شادی سے پہلے ٹيسٹ

مصنف : خطیب احمد

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : جون 2026

طب و صحت

شادی سے پہلے ٹيسٹ

خطيب احمد

سوال۔ کزن سے منگنی ہوگئی ہے۔ ہم دونوں کی عمر 35 سے زیادہ ہے۔

کزن میرج اور عمر کا زیادہ ہونا معذوریوں کی وجہ بن سکتی ہے ایسا متعدد بار مستند افراد سے سنا اور خود بھی پڑھا ہے۔ پریشان ہوں۔ اب کیا کریں؟

جواب۔ اللہ کا نام لیکر کزن سے شادی کرلیں۔ منگیتر کو چھوڑنا مناسب نہیں۔ کزن ہو تو خاندان بعد میں بکھر جاتا ہے۔ عمر 35 سے زیادہ ہے تو بھی شادی کریں۔ شادی سے پہلے پانچ بنیادی ٹیسٹ ضرور کروائیں۔   منگنی والے جوڑے کی عمر اگر 30 سے کم ہے تو شادی کے پہلے سال بچہ پیدا نہ کریں۔

پہلی بار ماں بننے والی لڑکی شادی سے پہلے ہی سوڈا پیزا برگر باہر کے کھانے چھوڑ دے۔ کیلشیم آئرن فولک ایسڈ اور ملٹی وٹامنز لینا شروع کرے۔ ڈرائی فروٹس اور موسمی فروٹ وافر کھائے۔ فریش جوس پئے۔ رات کو دس دس دانے بادام کی امریکن گریاں اور کشمش بھگو کر صبح کھائے۔ اپنا ایچ بی چیک کرے اور کم از کم 12 تک لے کر آئے۔ 99 فیصد لڑکیوں کو شادی اور حمل کے بعد ایچ بی لیول کا پتا چلتا ہے۔ حمل سے پہلے جسم سے ہر قسم کی ڈیفی شینسی کو ڈائگنوز اور ختم کرنا ہے۔ ہلکی پھلکی باڈی ویٹ ورزش دونوں میاں بیوی شادی سے پہلے یا کم از کم فوراً بعد ریگولر شروع کریں۔ ورنہ دیکھا یہی گیا ہے چند ماہ بعد ہی دونوں دعوتیں وغیرہ کھا کھا کر پتیلے بن چکے ہوتے ہیں۔

شادی کزن سے ہے یا زیادہ عمر میں یا یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ پہلے حمل کی طرف جانا ہے تو آپ کے پاس کم از کم تین لاکھ روپے پڑے ہوں۔ لگنے کہاں اور کیسے ہیں؟ شادی سے تین ماہ پہلے ہی پیریڈز کی ڈیٹ لکھ کر رکھنا شروع کریں۔ اکثریت میں لڑکیوں کو شادی کے بعد ایک بار ہی پیریڈز ہوتے ہیں۔ کيوں کو پہلے ماہ ہی حمل ٹھہر جاتاہے - تو پچھلے ماہ پیریڈز کا پہلا دن آپکے پاس لکھا پڑا ہو۔ حمل کا شک ہو یورین ٹیسٹ کے بعد الٹرا ساؤنڈ گائنی سے نہیں ریڈیالوجسٹ سے کروائیں۔ پھر beta hcg بلڈ ٹیسٹ کروائیں۔ یہ دونوں رپورٹس لیکر اپنے شہر یا قریبی بڑے شہر کی سب سے اچھی پروفیسر ڈاکٹر گائناکالوجسٹ سے ملیں۔ ہمارا پہلا بچہ بہت اہم ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز دائیوں یا نئی بنی گائنی ڈاکٹر سے اگلی بار ملیں گے۔ یہ طے ہے کہ اس بار ہم ان کے پاس نہیں جا رہے۔

وہ آپ دونوں میاں بیوی کا بلڈ گروپ چیک کرے گی اسکے ساتھ ہی cbc, bsr, urine complete, LFTs, RFTs, HBsAg, Anti HCV ٹیسٹ کروائے گی۔ یہ ٹیسٹ ہر ماہ کروانے ہیں۔ اور ان کا خرچ 3 ہزار کے قریب ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر کی فیس 2 ہزار۔ 2500 سے 3000 کا ہر ماہ پروفیسر یا اسسٹنٹ پروفیسر ریڈیالوجسٹ سے الٹرا ساؤنڈ سکین۔ اپنی کار نہیں تو سپیشل کار کا ماہانہ نو ماہ تک رینٹ 4 ہزار فی ماہ۔ فولک ایسڈ، کیلشیم، آئرن یا وومٹنگ میں نو ماہ آن سیٹ 8 کھانی پڑ گئی تو 5 ہزار ماہانہ ادویات کے جمع کر لیں۔ ماہانہ 18 ہو گیا؟ 10 ہزار کا حاملہ ماہ کو دودھ فروٹس اور جو بھی وہ کھانا چاہے کم سے کم خرچ مختص کرنا ہے۔

ایورج 25 سے 30 ہزار آپ کو حمل کے بعد ماہانہ لگانا ہے۔ گاڑی اپنی ہے دودھ گھر کا ہے جی ہم زمیندار ہیں۔ اسکو کم کرکے 20 کرلیں اور 9 سے ضرب دیں۔ 180 ہزار بنے گا۔

ڈیلیوری سو فیصد پروفیسر ڈاکٹر کسی بڑے شہر میں اچھے ہسپتال میں کرے گی۔ جہاں ہسپتال کے اندر ہی بچوں کی بہت اچھی نرسری موجود ہے ڈاکٹر کا مشورہ مانیں گے ساس نندیں بھابھیاں جو مرضی کہیں انکی ایک نہیں ماننی۔ آپریشن بتایا ہے تو کروا لینا ہے۔ نارمل کی طرف نہیں بھاگنا۔ ہسپتال کا چناؤ حمل کے 28 ہفتوں میں ہی کنفرم کر لینا ہے۔ نہ کہ درد زہ لگی ہو اور آپ سوچ رہے ہوں جائیں کہاں؟

میرے بارہ سالہ پروفیشنل کیریئر میں ذاتی مشاہدے کی رو سے کہہ رہا ہوں 70 فیصد بچے پہلی اولاد اور خصوصاً بیٹے ہی سپیشل دیکھے ہیں۔ لڑکی کو پتا ہی نہیں ہوتا حمل کے بعد کیا کرنا اور ڈیلیوری میں نان پروفیشنل لوگ اور سستے ہسپتال کیسے Mis handling کرکے بچے کو عمر بھر کی معذوری دے دیتےہيں-

پروفیسر ڈاکٹر آپریشن کرنے لگی ہے۔ انستھیزیا یعنی بے ہوش کرنے والا ڈاکٹر اور پیڈز (بچوں) کا سپیشلسٹ ڈاکٹر (Pediatricians) سو فیصد یقینی طور پر سرجری کے وقت ماں کے پاس کھڑے ہونگے۔ الحمدللہ مبارک ہو بیٹی یا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ بچے کی زندگی کا پہلا 1 منٹ بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جب دماغ کو آکسیجن نہیں جاتی اور برین کا وائٹ یا گرے میٹر ڈیمج ہوکر بچے سی پی ہوجاتے ہيں۔ اسکے بعد اگلے چار منٹ بھی بہت اہم ہوتے ہيں۔ پیڈز کا ڈاکٹر بچے کے ساتھ جو عمل کرتا وہ گائنی نہیں کر سکتی۔ یعنی پہلے پانچ منٹ بہت ہی اہم ہیں۔

