من الظلمت الی النور
سویڈش شہزادہ جوہانس کلومنگ
شاہی محل سے مسجد نبویؐ تک، ایمان افروز داستان
ضيا الرحمن چترالی
دنیا کے ہر خطے میں ہدایت کی روشنی اس دل کو میسر آتی ہے، جو صدق طلب کے ساتھ سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ ہدایت کسی خاص نسل، قوم، زبان، خطے یا خاندان کی میراث نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور جب کسی انسان کے دل میں حق کی جستجو زندہ ہو تو بسا اوقات وہ اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
ایسی ہی ایک حیرت انگیز اور ایمان افروز داستان سویڈن کے شاہی محل میں پیدا ہونے والے جوهانس کلومِنک (Johannes Klominek) کی ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد عبداللہ السویدی کے نام سے معروف ہوئے اور آج سویڈش شاہی خاندان کا یہ شہزادہ مسجد نبویؐ کے مدرس ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ ایک مغربی ماحول میں پرورش پانے والا نوجوان، جو ابتدا میں الحاد اور مذہب کے بنیادی سوالات سے دوچار تھا، تحقیق اور جستجو کے ایک طویل سفر کے بعد اسلام تک پہنچا، پھر اسلام کو محض ایک عقیدہ سمجھ کر اپنا نہیں لیا، بلکہ اسے سمجھنے، سیکھنے اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگی کا رخ مدینہ منورہ کی طرف موڑ دیا۔
ان کے بارے میں عربی ذرائع میں سویڈن کے تاریخی شاہی خاندان سے تعلق کا ذکر ملتا ہے۔ بعض دعوتی ذرائع انہیں سویڈن کے بانی بادشاہ گوستاف واسا (Gustav Vasa) کی نسل سے منسوب کرتے ہیں کہ ان کی والدہ شاہ گوستاف کی پڑپوتی تھیں، جبکہ والد شاہی محل میں علمی و مشاورتی خدمات انجام دیتے تھے اور ایک پروفیسر اور سویڈن کے موجودہ بادشاہ کے قریبی مشیر تھے۔ ایک علمی گفتگو کے دوران وہ خود بھی بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق سویڈن کے حکمران خاندان سے ہے۔ اگرچہ عربی ذرائع ابلاغ میں انہیں ’’سویڈن کے بادشاہ کا پوتا‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر یہ محتاط تعبیر نہیں، البتہ یہ بات ان کی داستان کا ایک دلچسپ پہلو ضرور ہے کہ ان کی خاندانی نسبت سویڈن کے تاریخی شاہی خاندان تک پہنچتی ہے۔
دنیاوی اعتبار سے یہ ایک ممتاز پس منظر ہے، لیکن انسان کی اصل عظمت اس کے نسب، خاندان اور ظاہری مقام میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچان لے۔ جوہانس کے لیے بھی زندگی کا اصل سفر اسی مقام سے شروع ہوا جہاں ظاہری امتیازات پیچھے رہ گئے اور دل نے سوال کرنا شروع کیا: میں کون ہوں؟ یہ کائنات کہاں سے آئی؟ انسان کیوں پیدا ہوا؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور مرنے کے بعد کیا ہوگا؟
نوجوانی ہی میں ان کے اندر مذہب اور حقیقتِ زندگی کے بارے میں سوالات نے شدت اختیار کی۔ انہوں نے مختلف مذاہب، فلسفوں اور فکری نظریات کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا مقصد کسی مذہب کو محض اس لیے قبول کرنا نہیں تھا کہ وہ معاشرتی طور پر موروثی طور پر ان کے سامنے موجود ہے، بلکہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ حقیقت آخر ہے کیا۔
متحدہ عرب امارات کے مشہور اخبار البیان کے مطابق، بچپن ہی سے جوہانس کلومنگ کے اندر خدا اور مذہب کی تلاش کا داعیہ موجود تھا۔ خاندان کے ساتھ ہندوستان کے سفر کے دوران انہوں نے مختلف مذاہب اور مذہبی روایات کا تنوع قریب سے دیکھا۔ اس مشاہدے نے ان کے ذہن میں سوال مزید گہرا کردیا کہ اگر دنیا میں اتنے مختلف مذاہب موجود ہیں تو حق مذہب کون سا ہے؟ سویڈن واپس آنے کے بعد انہوں نے ثانوی تعلیم کے زمانے ہی (16 سال کی عمر) میں مختلف مذاہب کے بارے میں دستیاب کتابیں پڑھنا شروع کردیں اور کسی پیشگی مذہبی وابستگی کے بغیر ان کا تقابلی مطالعہ کیا۔
یہ جستجو انہیں عیسائیت، دوسرے مذاہب، فلسفے اور الحادی فکر تک لے گئی۔ مگر جس چیز کی تلاش تھی، وہ محض معلومات نہیں بلکہ یقین تھا۔ وہ ایسے جواب چاہتے تھے جو عقل کو بھی مطمئن کرے اور دل کو بھی سکون دے۔اسی تلاش کے دوران قرآن ان کے سامنے آیا۔ انہوں نے قرآن مجید کا مطالعہ شروع کیا تو سورۂ فاتحہ کی پانچویں آیت ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ جس ’’سیدھے راستے‘‘ کی تلاش میں تھے، قرآن اسی راستے کی دعا سکھا رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی مادری زبان سویڈش میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا شروع کی کہ وہ انہیں حق کا راستہ دکھا دے۔مطالعہ جاری تھا کہ جلد وہ بھی لمحہ آگیا جس نے ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔ ہر مذہب کے صحیفے، فلسفے، تاریخ، عقائد اور اعتراضات کو کھرے و کھوٹے کے ترازو میں تولا۔ مگر دل کی پیاس بجھتی نہ تھی۔ وہ سائنس، دہریت، فلسفہ اور ملحدانہ فکر کی وادیوں سے گزرے، مگر کوئی صدا دل کو نہیں لگی۔ پھر رمضان المبارک 2002 کی ایک پُرانوار رات آئی۔ وہ وقت جب ایک روح، صدق دل سے سچائی کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوتی ہے۔ اس رات، اسلام ان کے دل کی گہرائیوں میں اترا۔ آنکھیں اشکبار ہوئیں، وجود لرز اٹھا اور زبان پر کلمہ شہادت جاری ہوگیا اور کلومنگ اب ’’عبداللہ السویدی‘‘ بن گیا۔ یوں ایک مغربی نوجوان کی برسوں پر محیط فکری تلاش نے اسے منزل ہدایت تک پہنچا دیا۔ وہی زبان جو کبھی خدا کے وجود اور زندگی کے مقصد پر سوال کرتی تھی، اب گواہی دے رہی تھی:
أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله--یہ صرف ایک مذہب تبدیل کرنے کا واقعہ نہیں تھا، یہ ایک انسان کی فکری اور روحانی منزل کی تبدیلی تھی۔
اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی آزمائشیں بھی شروع ہوئیں۔ وہ اپنے خاندان سے اپنا اسلام چھپانے کی کوشش کرتے رہے اور بعض اوقات گھر والوں کے علم میں آئے بغیر نماز ادا کرتے تھے، مگر بالآخر ان کے اسلام کا علم خاندان کو ہوگیا۔ اس زمانے میں مغربی میڈیا میں اسلام کے خلاف شدید منفی ماحول بھی موجود تھا، خصوصاً 11 ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد۔ ایک نومسلم نوجوان کے لیے ایسے ماحول میں اپنے نئے ایمان پر قائم رہنا آسان نہیں تھا۔ مگر عبداللہ السویدی نے اپنے ایمان کو محض جذباتی کیفیت نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اسے علم، عمل اور مسلسل جستجو سے مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہیں احساس ہوگیا تھا کہ اسلام کو قبول کرنا سفر کا اختتام نہیں، بلکہ اصل سفر کا آغاز ہے۔ چنانچہ وہ اسلامی دنیا کی طرف نکل پڑے۔ مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے بالآخر ان کی منزل مدینہ منورہ بنی۔ وہ شہر جہاں رسول اللہ ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی، جہاں ہزاروں صحابۂ کرامؓ نے علم حاصل کیا اور جہاں آج بھی دنیا بھر سے تشنگانِ علم قرآن و سنت کی روشنی حاصل کرنے آتے ہیں۔مدینہ منورہ میں ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انہوں نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی اور اپنی علمی زندگی کو اسلامی عقیدہ، دعوت اور جدید فکری شبہات کے مطالعے کے لیے وقف کردیا۔ ان کے موجودہ علمی پروفائل میں بھی اسلامی یونیورسٹی مدینہ ان کے تعلیمی پس منظر کا اہم حصہ درج ہے، جبکہ سویڈن کی اومیو یونیورسٹی کے ریکارڈ میں ان کی مذہبی علوم میں ماسٹرز سطح کی تعلیم بھی موجود ہے۔لیکن ان کے علمی سفر کا سب سے نمایاں پہلو الحاد کا مطالعہ ہے۔ جس شخص نے کبھی خود خدا، مذہب اور زندگی کے مقصد کے سوالات کا سامنا کیا تھا، اس نے بعد میں انہی سوالات کا علمی جواب تلاش کرنے کو اپنی زندگی کے اہم مقاصد میں شامل کرلیا۔
