مسلمان اور فكر كے بند كواڑ

مصنف : شاہد رشيد

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : اكتوبر 2026

 

فكر ونظر

مسلمان اور فكر كے بند كواڑ

شاہد رشيد

اکثر انسانوں کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے فکر کے سارے کواڑ بند کر لیتے ہیں، حالانکہ ان کا دماغ ابھی حیاتیاتی لحاظ سے توانا ہوتا ہے، لیکن ذہن منجمد ہو جاتا ہے اور آدمی اپنے ہی بنائے ہوئے ایک چھوٹے سے دائرے میں مقید ہو جاتا ہے۔افراد کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے اور قوموں کے ساتھ بھی۔ قوموں میں انتہا پسندی کی روش کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ میں بند ہو جاتی ہیں، باہر کی دنیا سے خوف کھانے لگتی ہیں اور اپنے تصورات کو سوال سے بالاتر سمجھنے لگتی ہیں۔اس کا ایک علاج سیاحت بھی ہو سکتا ہے۔لیکن ہر سفر انسان کو کشادگی نہیں دیتا۔ سفر اسی وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب آدمی ماحول اور لوگوں سے صحت مند تعلق قائم کرنے، اور راستے میں ملنے والی نشانیوں پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ورنہ آدمی ایک بر اعظم سے دوسرے بر اعظم تک بھی چلا جاتا ہے مگر اپنے ذہنی مفروضات کی سرحد کو چُھو تک نہیں پاتا۔

سفر میں انسان کو چونکنے کے بہت سے مواقع ملتے ہیں۔ کسی اجنبی کا ایک رویہ اسے اپنے کسی پختہ خیال پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ کسی قدیم عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر اسے احساس ہو سکتا ہے کہ تاریخ اس کی نصابی کتابوں سے زیادہ وسیع ہے۔

نئی زبان سیکھنا بھی ایک سفر ہے۔لفظ سے معنی کی طرف اور معنی سے ایک پوری تہذیبی دنیا کی طرف سفر۔ اور اگر کوئی شخص کسی زبان کو سیکھنے کے لیے کسی خطے کا سفر بھی کرے، وہاں کے لوگوں سے ملے، ان کے گھروں میں بیٹھے، ان کے ادب کو پڑھے، ان کے مذہبی اور فلسفیانہ تصورات کو سمجھے، تو پھر یہ صرف زبان کا سفر نہیں رہتا۔یہ سفر در سفر بن جاتا ہے۔اور جب اس سفر کے دوران مختلف انسانوں، مختلف نقطۂ ہائے نظر اور مختلف تہذیبی تجربات سے واسطہ پڑتا ہے اور انہی کے ذریعے آدمی اپنے اندر جھانکنے کا کوئی نیا دروازہ دریافت کر لیتا ہے، تو یہ سفر در سفر در سفر ہے۔

مسلمان آج دنیا کے تقریباً ہر خطے میں موجود ہیں۔ مساجد ہیں، حلال کھانے کی دکانیں ہیں، اپنی مذہبی تقریبات ہیں، اپنی کمیونٹیز ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری بھی ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ بعض مسلم کمیونٹیز جہاں برسوں سے آباد ہیں، وہاں کے معاشرے سے ان کا تعلق محض معاشی نوعیت کا رہ جاتا ہے۔ وہ وہاں کام کرتے ہیں، کماتے ہیں، اپنے بچوں کو پالتے ہیں، مگر اس معاشرے کی زبان، ادب، تاریخ، فلسفے اور فکری زندگی سے کوئی گہرا رشتہ قائم نہیں کر پاتے۔وہ بیک وقت اس معاشرے سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور اس کے فراہم کردہ معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔یہ ایک عجیب صورتِ حال ہے۔میرا خیال ہے کہ اس طرح آدمی جس جگہ رہتا ہے، وہاں کے معاشرے میں کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کر پاتا۔ وہ ایک بند کمیونٹی میں زندگی گزارتا رہتا ہے۔ وہ میزبان معاشرے کو پوری طرح سمجھ پاتا ہے، نہ اپنے تہذیبی تناظر کو اس معاشرے کے سامنے رکھ پاتا ہے۔

جنک پور میں ایک واقعے نے مجھے اس بارے میں بہت سوچنے پر مجبور کیا۔جنک پور، سیتا اور رامائن کی روایت سے گہرا تعلق رکھنے والا شہر ہے۔ یہاں مشہور جانکی مندر کے عین قریب مسجد حنفیہ بھی ہے۔ 14 اگست 2026ء کو مجھے وہاں جمعہ کی نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔ لیکن مسجد میں جمعہ کی تقریر کا موضوع تھا نور اور بشر کا مسئلہ۔میں اور بھی مساجد میں گیا، مسلمانوں سے ملا لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے اکثر اپنے اردگرد زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ کسی دوسرے معاشرے کے درمیان رہ کر اس سے لاتعلق رہنا صرف دوسروں کی محرومی نہیں، اپنی بھی محرومی ہے۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب کی آفاقی اقدار پر مبنی زندگی اور مذہبی شناخت پر مبنی نظریات میں فرق سامنے آتا ہے۔ اسلام بنی آدم کو حقیقت کی تلاش، معرفت، اخلاق اور محبت کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان زیادہ گہرائی سے دوسری تہذیبوں کا مطالعہ کریں۔ لیکن اکثر ہمارے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اپنے فکر کے سارے کواڑ بند کر لیتے ہیں۔۔۔