من الظلمت الی النور

مشہور ماڈ ل  اور باكسر كا قبول اسلام

اعجاز حسن عباسی

اس انٹرویو کی مہمان یاسین بن حمودہ ہیں، جو لکسمبرگ (Luxembourg) میں پیدا ہوئیں، تیونس اور پرتگال سے آبائی تعلق رکھتی ہیں، اور ایک سابق ماڈل، کوہ پیما، باکسر اور روحانی متلاشی سے اسلام کی طرف لوٹنے والی خاتون ہیں۔ جبکہ میزبان ہمارے ہردلعزیز کینین ممز ہیں جو پاکستان میں قیام کے دوران لوگوں کے رویے سے متاثر ہو اسلام قبول کر چکے ہیں اور اب اسلام کے پیغام کو بڑے خوبصورت اور عام فہم انداز میں دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

کینین: کیا آپ اپنے اسلام لانے کی پوری کہانی ہمارے ساتھ شیئر کریں گی؟

یاسین بن حمودہ: السلام علیکم ہر اس شخص کو جو آج ہمیں دیکھ رہا ہے، میرے بھائی مجھے اپنے پوڈ کاسٹ پر بلانے کا بہت شکریہ، یہ میرے لیے واقعی اعزاز کی بات ہے۔ میں لکسمبرگ میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی، میری خاندانی ورثہ تیونس اور پرتگال سے ہے، میرے خاندان میں ایک فرد عیسائی تھا جو اب ملحد یا اگناسٹک ہے اور دوسرا فرد مسلمان ہے لیکن وہ بھی دین پر عمل نہیں کرتا۔ میرے والدین کے پاس لکسمبرگ میں جگہ جگہ فرنچائز شاپس تھیں اس لیے میں نے بہت کم عمری میں کاروباری ماحول دیکھا اور صرف سات سال کی عمر میں دکان پر کیشئر کے طور پر کام کرنے لگی۔

اسلام کے بارے میں مجھے یوں پتہ چلا کہ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں تیونس اپنے دادا جان کے پاس جایا کرتی تھی جو مجھے قرآن اور سورتیں سکھاتے تھے اور جمعہ کی نماز کے لیے لے جاتے تھے، جب کہ میرے والدین نے مجھے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا سوائے اس کے کہ خدا کا وجود نہیں ہے اور یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ جب میں پرتگال اپنے نانا نانی کے پاس جاتی تھی تو وہ مجھے عیسائیت، حضرت عیسیٰ اور ان کی عبادت کا طریقہ سکھاتے تھے، اس طرح کم عمری میں ہی میں مختلف نظریات سے روشناس ہوئی جس نے مجھے بہت الجھن میں ڈال دیا۔بدقسمتی سے میں بچپن ہی سے گھر میں گھریلو تشدد کا بھی شکار رہی جو کہ میرے اور میرے گھر والوں کے لیے بہت تکلیف دہ اور صدمے کا باعث تھا۔ جو لوگ گھریلو تشدد کا شکار ہیں انہیں اپنے اوپر تشدد کرنے والے کو معاف کر دینا چاہیے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، اور میں اس تجربے کے بغیر وہ مضبوط عورت نہ بنتی جو میں آج ہوں۔ مسلمانوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں کسی کی زیادتی اور توہین کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے چاہے وہ خاندان کا کوئی فرد ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اسلام میں خواتین کو بہت عزت دی گئی ہے اور الفاظ کا زخم بھی تھپڑ سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔اس ماحول کی وجہ سے میں بچپن میں بہت باغی تھی، اسکول کے تمام لڑکوں کو مارتی تھی اور لڑکے مجھ سے ڈرتے تھے، اور مجھے کئی بار اسکول سے نکالا بھی گیا۔ جب میں چودہ پندرہ سال کی تھی تو میری والدہ نے مجھے راہبات کے ایک عیسائی اسکول میں داخل کرا دیا جہاں صرف لڑکیاں تھیں، وہاں بھی میں بہت جارحانہ رہی اور آخرکار انہوں نے بھی مجھے اسکول سے نکال دیا جس پر الحمدللہ میں نے سکون محسوس کیا اور اپنے اندر حیا پیدا کی۔میں نے خود کا دفاع کرنے کے لیے باکسنگ شروع کی اور آج مجھے باکسنگ کرتے ہوئے انیس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد میں متحدہ عرب امارات (UAE) چلی گئی جہاں میں نے ابوظہبی میں پیرس سوربون یونیورسٹی (Paris Sorbonne University) سے پانچ سال قانون کی تعلیم حاصل کی کیونکہ میرا خواب بین الاقوامی بزنس لائیر بننا تھا، لیکن کچھ عرصہ پریکٹس کرنے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر میں نے اپنا انٹیریئر ڈیزائن کا کاروبار شروع کیا، میں سات زبانیں بولتی ہوں جس کی وجہ سے بات چیت کرنا آسان ہے۔

