میرے والد پروفیسر عابد صدیق بطور استاد...

مصنف : حافظ صفوان

سلسلہ : لسانیات

شمارہ : اكتوبر 2026

لسانيات

میرے والد پروفیسر عابد صدیق بطور استاد...

حافظ صفوان

میں نے اپنے والد پروفیسر عابد صدیق سے 86-1984ء میں ایف ایس سی میں اردو پڑھی تھی۔ اِس مضمون میں وہ واقعات ذکر کیے گئے ہیں جو اُن کی کلاس میں پیش آئے۔

میں نے ابا جان کو ہمیشہ لیکچر تیار کرکے لاتے دیکھا۔ وہ لیکچر کے نکات چٹوں پر لکھ کر متعلقہ کتاب میں رکھتے اور پھر کلاس روم میں آتے۔ نظم ہو یا نثر، پڑھاتے وقت وہ اردو اور مشرقی ادب کی تہذیب اور نظریۂ کائنات کا مغربی ادب کے متعلقہ زاویوں سے موازنہ کرتے جاتے، اور مجھے یاد نہیں کہ اُنھوں نے کبھی اپنی مایا کو ہلکایا ہو۔ ارسطو، افلاطون، لانجائنس، ورڈزورتھ، کولرج، شیکسپیئر، آرنلڈ، ڈاکٹر جانسن، ٹالسٹائی، اینڈریو مارویل، گوئٹے، فلپ سڈنی، بائرن، ملٹن، ٹینی سن، ایزرا پاؤنڈ، کیٹس، والٹ وھٹمین، رابرٹ فراسٹ، رچرڈز، پوپ، ہیگل، ایڈمنڈ برک، ایلیٹ، کارلائل، آسکر وائلڈ، فلابیئر، ورجینیا وولف، رسکن، کارل سیگن، برنارڈ شاء، رسل، ہکسلے، ہیمنگوے، میکالے، گلکرسٹ، وغیرہ، کے بارے میں موٹی موٹی باتیں مجھے ایف ایس سی ہی میں معلوم ہوگئی تھیں۔ ابا جان ”آبِ حیات“ اور ”شعرالعجم“ سمیت اردو کی امہات الکتب کے اقتباسات اور مشاہیرِ ادب کے اقوال سناتے۔ اُنھیں کئی مصنفوں کی لمبی عبارتیں شعروں کی طرح ازبر تھیں۔ لیکن اِن اقوال سے طلبہ کو مرعوب کرنا یا اُنھیں ماضی میں لے جانا اُن کا مقصد ہرگز نہ ہوتا تھا۔ وہ اِن اقوال کو اُن کے تناظر کے ساتھ جوڑتے کیونکہ ہر بات اپنے ورلڈویو کے اندر ہی درست ہوتی ہے۔ سائنس کے لڑکوں کو پڑھانے کے لیے ابا جان شاید خاص طور سے تیاری کرکے آتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اِن بچوں کو اردو اور ادب کی خوبیوں سے گوش آشنا کرانے کا یہ پہلا اور آخری موقع ہے۔ آئندہ زندگی میں صرف انگریزی اور سائنس ہی سے اِن طلبہ کا پالا پڑے گا۔ پڑھاتے ہوئے شاعروں کے حالات، شاعری کا منظر نامہ اور خصوصًا انگریزی شعرا کی استعمال کردہ تراکیب وغیرہ بتاتے۔ ”غالب کے خطوط“ والا سبق شروع ہوا تو تین چار منٹ میں لارڈ چیسٹرفیلڈ کے خطوط کا تعارف کرایا اور پھر غالب کے خطوط پر گئے۔ اردو" ب "میں مضمون لکھنے کا موضوع آیا تو فرانسس بیکن اور چارلس لیمب کے مضامین سے لیکچر شروع کیا۔ بی ایس سی میں کبھی کبھی اردو کی کلاس بی اے والوں کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ ایک دن ”اُمراؤ جان ادا“ والے سبق میں بسم اللہ جان کے ہاتھوں مولوی باقر علی کی دُرگت بننے کا منظر تھا۔ ابا جان نے یہ کہتے ہوئے کہ کنگلے کو تو طوائف بھی منہ نہیں لگاتی، ہٹلر کی خودنوشت سوانح سے اُس کے بھوک کے مارے دو بار بے ہوش ہوکر گر جانے کا واقعہ سنایا۔ شیکسپیئر کے ڈراموں کے ڈائیلاگ تو ایکٹنگ کے ساتھ سناتے۔ ایک دن لیڈی میکبتھ کا بادشاہ ڈنکن کے قتل کے بعد بار بار ہاتھ دھوکر میل دور کرنے کا تاثر پورے منظر کے ساتھ سنایا۔ لیڈی میکبتھ ملکہ بننے کے ورطے میں اپنے شوہر میکبتھ کو اکسا کر ڈنکن کو قتل کرانے کے بعد کہتی ہے کہ تھوڑا سا پانی ہمیں اِس جرم سے پاک کر دے گا۔ (A little water clears us of this deed.) لیکن یہ جرم اُس کے ضمیر کو کچوکتا ہے اور وہ نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہے۔ وہ نیند میں چلتے ہوئے بار بار ہاتھ رگڑتی اور دھوتی ہے جیسے خون کے دھبے صاف کر رہی ہو۔ "What, will these hands ne’er be clean? Here’s the smell of the blood still: all the perfumes of Arabia will not sweeten this little hand. Oh, oh, oh" (اب بھی خون کی بو آ رہی ہے۔ عرب کا سارا عطر بھی اِس چھوٹے سے ہاتھ کو خوشبودار نہیں بنا سکتا۔) یوں سب کو معلوم ہوگیا کہ اردو ادب میں یہ تاثر کہاں سے آیا ہے۔ خدائے سخن میرؔ کو دیکھیے: جم گیا خوں کفِ قاتل پہ ترا میرؔ زبس/ اُن نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے۔ لیکن انگریزی ادب سے یہ ”بے تکلفی“ اور ”چھیڑ چھاڑ“ صرف دماغ کو تازہ کرنے کے لیے (:بطور آئس بریکر) ہوتی تھی۔ سچی بات ہے کہ سائنسی تعلیم میں ادب کا نگندہ ڈالنے کی ضرورت کا احساس ابا جان کی زندگی میں مجھے کبھی نہیں ہوا، جس کے لیے اپنی سی پدرانہ کوشش اُنھوں نے ضرور کی تھی۔

