قرآنيات

سورہ الكہف كےسبق

ثناء اللہ حسين

لاکھوں مسلمان ہر جمعے کو سورۃ الکہف کی تلاوت کرتے ہیں، اس کی آیات حفظ کرتے ہیں اور اس کے انوار و برکات سے واقف ہیں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سوچنے کا مقام ہے: سورۃ الکہف ہی کیوں؟

ایک ہی سورت میں چار ایسے قصے جن کا بظاہر ایک دوسرے سے تعلق دور کا لگتا ہے: غار میں پناہ لینے والے چند نوجوان، دو باغوں کا مالک، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عبدِ صالح (حضرت خضر) کے ساتھ سفر، اور ایک عظیم بادشاہ (ذوالقرنین) کا دنیا کا سفر... یہ سب مل کر انسان کی آزمائشوں اور فتنوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

یہ کہانی کے روپ میں انسان کی آزمائش (فتنے) کی کہانی ہے، اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ فتنہ ہمیشہ اس شکل میں نہیں آتا جس سے انسان ڈرتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس چیز کے روپ میں بھی آتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

1-دین کا فتنہ (قصہ اصحابِ کہف)

سورۃ کا آغاز اللہ تعالی کی حمد سے ہوتا ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، تاکہ انسان کو ایک سیدھا معيار مل سکے۔ اس کے بعد ان نوجوانوں کا ذکر آتا ہے جو ایک مشرک معاشرے میں ایمان لائے:إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى(بیشک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا)اور انہوں نے کہا:رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا(ہمارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی کو معبود بنا کر نہیں پکاریں گے)

آزمائش: حق کو جاننے کے باوجود لوک کیا کہیں گے يا معاشرے سے الگ تھلگ ہونے کے ڈر سے غلط راستے پر چل پڑنا۔ استقامت کی قیمت بسا اوقات جان دینا نہیں، بلکہ اپنے کچھ فوائد یا لوگوں کی پسندیدگی کو چھوڑنا ہوتا ہے۔

2- مال و دولت کا فتنہ:

(قصہ صاحب الجنتین)اس کے بعد دو باغوں کے مالک کا ذکر آتا ہے جو اپنی دولت پر اتراتے ہوئے کہتا ہے:مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا--(میں نہیں سمجھتا کہ یہ (باغ) کبھی فنا ہوگا)آزمائش: انسان چیزوں کو اللہ کی نعمت سمجھ کر شکر ادا کرنے کے بجائے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ اس کا اپنا حق ہے اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔حقیقت: سورت پھر دنیا کی ناپائیداری کو یوں بیان کرتی ہے:وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ--(اور ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو، جیسے وہ پانی جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کی جڑی بوٹیاں مل گئیں، پھر وہ چورا چورا ہو گئیں جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں)

3- علم اور حکمت کا فتنہ (قصہ موسیٰ و خضر علیہما السلام)

پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے سفر کا واقعہ آتا ہے، جہاں ظاہر میں جو واقعات برے لگتے تھے (کشتی میں سوراخ کرنا، لڑکے کو قتل کرنا، دیوار سیدھی کرنا)، آخر میں ان کی حکمت سامنے آتی ہے۔قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا--(انہوں نے کہا: یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ اب میں تجھے ان باتوں کی حقیقت بتاؤں گا جن پر تو صبر نہ کر سکا)

آزمائش: انسان کا یہ سوچنا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ تھوڑا سا نقصان یا دروازہ بند ہونے پر انسان پورے مستقبل کو اندھیرا سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔

4- طاقت اور اقتدار کا فتنہ (قصہ ذوالقرنین)

آخر میں ذوالقرنین کا واقعہ آتا ہے، جسے اللہ نے طاقت اور اسباب عطا کیے، لیکن اس نے طاقت کے زعم میں آنے کے بجائے کہا:قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي-(اس نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے)آزمائش: طاقت ملنے پر انسان کا بدل جانا، دوسروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور یہ بھول جانا کہ اختیار اور اثر و رسوخ ایک ذمہ داری ہے۔

حاصلِ کلام--یہ چاروں فتنے—دین، مال، علم، اور طاقت—انسانی زندگی کے اہم ترین پہلو ہیں جو انسان کو راستے سے بھٹکا سکتے ہیں۔ اسی لیے سورت کا اختتام اس بنیادی حقیقت پر ہوتا ہے:فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

(پس جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے)

ہم ہر جمعے کو سورۃ الکہف اس لیے نہیں پڑھتے کہ ہمیں ہر ہفتے ایک نئی کہانی چاہیے، بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں تاکہ یاد دہانی رہے کہ فتنہ انسان کی زندگی میں اسی راستے سے داخل ہوتا ہے جسے وہ سب سے زیادہ پسند کرتا ہے۔ سب سے خطرناک بات کسی چیز کا کھو جانا نہیں، بلکہ کسی چیز کو پا کر اس کی وجہ سے خود کو کھو دینا ہے۔

https://www.facebook.com/drsanaullahhussain/posts/pfbid02SPnNq21o8bRUJpgD5sCaa4gzuFCK3QgqmtPS1BXYgsvg4LhUoCfh6246RnupUug9l

 

بشکریہ : https://www.facebook.com/drsanaullahhussain/posts/pfbid02SPnNq21o8bRUJpgD5sCaa4gzuFCK3QgqmtPS1BXYgsvg4LhUoCfh6246RnupUug9l