بدقسمتی سے میں کچھ ایسے تعلقات میں بھی رہی جہاں مردوں نے مجھ پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا، لیکن ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ میں بچپن سے آٹھ سال کی عمر سے ایک پیشہ ور پیانسٹ بھی رہی ہوں لیکن اب میں نے موسیقی چھوڑ دی ہے کیونکہ اس کی فریکوئنسی ٹھیک نہیں ہے اور ہمیں صرف قرآن سننا چاہیے۔ میں ہینڈپین (Handpan) بھی بجاتی تھی اور ہیونگ کوچ تھی، اس کے علاوہ میں گھریلو تشدد کے خلاف وائربن (White Ribbon USA and Ukraine) کی سفیر ہوں اور کینڈر ریلیف (Kinder Relief) کے ذریعے جنگ سے متاثرہ خاندانوں کی مدد بھی کرتی ہوں۔

میں بین الاقوامی سطح پر مشہور ماڈل بھی رہی ہوں جو ووگ (Vogue) اور گلیمر (Glamour) جیسے رسائل کے سرورق پر آئی، اور میں نے لکسمبرگ اور یو اے ای کے قومی ٹیلی ویژن پر بھی کام کیا۔ میں نے ماؤنٹ ایوریسٹ (Mount Everest) پر دنیا کا بلند ترین شو پہن کر ماڈلنگ کرنے کا گینز ورلڈ ریکارڈ (Guinness World Records) بھی توڑا اور لکسمبرگ کی پہلی شہری بنی جس نے یہ ریکارڈ بنایا۔ میں ایک پیشہ ور کوہ پیما ہوں جو ماؤنٹ ایوریسٹ، ماؤنٹ کلیمنجارو (Mount Kilimanjaro) اور بولیویا کے ماؤنٹ ساجاما (Mount Sajama) سمیت کئی بلند پہاڑوں کو سر کر چکی ہوں، اور پہاڑ ہمیں آرام کے علاقے سے باہر نکل کر بہت کچھ سکھاتے ہیں۔

میں نے ایک پیشہ ور باکسر کے طور پر بھی ایک روسی خاتون کے خلاف فائٹ لڑی اور جیتی، لیکن اللہ کی خاطر میں نے باکسنگ چھوڑ دی کیونکہ کسی دوسرے انسان کو نقصان پہنچانا اسلام میں جائز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یو ایف سی (UFC) نے مجھ سے رابطہ کیا اور معاہدے کی بڑی پیشکش کی لیکن میں نے اللہ کی رضا کے لیے اسے ٹھکرا دیا۔ اس سجی سجائی زندگی اور نائٹ لائف کے باوجود میں اندر سے خوش نہیں تھی اور ایک دن شدید ذہنی دبؤ اور بریک ڈاؤن کا شکار ہو گئی، میں ایک چلتے پھرتے آتش فشاں کی طرح تھی۔

ڈاکٹروں نے مجھے غلط طور پر بائی پولر (Bipolar) قرار دے کر انتہائی سخت ادویات دینا شروع کر دیں جن کی وجہ سے میں ایک سال تک سبزی کی طرح گھر میں پڑی رہی، اور میرے ذہن میں خودکشی کے خیالات آنے لگے۔ یہ ادویات ایک بہت بڑی صنعت ہیں جو صیہونیوں کی ملکیت ہیں تاکہ انسانوں کو ذہنی طور پر معذور اور نشے کا عادی بنایا جا سکے۔ اس دوران میں نے یوٹیوب کی مدد سے نماز پڑھنا شروع کی اور جب میں نے دوائیوں کو چھوڑا تو مجھے اپنی طاقت واپس ملنے لگی، اور سورہ بقرہ کی تلاوت اور جم نے میری صحت یابی میں سو فیصد مدد کی۔جب میں بالکل ٹھیک ہو گئی تو میں نے اپنا سامان باندھا اور خود کو تلاش کرنے کے لیے چھ ماہ کے لیے اکیلی جنوبی امریکہ چلی گئی۔

"وہاں میں برازیل کے ایمیزون جنگلات میں گئی جہاں میں نے آیواسکا (Ayahuasca) نامی ایک روحانی مشروب پیا جس میں ٹی ایچ سی (THC) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس سے انسان کو ماضی کی زندگیاں اور مختلف قسم کے وژن دکھائی دیتے ہیں۔"میں نے بیس سے زیادہ بار آیواسکا کا استعمال کیا جو کہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور جن نکالنے جیسا عمل تھا، لیکن اسلام میں عقل کو ڈھانپنے اور بدلنے والی ہر چیز حرام ہے۔

اس کے بعد میں نے روحانیت میں رہ کر زندگی کی کوچنگ، ریکی (Reiki)، ایکسس بارز (Access Bars)، اور تھیٹا ہیلنگ (Theta Healing) جیسے تمام کورسز پڑھے اور بولیویا میں شامن (Shamans) کے ساتھ روحانی اعتکاف کیا۔ میں خود ایک شامن بننا چاہتی تھی لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یہ سب شرک ہے، کیونکہ صرف اللہ کی ذات شفا دے سکتی ہے، نہ کہ توانائی، چاند، سورج یا کرسٹل۔ یہاں تک کہ یوگا بھی ہندو مذہب کی جڑوں سے ہے اور اس میں منتر پڑھنے سے انسان دیوی دیوتاؤں کو پکارتا ہے، اس لیے ہم مسلمانوں کو یوگا سے بچنا چاہیے۔

