علم و دانش
دینی مجالس اور صوتی دہشت گردی
حافظ غلام علی اعوان
کچھ عرصہ قبل جب یہ خاکسار لاہور کی معروف اور معتبر ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ بطور خطیب وابستہ تھا، ادارے کے زیر انتظام تیس ،پینتیس مساجد تھیں،تمام خطباء، خطبہ جمعۃ المبارک کی تیاری کےلئے ہفتہ میں دو بار اکٹھے ہوتے تھے، ایک دن تحریری خطبہ لفظ بلفظ پڑھا جاتا تھا اور اس کے مالہ وما علیہا پر بحث ہوتی تھی، بہتری کےلئے تجاویز دی جاتی تھیں، ایک دن باقاعدہ تقریر کےلئے مختص تھا، کوئی ایک خطیب تقریر کرتا، بعدازاں دوسرے خطباء اس کی تقریر پر نقد و تبصرہ کرتے۔ ایک دن ہمارے ایک خطیب دوست جن کی آواز بھی کافی بلند آہنگ تھی اور وہ بولتے بھی،ایڑیوں تک زور لگا کے تھے اورستم بالائے ستم، لاؤڈ سپیکر بھی سامنے تھا، کی تقریر تھی ۔تبصرے شروع ہوئے، تو ہمارے ایک دوست علامہ محمد اسماعیل تابش نے تقریر پر، ان الفاظ میں ،اپنے تبصرہ کا آغاز کیا کہ ابھی آپ کے سامنے "صوتی دہش-ت گردی" کا مظاہرہ ہورہا تھا۔ جس پہ یار لوگوں نے بڑا حظ اٹھایا۔
چند سال قبل ہمارے ایک محترم نے بڑی محبت اور اہتمام کے ساتھ پیکجز مال کے نزدیک مارویل ہوٹل میں محفل میلاد کا اہتمام کیا ہم بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں موجود تھے، تقریب کے مرکزی مہمان ، ٹی وی کے دینی پروگرامز کے ایک معروف اینکر جو شاعر بھی ہیں ، ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا کے نعتیہ کلام پڑھ رہے تھے،ہم احباب کو بھی سٹیج پہ جلوہ گر ہونے کی پرزور دعوت دی جاتی رہی، ہمارے ایک دوست تو سٹیج پہ تشریف لے گئے مگر ہم دو دوستوں نے ہال کی ایک ایسی ٹیبل پہ پناہ لی، جہاں ہمارے خیال میں سب سے کم آواز ہوسکتی تھی، مگر وہاں بھی بیٹھنا محال لگ رہا تھا۔ کچھ دیر تو سب چلتا رہا، ایک مرحلے پہ خواتین کی جانب سے ایک معززخاتون اٹھ کے کھڑی ہوکے چیخ اٹھیں کہ آواز ہلکی کریں، وقتی طور پہ چند ثانئے آواز کم ہوئی ،تھوڑی دیر میں سپیکر کی آواز پھر اسی لیول پہ آگئی، وہ خاتون ایک آدھ بار پھربولیں ، آخر تقدیر کا لکھا سمجھ کے ہماری طرح خاموش بیٹھ گئیں، ہمارے دوست علامہ محمد ریاض ان دنوں اپنا ایم فل کا کلاس ورک مکمل کرکے مقالہ کےلئے موضوع کی جستجو میں تھے، اسی ٹیبل پہ موجود تھے۔حالات نے ایک موضوع سجھایا جوایک کاغذ کےٹکڑےپہ لکھ کےان کی خدمت میں پیش کیا: دینی مجالس میں شور کی آلودگی اور اس کے اثرات۔ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ تھے۔یہ موضوع اسی طرح تو منظور نہ ہوا لیکن یونیورسٹی کی طرف سے انہیں شور کی آلودگی سے متعلقہ ہی ایک موضوع تفویض کردیا گیا جو الحمدللہ انہوں نے مکمل کرلیا۔
ایک مرتبہ علامہ محمد اسماعیل تابش ، علامہ محمد ندیم ربانی ، علامہ محمد ریاض زید مجدھم اور یہ خاکسار،مخدوم امم سیدنا علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر بڑے شوق سے ،علمائے کرام کے خطابات سننے کےلئے، مسجد کے ہال میں بیٹھ گئے۔خطباء کی گلا پھاڑ تقریریں اور اتنا ہیوی ساؤنڈ سسٹم، یقین مانئے! آواز کی شدت جسم میں لرزش پیدا کر رہی تھی، دل دھک دھک کرتا تھا، چند منٹ میں میرے تو کندھوں کے پٹھے اکڑنے لگے، میں پریشان تھا کہ دوستوں سے کیسے کہوں کہ واپس چلیں ،اتنی دور سے اور اتنی محبت سے ، ابھی تو ہم آئے ہیں، میں نے ڈرتے ڈرتے جس کی طرف بھی دیکھا تو وہ میرے سے پہلے ہی تیار تھے زبان حال سے کہہ رہے تھے: خدا دا ناں جے،ایتھوں نکلو! یوں ہم شوق کے باوجود چند منٹ سے زیادہ وہاں نہ بیٹھ سکے۔