ابا جان کا لیکچر نہایت مربوط ہوتا تھا۔ کوئی جملۂ معترضہ، کراس ریفرنس یا اچانک کیا ہوا کوئی سوال جواب اُنھیں موضوع پر اپنا اصل مقام بالکل نہیں بھلاتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اُنھوں نے کلاس روم میں کبھی ”ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا“ یا ”یہ بات کہاں سے شروع ہوئی تھی“ قسم کا کوئی جملہ بولا ہو۔ اُن کی بلند ٹھہرواں آواز پورے لیکچر تھیٹر میں برابر گونجتی تھی۔ وہ اپنا لیکچر ”عزیزانِ من“ سے شروع کرتے۔ فقروں میں لفظوں کا چناؤ ایسا ہوتا کہ لمبے لیکچر میں دلچسپی ماند نہ پڑتی۔ وہ زبان اور ادب میں فرق کرتے تھے؛ زبان ہر ایک کو آنی چاہیے، ادب صرف ذوق کا معاملہ ہے۔ چنانچہ شعر اکثر خود پڑھتے، یا تُک بندی کا شوق رکھنے یا بیت بازی کے مقابلوں میں شرکت کرنے والے بچوں سے پڑھواتے۔ ہر شعر تحت میں دو تین بار پڑھتے تاکہ جس بچے نے عروضی آہنگ کے ساتھ یاد کرنا ہو کرلے۔ نثر کی بلند خوانی کمزور بچوں سے بھی کراتے۔ غلط تلفظ کی درستی ایک آدھ لفظ کی حد تک تو کرا دیتے لیکن آخر میں وہی عبارت دوبارہ خود سناتے۔ اِس سے پوری کلاس کا تلفظ درست ہوجاتا۔ وہ لیکچر میں اپنا علم طلبہ پر لادنے یا تھوپنے کے بجائے اُن میں پہلے سے موجود صلاحیتیں اجاگر کرنے کی کوشش کرتے اور سیکھنے کے عمل کے دوران میں اُن کی جانچ کرتے۔ وہ بچوں کو لیکچر تھیٹر میں ڈائس پر کھڑا کرکے بُلواتے تاکہ اُن کا ہیاؤٗ اٹھے (سٹیج فرائٹ دور ہو) اور اُنھیں لیکچر دینے کی تربیت ہو۔ لیکچر کے دوران میں کوئی طالبِ علم اُن کی نظروں کا شعوری مرکز بالکل نہ ہوتا تھا۔ مجھے کالج لیکچروں کے علاوہ بھی اُن کی کچھ تقاریر سننے کا موقع ملا۔ فی البدیہہ گفتگو میں اُن کے جملے ایسے گھڑے گھڑائے ہوتے تھے کہ وہ بول رہے ہیں تو آپ لکھتے چلے جائیے، کامہ اور فل سٹاپ خود بتائیں گے کہ اُنھیں کہاں لگنا ہے۔ وہ اُن چیدہ اساتذہ میں سے تھے جن کا کوئی تکیہ کلام نہیں تھا۔