ان کی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کا موضوع تھا:’’ردود علماء الغرب على الإلحاد المعاصر: عرض ونقد‘‘یعنی ’’معاصر الحاد پر مغربی علماء کا رد: ایک جائزہ اور تنقید‘‘۔
یہ محض ایک مختصر تحقیقی مقالہ نہیں بلکہ تین جلدوں پر مشتمل ایک وسیع علمی کام ہے۔ اس میں انہوں نے مغربی دنیا کے ان اہلِ علم کے دلائل کا جائزہ لیا ہے، جنہوں نے الحاد کے خلاف علمی، عقلی، سائنسی اور فکری بنیادوں پر گفتگو کی۔ اس کے بعد ان دلائل کو اسلامی عقیدے کے پیمانے پر پرکھا اور ان کی قوت و کمزوری کو واضح کیا۔اس تحقیق کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ الشیخ عبداللہ السویدی نے مغربی زبانوں سے براہ راست استفادہ کیا۔ عربی میں پہلے سے موجود تراجم پر انحصار کرنے کے بجائے انہوں نے اصل انگریزی اور دیگر مغربی ماخذ سے مواد حاصل کیا اور اسے عربی علمی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی متعدد زبانوں پر مہارت نے اس کام کو مزید وسعت دی۔ وہ عربی، انگریزی اور سویڈش پر مکمل مہارت رکھتے ہیں۔ان کی یہ کتاب دراصل ان کے ذاتی فکری سفر کی بھی ایک جھلک ہے۔ وہ الحاد کو محض باہر سے دیکھنے والے محقق نہیں تھے۔ انہوں نے خود اس ذہنی دنیا کے سوالات کا سامنا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی تحقیق میں یہ احساس نمایاں ہوتا ہے کہ الحاد کے شبہات کا جواب محض جذباتی تقریروں سے نہیں، بلکہ علم، عقل، دلیل اور حکمت کے ساتھ دینا چاہیے۔ان کا علمی سفر مدینہ یونیورسٹی میں ڈائریکٹریٹ پر ختم نہیں ہوا۔ وہ اسلامی دعوت، بین المذاہب گفتگو، جدید الحاد اور مغرب میں اسلام کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات پر مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیوں کا دائرہ سعودی عرب اور سویڈن تک محدود نہیں رہا۔ 2018ء میں جب سویڈن شدید خشک سالی اور جنگلات کی آگ کی لپیٹ میں تھا، وہ اسٹاک ہوم کے علاقے تنستا میں مسلمانوں کے ساتھ نمازِ استسقاء میں شریک ہوئے اور اس موقع پر ترک خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو بھی کی۔ اس واقعے کی تصاویر اور خبر میں انہیں سویڈش عالمِ اسلام کے طور پر متعارف کرایا گیا۔
آج عبداللہ السویدی کی شناخت صرف ایک نومسلم سویڈش شخص کی نہیں رہی۔ وہ ایک محقق، مصنف، اسلامی مفکر اور داعی کے طور پر سرگرم ہیں۔ وہ مرکز دلائل سے بھی وابستہ رہے ہیں اور ان کی علمی سرگرمیوں میں جدید الحاد، اسلامی فکر اور غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کا علمی کام مزید وسیع ہوا ہے۔ 2026ء میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں بھی شیخ عبداللہ السویدی کو دبئی کے Islamic Information Center سے وابستہ شریک مصنف کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
ان کی مشہور کتاب Faith in the Modern World: Holding on to Islam Amidst Contemporary Challenges بھی اسی فکری سفر کا ایک حصہ ہے، جس میں جدید دنیا کے چیلنجز کے درمیان مسلمان کے ایمان اور اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے کے موضوع پر گفتگو کی گئی ہے۔
