پليٹليٹس كی كمی

مصنف : عدنان نیازی

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : مئی 2026

طب و صحت

پليٹليٹس كی كمی

ڈاكٹر عدنان نيازی

اگر خدانخواستہ کسی مریض کے پلیٹلیٹس کم ہو جائیں تو اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ یہ پوسٹ لازمی پڑھیں۔ لمبی ہے لیکن یہ آپ کے کسی قریبی کو نقصان سے بچا سکتی ہے۔

 ایک قریبی رشتہ دار خاتون میں خون کی کمی تھی جس کے لیے ڈاکٹر نے وینوفر کے انجیکشن لگوائے اور اس کے بعد پھر سے (Complete Blood Count - CBC) رپورٹ کروانے کا کہا۔ میں میڈیکل رپورٹس کے لیے الخدمت کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ ان کا سارا سیٹ اپ میں نے دیکھا ہوا ہے اور بہت اچھے سے کام ہوتا ہے۔ پھر ریٹ بھی بہت مناسب ہیں۔ رپورٹ کروائی تو اس میں پلیٹلیٹس کی مقدار بہت ہی زیادہ کم تھی (صرف 17000)۔ ایک لاکھ کم سے کم ہونے چاہیے۔

یاد رہے کہ پلیٹلیٹس خون کے جمنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تعداد اگر ایک لاکھ فی مائیکرو لیٹر سے بھی کم ہو جائے تو خون کے جمنے میں بہت مسئلہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ مریضہ بالکل ٹھیک تھی ، کوئی بھی مسئلہ نہیں تھا تو مجھے بھی لگا کہ یہ کہیں رپورٹ میں غلطی ہو گئی ہے۔ پھر بھی ڈاکٹر صاحبہ کو رپورٹ دکھائی تو انھوں نے بھی یہی کہا کہ کہیں اور سے بھی چیک کروا لیں۔ تب شوکت خانم لیبارٹری سے چیک کروایا۔ ان سے پوچھا بھی کہ اگر پلیٹلیٹس کے لیے کوئی الگ سے ٹیسٹ ہے تو وہ بھی کر دیں۔ وہ کہتے نہیں اسی سی بی سی میں ہی آجائیں گے۔ وہاں سے رپورٹ آئی تو اس میں مزید کم ہو کر صرف 16000 رہ گئے تھے۔ اب تو واقعی بہت پریشانی کی بات تھی۔ ڈاکٹر کو رپورٹ دکھائی تو اس نے فوری طور پر خون اور پلیٹلیٹس کا انتظام کرنے کا کہا۔ساتھ میں یہ بھی کہا کہ کسی میڈیسن سپشلسٹ ڈاکٹر کو بھی فوری طور پر دکھائیں۔

یاد رہے کہ پلیٹلیٹس کسی بھی دوسرے شخص سے نکال کر مریض کو لگانے کے دو طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ پرانے طریقے میں کم سے کم چار لوگوں سے ایک ایک بوتل خون نکال کر لیبارٹری میں اس سے پلیٹلیٹس الگ کیے جاتے ہیں ۔ اس میں باقی کا خون ضائع ہو جاتا ہے اور پلیٹلیٹس بھی تھوڑی مقدار میں حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں خون کی میچنگ اور ڈونرز کے دوسرے ٹیسٹس کرنے پر تقریباً آٹھ ہزار اور باقی خرچ تقریباً سولہ ہزار ہوتا ہے۔ یہ کسی بلڈ بینک سے ہو سکتا ہے۔ دوسرا جدید طریقہ ہے جس میں افریریس نامی پروسس کے ذریعے صرف کسی ڈونر کے جسم سے ایک بازو سے خون نکالا جاتا ہے، اس میں سے پلیٹلیٹس کو الگ کیا جاتا ہے اور باقی خون دوسرے بازو میں ساتھ ساتھ ہی واپس اسی ڈونر کو لگا دیا جاتا ہے۔ فیصل آباد میں یہ الائیڈ ہسپتال میں تقریباً 34000 روپے میں ایک میگا یونٹ کسی ایک ڈونر سے نکالا جاتا ہے ۔ اس میں صرف ایک ڈونر کی ضرورت ہوتی ہے۔ میچنگ اور دوسرے ٹیسٹس اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔

ہم نے اپنے فیملی ڈاکٹر سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ اس کے لیے کسی ہیماٹالوجسٹ کو دکھائیں۔ مزید پوچھنے پر بتایا کہ ڈاکٹر مبشر رزاق خان Mubashir R Khan جو فیصل آباد انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی لیبارٹری میں بیٹھتے ہیں انھیں دکھائیں۔ ڈاکٹر صاحب شام سات سے نو تک بیٹھتے ہیں تو ان سے وقت لیا اور اس دوران خون دینے والے ڈونرز کا انتظام کرنے لگ گئے۔ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کی چھٹیاں چل رہی تھیں اور تب رمضان تھا، رمضان میں خون عطیہ کرنے والے بہت مشکل سے ملتے ہیں اس لیے بہت مشکل ہوئی۔ ان سب کے میچنگ اور دوسرے ٹیسٹ کروانے کے لیے علی فاطمہ بلڈ فاؤنڈیشن میں دیے۔ اور الائیڈ ہسپتال سے پلیٹلیٹس نکلوانے کے لیے اگلے دن کا وقت لے لیا کیونکہ ان کی ٹائمنگ صرف دن نو سے شام چار تک کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا تھا کہ کم سے کم ایک بوتل مکمل خون کی ابھی لگا دیں گے تاکہ کچھ تو پلیٹلیٹس زیادہ ہوں اور کل پلیٹلیٹس کا میگا یونٹ لگائیں گے۔ شام کو جب ڈاکٹر مبشر رزاق کے پاس پہنچے تو انھوں نے رپورٹس دیکھتے ہی کہا کہ یہاں ہم رپورٹ دوبارہ کریں گے۔ انھوں نے رپورٹس دوبارہ کیں تو بتایا کہ پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ پچھلے مہینے الخدمت سے جو رپورٹ کروائی تھی اس میں بھی اتنی ہی تعداد آئی تھی۔ ڈاکٹر مبشر نے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت دیا۔ ان کی مشین میں بھی تعداد 18000 آئی تھی لیکن انھوں نے سلائیڈ سے اسے چیک کیا۔ بہت ہی زیادہ اچھے سے سمجھایا۔ سب سے پہلے تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب کچھ نارمل ہے اور مزید کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ دو جگہ سے رپورٹ کروائی تھی تو ان دونوں میں ایسی غلطی کیسے ہو گئی؟

انھوں نے بتایا کہ ایسا ہو جاتا ہے۔ دراصل سی بی سی میں مشین خون کے ہر خلیے کا الگ سے معائنہ کر کے تعداد گنتی ہے جو کہ شکل اور سائز کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جس کسی کے پلیٹلیٹس کا سائز عام سائز سے چھوٹا یا بڑا ہو تو مشین اسے شمار نہیں کرتی۔ اس لیے یہ اصول ہے کہ جب بھی کسی مریض کے پلیٹلیٹس کی تعداد کم نظر آئے تو پھر اسے مشین کی بجائے سلائیڈ پر چیک کیا جاتا ہے۔ اگر سٹین (یعنی رنگ) کر لیا جائے تو یہ شمار مزید بہتر ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے خود سے یہ سب چیک کیا اور کنفرم کیا کہ سب کچھ نارمل ہے۔ مزید تسلی بلیڈنگ ٹائم کے ٹیسٹ سے بھی ہو گئی جو نارمل تھا۔ واپس آئے تو علی فاطمہ بلڈ فاؤنڈیش والے نے میچنگ کے دوران مریض کے خون کی سی بی سی کی تھی تو اس کے پاس 59000 تعداد ظاہر ہو رہی تھی اور وہ بھی سلائیڈ سے چیک کر رہا تھا۔ ہمارے پہنچنے پر اس نے پہلی بات ہی یہ کہی کہ آپ کے پلیٹلیٹس تو نارمل ہیں، آپ کیوں لگوا رہے؟

اب الخدمت اور شوکت خانم والے ٹیسٹس میں غلطی کہاں ہوئی؟

غلطی یہ ہوئی کہ جب پلیٹلیٹس کی تعداد اتنی کم تھی تو اسے ڈاکٹرز نے سلائیڈ پر چیک کرنے کا نہیں کہا۔ ان دونوں رپورٹس کے نیچے تین سے چار ہیماٹالوجسٹ، ہسٹوپتھالوجسٹ یا پتھالوجسٹس کے نام لکھے ہیں کہ انھوں نے الیکٹرانکلی رپورٹ کو چیک کیا ہے لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ کسی نے بھی چیک نہیں کیا تھا۔ ورنہ یہ غلطی نہ ہوتی۔ ڈاکٹر مبشر کے مطابق پچھلی ساری رپورٹس الخدمت والوں کی ٹھیک ہیں جس کا مطلب ہے کہ انھوں نے اسے سلائیڈ پر چیک کیا ہوگا۔ صرف اس آخری والی میں غلطی ہوگئی۔

تو ساری بات چیت کا لب لباب یہ ہے کہ چونکہ مشین میں یہ غلطی ممکن ہے اس لیے جب بھی کبھی ایسا ہو جائے تو کوئی بھی ایکشن لینے سے پہلے لازمی طور پر سلائیڈ پر چیک کروائیں اور کسی ہیماٹالوجسٹ کو دکھائیں اور اس سے کنفرم کریں کہ کیا سلائیڈ پر پلیٹلیٹس کی تعداد، سائز وغیرہ کنفرم کر لیا ہے۔ کیونکہ اگلا پروسیجر بہت لمبا بھی ہے اور بہت زیادہ مہنگا بھی۔ اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ چاہیں تو اسی لیب میں چلے جائیں اور انھیں کہہ دیں کہ کیا یہ کنفرم ہے۔

ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ آخری بات یہ کہ اس پوسٹ کا مقصد صرف اور صرف مفاد عامہ کے لیے آگاہی پھیلانا ہے کہ کسی کو یہ والی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ ساری لیبارٹریز سے بھی گزارش ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی رپورٹ کسی سپیشلسٹ کو دکھائے بغیر نہ دیا کریں کیونکہ اس سے کسی کے لیے بہت زیادہ پریشانی بن سکتی ہے اور کسی انسان کو جسمانی، نفسیاتی اور معاشی طور پر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں اللہ نے مزید پریشانی سے بچا لیا یہی کافی ہے۔