حمد رب جليل
ہر ايك لمحے كے اندر قيام تيرا ہے
زمانہ ہم جسے كہتے ہيں نام تيرا ہے
ورائے اول و آخر ہے تو مرے مولا
نہ ابتدا، نہ كوئی اختتام تيرا ہے
تيری ثنا ميں ہے مصروف بے زبانی بھی
سكوت وقت كے لب پر كلام تيرا ہے
شعور نے سفرِِ لا شعور كر ديكھا
تمام لفظ ہيں اس كے دوام تيرا ہے
تمام عمر كٹے اك طويل سجدے ميں
اس اختصار كی بخشش بھی كام تيرا ہے
بہت قريب ہے فطرت سے روح انسانی
ہر اك نظام سے بڑھ كر نظام تيرا ہے
وہ خود كو جان گيا جس نے تجھ كو پہچانا
وہ محترم ہے جسے احترام تيرا ہے
ہر ايك سانس سے آواز آ رہی ہے تيری
مرا دھڑكتا ہوا دل ،پيام تيرا ہے
كہاں بيان ِمظفر ، كہاں بڑائی تيری
جو تھا جو اب ہے جو ہو گا، تمام تيرا ہے
مظفر وارثی