قرآنيات

سورہ البقرة اور شياطين

ثناء اللہ حسين

سورة البقرہ ان شیاطین کے ساتھ کیا کرتی ہے جو آپ کو علم نہیں اور وہ آپ کے گھر میں بستے ہیں؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بیشک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورة البقرہ پڑھی جاتی ہے"

آپ تھکن سے چُور بیدار ہوتے ہیں، آپ کا گھر بغیر کسی وجہ کے مسائل سے بھرا ہوا ہے، آپ کے بچے ہر وقت چیختے چلاتے ہیں، اور آپ کی بیوی کا بغیر کسی ظاہر سبب کے آپ سے دم گھٹتا ہے، جبکہ آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ کام کا دباؤ یا معمولی حسد ہے۔

لوگوں نے آپ کو یقین دلا دیا ہے کہ شیاطین صرف ایک فرضی کہانی ہیں اور گھروں میں صرف فرشتے ہی رہتے ہیں۔ جبکہ سچائی جو آپ سے چھپائی گئی وہ یہ ہے کہ آج 90 فیصد گھر ایک غیر مرئی شیطانی توانائی کا مسکن بن چکے ہیں، اور سورة البقرہ واحد ایسا ہتھیار ہے جو اس توانائی کو تباہ کر کے انہیں باہر نکال پھینکتا ہے۔

بڑا دھوکا اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے آپ کو قائل کر لیا کہ گھٹن اور زوجین کے مسائل کا علاج معالج، نشہ آور ادویات یا سیر و تفریح ہے، اور یہ کہ قرآن محض قبرستانوں میں پڑھنے کے لیے ایک کتاب ہے۔مقصد بالکل واضح تھا: تاکہ ہمارے گھر حقیقی قبرستان بنے رہیں، جہاں قرآن کی آواز نہ گونجے، پھر شیطان وہاں بس جائے، میاں بیوی کے درمیان تفریق ڈالے، رزق تنگ کر دے اور نیند کو بے چین کر دے—جبکہ آپ سمجھتے رہیں کہ آپ کی زندگی نارمل ہے۔

لیکن اللہ نے سورة البقرہ کو ایک دفاعی نظام کے طور پر نازل کیا ہے، محض ایک عام سورة کے طور پر نہیں۔ تو جب آپ اپنے گھر میں مسلسل 3 دن بلند آواز سے سورة البقرہ چلاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟

پہلے دن: وہ شیاطین جو آپ کے گھر کے کونوں میں بس رہے تھے، تپش اور گھٹن محسوس کرنے لگتے ہیں، کیونکہ سورة البقرہ کی آیات خاص طور پر آیت الکرسی اور آخری دو آیات کا اثر اس توانائی کے دائرے پر ضرب لگاتا ہے جس پر وہ پلتے ہیں۔

دوسرے دن: وہ گرہیں جو انہوں نے آپ کے گھر میں لگائی تھیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں، بلا وجہ بھڑکنے والے مسائل اچانک تھم جاتے ہیں، اور بوجھل نیند و خوفناک خواب غائب ہو جاتے ہیں۔

تیسرے دن: شیطان گھر سے اس طرح بھاگ نکلتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اور اپنے پیچھے ایک ایسا ہلکا پھلکا گھر چھوڑ جاتا ہے جیسے اسے پانی سے دھو دیا گیا ہو۔

اسی وقت آپ کے اپنے جسم کے اندر بھی ایک تبدیلی آتی ہے۔ ساحروں اور جادوگروں کا جادو، جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ولا تستطيعها البطلة"

"یعنی باطل پرست اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے "

وہ کسی ایسے جسم میں قائم نہیں رہ سکتا جو روزانہ سورة البقرہ سنتا ہو۔ بندش، گرہ بندی اور تفرقہ ڈالنے کا جادو ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ سورة البقرہ میں جادو کو باطل کرنے والی متواتر 5 آیات ہیں، اور اس میں آیت الکرسی ہے جو پورے قرآن میں جنات کو بھگانے والی سب سے طاقتور آیت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے 1400 سال پہلے ہی فرما دیا تھا: ((سورة البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ اس کو اختیار کرنا برکت ہے، اس کو چھوڑنا حسرت ہے، اور باطل پرست (جادوگر) اس پر غالب نہیں آسکتے)۔

آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف چھوٹی سورتیں پڑھو... بلکہ البقرہ کا فرمایا کیونکہ یہی پورے گھر کو اول تا آخر پاک کرتی ہے۔