب اُدھم مچا دے، تب بھی اُسے یہ احساس رہنا چاہیے کہ امی ابو کی محبت میں کوئی کمی نہیں آنے والی۔
22۔ بچوں کو گھر میں یہ دکھائيں کہ مرد عورت کی عزت کیسے کرتا ہے اور عورت مرد کی عزت کیسے کرتی ہے۔ صرف لیکچر دینے سے بچے نہیں سیکھتے، وہ گھر میں بڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کرتے دیکھ کر سیکھتے ہیں۔جب بچے اپنے ماں باپ کو ایک دوسرے کی عزت کرتا دیکھیں گے تو اُنہیں بھی سمجھ آئے گی کہ رشتوں میں عزت کیسے دی جاتی ہے اور اپنے لیے عزت کیسے مانگی نہیں بلکہ قائم رکھی جاتی ہے۔
23۔ گھر کو ایسی جگہ بنائيں جہاں جذبات کا اظہار شرمندگی کی بات نہ ہو۔ لڑکے بھی رو سکتے ہیں، لڑکیاں بھی غصہ کر سکتی ہیں۔ ہر بچہ مایوس، حسد کا شکار، خوف زدہ یا ذہنی دباؤ میں آ سکتا ہے۔ اُنہیں جذبات سنبھالنا سکھائيں، چھپانا نہیں۔
24۔ بچوں سے اُن کی رائے پوچھيں اور اُس پر غور بھی کريں۔ اُنہیں خاندانی تفریح کا پروگرام چننے، رات کے کھانے کی تجویز دینے یا گھر کا کوئی مسئلہ حل کرنے میں حصہ لینے ديں۔ جب بچے کو لگتا ہے کہ اُس کی بات کی اہمیت ہے تو اُس کا اپنے اوپر بھروسا بڑھتا ہے۔
25۔ ضروری نہیں کہ آپ كا بچہ سب سے زیادہ ذہین ہو، سب سے خوبصورت ہو، ہر بات ماننے والا ہو یا ہر میدان میں جھنڈے گاڑ رہا ہو، تبھی اُسے عزت اور پیار ملے گا۔
بچے کو یہ سمجھائيں کہ نمبر کم آئیں، غلطی ہو جائے، وہ دوسروں سے پیچھے رہ جائے یا اُس کی مرضی دوسروں سے الگ ہو، تب بھی اُس کی اپنی عزت اور قدر کم نہیں ہو جاتی۔
پُراعتماد بچہ وہ نہیں ہوتا جسے کبھی ڈر نہ لگے، جو کبھی روئے نہیں، کبھی ناکام نہ ہو یا جسے کبھی اپنے اوپر شک نہ ہو۔پُراعتماد بچہ وہ ہوتا ہے جسے یقین ہو کہ غلطی کرنے سے والدین کی محبت ختم نہیں ہوگی، اپنی بات کرنے پر اُسے ذلیل نہیں کیا جائے گا اور دوبارہ کوشش کرنے پر کوئی یہ نہیں کہے گا کہ تم کسی کام کے نہیں ہو۔
اپنے بچوں کی ایسی تربیت کريں کہ اُنہیں دوسروں سے برتر ثابت ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو اُنہوں نے یہ سیکھ لیا ہو کہ وہ دوسروں سے کمتر بھی نہیں ہیں۔
بشکریہ : https://www.facebook.com/maamirhashim.khakwani/posts/pfbid02wfnrFGhutmxR1XRfWqctQmu9iLL8Rpc3MPyGNpXEQP3bz7oTYPn1tMAx2Mi7r9vel