جیسا میں نے لکھا ویسے آپریشن کا لگے گا کم سے کم 1 لاکھ۔ ویسے 1 سے ڈیڑھ لاکھ تک میں ایسی ڈیلیوری ہوگی میں نے بتائی۔ یعنی پچھلا دو لاکھ ملا کر تین سے ساڑھے تین لاکھ لگ گیا ناں 9 ماہ میں؟ پہلے بچے پر لگانے ہیں میری جان اتنے پیسے۔ نہیں ہیں تو بچہ پیدا کرنے کی جلدی نہ کرو۔ پہلے پیسے جمع کر لو۔ بڑا اہم ہے پہلا بچہ۔ خصوصاً ماں کے لیے۔ معذور ہوگیا تو سنبھالنا اس نے ہے۔ کوئی نہیں ساتھی بنتا بعد میں۔

کزن میرج اور لیٹ میرج میں ہم نے سو فیصد ایسی ہی ڈیلیوری کروانی ہے۔ حمل سے پہلے ہی تین سے 4 لاکھ جمع کر لیں۔ شادی پر فضولیات میں نہ پیسوں کو آگ لگائیں۔ بعد میں لوگوں کے پاس اچھی ڈاکٹر کے پاس جانے کے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ اور بوہتی سیانی ساس اور نندیں مشورے دے رہی ہوتی ہیں کہ ہر ماہ الٹراساؤنڈ کی شعاعیں خطرناک ہوتی ہیں۔ جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

یہ سب کر رہے تھے۔ خدا نخواستہ دوران حمل تیسرے چوتھے ماہ میں معلوم ہوتا ہے بچہ ڈاؤن سنڈروم ہے، دماغ میں پانی ہے، اعضا پورے نہیں بنے، کمر میں پھوڑا ہے یعنی سپائنا بیفیڈا، تو آپ باہمی مشورے سے حمل ٹرمینیشن کی طرف ڈاکٹر کے مشورے اور بچے کی حالت کو دیکھ کر جا سکتے ہیں۔ جذباتی نہیں ہونا۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہوں بچے کے حمل پورا کرنے یا دوران پیدائش ہی بچنے کے چانس کم ہیں تو حمل ٹرمی نیٹ کر دینا ہے۔ میرا مالک اور اولاد دے گا ان شاءاللہ۔

اتنی کئیر کے بعد چانس بہت ہی کم رہ جاتا ہے کہ بچہ کسی معذوری کے ساتھ پیدا ہو۔ شادی سے ایک سال پہلے یہ سب معلومات دونوں میاں بیوی کے پاس سو فیصد ہونی چاہیے۔ جو کہ بد قسمتی سے 10 فیصد بھی نہیں ہوتی۔

شادی سے پہلے کروائے جانے والے پانچ ضروری ٹیسٹ

ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذوریوں کا ہونا، بیٹے کی بجائے صرف بیٹیاں پیدا کرنے کو اکثریت میں لڑکی سے جوڑتے ہیں۔ اور اسے مبینہ طور پر اس کا قصور وار بھی ٹھہراتے ہیں۔ کہیں تو وہ نمانی اس جاہلانہ تصور کو سچ مان کر خود کو قصوروار سمجھنے بھی لگ جاتی ہے۔ اسے بغیر کسی علم کے ان چیزوں کے علاج، دم درود، ٹیسٹوں کے لیے ساس نندیں لے کر جا رہی ہوتی ہيں۔جبکہ میڈیکل فیلڈ سے وابستہ لوگ میری بات کی تصدیق کریں گے کہ بے اولادی, بچوں میں پیدائشی معذوریاں ہونے کی جتنی ذمہ دار بیوی ہوتی ہے اتنا ہی اس میں کردار خاوند کا بھی ہے۔ اور بیٹیاں پیدا کرنے میں تو عورت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جینڈر طے کرنے کی صلاحیت تو ہے ہی مرد کے پاس۔

شادی سے پہلے کچھ ٹیسٹ کروا کر ہم اپنے قدامت پسند معاشرے میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں تو شادی کے بعد مہینہ بھی نہیں گزرتا اور عقل سے پیدل لوگ لڑکی لڑکے دونوں سے خوشخبری کا پوچھنے لگتے ہیں۔ اور دینی و دنیاوی علوم سے فارغ گھرانوں میں چند ماہ یا ایک دو سال اولاد نہ ہونے پر تو لڑکی کو نفسیاتی مریض بنا دیا جاتاہے -

