پاكستانی ڈرامے  نوجوانوں كی نفسيات كو كيسے بگاڑ رہے ہيں

مصنف : ناصر جاويد

سلسلہ : نفسیات

شمارہ : اكتوبر 2026

نفسيات

پاكستانی ڈرامے  نوجوانوں كی نفسيات كو كيسے بگاڑ رہے ہيں

ڈاكٹر ناصر جاويد

پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں رشتوں کی تصویر کشی ایک ایسا نفسیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس پر شاید ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ذرا آج کے مقبول ڈراموں کو غور سے دیکھیں۔شادی شدہ جوڑے اکثر لڑ رہے ہیں، ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں، دھوکہ دے رہے ہیں، ایک دوسرے کو کنٹرول کر رہے ہیں، جذباتی طور پر ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا رہے ہیں، یا پھر پورا خاندان ان کے رشتے کے خلاف سازش کر رہا ہوتا ہے۔

ایک خوشگوار، پُرسکون، باہمی احترام اور اعتماد پر قائم شادی شدہ جوڑا بہت کم نظر آتا ہے۔اور اگر نظر آ بھی جائے تو اکثر وہ کہانی کا معمول نہیں بلکہ آخر میں آنے والا "خوشگوار حل" ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے:**کیا یہ صرف ڈرامہ ہے؟**ضروری نہیں۔مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک ہی قسم کی منفی کہانی ہمیں بار بار، مسلسل اور طویل عرصے تک دکھائی جائے۔دماغ پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟خاص طور پر نوجوانوں کے دماغ پر۔13 سے 19 سال کی عمر میں دماغ ابھی تیزی سے نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔ اس عمر میں نوجوان صرف کتابوں سے نہیں سیکھتے؛ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ کر بھی سیکھتے ہیں۔والدین کو دیکھ کر۔دوستوں کو دیکھ کر۔اور یقیناً میڈیا اور ڈراموں کو دیکھ کر بھی۔اسے نفسیات میں **Observational Learning** یعنی "دیکھ کر سیکھنا" کہا جاتا ہے۔اب تصور کریں کہ ایک نوجوان بار بار دیکھتا ہے کہ:شادی کا مطلب لڑائی ہے۔شوہر پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔بیوی ضرور کچھ چھپا رہی ہوگی۔سسرال دشمن ہے۔

محبت کے پیچھے کوئی مطلب ہوتا ہے۔اور معمولی اختلاف بھی آخرکار ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔تو آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں رشتوں کا ایک **ذہنی نقشہ، یعنی Schema** بننے لگتا ہے۔اور یہ نقشہ کچھ ایسا ہو سکتا ہے:

**"شادی = مسئلہ، شک، لڑائی اور تکلیف"**یہ ایک دن میں نہیں بنتا۔بار بار ایک ہی پیغام دیکھنے سے بنتا ہے۔ پھر ایک اور دلچسپ چیز ہوتی ہے-دماغ ان چیزوں کو "عام" سمجھنا شروع کر دیتا ہے جو اسے بار بار نظر آتی ہیں۔اگر آپ مسلسل دیکھتے رہیں کہ ہر شادی میں دھوکہ، شک، لڑائی اور manipulation ہے، تو دماغ کے لیے یہ رویے غیر معمولی نہیں رہتے۔وہ انہیں رشتوں کا ایک عام حصہ سمجھنے لگتا ہے۔اسے ہم **Normalization of Dysfunction** کہہ سکتے ہیں۔یعنی غیر صحت مند رویہ اتنی بار نظر آئے کہ وہ ہمیں صحت مند اور معمول کا حصہ محسوس ہونے لگے۔

یہاں ایک خطرناک تبدیلی آ سکتی ہے۔ایک نوجوان سوچ سکتا ہے:**"اچھی شادی ہوتی ہی کہاں ہے؟"**یا:**"اگر رشتے میں drama نہیں تو شاید محبت بھی نہیں۔"** لیکن معاملہ صرف سوچ تک محدود نہیں رہتا-بار بار جذباتی تناؤ اور خوف والے مناظر دیکھنے سے ہمارا emotional system بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

