ڈوپا مين

مصنف : توصيف اكرم نيازی

سلسلہ : نفسیات

شمارہ : فروری 2026

نفسيات

ڈوپا مين

توصيف اكر م نيازی

سکون کی تلاش اور ڈوپامین کا سراب: ہم سب اندر سے اتنے تھکے ہوئے کیوں ہیں؟

آج کا زمانہ ایک مسلسل دوڑ کا نام ہے۔ہاتھ میں فون ہے جو ہر چند لمحوں بعد چمک اٹھتا ہے، سوشل میڈیا کی رنگین دنیا آنکھوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اور فوری خوشی دینے والی چیزیں—چاہے وہ ذائقے سے بھرپور کھانا ہو، چند سیکنڈ کی ویڈیو ہو، یا کسی کی تعریف کا ایک جملہ—آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔اس سارے شور میں، ہم سب اندر ہی اندر ایک ہی چیز ڈھونڈ رہے ہیں: حقیقی خوشی اور سکون۔

لیکن یہ خوشی آخر آتی کہاں سے ہے؟وہ کون سی اندرونی طاقت ہے جو ہمیں بار بار فون اٹھانے، ایک اور اسکرول کرنے، یا ایک اور لمحاتی لطف کی طرف کھینچ لے جاتی ہے—حتیٰ کہ تب بھی جب دل کہتا ہے کہ بس اب کافی ہے؟اس سوال کا جواب ہمارے دماغ کی گہرائیوں میں چھپا ہے۔ایک نہایت نازک، مگر غیر معمولی طاقت رکھنے والے کیمیائی پیغام میں—جسے ہم ڈوپامین (Dopamine) کہتے ہیں۔

ڈوپامین صرف خوشی کا نام نہیں۔ یہ ہماری چاہتوں، ہمارے فیصلوں، ہماری محنت اور ہماری امیدوں کا خاموش محرک ہے۔ یہ ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ دیتی ہے، کچھ حاصل کرنے کی خواہش جگاتی ہے، اور زندگی کو حرکت میں رکھتی ہے۔ مگر جب یہی نظام توازن سے باہر ہو جائے تو یہی ڈوپامین سکون کے بجائے بے چینی، اور تسکین کے بجائے ایک عجیب خلا پیدا کرنے لگتی ہے۔ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔

ایک طرف خاندانی ذمہ داریاں ہیں، مذہبی اقدار ہیں، معاشی دباؤ ہے—اور دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی کی وہ دنیا ہے جو ہر لمحہ فوری تسکین پیش کر رہی ہے۔ اس کشمکش میں بہت سے لوگ محنت اور صبر کے راستے پر چلتے چلتے تھک جاتے ہیں، اور آہستہ آہستہ فوری خوشی کی عادت میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں دل بے چین ہونے لگتا ہے، چاہے زندگی بظاہر درست ہی کیوں نہ لگ رہی ہو۔

یہ تحریر ڈوپامین کو نہ دشمن بنا کر پیش کرتی ہے، نہ نجات دہندہ۔

یہ ایک آئینے کی طرح ہے. خاموش، صاف اور بے لاگ جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ڈوپامین اصل میں ہے کیا، یہ ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے، اور ہم اس کے غلام بننے کے بجائے اسے اپنی زندگی کا متوازن ساتھی کیسے بنا سکتے ہیں۔

آئیے، اس ڈوپامین کو ذرا گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شور سے نہیں، آہستگی سے۔ڈوپامین کیا ہے؟ دماغ کا وہ جادوئی قاصد جو چاہت کو جنم دیتا ہے-ڈوپامین کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو ہمارے دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ تصور کریں کہ آپ کا دماغ ایک بڑا شہر ہے، جہاں لاکھوں راستے، سگنل اور پیغام رساں بیک وقت کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان پیغام رساں کو نیورو ٹرانسمیٹرز کہتے ہیں، جو ہماری سوچوں، جذبات اور اعمال کو جوڑتے ہیں۔ یہ ان میں سے ایک نہایت اہم کیمیائی عنصر ہے جو دماغ کے کچھ مخصوص حصوں، جیسے Ventral Tegmental Area اور Substantia Nigra میں بنتا ہے۔ یہ حصے سیکھنے کے عمل، جسمانی حرکت، فیصلے کرنے، اور انسان کے اندر حوصلہ، تحریک اور آگے بڑھنے کی خواہش پیدا کرنے سے گہرے طور پر جڑے ہوتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، ڈوپامین دماغ کو یہ بتاتی ہے کہ “یہ چیز فائدہ مند ہے، اسے دوبارہ کرو!” یہ Tyrosine نامی امائنو ایسڈ سے بنتی ہے، جو ہماری روزمرہ کی خوراک جیسے انڈے، دالیں، گوشت اور پھلوں سے ملتی ہے۔ یعنی جو ہم کھاتے ہیں، وہ نہ صرف جسم بلکہ ہمارے جذبات اور چاہتوں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ڈوپامین خوشی سے زیادہ “چاہت” کا کیمیکل ہے۔ یہ ہمیں کسی چیز کی طرف کھینچتا ہے، اسے حاصل کرنے کی امید دلاتا ہے، اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔مثال کے طور پر، جب آپ گرم بریانی کا مزہ چکھتے ہیں یا خاندان کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہیں، تو ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف اس لمحے کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ دماغ میں ایک یادگار نشان چھوڑتا ہے: “یہ اچھا تھا، اسے یاد رکھو اور دوبارہ کوشش کرو۔” پاکستان جیسے ملک میں، جہاں زندگی جدوجہد کا نام ہے – نوکری کی تلاش، خاندان کی پرورش، معاشرتی توقعات – ڈوپامین ہمیں ہار نہ ماننے کی ہمت دیتا ہے۔ یہ صبح بستر سے اٹھنے، کام پر جانے اور چھوٹی کامیابیوں کا جشن منانے میں مدد کرتا ہے۔لیکن اگر اس کا توازن بگڑ جائے تو؟ یہ خوشی کی بجائے بے قراری، تھکاوٹ اور خالی پن پیدا کر سکتا ہے۔ ہماری مذہبی تعلیمات اعتدال پر زور دیتی ہیں، اور ڈوپامین بھی یہی درس دیتا ہے: توازن میں ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔

ڈوپامین کا وسیع کردار: خوشی سے لے کر صحت تک کا محافظ

ڈوپامین صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ یہ ہماری زندگی کے کئی بنیادی ستونوں کو سنبھالتا ہے۔ یہ دماغ کے Reward System” کا مرکزی حصہ ہے، جو ہمیں محنت کرنے، مقصد حاصل کرنے اور کامیابی کی طرف دھکیلتا ہے۔ جب آپ امتحان میں اچھے نمبر لاتے ہیں، نوکری میں ترقی پاتے ہیں، یا گھر کی کوئی ذمہ داری نبھاتے ہیں، تو ڈوپامین کا اخراج آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ “تم درست راستے پر ہو، مزید کوشش کرو۔

جسمانی سطح پر، یہ حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔ پارکنسن جیسی بیماری میں اس کی کمی سے جسم کی حرکات سست ہو جاتی ہیں۔ یہ توجہ مرکوز کرنے، یادداشت مضبوط کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتاہےنفسیاتی طور پر، یہ Reward Prediction Error نامی ایک دلچسپ عمل انجام دیتا ہے: جب کوئی چیز آپ کی توقع سے بہتر نکلتی ہے تو خوشی اور حوصلہ بڑھ جاتا ہے، اور اگر یہ توقع سے کم ہو تو مایوسی اور اداسی پیدا ہوتی ہے۔ یہی نظام لت (Addiction) کی بنیاد بنتا ہے، جیسے منشیات، شراب، جوا یا سوشل میڈیا کی عادت۔

اگر ڈوپامین کی سطح کم ہو تو تھکاوٹ، اداسی، توجہ کی کمی یا ڈپریشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور اگر زیادہ ہو تو بے قابو خیالات یا شیزوفرینیا جیسی حالتیں جنم لے سکتی ہیں۔ جسم کے دیگر حصوں میں بھی یہ خاموشی سے کام کرتا ہے: گردوں میں نمک کا توازن رکھتا ہے، خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے، انسولین کے اخراج کو منظم کرتا ہے، ہاضمے کو تیز کرتا ہے، اور حتیٰ کہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ کم ہونے پر بلڈ پریشر گر سکتا ہے، اور زیادہ ہونے پر دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔

ماہرین ڈوپامین کو DOSE سسٹم کا حصہ مانتے ہیں، جو خوشی کا مکمل پیکج ہے:

Dopamine (حوصلہ اور چاہت

Oxytocin (محبت اور تعلق)

Serotonin (سکون اور اطمینان)

Endorphins (درد میں کمی)

اسی بارے میں نیورو سائنٹسٹ TJ Power کا اپنی کتاب کتاب The DOSE Effect میں کہنا ہے کہ یہ چار کیمیکلز مل کر دماغ میں خوشی کا صحیح توازن قائم کرتے ہیں۔ جب ہم انہیں قدرتی طریقوں سے بڑھاتے ہیں تو زندگی میں حقیقی تبدیلی آتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ خوشی کو محض حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اسے سمجھیں، توازن میں رکھیں، اور اپنی زندگی میں دانائی کے ساتھ استعمال کریں۔