شادی سے پہلے حکیموں سنیاسیوں کے پاس جانے کی بجائے لڑکا اپنا سیمن انیلسز سپرم کاؤنٹ ٹیسٹ کروائے کہ وہ باپ بننے کے قابل ہے یا نہیں؟ یہ کسی بھی لیب یعنی چغتائی یا شوکت خانم آغا خان سے ہو سکتا ہے۔ 5 سو کا ٹیسٹ ہے۔ میں یہاں واضح کر دوں جنسی طور پر ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے اور سپرم کی حمل کے لیے مطلوبہ تعداد اور انکی صحت کا ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے۔ جس کا شعور ہمارے ہاں بہت کم ہے۔ لڑکی کو مہنگے ٹیسٹوں سے گزارنے کی بجائے مرد حضرات یہ بنیادی ٹیسٹ کروا لیں۔ کچھ مردوں کے مادہ منویہ میں ایک سپرم بھی نہیں ہوتا جبکہ وہ جنسی فعل بلکل ٹھیک انجام دے سکتے ہیں۔ باپ بننے کے لیے ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 40 ملین سے لیکر 300 ملین تک صحت مند سپرم ہو سکتے ہیں۔ اگر سپرم کی تعداد ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 15 ملین سے کم ہو تو چانسز بہت کم ہوتے ہیں کہ سپرم اور بیضہ کے ملاپ سے حمل ہو سکے گا۔ گو کہ حمل کے لیے صرف ایک سپرم اور ایک بیضہ ہی ملاپ کرتے ہیں مگر سپرم کی تعداد میں انکی ساخت اور مائیکروسکوپ میں نظر آنے والی حرکت بتاتی ہے کہ سپرم کتنے صحت مند ہیں۔

میرے قریبی سرکل میں ایک مرد نے اولاد کے لیے چار شادیاں کیں۔ بڑا زمیندار تھا کہ وارث تو چاہیے۔ آخری بیوی کی عمر بیس سال اور اسکی عمر 60 سال تھی۔ پیسے و زمین کے لالچی لوگ اس کو اپنی بیٹیاں دیتے رہے۔ اس کا پورا گاؤں گواہ ہے وہ فوت ہوا تو ایک کو چھوڑ کر 3 نے اسکی وفات کے بعد عدت پوری کرکے دوسری شادی کر لی۔ تینوں ابھی جوان تھیں۔ اللہ نے تینوں كو اولاد کی نعمت سے نوازا۔ اس کی سب سے چھوٹی بیوی کہتی تھی کہ اس بندے نے اپنا ایک دفعہ بھی کسی لیب سے ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ حکیموں کے پاس جا جا کر نجانے کون کون سے کشتے لیا کرتا تھا۔ مگر کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا تھا۔ وہ جنسی تعلق قائم کرنے کو ہی اپنے ٹھیک ہونے کا ثبوت مانتا تھا۔ اور ایسا بے شمار جگہوں پر ہے۔

اگر بیضہ دانیاں ایک ماہ میں دو بیضے پیدا کریں تو دو بچے یعنی جڑواں پیدا ہونگے تین سے چار بیضے ہونے کی صورت میں ان سے اتنے ہی سپرم ملاپ کرکے اتنے بچے پیدا کر دیں گے۔ 1998 میں امریکہ کی سٹیٹ Texas میں ایک جوڑے کے ہاں 8 بچے پیدا ہوئے جن میں ایک وفات پا گیا اور 7 بلکل ٹھیک پلے بڑھے اور نارمل زندگی گزاری۔

اگر ایک ہی بیضہ اووری سے نکلا۔ اور اسکے کسی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے۔ اور ان سے دو سپرم مل گئے۔ تو جڑواں بچے ہم جنس اور ہم شکل پیدا ہونگے۔ دو الگ بیضوں سے سپرم کے ملاپ سے جو جڑواں بچے پیدا ہونگے وہ ہم جنس نہیں بھی ہو سکتے۔ نہ ہی یہ ضروری  ہے کہ وہ ہم شکل ہونگے۔

