من الظلمت الی النور
ميں نے اسلام كيسے قبول كيا
فردوس وونگ
"میں چاہتا ہوں کہ آپ صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ جنت میں بھی میری ماں بنیں۔"
میرا نام فردوس وونگ ہے اور میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور کے ایک علاقے کیپونگ میں پیدا ہوا اور وہیں بڑا ہوا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے میں ایک روایتی چینی بدھ مت (Buddhism) کا پیروکار تھا اور الحمدللہ بائیس سال کی عمر میں مسلمان ہوا۔ بچپن میں کھیل کود سے گہرا لگاؤ تھا اور میں کوالا لمپور کی ریاستی ٹیم کے ساتھ ساتھ ملائیشیا کی انڈر 17 اور انڈر 21 کی قومی نوجوانوں کی ٹیم کے لیے فٹ بال بھی کھیلتا رہا۔ بدھ مت کے بارے میں میری معلومات بہت سطحی تھیں کیونکہ میں نے کبھی ان کی مذہبی کتابیں نہیں پڑھی تھیں۔ ہم بس انہی روایات اور رسم و رواج پر عمل کرتے تھے جو ہمارے والدین اور آباؤ اجداد سے ہم تک پہنچے تھے۔ ہمارے ہاں ایک اعلیٰ خدا جیڈ ایمپرر (Jade Emperor) کے ساتھ ساتھ کئی چھوٹے چھوٹے خداؤں کا تصور تھا جنہیں ہم چینی فلموں اور ڈراموں میں بھی دیکھتے تھے۔
ميرے دل میں اپنے عقائد کے بارے میں پہلا سوال تب پیدا ہوا جب میں گیارہ سال کا تھا اور میرے دادا کا انتقال ہوا۔ روایتی رسم و رواج کے مطابق ایک پادری منتر پڑھنے کے لیے آیا جس کی زبان مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ جب میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ سب دادا کو جنت بھیجنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ہم ایک کاغذ اور جہنم کے بینک نوٹ (Hell bank notes) بھی جلا رہے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ رقم جہنم میں استعمال کے لیے ہے کہ اگر وہ جنت نہ جا سکے تو جہنم میں کام آئے گی۔ اس جواب نے مجھے الجھن میں ڈال دیا کیونکہ بچپن سے ہمیں سکھایا گیا تھا کہ اچھے کام کرو گے تو جنت جاؤ گے اور برے کام کرو گے تو جہنم میں سزا پاؤ گے۔ اب مجھے لگا کہ اگر جہنم میں بھی پیسے سے عیاشی ہو سکتی ہے تو پھر دنیا میں اچھے کام کرنے کا کیا فائدہ؟ میرے مسلسل سوالات پر گھر والوں نے ڈانٹ کر چپ کرا دیا۔ اس واقعے کے بعد ہائی اسکول کی پڑھائی مکمل کرنے تک میں ایک آزاد خیال مفکر (Free thinker) بن گیا جو خدا پر تو یقین رکھتا تھا لیکن میرا خدا کا اپنا ایک منطقی تصور تھا کہ خدا کوئی انسان یا مخلوق نہیں ہو سکتا۔
میں اکثر اپنے دوستوں سے مٹی کے بتوں کے بارے میں پوچھتا کہ یہ خدا کب بنے؟ وہ کہتے کہ یہ زندگی میں خدا نہیں تھے بلکہ مرنے کے بعد تاریخ دانوں نے ان کی خدمات دیکھ کر انہیں خدا کا درجہ (Promoted to become God) دے دیا۔ میں سوچتا کہ اگر انسانوں کے پاس کسی کو خدا بنانے کا اختیار ہے تو پھر اصل طاقت تو ان انسانوں کے پاس ہوئی۔بائیس سال کی عمر تک میں نے اپنی زندگی کا بھرپور لطف اٹھایا، ہر ہفتے کلبوں اور پبوں میں جاتا تاکہ اپنے دل کا خالی پن بھر سکوں۔ لیکن وہ خالی پن وقت کے ساتھ مزید بڑھتا چلا گیا۔ پھر ایک چوٹ کی وجہ سے میں مغربی ملائیشیا منتقل ہو گیا جہاں تنہائی نے مجھے زندگی کے مقصد پر غور کرنے کا موقع دیا کہ کیا زندگی صرف کھانے، کمانے، بچے پیدا کرنے اور مر جانے کا نام ہے۔