شیخ عبداللہ السویدی کی داستان کا سب سے سبق آموز پہلو شاید یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو وراثت میں نہیں پایا۔ انہوں نے اسے تلاش کیا، پڑھا، پرکھا، سمجھا اور پھر قبول کیا۔ ایک مسلمان کے لیے یہ حقیقت خود احتسابی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اہل اسلام کے گھر میں پیدا ہوئے، اذان ہمارے کانوں میں دی گئی، قرآن ہمارے گھروں میں موجود رہا، نماز ہمارے سامنے ادا ہوتی رہی، مگر ہم نے کبھی اس نعمت کو اس گہرائی سے محسوس ہی نہیں کیا جس طرح ایک متلاشی انسان محسوس کرتا ہے؟
ایک شخص جس نے زندگی کے ایک مرحلے میں خدا کے وجود اور مذہب کی حقیقت پر سوالات کیے، وہی بعد میں الحاد کے خلاف ایک ضخیم علمی تحقیق لکھتا ہے۔ جس نوجوان نے مختلف مذاہب کے بارے میں جاننے کے لیے کتابیں کھولیں، وہی بعد میں مدینہ منورہ کی علمی فضا میں قرآن و سنت کا طالب علم بن جاتا ہے اور جس مغربی معاشرے سے وہ نکلا تھا، اسی معاشرے کی زبان میں اسلام کا پیغام پہنچانے والوں میں شامل ہوجاتا ہے۔
یہی ہدایت کی شان ہے۔ ہدایت نہ حسب دیکھتی ہے، نہ نسب۔ نہ رنگ دیکھتی ہے، نہ قوم اور وطن۔ اللہ جب کسی بندے کے لیے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے دل میں حق کی طلب پیدا کردیتا ہے، پھر اسے قدم بہ قدم اس راستے پر چلاتا ہے جہاں بالآخر اسے اپنے رب کی معرفت نصیب ہوجاتی ہے۔
اسلام صرف ایک جذباتی تجربہ نہیں، یہ ایسا دین ہے جو فطرت، عقل، وحی اور روح کو ایک ساتھ مخاطب کرتا ہے۔ اسی لیے ایک سچا متلاشی جب تعصب سے آزاد ہوکر اس کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے اسلام میں محض ایک مذہبی روایت نہیں، بلکہ زندگی کے بنیادی سوالات کا ایک مربوط جواب دکھائی دیتا ہے۔
شاہی نسبتیں، دنیاوی آسائشیں، مغربی تہذیب، علمی سوالات، الحاد کی وادیاں، مذہب کی تلاش، قرآن کی آیات، کلمۂ شہادت، مدینہ منورہ کی ہجرت، اسلامی علوم کی تحصیل اور پھر الحاد کے خلاف علمی جدوجہد، یہ سب ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔
اس داستان کا سب سے خوب صورت عنوان شاید یہی ہے:جوہانس کلومِنک نے اسلام کو وراثت میں نہیں پایا، اس نے اسے تلاش کیا اور جس نے صدقِ دل سے تلاش کیا، اسے اللہ نے مدینہ تک پہنچا دیا۔یہ انتخاب ہے رب کا، جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
آج الشیخ عبداللہ السویدی مسجد نبویؐ میں سویڈش زبان میں درسِ اسلام دیتے ہیں۔ حج پر آنے والے سویڈش مسلمانوں اورنو مسلم زائرین کے لیے رہنمائی کا نور بنتے ہیں۔ ان کے سویڈش زبان میں دروس، الحاد کے خلاف مناظرے اور یورپ کے فکری محاذ پر استقامت، آج ہزاروں افراد کے لیے چراغ راہ بن چکے ہیں۔ جب وہ سویڈن جاتے ہیں تو الحاد کی بوسیدہ فکری عمارت کو منہدم کرنا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ انہوں نے سینکڑوں نوجوانوں کی اسلام کی طرف رہنمائی کی اور ان کی تبلیغ سے اب تک بے شمار افراد مسلمان ہو چکے ہیں۔
حوالہ: اس مضمون کی بنیادی معلومات عبداللہ السویدی/جوهانس کلومِنک کے علمی تعارف، ان کی ڈاکٹریٹ کی تحقیق، ان کے بارے میں دستیاب علمی مواد اور ان کی اپنی گفتگو کے شائع شدہ خلاصوں کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہیں۔ ان کی ڈاکٹریٹ کی تحقیق اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں پیش کی گئی اور تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔(روشنی کے مسافر جلد دوم سے اقتباس)