اولاد تو یہاں شادی کے فوراً بعد ہر صورت میں چاہیے ہی چاہیے ناں؟ اگر آپ  كی یہ سوچ ہے۔ یا آپ کے گھر والے آنے والی دلہن سے ہر ماہ ماہواری ہونے پر ناروا سلوک کریں گے تو سپرم کاؤنٹ کم ہونے پر اسے شادی سے پہلے بڑھانے کی کوشش ڈاکٹر کے مشورے سے کی جا سکتی ہے۔ اور اگر ہو ہی زیرو اور بڑھنے کے کوئی امکانات نہ ہوں۔ تو کسی ایسی خاتون سے شادی کریں جسکے پاس ایک دو بچے پہلے ہی ہوں۔ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ ہو۔ آپ کبھی باپ نہیں بن پائیں گے اسکو ڈاکٹروں سے مشورہ کرکے قبول کر لیں اور کسی معجزے کے انتظار میں نہ رہیں۔ بعد میں بچے ہو بھی جائیں تو کیا ہے؟ نہ ہوئے زندگی تو بچوں کے ساتھ گزر جائے گی بھائی -

اس ضمن میں لاہور فیروز پور روڈ پر حمید لطیف ہسپتال اچھا ہے۔ آپ ان معاملات کے ماہر پروفیسر ارشد جاوید صاحب Prof-Arshad Javed سے مل کر اپنا مسئلہ ڈسکس کر سکتے ہیں۔ ملنے پر میرا حوالہ بھی دے سکتے ہیں۔ انکی مشہور زمانہ معلوماتی کتاب سیکس ایجوکیشن ضرور پڑھیں۔ اسکی ہارڈ کاپی بھی مل سکتی کہیں سے بھی۔

دوسری طرف لڑکیاں بھی اگر انکی ماہواری ٹھیک نہیں یا کوئی اور مسئلہ ہے تو اپنی دونوں اووریز Ovaries اور فلاپئین ٹیوبز کا ٹیسٹ کروا لیں کہ انکی صحت کیسی ہے؟

کسی ماہر تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے Obstetrical الٹرا ساؤنڈ کروا لیں۔ کیونکہ یہ اووریز ہی انڈے پیدا کرتی ہیں آگے فلاپئین ٹیوبز Fallopian tubes کے رستے ماں کے رحم میں آتے ہیں۔ اووریز اور فلاپئین ٹیوبز اگر ٹھیک نہ ہوں اور ان میں کوئی پیچیدہ مسئلہ ہو تو لڑکی کے ماں بننے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے ہی اگر فرٹیلیٹی ٹیسٹ دونوں میاں بیوی کروا لیں تو انکے لیے آگے پلاننگ کرنا بہت آسان ہوگا کہ وہ بچہ کب پیدا کریں گے۔ دونوں میں سے ایک اگر مکمل بانجھ ہو تو دوسرے کو ضرور بتائے۔ ہمارے ہاں بے اولادی کو ہمیشہ عورت سے جوڑا جاتا ہے جبکہ سٹڈیز اور ریسرچز کہتی ہیں.

کہ سو میں سے 35 فیصد مرد بانجھ پن کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی برابر تعداد 35 فیصد ہی خواتین بانجھ ہوتی ہیں۔ 20 فیصد حمل نہ ہونے کی وجوہات دونوں کے بلکل ٹھیک ہونے پر بھی ہوتی ہیں بس مرد کے تولیدی خلیات اور نارملی بیضے ملاپ نہیں کر پاتے۔ اور باقی 10 فیصد نامعلوم وجوہات ہیں جنہیں ہم مسلمان یہی کہتے ہیں کہ اللہ نے قسمت میں ہی اولاد کی نعمت نہیں لکھی۔