ایک دن میں نے اپنے ایک مسلمان دوست سے پوچھا کہ تم لوگ کس کی عبادت کرتے ہو کیونکہ ہمارے سامنے تو بت ہوتے تھے۔ اس نے کہا کہ ہم اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جسے دیکھا نہیں جا سکتا لیکن وہ موجود ہے۔ جب میں نے کہا کہ دیکھے بغیر یقین کیسے کروں تو اس نے ہوا کی مثال دی کہ تم ہوا کو نہیں دیکھ سکتے لیکن درخت کے پتوں کو ہلتا دیکھ کر اس کے اثرات محسوس کرتے ہو۔ اس نے سمجھایا کہ جب تم خدا کی بنائی ہوئی معمولی ہوا کو نہیں دیکھ سکتے تو اس کائنات کے خالق کو کیسے دیکھ سکتے ہو، البتہ اس کی تخلیقات میں اس کا اثر محسوس کر سکتے ہو۔ یہ بات میرے دل کو لگی اور مجھے لگا کہ یہ خدا کا سب سے منطقی تصور ہے۔ مجھے جہنم کی آگ کا خوف تھا اور میں سزا سے بچنے کے لیے اپنے سچے رب کو پہچاننا چاہتا تھا۔
میں نے اپنی ماں کو فون کر کےانہیں اسلام قبول کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے طویل خاموشی کے بعد کہا کہ مذہب کے معاملے میں سنجیدہ رہنا۔ یوں سال 2005 میں، میں نے شہادت کے کلمات پڑھ کر اسلام قبول کر لیا اور تمام حرام کاموں کو فوری طور پر چھوڑ دیا۔
اسلام لانے کے چھ سال بعد 2011 میں ایک دعوت کے بہانے مجھے ایک لیکچر سننے کا موقع ملا جہاں شیخ نے ہمیں غیر مسلم والدین اور رشتہ داروں کے تئیں ہماری ذمہ داریوں اور دعوت کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ جب میں نے عذر پیش کیا کہ میں تو خود نیا مسلم ہوں اور مجھے کچھ زیادہ نہیں معلوم تو انہوں نے کہا کہ جو ایک آیت بھی جانتے ہو اسے آگے پہنچاؤ۔ میں نے ایک آخری بہانہ بنایا کہ اتنے پیدائشی مسلمان موجود ہیں وہ دعوت کا کام کیوں نہیں کرتے ؟ اس پر شیخ نے جو بات کہی اس نے میرے دل پر گہرا اثر کیا، انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن اللہ تم سے دوسروں کے بارے میں نہیں بلکہ تمہارے اپنے بارے میں پوچھے گا کہ تم نے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں نبھائی۔ اس دن کے بعد سے میں نے باقاعدہ اسلامی کتب اور کلاسوں کے ذریعے علم حاصل کرنا شروع کیا اور تبلیغ کے کام میں لگ گیا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ پر ایک کورس کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ آپ کی پوری زندگی دعوت سے عبارت تھی اور آپ کی اسی ثابت قدمی اورمستقل مزاجی نے مجھے زندگی کی ہر مشکل کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔
'دعوت کے میدان میں میرا سب سے یادگار تجربہ میری اپنی والدہ کا اسلام قبول کرنا ہے۔' میں نے برسوں انہیں بہت کھلے انداز میں اسلام کے بارے میں بتایا، انہیں مسجدوں میں لے گیا اور مسلمانوں سے ملوایا۔ سال 2019 میں جب میں نے ان سے مکہ جانے کا ذکر کیا تو انہوں نے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے جذباتی انداز میں انہیں بتایا کہ ایک غیر مسلم مکہ نہیں جا سکتا اور'میں چاہتا ہوں کہ آپ صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ جنت میں بھی میری ماں بنیں۔ یہ سن کر وہ رونے لگیں اور خاموش ہو گئیں۔'