ابا جان کے لیکچر کا مواد زندگی سے بھرپور ہوتا تھا۔ مثلًا ایک بار تشبیہہ سمجھاتے ہوئے بتایا کہ تشبیہہ موقع اور ماحول و ماحضر سے قائم ہوتی ہے اور ایک ہی وقت میں ایک واقعے کی تشبیہہ باہم بالکل مختلف ہوسکتی ہے۔ مثلًا باغ میں ایک بنچ پر دو شخص بیٹھے ہیں۔ پہلے کی اُس کے محبوب سے ملاقات ہوئی ہے اور دوسرے کی نہیں۔ ہوا چلی اور پتے ہلے۔ پہلا شخص کہتا ہے کہ پتے تالیاں بجا رہے ہیں، دوسرا کہتا ہے کہ پتے کفِ افسوس مل رہے ہیں۔ ایک دن ”انارکلی“ میں دلآرام اور ظلِ الٰہی کے ڈائیلاگ بہت چاؤ سے صوتی زِیر و بم کے ساتھ سنائے۔ ایسے ہی ایک بار کہیں ترکیب ”زہرخند“ آگئی۔ سمجھانے لگے تو دیکھا کہ ایک لڑکے کے امتحانی گتّے پر مونا لیزا کی بڑی سی تصویر بنی ہے۔ اُس کے پاس گئے، گتہ لیا اور اُسے سب لڑکوں کے سامنے کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اِس عورت کے منہ پر جو مسکراہٹ ہے اُسے زہرخند کہتے ہیں۔ یہ شاید اپنے شوہر پر ہنس رہی ہے اور اِس کے شوہر کو یہ طنزیہ ہنسی زہر لگتی ہوگی۔ (برا ہو سائنس کی ترقی کا۔ کچھ سال سکون سے گزرتے ہیں کہ مونا لیزا پر کوئی نیا تحقیقی اُشقلہ چھوڑ کر نوجوانوں کے جذبات کا ڈنج گڑنجا کر دیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک محقق نے یہ روح فرسا تحقیق فرمائی ہے کہ مونا لیزا کسی تصوراتی عورت کی تصویر نہیں بلکہ یہ لیونارڈو ڈاونچی کا اپنا پورٹریٹ ہے۔ اُس نے اپنی ڈاڑھی مونچھ مونڈ کر خود کو عورت بنایا ہے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک مرد ہوتا ہے!)