دماغ میں **amygdala** خطرے، خوف اور جذباتی ردعمل کو process کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اور **prefrontal cortex** ہمیں اپنے جذبات کو روکنے، سوچنے اور حالات کو نسبتاً متوازن انداز میں دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔اگر کسی نوجوان کو مسلسل انتہائی جذباتی، خوفناک یا conflict-based situations دکھائی جائیں تو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ حقیقی زندگی کے معمولی اختلافات کو بھی زیادہ شدت سے محسوس کرے۔مثلاً شوہر نے بیوی کی کوئی بات پسند نہیں کی۔یا کسی دوست نے جواب دیر سے دیا۔یا کسی نے ایک بات پر اختلاف کر دیا۔ایک balanced ذہن کہے گا:**"کوئی بات نہیں، اختلاف ہو گیا ہے، بات کر کے حل ہو جائے گا۔"**

لیکن اگر ذہن نے رشتوں کو ہمیشہ conflict کے ساتھ جوڑنا سیکھا ہو تو وہ فوراً سوچ سکتا ہے:**"مسئلہ بہت بڑا ہے۔ شاید وہ مجھ سے ناراض ہے۔ شاید وہ مجھے دھوکہ دے رہا ہے۔ شاید یہ رشتہ ختم ہونے والا ہے۔"**یعنی معمولی اختلاف بھی ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجا سکتا ہے۔ اس کا ایک اور نقصان ہے-رشتوں سے ہماری **expectations** بدل سکتی ہیں۔کچھ نوجوان ضرورت سے زیادہ suspicious ہو سکتے ہیں۔وہ ہر بات میں شک تلاش کرتے ہیں۔کچھ اس کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔وہ ڈراموں میں دکھائی جانے والی انتہائی romantic اور idealized محبت کو حقیقی زندگی کی محبت سمجھ لیتے ہیں۔پھر جب حقیقی زندگی میں اختلاف، boredom، compromise اور روزمرہ کی ذمہ داریاں سامنے آتی ہیں تو انہیں لگتا ہے:**"شاید ہماری محبت میں ہی کوئی کمی ہے۔"**حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رشتے ہمیشہ dramatic نہیں ہوتے۔ان میں بہت سا حصہ خاموش اعتماد، احترام، برداشت، communication اور compromise کا ہوتا ہے۔اور شاید یہی چیز ٹی وی پر کم دکھائی جاتی ہے کیونکہ اس میں drama کم ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات جس چیز کو ہم بار بار دیکھتے ہیں، وہ ہمارے ذہن کے لیے زیادہ familiar ہوتی جاتی ہے۔اور جو چیز familiar ہو، اسے دماغ زیادہ آسانی سے "عام" سمجھ لیتا ہے۔

اسی لیے اگر نوجوان مسلسل dysfunctional relationships دیکھتے رہیں تو ان کے ذہن میں future relationships کے بارے میں مخصوص expectations اور relationship scripts بن سکتے ہیں۔بعد میں جب وہ خود رشتے بناتے ہیں تو یہی ذہنی نقشے ان کے رویوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں-وہ اختلاف کو کیسے دیکھیں گے؟وہ شک کا جواب کیسے دیں گے؟وہ غصے کو کیسے control کریں گے؟وہ محبت کا اظہار کیسے کریں گے؟اور سب سے بڑھ کر—**وہ ایک healthy relationship کو پہچان بھی پائیں گے یا نہیں؟**تو مسئلہ ڈراما دیکھنے کا نہیں ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک معاشرہ اپنے نوجوانوں کو رشتوں کی تقریباً صرف ایک ہی تصویربار بار دکھاتا رہے—یعنی شک، دھوکہ، سازش، toxicity اور conflict—تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم صرف کہانیاں نہیں دیکھ رہے۔**ہم اپنے ذہنوں کو رشتوں کے بارے میں کچھ سکھا بھی رہے ہیں۔**اور شاید ہمیں ڈراموں میں صرف یہ نہیں دکھانا چاہیے کہ:**"رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے؟"**بلکہ کبھی یہ بھی دکھانا چاہیے کہ:**"ایک اچھا رشتہ بنتا کیسے ہے؟"**

آپ کا کیا خیال ہے؟**کیا پاکستانی ڈرامے ہمارے رشتوں کے بارے میں ہماری سوچ کو متاثر کر رہے ہیں؟**