برتری اور کمتری کی نفسیات: مفاد پرستی اور خوشامد کا بڑھتا ہوا کلچر

مصنف : شاہ خان

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : اكتوبر 2026

فكر ونظر

برتری اور کمتری کی نفسیات: مفاد پرستی اور خوشامد کا بڑھتا ہوا کلچر

شاہ خان

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب اور افسوس ناک رویہ تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہم انسانوں کو انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کے عہدے، اختیار، دولت، تعلقات اور سماجی مرتبے کے اعتبار سے اہمیت دینے لگے ہیں۔ جس شخص کے پاس اختیار ہو، اس کے گرد خوشامدیوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے؛ جس کے ہاتھ میں کوئی منصب یا اثر و رسوخ ہو، اس کی معمولی سی توجہ بھی لوگوں کے لیے بڑی کامیابی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف، جو شخص کمزور ہو، کسی نچلے عہدے پر ہو یا ہمارے کسی کام کا نہ ہو، اس کی بات سننا، اسے جواب دینا یا اس کے ساتھ احترام سے پیش آنا بھی بعض لوگوں کو گراں گزرتا ہے۔یہ محض بدتمیزی یا آداب کی کمی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک گہری نفسیاتی کمزوری اور سماجی بیماری کارفرما ہے۔

انسان نہیں، اس کی سماجی حیثیت اہم ہو گئی ہے۔اس ذہنیت کا سب سے نمایاں مظہر یہ ہے کہ ایک ہی شخص مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرتا ہے۔ کسی بڑے افسر یا صاحبِ اختیار شخص کے سامنے لہجہ بدل جاتا ہے، چہرے پر غیر معمولی مسکراہٹ آ جاتی ہے، اس کی معمولی بات کو بھی غیر معمولی دانش مندی سمجھا جاتا ہے اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری کوششیں کی جاتی ہیں۔لیکن یہی شخص اپنے ماتحت، ملازم، چھوٹے افسر، کم حیثیت والے رشتہ دار یا عام آدمی کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آتا ہے۔ اس کی کال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، اس کے پیغام کو نظر انداز کرنا معمول کی بات سمجھتا ہے اور اس کی رائے سننے میں بھی کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:اگر ہم خود کمزور یا کم حیثیت سمجھے جانے والے لوگوں کو وہ عزت نہیں دیتے جس کے ہم خود کو مستحق سمجھتے ہیں، تو پھر بڑے لوگوں سے عزت اور توجہ کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟جو شخص خود دوسروں کو ان کی حیثیت کے مطابق عزت دیتا ہے، اسے یہ شکایت کرنے کا اخلاقی جواز کم رہ جاتا ہے کہ کوئی اس کی حیثیت کے مطابق اسے اہمیت نہیں دے رہا۔چاپلوسی اور خوشامد دراصل طاقت کی پرستش ہے۔یہ بظاہر خوش اخلاقی معلوم ہوتی ہے، لیکن جب اس کا مقصد کسی بااثر شخص سے فائدہ حاصل کرنا ہو تو یہ خوش اخلاقی نہیں رہتی بلکہ مفاد پرستی بن جاتی ہے۔

چاپلوس اور خوشامد کرنے والا شخص عموماً اصول کی بنیاد پر تعلق قائم نہیں کرتا؛ وہ دیکھتا ہے کہ سامنے والا اس کے لیے کتنا مفید ہے۔ طاقتور شخص کی خامی بھی اسے خوبی دکھائی دیتی ہے اور کمزور شخص کی خوبی بھی اسے نظر نہیں آتی۔اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اصولوں کے بجائے مفادات کا غلام بن جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون درست ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کون طاقتور ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کس بات میں حق ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کس موقف سے اسے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس مسئلے کی جڑ میں اکثر دو متضاد مگر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نفسیات- کمتری اور برتری کے احساسات- موجود ہوتی ہیں۔