اسی ماہ ربیع الاول میں کچھ محافل میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، ایک مجلس میں بینڈے کی آواز والے نعت خوان ایک گھر میں پورا زور لگاکے اور سپیکر منہ میں گھسیڑ کے نعت پڑھ رہے تھے، ایک بزرگ نے ترلا کیا، مائیک نیچے رکھ دیں، اس کے بغیر بھی بہترین آواز آ رہی ہے،ایک آدھ منٹ مائیک کی جدائی برداشت کی اور دوبارہ وہی صوتی دہش۔ت گردی شروع۔
چند سال پہلے ایک گھر لان میں ایک محدود سی مجلس تھی نعت خوان کلام پڑھ رہے تھے ، اچانک بجلی چلی گئی، نعت خوان جو مصرعہ پڑھ رہا تھا اسے بھی ادھورا چھوڑ دیا، یوں لگا جیسے یہ حضرت بھی بجلی سے چلتے ہیں۔ ایک بزرگ بیٹھے تھے انہوں نے ، سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ،ان سے کہا کیا حضورﷺ کی نعت مائیک کے بغیر نہیں پڑھی جا سکتی؟
چند دن پہلے ایک گھر کے بیسمنٹ مجلس تھی زیادہ سے زیادہ تیس لوگوں کی گنجائش تھی وہاں دو جمبو سائز ڈیک لگے ہوئے تھے۔ ایک مسجد کے صحن میں محفل میں شرکت کی سعادت ملی ، ستر سے اسی لوگ ہوں گے، تین جمبو سائز ڈیک لگے ہوئے تھے، بہت ساری چھوٹی چھوٹی مساجد جن کے ہال میں بمشکل،ستر، اسی لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے ،وہاں خطیب صاحبان جمبو سائز کے تین تین ڈیک لگا کے دھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ہمارے قاری صاحبان، نعت خوانان عظام، اور علمائے ذی احتشام الا ماشاء اللہ! جب تک پورا مائیک منہ میں نہ ڈال لیں انہیں" سواد" ہی نہیں آتا، بعض بڑے خطیبوں اور نعت خوانوں کی بکنگ کے وقت شرط ہوتی ہے کہ فلاں ساؤنڈ سسٹم والا بلانا ہوگا۔پھر ساؤند سسٹم والا جانے اور خطیب و نعت خواں جانے، سامعین اورعوام جائیں بھاڑ میں۔ساؤنڈ سسٹم والا آواز کی ضرورت کی بجائے خطیب و نعت خوان کے اشاروں پہ ناچتا ہے، ، " محفلی لوگ" تو اس شور شرابے کے عادی ہوتے ہیں، لیکن عام آدمی جس کا ذوق سماعت، ابھی تک تھوڑی سا باقی ہے، وہ سخت پریشان ہوتا ہے کہ کیا کرے،اٹھ کے چلا جائے تو کہیں میزبان ناراض نہ ہوجائے، یا اسے اس کی بدذوقی اور بدعقیدگی کا مظہر نہ سمجھا جائے۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں ہماری زیادہ تر مجالس اب اسی نوعیت کی ہوتی ہیں الا ما شاء اللہ ! بڑے بڑے مراکز علمی میں بھی اسی طرح کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ہمارے اس طرز عمل نے ذوق سلیم کے حامل لوگوں کو ہماری محافل اور خطبات جمعہ سے دور بلکہ متنفر کردیا ہے۔اس شور کے ماحول اور اس مزاج کے حامل لوگوں میں افہام و تفہیم اورسنجیدہ گفتگو کرنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے،اگر آپ کا "باگھا" اتنا کھلا نہیں ہے یا آپ چیخ اور چنگھاڑ کے بولنے کے عادی نہیں ہیں تو لوگ بار بار شکوہ کرتے ہیں کہ آواز نہیں آرہی، سمجھ نہیں لگ رہی، کیونکہ ان کے کان آواز کی ایک خاص پچ کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں ، کبھی میزبان کی طرف دیکھتے ہیں اور کبھی ساؤنڈ سسٹم والے کی طرف ،وہ کبھی آواز تیز کرتا ہے کبھی اٹھ کے بار بار مائیک آپ کے منہ میں گھسیڑنے کی کوشش کرتاہے تاکہ زیادہ آواز پیدا ہو، ایسے میں اس خطیب کو اپنی فطری ٹون میں بات کرنے کی بجائے چیخنا پڑتا ہے، اس کی توجہ ابلاغ کی بجائے چیخنے پہ صرف ہوجاتی ہے۔جس سے گفتگو اور مجالس کی مقصدیت متاثر ہوتی ہے۔اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس خرابی کی طرف ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے۔آیئے اپنی دینی مجالس اور عبادت گاہوں سے شور کم کرنے کےلئے شعوری سطح پہ کام کریں، اس میں ہمارا اجتماعی بھلا ہے۔