فكر ونظر
فكر اسلامی
رعايت اللہ فاروقی
ہمارے نوجوان بچے ایک چھوٹی سی بات سمجھ لیں !"فکر اسلامی"نام کی کوئی شئی وجود نہیں رکھتی، یہ اصطلاح پوری طرح غلط ہے-ہم عرض کرتے ہیں کہ کیسے !جب ہم کسی چیز کو اسلامی کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ چیز 100 فیصد اسلامی ہے-اور اسلام ایک مذہب ہے جس کی تکمیل حجۃ الوداع والے روز ہوچکی-اب اس میں سے نہ کچھ نکل سکتا ہے، اور نہ ہی داخل ہوسکتا ہے-لیکن اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے بندے کو اپنے ہی آڈرز میں باندھ کر نہیں رکھا، بلکہ بیشتر امور میں اسے یہ کھلا موقع دے رکھا ہے کہ تم اپنی عقل سے بھی اپنے لئے ضابطے اور افکار تشکیل دو، مگر ایک شرط کا خیال رکھنا-"تمہارا بنایا ضابطہ میرے کسی آڈر سے متصادم نہیں ہونا چاہئے !"
اسے دو مثالوں سے سمجھئے !خود اللہ کے رسول ﷺ ریاست مدینہ قائم فرما چکے تھے لہذا یہ تو طے ہوگیا کہ یہ مذہب سیاسی نظام کی گنجائش بھی رکھتا ہے-مگر جب اللہ کے رسول ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے اور اب معاشرے کے افراد میں سے ہی کسی کو اقتدار سنبھالنا تھا تو یہاں نہ اللہ سبحانہ و تعالی نے خلفاء کی کوئی لسٹ دے رکھی تھی اور نہ ہی اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بتایا تھا کہ میرے بعد کون اختیار سنبھالے گا-مطلب کیا ہوا اس کا ؟صرف اور صرف یہ کہ حکمران کا انتخاب اسلام نے افراد کی مرضی پر چھوڑ دیا تھا-اس باب میں اتنی چھوٹ دی کہ کوئی طریقہ کار تک پیش نہیں کیا، صرف ایک اصول دے رکھا تھا-"معاملات باہمی مشاورت سے ہوں گے"چنانچہ صحابہ نے عین اس اصول کو پکڑا، اور چار خلفاء کا اپنے اپنے وقت پر انتخاب کرلیا-یہ اسلام کی جانب سے دی گئی اس "آزادی" کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر خلیفہ راشد کا طریقہ انتخاب مختلف ہے لیکن اللہ کا دیا ہوا اصول "مشاورت" چاروں میں موجود ہے-"تمہارا بنایا ضابطہ میرے کسی آڈر سے متصادم نہیں ہونا چاہئے !"کی دوسری مثال اسلامی سزائیں ہیں جو پانچ سے سات ہیں
باقی پورا فوجداری و دیوانی مقدمات اور ان کی سزاؤں کا نطام مسلم ماہرین قانون اور ان کی مشاورت پر چھوڑ دیا گیا-اور یہ آزادی اتنی وسیع ہے کہ جج اپنی مرضی سے بھی سزا کا تعین کرسکتا ہے-چنانچہ ہمیں فقہ کی کتب میں یہ جملہ بکثرت سننے کو ملتا ہے -"فلاں سزا دیدی جائے یا فلاں، اور یا پھر جج اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرلے"
اسلام کی دی ہوئی اسی آزادی کے نتیجے میں وہ شاندار چیز بھی وجود میں آتی ہے-جسے نوجوانوں کی جانب سے "فکر اسلامی" کا غلط نام دیدیا جاتا ہے-
اسلام ایک مذہب ہے، اس کے ماخذ دو ہی ہیں، ایک قرآن دوسرا سنت، اور ہم عرض کرچکے کہ اس پر مہر لگ چکی نہ کچھ داخل ہوسکتا ہے نہ ہی خارج-لہذا فکر اسلامی کوئی شئی نہیں، اصل اصطلاح ہے-"مسلم فکر"
فرق کا اندازہ آپ کو بننے کے عمل سے ہوجائے گا، چنانچہ سوال آجاتا ہے کہ مسلم فکر کس طرح تشکیل پائی یا کس طرح تشکیل پاتی ہے ؟
اس کے چار کلیدی اجزائے ترکیبی ہیں-٭ اسلامی تعلیمات-٭ علم-٭ قوم کا کلچر اور رواجی ماحول-٭ قوم کا جغرافیہ
چنانچہ ہمیں اس طرح کی اصطلاحات بھی بالکل بجا نظر آتی ہیں-
٭ امام غزالی کی فکر٭ شاہ ولی اللہ کی فکر٭ علامہ اقبال کی فکر
امید ہے آپ نے نوٹ کر لیا ہوگا کہ ان تینوں میں سے کوئی بھی نبی نہیں-لہذا ان کا کہا غلط اور درست دونوں کا احتمال رکھتا ہے-چنانچہ جس طرح ان حضرات کی فکر کے بہت سے پہلوؤں کی توصیف ہوتی ہےبالکل اسی طرح ان کی فکر کے کسی پہلو پر تنقید بھی ہوسکتی ہے
اپنے ایمان سے بتایئے کوئی چیز واقعتاً اسلامی ہو یعنی قرآن و سنت کا جزو ہو تو تنقید ہوسکتی ہے ؟سب سے اہم یہ کہ "فکر" دماغی سرگرمی ہے، اور دماغ مذہب کا نہیں افراد کا ہوتا ہے، سو اسلامی نہیں-"مسلم فکر"یعنی مسلم افراد کی تشکیل دی ہوئی فکر-
اب ایک مزے کی بات اور سمجھ لیجئے !یہ ضروری نہیں کہ مسلم فکر ہر جگہ ایک ہی ہو
اسلام ہر جگہ ایک ہی رہے گا-مگر مسلم فکر جغرافیے کے ساتھ تبدیل ہوتی نظر آئے گی
یعنی حسن البناء کی فکر پاکستان میں اور مولانا مودودی کی فکر مصر میں کارآمد نہیں ہوسکتی
اقبال کو ہمارے علاوہ صرف ایرانی کیوں پسند کرتے ہیں ؟کیونکہ پڑوس اور زبان کا اثر ہے
لیکن یہی اقبال عالم عرب یا مشرق بعید کے مسلمانوں کے لئے اجنبی ہیں-اب آپ بجا طور پر سوال اٹھا سکتے ہیں کہ پھر حسن البناء ہمارے ہاں اور مولانا مودودی مصر میں اجنبی کیوں نہیں ؟وجہ بہت سمپل ہے-اقبال نے کوئی جماعت اور چندہ سکیم لانچ نہیں کی تھی
ان کی ذات ہی ان کی انجمن تھی !