وقت پر کلاس لینا اور وقت پر چھوڑنا ابا جان کی عادت تھی۔ وہ موضوع سے بالکل نہ ہٹتے اور نصاب وقت سے پہلے مکمل کرا دیتے تھے۔ ہر سوال کا شافی جواب دیتے لیکن اِس کی آڑ میں وقت نہ گالتے۔ طلبہ کی علمی استعداد جاننے کی وجہ سے وہ سوال پوچھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے نہ کہ اُنھیں انسانی گوبھیوں کی دھڑیاں سمجھتے۔ میں نے اُنھیں سوال پوچھنے والے کسی لڑکے کو کچا کرتے یا گندہ کرتے نہیں دیکھا جیسا کہ کالج میں بعض چھوٹی سوچ اور بڑی اناؤں والے اساتذہ کا شیوہ تھا۔ وہ سوال ایسے پوچھتے جس میں اکثر جواب چھپا ہوتا تھا، اور جس تک پہنچنے کے لیے ذرا سی ذہنی جمناسٹک کی ضرورت ہوتی تھی۔ وہ سوال کا جواب سادہ ترین مثال دے کر سمجھاتے۔ وہ طلبہ کی اسائنمنٹس دیکھتے ہوئے اُن کے intellectual baby steps پر خوب شاباش دیتے اور حوصلہ بڑھاتے۔ طلبہ کی مضحکہ خیز غلطیوں کو وہ ایسا مزاح کرکے درستی کراتے کہ بچہ شرمندہ نہ ہو۔ علاقائی لہجوں میں اردو بولنے والے طلبہ کو وہ linguicism اور glottophobia کا احساس کسی صورت نہ ہونے دیتے۔ وہ کسی سوال یا عبارت یا شعر کے بارے میں یہ نہیں کہتے تھے کہ ”یہ تو آسان ہے“ کیونکہ اِس سے طلبہ کا اعتماد کم ہو جاتا ہے۔