سستا ڈوپامین: فوری خوشی کا وہ پھندہ جو زندگی کو خالی کر دیتا ہے-

آج کی دنیا، خاص طور پر پاکستان میں، ڈوپامین کے غلط استعمال کی ایک واضح تصویر ہے۔ “سستا ڈوپامین” ہر طرف بکھرا ہے – وہ فوری خوشی جو بغیر محنت ملتی ہے، لمحاتی سکون دیتی ہے مگر آہستہ آہستہ اندر کا خلا بڑھاتی ہے۔ سوشل میڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے: ہر نوٹیفکیشن، لائک یا کمنٹ دماغ کو ایک چھوٹا جھٹکا دیتا ہے۔ چند سیکنڈ کی خوشی کے بعد بے چینی جنم لیتی ہے، اور پھر مزید کی طلب۔ڈاکٹر انا لیمبکے اپنی کتاب Dopamine Nation میں بتاتی ہیں کہ جب خوشی اور درد کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے، تو انسان آسان اور فوری راحت کی تلاش میں لت کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ حقیقت خاص طور پر واضح ہے، جہاں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون زندگی کے مرکز بن چکے ہیں۔ نوجوان گھنٹوں اپنی اسکرین پر گزار دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ دماغ اوور لوڈ ہو رہا ہے۔ نتیجہ؟ نیند کی کمی، توجہ کی کمزوری، دل میں بے چینی، اور حقیقی زندگی کی رنگینی کا کم ہونا۔

سستے ڈوپامین کی سب سے واضح مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں: فاسٹ فوڈ، جو زبان کو خوش کر دیتا ہے مگر جسم کو تھکا دیتا ہے؛ ویڈیو گیمز، جو گھنٹوں وقت نگل جاتی ہیں مگر کوئی حقیقی مقصد نہیں دیتیں؛ آن لائن شاپنگ، جو ایک کلک پر خوشی دیتی ہے مگر بجٹ اور ضمیر پر اثر ڈالتی ہے؛ اور فحش مواد، جو لمحاتی تسکین دے کر ذہن کو کمزور کرتا ہے۔ یہ سب دماغ میں ڈوپامین کو اچانک بڑھا دیتے ہیں، لیکن جلد ہی دماغ اسی سطح کی مانگ کرنے لگتا ہے، اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ حقیقی خوشی حاصل کرنا آسان لمحاتی تسکین کے پیچھے نہیں، بلکہ سمجھداری، توازن اور شعور کے ساتھ کی جانے والی زندگی میں چھپی ہے۔

حقیقی ڈوپامین: وہ پائیدار خوشی جو اندر سے طاقت دیتی ہے

اب بات کریں اس خوشی کی جو دیرپا ہوتی ہے، جو محنت کے بعد ملتی ہے اور دل کو بھرتی ہے۔ ڈاکٹر لیمبکے کہتی ہیں: درد سے بھاگنے سے خوشی بھی بھاگ جاتی ہے، مگر مناسب تکلیف اور انتظار قبول کرنے سے خوشی گہری ہو جاتی ہے۔ حقیقی ڈوپامین دماغ کو صحت مند رکھتا ہے، مقصد دیتا ہے اور اندرونی طاقت بڑھاتاہے۔

اسے حاصل کرنے کے فطری طریقے یہ ہیں:

1.جسمانی محنت اور ورزش: روزانہ چہل قدمی، ورزش یا کھیل ڈوپامین کے ساتھ اینڈورفنز بھی بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں فجر کی واک، مسجد تک پیدل جانا یا پارک میں چند چکر – یہ جسم اور دماغ دونوں کو تروتازہ کرتے ہیں۔

2.صحتمند خوراک: پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈے، دالیں، گوشت، دودھ اور پھل ڈوپامین کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ انتخاب کی خرابی کو درست کریں، اور دیکھیں فرق۔

3.اچھی نیند اور عبادت: مناسب نیند دماغ کو بحال کرتی ہے۔ نماز، ذکر یا خاموش بیٹھ کر سانس پر توجہ – یہ سکون دیتے ہیں جو کوئی اسکرین نہیں دے سکتی۔

4.معنی خیز تعلقات: خاندان کے ساتھ وقت، دوستوں سے باتیں، بزرگوں کی صحبت – یہ آکسی ٹوسن اور ڈوپامین کو متوازن کرتے ہیں، تنہائی سے بچاتے ہیں۔

5.سیکھنا اور تخلیق: کتابیں پڑھنا، لکھنا یا ہنر سیکھنا – یہ آہستہ خوشی دیتے ہیں جو دیر تک رہتی ہے۔

توازن کا راز: ڈوپامین کو دوست بنائیں، غلام نہیں-ڈوپامین دشمن نہیں، مسئلہ اس کا بے قابو ہونا ہے۔ سستا ڈوپامین کم کریں: سوشل میڈیا کا وقت محدود کریں، دن میں کچھ لمحے بغیر اسکرین گزاریں، چھوٹے اہداف بنائیں۔ اگر ضرورت ہو تو ماہر سے مدد لیں – یہ سمجھداری ہے۔

آخر میں، خوشی باہر نہیں، اندر کی ترتیب میں ہے۔ جب محنت، تعلق، عبادت ميں توازن آ جائے تو ڈوپامین خود درست جگہ پر آ جاتا ہے۔ اگر آج آپ نے ایک عادت بدلی تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔ یاد رکھیں، زندگی ایک دریا ہے – شور نہیں، بلکہ بہاؤ میں حسن ہے۔