لسانيات
مَنّت اور مِنّت
عمار خان ناصر
مَنّت اور مِنّت، دونوں اردو میں مستعمل ہیں لیکن ماخذ اور مفہوم الگ الگ ہیں۔ مَنّت کے متعلق قرین قیاس یہ ہے کہ یہ "ماننے" سے اسمِ مصدر بنایا گیا ہے، یعنی جو چیز مانی گئی ہو۔ لیکن اس کا استعمال خاص طور پر نیکی کا کوئی کام "ماننے" یعنی خود پر لازم کرنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ اس کے لیے اسلامی اصطلاح "نذر" ہے، لیکن اردو میں اس مفہوم سے منتقل ہو کر قربان کر دینے کے معنی میں رائج ہو چکی ہے۔ جان نذر کرنا یعنی قربان کر دینا۔ نیکی کا کام لازم کرنے کے معنی میں اردو میں "مَنّت ماننا" مروج ہے۔
مِنّت عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب احسان کرنا ہے۔ ممنون اسی مادے سے ہے۔ میں آپ کا ممنون یعنی زیرِ احسان ہوں۔ فارسی میں بھی یہ اسی معنی میں آتا ہے۔ سعدی کا مشہور شعر ہے--مِنّت منِہ کہ خدمتِ سلطاں ہمی کنی -مِنّت ازو شناس کہ خدمت بداشتت
(یعنی بادشاہ کی خدمت کرتے ہو تو اس پر احسان نہ رکھو، بلکہ اس کا احسان مانو کہ تمھیں خدمت کا موقع دیا)۔
البتہ اردو میں مِنّت کا مفرد لفظ احسان کے معنی میں عموماً مستعمل نہیں۔ اس مفہوم میں یہ مرہونِ مِنّت یا مِنّت کش جیسی فارسی ترکیبات میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ مرہونِ مِنّت یعنی کسی کے احسان یا کاوش کا نتیجہ۔ مِنّت کش یعنی کسی کا احسان لینے والا۔
اردو میں مِنّت مفرد بولا جاتا ہے تو یہ التجا کرنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ کسی کی مِنّت کرنا، یعنی عاجزی سے درخواست کرنا۔ یہ اسی پہلے مفہوم سے انتقالاً پیدا ہونے والا مفہوم ہے۔ التجا کرنا دراصل کسی کا احسان مانگنے کا ہی عمل ہوتا ہے، گویا اس سے کہا جا رہا ہے کہ ہم پر "مِنّت" کرو۔