ابا جان مشکل لفظ کو ایسے سمجھاتے کہ اُس کی گھاڑت (root) کا بھی پتہ لگ جاتا۔ مثلًا ایک دن ”خمیازہ“ کا بتایا کہ یہ ”خام“ سے مشتق ہے جس کا معنی نقص اور اَدھورا پن وغیرہ ہے؛ خام سے خامی بنا، اور خامی سے خامیازہ، جو چلتے چلتے خمیازہ بن گیا۔ چنانچہ ہم جان گئے کہ اِس لفظ میں خ پر پیش نہیں ہے۔ ایک بار بتایا کہ ہاں سے ہامی بنتا ہے اور حمایت سے حامی۔ یوں مجھے ہامی/حامی میں کبھی غلطی نہیں لگی۔ ”کارستانی“ کی اصل ”کارِ شیطانی“ بتائی۔ ”متلاشی“ کے بارے میں بتایا کہ یہ ترکی لفظ ”تلاش“ سے عربی قاعدے پر اردو والوں نے بنایا ہے اِس لیے یہ نہ عربی ڈکشنری میں ملے گا نہ ترک ڈکشنری میں۔ ”رخسانہ“ کے بارے میں بتایا کہ اِس کا ”رخسار“ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ عربی نہیں بلکہ لاطینی الاصل ہے، اور اِس کے لیے رکسونا صابن کی مثال دی۔ ایک دن بتایا کہ ”چالان“ اور ”چِٹ“ انگریزی نہیں بلکہ اردو کے الفاظ ہیں۔ ایک دن ایک شعر میں ”پادان“ کا لفظ آگیا جو عام طور سے ”پائیدان“ لکھا ہوتا ہے۔ بتایا کہ جن لفظوں کے شروع میں ”پائے“ آتا ہے اُنھیں کبھی ہمزہ کے ساتھ اور کبھی ہمزہ کے بغیر لکھ لیتے ہیں جیسے پائزیب (پازیب)، پائے بند (پابند)، پائے مال (پامال)، پائے دَل (پیدل)، وغیرہ۔ بتاتے رہے کہ پابندی کا مطلب ہے پاؤں میں بیڑی ڈال کر کام کرانا، اور پائے دَل کا مطلب ہے پاؤں سے زمین کو دَلنا۔ پائے دَل سے پیدل کیسے بنا، یہ بتاتے ہوئے امالہ (declension) کا مطلب اور مثالیں سمجھائیں۔ نیز بتایا کہ فارسی میں جب فعلِ امر سے پہلے اسم آئے تو اسمِ فاعل کا معنی دیتا ہے جیسے کمربند، نظربند۔ یہ لاحقے سنتے ہی کسی بچے کے منہ سے فوراً نکلا، دیوبند۔ بہت ہنسے۔ ایک دن کسی سبق میں ”تخلیق“ کا لفظ آگیا۔ بہت جوش کے ساتھ سمجھایا کہ فن پارے کو ”تخلیق“ اور ادیب و شاعر کو ”خالق“ کہنا درست نہیں۔ افسوس میں ابھی تک اِس پر عمل نہیں کر پاتا۔ ایک بار بتایا کہ اردو میں محبت م پر پیش کے ساتھ کی جاتی ہے اور عربی میں م کے زبر کے ساتھ۔ اور ہمارے ہاں ”بے گُم“ نہیں ہوتی بلکہ ”بے گَم“ ہوتی ہے، یعنی گوند (gum) کے بغیر ساتھ چپکی رہتی ہے۔ (بیگم ترکی الاصل لفظ ہے، ضمہ سوم)۔ بیگم کے لیے یہ تقطیعی لفظ bay-gum وہ ایسے ادا کرتے تھے کہ سنتے ہوئے اِس کی تصویر بننے لگتی۔ وہی یوسفی صاحب والی بات جو اُنھوں نے نواب اکبر بگتی کے حوالے سے دَبڑ گُھونس مچنے کا لفظ ذکر کرکے لکھی ہے، کہ یہ اِس لائق ہے کہ اِس کا شمار اُن بلیغ onomatopoeia الفاظ میں کیا جائے جن کی صوتی وضع سے یعنی فقط آواز ہی سے سارا مفہوم پھٹا پڑتا ہے۔ ایک دن بتایا کہ فوتیدگی درست لفظ نہیں ہے اور انتقال رضائے الٰہی سے نہیں، قضائے الٰہی سے ہوتا ہے۔ ایک دن ایک لڑکے نے ”عمرو عیار کی کہانیاں“ میں عمرو کو جھرلو کے وزن پر پڑھا۔ ابا جان نے عَمرو بروزن غزل بتا کر درست کرایا۔ ایک دن زید بکر عَمرو کے استعمال پر بتایا کہ ہر موثر زبان میں غیر متعین لوگوں کے لیے ایسے اسمائے مفروضہ (placeholder names) ہوتے ہیں جیسے انگریزی میں ٹام ڈِک ہیری۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے تصدیق کی کہ اردو اور فارسی میں عربی کے اثر سے یہی اسمائے مفروضہ (زید بکر عَمرو) چل رہے ہیں۔ مجھے ابا جان کا لکھوایا ہوا یہ شذرہ نہیں بھولتا کہ مرض ورق غزل الگ تگڈم ہے جس کا وزن غلط ہے یعنی فتح دوم، اور فرض فرق درد مرد نظم نثر وہ چھیکڑی ہے جس کا وزن لفظ ہے یعنی دوم ساکن۔ وزن خود بھی دوم ساکن ہے ہجو اور وحی کی طرح، البتہ وحی بروزن کمی عام طور پر درست ہے۔ اقوامِ متحدہ میں دال پر تشدید بولی تو درستی کرائی کہ یہ لفظ متَّفِقہ کی طرح متَّحِدہ ہے۔ ایک دن بتایا کہ عربی کے بعض الفاظ کا اردو میں تلفظ مختلف ہے اور اردو والوں کے لیے ثانی الذکر ہی درست ہے؛ اِس کی مثال میں لفظ درجہ بتایا جو عربی میں دوم بالفتحہ ہے اور اردو میں بالسکون۔ اِسی طرح بتایا کہ عربی کے بہت سے الفاظ کے معنی اِعراب کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں جیسے وسَط/ وسْط اور ملزِم/ ملزَم۔ وغیرہ۔ ابا جان تلفظ اکثر بلیک بورڈ پر چاک سے لکھ کر دکھاتے، اور اِس کے لیے کبھی لفظ کو توڑ کر لکھتے اور کبھی رومن حروف استعمال کرتے۔ کلاس میں اکثر کوئی ایسا لفظ سامنے آ جاتا جو شاعری میں اور طرح پڑھا جاتا تھا اور بول چال میں اور طرح۔ ابا جان بتاتے کہ اردو صرف شاعروں یا شاعری کی زبان نہیں بلکہ شاعری سے باہر بھی ہے۔ بول چال کی اردو کا معیار الگ ہے اور شاعری کی اردو کا الگ۔ کلاس میں کئی لطیفے ہوتے تھے۔ کچھ لڑکے مسند اور مسند الیہ کو امنگ اور امنگ تنکہ کے وزن پر بول کر اردو کی لٹیا ڈبوتے تھے اور کچھ ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ میں مستند کو مشٹنڈا کے وزن پر۔ ابا جان ایسے لفظوں کا تلفظ درست کرانے کے لیے ہم وزن عام الفاظ یاد کرا دیتے تھے مثلًا مستند کے لیے تم تلک، مسند کے لیے تم تک، وغیرہ۔ ہمارے سکول کالج کے زمانے میں بال پوائنٹ پنسلیں عام نہیں ہوئی تھیں اور پین میں دوات سے روشنائی بھری جاتی تھی۔ روشنائی کو لڑکے سیاہی کہتے تھے۔ چنانچہ ”سرخ رنگ کی سیاہی“ اور ”سبز رنگ کی سیاہی“ تک عام سننے میں آتا تھا۔ یہ غلط العام اور غلط العوام ابا جان اکثر درست کراتے تھے۔ پچھلے دنوں ایک فیسبک پوسٹ پر کسی نے سیاپا، میسنا، گھنّا، رپھّڑ، رپھّڑی، پھڈّا، رولا، اِٹ کھڑکا، کھڑاک، پنگا، وختا، پیچا، پسوڑی، وغیرہ، جیسے لفظوں کے انگریزی متبادل پوچھے۔ یاد آیا کہ ابا جان نے کلاس میں بتایا تھا کہ پسوڑی اصل میں پھنسنا سے پھنسوڑی ہے جو مرورِ زمانہ سے پسوڑی بن گیا ہے۔ پرکاش ٹنڈن نے Punjabi Saga میں سیاپا سمیت ایسے کئی الفاظ کا تہذیبی پس منظر اور اِن سے جڑی حقیقت کا بتایا ہے۔ البتہ چونکہ زبان میں ہر سطح پر بلاغت کا اظہار مختلف الفاظ سے ہوتا ہے اِس لیے ایک زبان کے خطابیہ الفاظ کا دوسری زبان میں متبادل کم ہی ہوتا ہے۔ اِن لفظوں کے متبادل تو اردو میں بھی نہیں ہیں۔ کوئی بچہ انگریزی کا ایسا لفظ بولتا جس میں apostrophae ہوتی تو فوراً بتاتے کہ ایڈوانسڈ لرنرٗز، ریڈرٗز ڈائجسٹ اور راجٹٗس تھیسارس میں، اور ہِز ماسٹرٗز وائس، میکڈونلڈٗز اور لارڈٗز کرکٹ گراؤنڈ میں، اور اِسی طرح پیپلٗز ریپبلک آف چائنا اور پاکستان پیپلٗز پارٹی میں، ایپوسٹرافی (علامتِ ملکیت) لگتی ہے۔ یہ ضرور سمجھاتے کہ Platts، Chambers، Stiengass اور Collins وغیرہ جیسے لفظوں میں جن میں s نام کا حصہ ہے، اِن کو Platts’s، Chambers’s، Stiengass’sاور Collins’s لکھنا چاہیے۔ (یہاں اردو میں لگائی گئی ایپوسٹرافیاں ایجادِ بندہ ہیں اور بعض الفاظ بھی وضاحت کے لیے خود لکھے ہیں۔) ایک دن ایک لڑکے نے عبدالواحد، عبدالخالق اور عبدالحق جیسے ناموں کو لفظ عبد کے بغیر پکارنے کے بارے میں پوچھا تو ارشاد ہوا کہ خدا کا اسمِ ذات اللہ ہے(9) اور باقی سب نام صفاتی ہیں؛ عبد صرف اسمِ ذات کے ساتھ لگانا ضروری ہے۔ ایک روز بتایا کہ ٹوپی اگر کپڑے کی ہو تو اُسے اوڑھا جاتا ہے لیکن جناح کیپ، تربوش (ترک ٹوپی)، گریجویشن کیپ یا ہیٹ وغیرہ کو پہنا جاتا ہے۔ کئی بار بتایا کہ لفظ میں سے اُس کا مادّہ کیسے نکالا جاتا ہے اور تعلیقیے (affixes) کیسے الگ کیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف اردو کے لیے نہ تھا بلکہ انگریزی کے الفاظ بھی پوچھے جاتے۔ ایک بار ”unbecoming-like officer“ کی تفصیل بتائی جو میرے کئی ہم جماعتوں کو آج بھی یاد ہے۔ ایک دن قائدِاعظم کے بارے میں یہ بتاتے ہوئے کہ انگریزی مزاح پر اُن کی دسترس انگریزوں سے بھی زیادہ تھی، اُن کے کچھ واقعات اور لطیفے سنائے۔ چھوٹے شہروں کے سرکاری سکولوں میں پڑھے اردو میڈیم والے بچے انگریزوں کی انگریزی یوں احترام سے سنتے جیسے وحی اتر رہی ہو تو ایسے مواقع پر وہ انگریزوں کی خوب تمبی اتارتے۔ نچلے طول بلد والے علاقے کی باشندہ ہماری عوام میں انگریز کو کچھ زیادہ ہی بلند سمجھنے کا مرض عام ہے۔ الفریڈ نارتھ وھائٹ ہیڈ کا جملہ سنایا کرتے کہ سارا مغربی فلسفہ افلاطون کے محض فٹ نوٹس ہیں۔ کہتے تھے کہ انگریز کی دی ہوئی تعلیم و ہنر ”مفت ظہرانہ“ نہیں ہے بلکہ اُس نے اِس کی قیمت لی ہے۔ چرچل اور برنارڈ شاء کے لطیفے سناتے۔ نٹورے فٹورے مٹورے والا لطیفہ، پروفیسر صوفی ضیاءالحق کے والد مولانا اصغر علی روحی کا گول گپے بیچنے والے سے پوچھنا کہ میاں عدَداً بیچتے ہو یا وزْنًا؟، مولانا غلام قادر گرامی کا تانگہ گرم ہوگیا ہے، بندہ ہے کہ نائی ہے؟ وغیرہ بھی سناتے۔ ایک دن کلاس میں عشق و محبت والی شاعری کو عشقِ حقیقی والا لبادہ اوڑھا رہے تھے کہ لڑکے سر ہوگئے کہ یہ فاؤل ہے۔ اُنھوں نے موضوع کو شادی کی طرف موڑا اور نطشے کی بات بتائی کہ عظیم لوگوں کو کیوں شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اِسی طرح ایک دن کلاس میں مشہور انگریز شاعر مسٹر Anonymous کا چُہچہاتا تعارف کرایا اور آنجناب کی شاعری کے بعض نمونے لکھوائے۔ آج تک یاد ہے کہ جنابِ Anonymous انگریزی والوں کے شیخ باقر علی چرکینؔ ہوتے ہیں۔ سر سید نے حکومت کی دو اقسام بتائی ہیں: حکومتِ شخصیہ اور حکومتِ نوعیہ۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ہمارا چرکین شاعرِ شخصی ہے اور انگریزوں کا Anonymous شاعرِ نوعی! ایک بار کسی سبق میں ترکیب ”کثیر الاولاد“ آگئی تو یوسفی صاحب قبلہ کا جملہ ارشاد ہوا کہ جس طرح ہمارے ہاں لوگ کثیر الاولاد ہوتے ہیں ویسے ہی برطانیہ میں لوگ کثیر الولدیت ہوتے ہیں۔ اُن کے آنے پر کلاس جو پہلے محشرستانِ ہاؤہو ہوتی، بالکل خاموش ہوجاتی۔ لیکن یہ خاموشی اُن کے احترام کی وجہ سے ہوتی۔ زمانہ بھی ایسا تھا کہ اساتذہ کو دیکھتے ہی طلبہ فالن ہوجاتے تھے۔ وہ ایک inspiring استاد تھے۔ جن لڑکوں کا کوئی پیریڈ خالی ہوتا وہ اُن کی کلاس میں آ کر بیٹھ جاتے۔ اُن کے لیاقت دار طلبہ اُن کا تعارف ہیں جن کی علمیت کا وقار قائم ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد نے بتایا کہ پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں اُنھوں نے شعر کی تقطیع سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا تو ماہرِ مضمون نے کہا کہ ”آپ شاید عابد صدیق صاحب کے شاگرد ہیں۔“

ابا جان پڑھائی کے بارے میں طلبہ سے کہتے تھے کہ پوزیشن کی نہیں بلکہ پرسنٹیج کی فکر کیا کرو۔ پوزیشن آنے کے بعد یا تو بڑھوتری کو ڈکّا لگ جاتا ہے یا پھر اگلی ایک دو سیڑھیاں چڑھنے کی فکر لگ جاتی ہے، جب کہ پرسنٹیج میں بہتری لانا ایک مستقل محنت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پوزیشن لینے میں دوسروں کو نیچا دکھانا بھی چھپا ہوتا ہے جب کہ پرسنٹیج میں اپنی کیفیت میں بہتری لانا منتہائے نظر بن جاتا ہے، جو مثبت فکر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بہتر پرسنٹیج بہتر پوزیشن بھی دلاتی ہے۔ اُن کی اِس بات نے مجھ میں کمی کو اپنے اندر دیکھنے کا داعیہ پیدا کیا۔

ہمارے کالج کے زمانے کے بالکل آخری دنوں میں طلبہ یونینیں بحال ہوئیں۔ ایک اسلام پسند طلبہ جماعت نے اپنے لیٹر پیڈ پر درودِ پاک کو واٹرمارک کرا رکھا تھا۔ ابا جان نے دیکھا تو طبیعت سخت مکدر ہوئی۔ اُن کے بڑوں کو بلایا اور سمجھایا کہ یہ سخت بے ادبی ہے کیونکہ اِس کاغذ پر جو بھی لکھا جاتا ہے وہ درودِ پاک کے اوپر لکھا جاتا ہے اور ٹائپ رائٹر کے حروف درودِ پاک پر ٹھک ٹھک لگتے ہیں۔ یہ بات کچھ ایسی دل سوزی سے کہی کہ اُنھوں نے قبول کرلی درحالیکہ اُن جیسے تڑیل اور بدلحاظ لڑکے کم ہی نظر آتے تھے۔

ابا جان کی وفات سے چار دن پہلے میں آخری بار اُن کے ساتھ کالج گیا تو لائبریری میں چائے پر بیٹھے پروفیسروں میں ”جد و جہد“ کا تلفظ زیرِ بحث تھا۔ ہمارے پہنچنے پر سب نے سکھ کا سانس لیا۔ ابا جان کے اِس بحث کو ہاتھ میں لینے کے بعد ”جِد و جُہد“ پر سب کا اتفاق ہوگیا۔