جب میری ایک اچھی دوست نے مجھ سے مکہ مکرمہ جانے کا پوچھا تو میں نے فوراً حامی بھر لی کیونکہ میں دنیا گھومنے والی تھی اور اپنی جڑیں دیکھنا چاہتی تھی۔"جب میں نے پہلی بار ہوٹل کے کمرے سے کعبہ دیکھا اور کھڑکی کے پاس ایک کبوتر کو دیکھا جو مجھے پرتگال میں اپنی نادیہ (دادی) کی یاد دلاتا تھا، تو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔"اس لمحے مجھے دل سے یقین ہو گیا کہ یہی سچی راہ ہے، میں نے اپنے تمام گناہوں اور پچھلی دنیاوی کامیابیوں پر توبہ کی اور اللہ سے وعدہ کیا کہ اب میں صرف اسی کی عبادت کروں گی۔اس کے بعد سے میری زندگی بدل گئی، میں نے حج اور عمرے کیے اور اللہ نے مجھے وہ سکون دیا جو دنیا کی کسی چیز میں نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت 286 میں فرماتا ہے کہ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں دیتا، اور سورہ شرح میں فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ہمیں اس دنیا کی چکاچوند اور صیہونی صنعتوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو غزہ کے معصوم بچوں کے خون اور ہمارے پیسوں سے جنگی ہتھیار خریدتے ہیں۔

کینین: جب آپ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں کہ آپ کہاں تھیں اور اب کہاں ہیں، تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟

یاسین بن حمودہ: میں خود حیران ہوں کہ یہ میں ہی ہوں، الحمدللہ اب میں باقاعدگی سے حجاب پہنتی ہوں اور اپنی اس زندگی سے بے حد لطف اندوز ہو رہی ہوں۔ میری والدہ بھی حیران ہیں لیکن میں کہتی ہوں کہ یہ کوئی عارضی دور نہیں ہے بلکہ اللہ نے مجھے ہدایت اور حیا دی ہے اور اس زندگی کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز صفر ہے۔ یہ زندگی ایک مختصر سا امتحان ہے، اس لیے ہمیں نیٹ فلکس دیکھنے یا فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے قرآن پڑھنا چاہیے اور صدقہ دینا چاہیے۔ہمیں اپنے اردگرد کے دوستوں کا بھی بہت خیال رکھنا چاہیے، اگر آپ کے برے دوست ہیں جو غیبت کرتے ہیں یا حرام کی طرف لے جاتے ہیں تو ان سے فوراً بھاگ جائیں کیونکہ جو شخص ایسی محفل میں بیٹھتا ہے وہ بھی اسی گناہ میں برابر کا شریک مانا جاتا ہے۔ مکہ جانے کے بعد میرے تمام ذہنی دباؤ اور مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے، کیونکہ اس سے پہلے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتی تھی لیکن اب اسلام کی وجہ سے میں بہت پرسکون، مہربان اور سمجھدار ہو چکی ہوں اور اللہ کی یہ رحمت دیکھ کر سب دنگ رہ جاتے ہیں۔

کینین: میرا پوڈ کاسٹ کا ایک آخری سوال ہے، اگر آپ کے پاس ایک مائیکروفون ہو اور دنیا کا ہر شخص آپ کی بات سن سکے، تو آپ کیا کہیں گی؟

یاسین بن حمودہ: میں یہ کہوں گی کہ اسلام ہی سچی راہ ہے، اسلام انصاف، محبت اور امید کا دین ہے اور اسلام میں خواتین کو جتنے حقوق حاصل ہیں اتنے کہیں اور نہیں۔ اسلام کوئی جبر، دہشت گردی یا نفرت نہیں ہے بلکہ یہ سب مغرب اور صیہونیوں کا پروپیگنڈا ہے تاکہ وہ اپنے اربوں ڈالر کے ناجائز کاروبار کو چلاتے رہیں۔ اگر پوری دنیا اسلام کی پیروی کرے تو دنیا میں کوئی جنگ اور تکلیف باقی نہ رہے اور ہر طرف امن ہو۔

زندگی بہت مختصر ہے اور یہ ایک امتحان ہے، اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنی چاہئیں، ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے اور اگر کوئی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تو اس کا جواب برے طریقے سے مت دیں بلکہ صبر کریں اور دعا کریں جیسا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔

کینین: یاسین آپ کا اپنی کہانی ہمارے ساتھ شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔

یاسین بن حمودہ: آپ کا بھی بہت شکریہ بھائی، یہ بہت شاندار تھا۔

وڈیو لنک:

https://youtu.be/EuihKro23ic?si=FjnybyJVLCwDejni

 

بشکریہ : https://youtu.be/EuihKro23ic?si=FjnybyJVLCwDejni