وقت کے ساتھ انہوں نے بدھ مت کی رسموں کو چھوڑنا شروع کر دیا۔ ایک دن جب میں نے دوبارہ مکہ جانے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں مسلمان بن جاتی ہوں۔ 24 اکتوبر 2019 بروز جمعہ انہوں نے کلمہ پڑھا۔ زندگی میں ہزاروں لوگوں کو کلمہ پڑھانے کے بعد اپنی ماں کو کلمہ پڑھاتے ہوئے میں بالکل سن ہو گیا اور خوشی سے رو پڑا۔ اسلام لانے کے بعد وہ گھٹنوں کے درد کے باوجود ہمارے ساتھ مکہ گئیں، عمرہ کے ارکان آسانی سے ادا کیے اور وہ الٹا میرے بچوں اور اہلیہ کو نمازِ فجر کے لیے مسجد الحرام لے جانے کے لیے جگاتی تھیں۔
بدھ مت میں نروان (Nirvana) کا تصور ایک ایسی جگہ کا ہے جہاں مرنے کے بعد سکون ملتا ہے، جبکہ اس دنیا کو وہ سمسار (Samsara) یعنی دکھوں کا چکر کہتے ہیں۔ اس چکر سے نکلنے کے لیے وہ چار عظیم سچائیوں اور آٹھ جہتی راستے (Eightfold Path) پر عمل کرتے ہیں، جس کی اخلاقی اقدار جیسے صحیح قول، صحیح نیت اور صحیح عمل کافی حد تک اسلامی تعلیمات سے ملتی جلتی ہیں۔ بدھ مت کے پانچ اصول جیسے قتل نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، زنا نہ کرنا، شراب نہ پینا اور جوا نہ کھیلنا، ہمارے مقاصدِ شریعت یعنی جان، مال اور نسل کی حفاظت کے بہت قریب ہیں۔
بدھ مت کے علماء کا ماننا ہے کہ بدھ مت میں خدا اور روح کا کوئی تصور نہیں ہے اور انسان دوبارہ جنم لیتا ہے۔ لیکن اس دوبارہ جنم (Reincarnation) کے تصور میں ایک بڑا نقص یہ ہے کہ اگر کوئی برے اعمال کی وجہ سے جانور بن جائے، تو ایک چوہا یا شیر اپنے بقا کے لیے شکار اور چوری چھوڑ کر اچھے اعمال کیسے کما سکتا ہے تاکہ وہ دوبارہ بہتر درجے میں آ سکے؟ اس کے برعکس قرآن ہمیں ایک واضح اور سیدھی ہدایت فراہم کرتا ہے۔ میں ہر ایک سے یہی کہوں گا کہ صرف اچھی نیت کافی نہیں ہوتی بلکہ طریقہ کار کا درست اور مستند ہونا بھی ضروری ہے۔
میں دنیا کے تمام غیر مسلموں، خصوصاً چینیوں سے یہی گزارش کروں گا کہ اگر آپ اپنی موجودہ زندگی پر یہ سوچ کر جوا کھیل رہے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ جنم (Reincarnation) یا کوئی نیا جنم ہوگا، تو ایک بار اپنے اس نظریے پر خود ہی سوالیہ نشان قائم کریں۔ ذرا سنجیدگی سے سوچیں کہ اگر آپ کا یہ مفروضہ غلط نکلا اور میرا یہ پختہ عقیدہ سچا ثابت ہو گیا کہ اس دنیا کے بعد کوئی دوسرا جنم نہیں بلکہ صرف جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا ہے، تو آپ کیا کریں گے؟ جب آپ اس دنیا کی معمولی آگ اور تپش کو ایک لمحے کے لیے برداشت نہیں کر سکتے، تو جہنم کی ہولناک آگ کا عذاب کیسے جھیلیں گے؟ اس حقیقت کو سمجھیں کہ زندگی میں انسان کو دو میں سے کسی ایک تکلیف کا انتخاب کرنا ہی پڑتا ہے؛ یا تو آپ ایک مسلمان کے طور پر نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزارنے کی مشقت (Pain of discipline) برداشت کر لیں اور جنت کے حقدار بن جائیں، یا پھر آخرت میں ابدی پچھتاوے کا دکھ (Pain of regret) اٹھائیں۔ اب گیند پوری طرح آپ کے کورٹ میں ہے (Ball is in your court)، اس لیے تعصب کی عینک اتار کر منطقی اور عقلی بنیادوں پر سچائی کی تحقیق کریں۔
وڈیو لنک:
https://youtu.be/LKoVyapimJw?si=1PM_mT3eGN-zjy6