احساسِ کمتری میں مبتلا شخص طاقتور لوگوں سے غیر ضروری مرعوب ہوتا ہے۔ وہ ان کے قریب ہونے کو اپنی قدر و منزلت میں اضافے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ کسی بڑے آدمی کا فون آ جانا، ملاقات ہو جانا یا ایک پیغام کا جواب مل جانا اس کے لیے غیر معمولی اعزاز بن جاتا ہے۔اس کے برعکس، جب اسے اپنے سے کم حیثیت شخص ملتا ہے تو وہ اپنی مصنوعی برتری کا اظہار کرتا ہے۔ گویا اپنی کمتری کے احساس کا علاج وہ کسی دوسرے کو کمتر سمجھ کر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یوں جو شخص اوپر والوں کے سامنے جھکتا ہے، وہ اکثر نیچے والوں کو جھکا کر اپنے آپ کو بڑا محسوس کرنا چاہتا ہے۔

یہ ایک خطرناک نفسیاتی چکر ہے۔عہدہ اور اختیارات انسان کی قدر کا پیمانہ نہیں۔ایک مہذب معاشرے کی بنیادی علامت یہ ہے کہ وہاں انسان کی عزت اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ہوتی ہے۔عہدہ عارضی ہے۔ آج کوئی افسر ہے، کل نہیں ہوگا۔ آج کسی کے پاس اختیار ہے، کل وہ اختیار کسی اور کے پاس ہوگا۔ آج کسی کا فون اہم سمجھا جاتا ہے، کل شاید وہی فون کسی کے لیے غیر اہم ہو جائے۔لیکن انسان کا اصل کردار، اس کی شرافت، دیانت، حسنِ سلوک اور دوسروں کے ساتھ اس کا برتاؤ اس کے عہدے سے کہیں زیادہ دیرپا چیزیں ہیں۔اسی لیے کسی انسان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ بڑے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے؛ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے جن سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں۔۔

معاشرے پر اس رویے کے اثرات:

جب کسی معاشرے میں عہدہ، دولت اور اختیار انسانی قدر کا بنیادی پیمانہ بن جائیں تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔اولاً، میرٹ کمزور ہوتا ہے۔لوگ قابلیت کے بجائے تعلقات تلاش کرتے ہیں۔ محنت کے بجائے سفارش، کارکردگی کے بجائے خوشامد اور اصول کے بجائے قربت اہم ہو جاتی ہے۔

دوم، ادارے کمزور ہوتے ہیں۔جب ماتحت اپنے افسر کو حقیقت بتانے کے بجائے وہ بات بتانے لگے جو افسر سننا چاہتا ہے، تو فیصلہ سازی کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔ خوشامدی ماحول میں غلطیاں چھپائی جاتی ہیں اور سچ بولنے والے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔

تیسرے، معاشرے میں اعتماد ختم ہوتا ہے۔لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ تعلقات اصولوں سے زیادہ اہم ہیں اور ہر شخص اپنے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

جوتھے، انسانی وقار مجروح ہوتا ہے۔جس شخص کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس لیے اہم نہیں کہ اس کے پاس اختیار یا دولت نہیں، اس کے اندر احساسِ محرومی اور بے قدری پیدا ہوتا ہے۔

پانچواں ، خوشامد ایک خودکار نظام بن جاتی ہے۔طاقتور لوگ خوشامدیوں کے عادی ہو جاتے ہیں اور خوشامدی لوگ طاقتور لوگوں کے محتاج۔ یوں دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں صاف گوئی، خودداری اور اصول پسندی مشکل ہوتی جاتی ہے۔

طاقتور آدمی کا بھی نقصان

بظاہر چاپلوسی کا سب سے زیادہ فائدہ طاقتور شخص کو ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بھی اس کا نقصان اٹھاتا ہے۔جو شخص ہر وقت تعریف سننے کا عادی ہو جائے، اسے اپنے بارے میں حقیقی رائے ملنا بند ہو جاتی ہے۔ اس کے اردگرد ایسے لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ہر فیصلے کی توثیق کرتے ہیں۔نتیجتاً طاقتور شخص اپنے بارے میں ایک مصنوعی تصور میں رہنے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں یا اس کے عہدے کی وجہ سے اس کے سامنے جھکتے ہیں۔

چاپلوسی کسی شخص کو مضبوط نہیں کرتی؛ وہ اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔

ہمیں ایک لمحے کے لیے آئینہ دیکھنا چاہیے-ہم سب کو کبھی کبھی اپنے رویے کا محاسبہ کرنا چاہیے۔کیا ہمارا لہجہ اس شخص کے عہدے کے ساتھ بدل جاتا ہے؟کیا ہم کسی بڑے آدمی کی ایک کال یا پیغام کا انتظار بے چینی سے کرتے ہیں لیکن اپنے سے کم حیثیت شخص کے پیغام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے؟کیا ہم طاقتور شخص کی معمولی توجہ کو اعزاز اور عام آدمی کی خلوص بھری توجہ کو معمولی سمجھتے ہیں؟کیا ہم لوگوں کو اس لیے اہمیت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے اہم ہیں، یا اس لیے کہ وہ ہمارے لیے مفید ہیں؟

اور سب سے اہم سوال:اگر کسی شخص کے پاس ہمارے لیے کوئی اختیار، دولت یا سفارش نہ ہو تو کیا ہم پھر بھی اسے وہی عزت دیں گے؟اگر جواب ہاں ہے تو ہمارے اندر انسانی برابری کا احساس ابھی زندہ ہے۔ اگر جواب نہیں ہے تو شاید ہمیں دوسروں سے شکایت کرنے سے پہلے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔

اصل عظمت کیا ہے؟

اصل عظمت بڑے لوگوں کے قریب بیٹھنے میں نہیں، بلکہ اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ بھی عزت سے پیش آنے میں ہے۔اصل شرافت یہ نہیں کہ ہم طاقتور کے سامنے مؤدب ہوں؛ اصل شرافت یہ ہے کہ ہم اس وقت بھی مؤدب رہیں جب سامنے والا ہمیں کچھ دے نہیں سکتا۔اصل کردار یہ نہیں کہ ہم بڑے آدمی کی کال کا جواب فوراً دیں؛ اصل کردار یہ ہے کہ ہم اس شخص کی کال بھی نظر انداز نہ کریں جس کی ہمارے معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں سمجھی جاتی۔اور اصل خودداری یہ نہیں کہ ہم کسی بڑے شخص کی توجہ حاصل کر لیں؛ اصل خودداری یہ ہے کہ ہم اپنی قدر کا تعین کسی دوسرے شخص کے عہدے، منظوری یا توجہ سے نہ کریں۔

اختتامیہ

معاشرے کی اخلاقی صحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کمزور انسان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر عزت صرف صاحبِ اختیار کے لیے ہو، تو وہ عزت نہیں بلکہ طاقت کا خوف ہے۔ اگر اچھا برتاؤ صرف مفید لوگوں کے لیے ہو، تو وہ اخلاق نہیں بلکہ مفاد ہے۔ اور اگر تعلق صرف اس شخص سے رکھا جائے جس سے فائدہ متوقع ہو، تو وہ تعلق نہیں بلکہ لین دین ہے۔

ہمیں اپنے معاشرے میں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ "بڑا آدمی کون ہے؟"

بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس بڑا عہدہ ہو۔بڑا آدمی وہ ہے جو اپنے سے کمزور انسان کو بھی عزت دے، اختلاف رکھنے والے کی بات بھی سنے، ماتحت کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھے، اور کسی انسان کو محض اس لیے حقیر نہ سمجھے کہ وہ اس کے کسی کام کا نہیں۔

کیونکہ بالآخر عہدے ختم ہو جاتے ہیں اور اختیار بدل جاتا ہے۔۔۔۔