پاکستان ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی 2019-2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 22 فیصد لوگ والدین نہیں بن پاتے۔ اور یہ ریشو دنیا بھر میں 15 فیصد ہے۔

دوسرا ٹیسٹ جو کروانا ہے وہ بلڈ گروپ کا ٹیسٹ کروانا ہے اگر دونوں کا بلڈ گروپ ایک ہو تو انکا rhesus factor جسے آر ایچ فیکٹر بھی کہتے ہیں معلوم کیا جاتا ہے وہ ابھی ایک جیسا ہے کہ نہیں۔ اگر زوجین میں سے خاتون کا آر ایچ نیگیٹو اور مرد کا آر ایچ پازیٹو ہو تو ایسی صورت میں ہر زچگی کے فورا بعد نوزائیدہ کا بلڈگروپ چیک کیا جاتا ہے ۔ بچہ اگر والد کے گروپ پر آر ایچ پازیٹو ہو تو زچہ کو اینٹی ڈی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کی قیمت 4 سے 7 ہزار تک ہو سکتی ہے ۔ یہ ٹیکہ اگلے حمل کو محفوظ بناتا ہے۔

تیسرا ٹیسٹ ہے تھیلیسیمیا کا اگر دونوں میں ایک کو مائنر تھیلسمیا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر دونوں کو مائنر تھیلسمیا ہے تو بچہ میجر تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوگا۔ ایسے بچوں کے خون میں ہیمو گلوبن لیول بہت کم ہوتا ہے وہ جتنی عمر زندہ رہیں انہیں ہر ماہ خون لگتا ہے۔ دونوں میں سے ایک اگر میجر تھیلیسیمیا کا مریض ہے اور ڈاکٹر اجازت دیں تو شادی کرکے بچے بھی پیدا کر سکتا ہے ہر کیس ایکدوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا ٹیسٹ ضرور کروائیں ورنہ آپ شادی کے بعد کسی بھی بڑے مسئلہ میں پڑ سکتے ہیں۔ یہ بچے اکثر خون لگنے کے باوجود بھی فوت ہو جاتے ہیں۔ احتیاط سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

چوتھے ٹیسٹ کی قسم ہے STDs یعنی sexually transmitted diseases۔ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کے اگر کسی سے جنسی تعلقات رہے ہوں تو اسکے پارٹنر سے بھی اسے چند بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں human immunodeficiency virus) جسے HIV وائرس کہتے ہیں جو ایڈز کا سبب بنتا۔ مزید ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی اسی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ سب ٹیسٹ بھی ضرور کروائیں۔ یہ پرسن ٹو پرسن لگنے والی بیماریاں ہیں۔

پانچواں اور آخری وہ ٹیسٹ ہے جو دائمی یا آپکے خاندان میں کوئی موروثی بیماری ہو جیسے دل کے امراض، شوگر، گردوں کے مسائل، خون کی بیماریاں جیسے ہیمو فیلیا جس میں کٹ لگنے پر خون جمتا نہیں اور مریض کی موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ الغرض کوئی بھی مرض آپکے والدین کو دائمی ہو تو اپنا وہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

ان سب ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے نئی زندگی شروع کرنا اور اسے خوشی سے لیکر چلنا بہت ہی آسان ہوجائے گا۔ ان ٹیسٹوں پر زیادہ سے زیادہ مرد کے 5 ہزار روپے لگیں گے اور خاتون کے 10 سے 15 ہزار روپے۔

کچھ جینو ٹائپ ٹیسٹ ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا کہ والدین کے جین میں اگر کوئی خرابی ہے تو وہ بچوں کو منتقل ہونے کے کتنے چانسز ہیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ جینز ایک سافٹ ویئر ہوتا ہے جو بلکل ویسے ہی والدین سے بچوں میں انسٹال ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ایک خراب جین سے کوئی بھی معذوری ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ بھی کروا لیں تو بہتر ہے۔ اسی موضوع کو آپ میری وال پر پن گئی پوسٹ میں موجود جنیٹک ٹیسٹنگ کی دو تحاریر میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