دل کی غفلت دور کرنے اور نرمی پیدا کرنے والے اسباب

مصنف : سید متین احمد شاہ

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : اكتوبر 2026

اصلاح و دعوت

دل کی غفلت دور کرنے اور نرمی پیدا کرنے والے اسباب

سيد متين احمد

1-قرآن کریم کی غوروفکر کے ساتھ تلاوت کرنا اور احادیث کی کتابوں میں رقاق کے ابواب کا مطالعہ کرنا-علامہ ابن القیم رح فرماتے ہیں کہ غوروتدبر کے ساتھ قرآن کی تلاوت سے بڑھ کر کوئی چیز نافع نہیں ہے، کیوں کہ یہ اللہ کی طرف چلنے والوں کی تمام منازل و مقامات کا جامع ہے۔یہ دل میں محبت، شوق، خوف، امید، انابت، توکل، رضا، تسلیم و سپردگی، شکر، صبر اور وہ تمام احوال پیداکرتا ہے جن پر دل کی زندگی موقوف ہے۔اسی طرح قرآن تمام بُری صفات سے روکتا ہے جن کی وجہ سے دل برباد ہوتا ہے۔اگرلوگوں کو پتا چل جاتا کہ قرآن کو غوروتدبر کے ساتھ پڑھنے میں کیا کیا چھپا ہے تو وہ ہر چیز کو چھوڑ دیتے۔ علامہ اقبال رح کہتے ہیں کہ قرآن کو کثرت سے پڑھنے سے دل کو نسبتِ محمدی ﷺ عطا ہوتی ہے۔اسی طرح حدیث میں رقاق اور دل کو نرم کرنے والی احادیث کے ابواب کا غور کے ساتھ مطالعہ دل کو بہت نرم کرتا اور اصلاح احوال کے لیے فکرمند کرتا ہے۔

2- موت کو یاد کرنا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگوں میں سب سے عقل مند شخص وہ ہے جو کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے اور اس کے لیے تیاری کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کبھی کبھی قبرستان جانا چاہیے اور ان لوگوں کے حال سے عبرت حاصل کرنی چاہیے جو ہماری طرح کبھی زندہ تھے اور عیش حیات میں تھے۔ آج وہ خفتگان خاک ہیں اور ان کی ابدی خاموشی سے عبرت کی داستانیں برس رہی ہیں۔

3- کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا: حدیث میں لا إله إلا الله کو افضل ذکر کہا گیا ہے۔ مشایخ تصوف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کلمے کی کثرت انسان کے دل کے لیے بہت نافع چیز ہے۔ یہ دل کا زنگ اتارتا ہے، اس کی غفلت کو دور کرتا اور نرمی و رقت پیدا کرتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں ان سات اشخاص کا ذکر ہے جنھیں اللہ روز قیامت عرش کا سایہ عطا کرے گا۔ ان میں ایک وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

4- نبی کریم ﷺ کی سیرت ، صحابہ رض اور اتقیا و ابرار کی سوانح کا مطالعہ: نبی کریم ﷺ کے شمائل کی کتابوں میں آتا ہے کہ آپ کثرت سے خاموش رہتے اور مسلسل غور و فکر میں رہتے تھے۔ صالحین کی سیرتیں آخرت کے مزاج پر ڈھلی ہوتی ہیں اور دنیا میں رہ کر ان کا حال "بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں" کا مصداق ہوتا ہے۔ ان کی عالمی ہمتی اور آخرت کو پانے کے لیے ان کی جستجو کے تذکرے انسان کے جذبوں کو توانائی بخشتے ہیں۔

5-مساکین اور فقرا سے محبت ، ان پر خرچ کرنا اور کم حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھنا