ہمارے جسم ميں گيس كيوں بنتی ہے

مصنف : بی بی سی

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : جولائی 2026

 طب و صحت

ہمارے جسم ميں گيس كيوں بنتی ہے

بی بی سی

ہمارے جسم سے گیس خارج ہونے پر بدبو کیوں آتی ہے اور اسے کیسے قابو کیا جا سکتا ہے؟

گیس خارج ہونا جسم کا ایک نہایت عام مگر کم زیر بحث آنے والا عمل ہے۔

ہر کوئی گیس خارج کرتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق زیادہ تر لوگ دن میں آٹھ سے 25 بار تک گیس خارج کرتے ہیں مگر زیادہ تر مواقع پر یہ دوسروں کو محسوس نہیں ہوتی۔

بعض اوقات گیس آواز یا بدبو کے ساتھ خارج ہو سکتی ہے جس سے آس پاس کے افراد کو ناگواری محسوس ہوتی ہے۔

جب ہمارے جسم سے گیس خارج ہوتی ہے تو کبھی کبھار بدبو کیوں آتی ہے؟ بدبودار گیس کیا صحت کے بارے میں کچھ بتاتی ہے اور کیا اس پر قابو پایا جا سکتا ہے؟

گیس کیوں خارج ہوتی ہے؟

طبی اصطلاح میں اس عمل کو فلیٹولینس یا فلیٹس کہا جاتا ہے، جس میں نظامِ ہضم سے گیس مقعد کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے میڈ لائن پلس اور جانز ہاپکنز میڈیسن کے مطابق گیس دو بنیادی طریقوں سے بنتی ہے: ہوا نگلنے سے یا بڑی آنت میں خوراک میں بیکٹیریا شامل ہونے سے۔

زیادہ تر آنتوں کی گیس میں بدبو نہیں ہوتی۔ اس میں بنیادی طور پر نائٹروجن، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈروجن اور کبھی کبھار میتھین شامل ہوتے ہیں۔اس کے برعکس بدبو ان گیسوں سے آتی ہے جن میں گندھک (سلفر) کی معمولی مقدار ہوتی ہے جسے آنتوں کے بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔گندھک والی ان گیسوں میں ہائیڈروجن سلفائیڈ اپنی شدید بدبو کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی مرکب سڑے ہوئے انڈوں جیسی بو پیدا کرتا ہے۔

گيسٹرو اِنٹیرولوجی کے مطالعات میں محققین نے نوٹ کیا ہے کہ گندھک والے مرکبات، خاص طور پر ہائیڈروجن سلفائیڈ، جو بہت کم مقدار میں آنتوں کی گیس میں موجود ہوتے ہیں، زیادہ تر بدبو کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔یہ بات جریدہ دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن میں شائع ایک تحقیق میں بھی بتائی گئی جس کی قیادت گيسٹرو اِنٹیرولوجسٹ ڈاکٹر مائیکل لیویٹ نے کی۔ انھوں نے آنتوں کی گیس پر ابتدائی تحقیق کی تھی۔

محققین کے مطابق آنتوں کی گیس کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ بدبو پیدا کرنے والے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے مگر یہ انتہائی کم مقدار میں بھی شدید بدبو پیدا کر سکتے ہیں۔

اس گیس میں بدبو کیوں ہوتی ہے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص کیا کھاتا ہے اور اس کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا اسے کس طرح توڑتے ہیں۔کچھ غذائیں گندھک سے بھرپور مرکبات یا کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتی ہیں۔چھوٹی آنت کے لیے انھیں ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب غیر ہضم شدہ ذرات بڑی آنت تک پہنچتے ہیں تو بیکٹیریا انھیں خمیر کر کے گیس خارج کرتے ہیں۔

امریکی نیشنل ڈایابیٹیز، ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز انسٹیٹیوٹ کے مطابق کچھ کاربوہائیڈریٹس چھوٹی آنت میں مکمل طور پر جذب نہیں ہوتے بلکہ بڑی آنت تک پہنچ جاتے ہیں۔

پھلیاں، کچھ سبزیاں اور مکمل اناج عام طور پر گیس بننے کا سبب بنتے ہیں۔ بند گوبھی اور پھول گوبھی جیسی گندھک والی غذائیں ہضم کیے جانے کے دوران گندھک کے مرکبات خارج کرنے کی وجہ سے بدبودار گیس پیدا کر سکتی ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق انڈے، گوشت، بروکلی، بند گوبھی اور پھول گوبھی جیسی گندھک سے بھرپور غذائیں بدبودار گیس پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ سے بنی اشیا بھی ان افراد میں کردار ادا کر سکتی ہیں جو لیکٹوز برداشت نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر مائیکل لیویٹ کے مطابق گندھک والی غذائیں ایسے بیکٹیریا کو توانائی فراہم کرتی ہیں جو ہائیڈروجن سلفائیڈ اور اس سے ملتے جلتے مرکبات پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بدبو کا تعلق گیس کی مقدار سے زیادہ اس کی نوعیت سے ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ کوئی شخص زیادہ مقدار میں گیس خارج کرے مگر اس میں بدبو نہ ہو جبکہ بہت کم مقدار میں گیس شدید بدبو پیدا کر سکتی ہے۔ یہ فرق آنتوں کے مائیکرو بایوم کی ساخت پر منحصر ہوتا ہے جہاں کھربوں مائیکروبز رہتے ہیں۔

جنوری 2023 میں جرنل آف فنکشنل فوڈز میں شائع ایک مقالے میں کہا گیا کہ بیکٹیروئیڈز، کلوسٹریڈیم، دیسلفووِبریو اور میتھانوپروویبیکٹر آنتوں میں گیس کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آنتوں کے مائیکرو بایوم کا اہم کردار

گذشتہ دس برسوں میں سائنس دانوں نے یہ سمجھا کہ گیس کا مسئلہ صرف خوراک سے متعلق نہیں بلکہ نظامِ ہضم میں موجود بیکٹیریا کے توازن سے بھی ہے۔

بڑی آنت میں مائیکروبز کی ایک بڑی آبادی موجود ہوتی ہے۔ یہ جسم کے لیے ایسے کاربوہائیڈریٹس کو توڑنے میں مدد دیتی ہے جنھیں جسم خود ہضم نہیں کر سکتا۔ اس عمل کے دوران قدرتی طور پر گیسیں خارج ہوتی ہیں۔

امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق شکر، نشاستہ اور ریشہ جیسے غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹس بڑی آنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ’وہاں بیکٹیریا انھیں خمیر کرتے ہیں اور گیس پیدا ہوتی ہے۔‘

کچھ لوگوں کے آنتوں کے بیکٹیریا زیادہ میتھین گیس پیدا کرتے ہیں جبکہ بعض میں یہ زیادہ سلفر والی گیسیں پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ

بیکٹیریا ہائیڈروجن جیسی گیسیں بناتے ہیں جبکہ دوسرے مائیکروبز انھیں استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مائیکروبز کے درمیان یہ توازن بدبو کی شدت میں کردار ادا کرتا ہے۔نیچر ریویوز گیسٹرواینٹرالوجی اینڈ ہیپاٹالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آنتوں کی گیسیں ہائیڈروجن پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور ہائیڈروجن استعمال کرنے والے مائیکروبز، جیسے میتھینو جینز اور سلفیٹ کو کم کرنے والے بیکٹیریا، کے درمیان تعامل کے نتیجے میں بنتی ہیں۔

سائنس دان ابھی تک اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ لوگوں میں آنتوں کے یہ مائیکروبز مختلف کیوں ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق جینیات، خوراک، مائیکروبز، انفیکشنز اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی غذائی عادات سمیت کئی عوامل کسی فرد کے آنتوں کے ماحول کو تشکیل دیتے ہیں۔

کیا ہوا نگلنے سے بھی گیس بنتی ہے؟

گیس کے مسائل کی ہر صورت میں وجہ صرف بیکٹیریا کی خمیری عمل نہیں۔ بعض اوقات کھانا کھاتے یا مشروبات پیتے وقت لوگ تھوڑی مقدار میں ہوا بھی نگل لیتے ہیں۔

اسی طرح بہت تیزی سے کھانا کھانا، چیونگم چبانا، سگریٹ نوشی اور کاربونیٹیڈ مشروبات پینا بھی نگلی جانے والی ہوا کی مقدار کو بڑھا سکتے ہیں۔جان ہاپکنز میڈیسن اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز، ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق یہ اضافی ہوا نظامِ ہاضمہ کے راستے سفر کرتی ہے اور آخرکار گیس کی صورت میں خارج ہو سکتی ہے۔

ذہنی دباؤ اور بے چینی بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں۔کلیولینڈ کلینک کے مطابق بے چین افراد غیر محسوس کردہ طریقے سے زیادہ ہوا نگل سکتے ہیں جس سے پیٹ کے پھولنے اور گیس کی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کیا بدبودار گیس کسی عارضے کی علامت ہے؟

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گیس کا اخراج ایک مکمل طور پر معمول کا حیاتیاتی عمل ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق کبھی کبھار بدبو دار گیس کا اخراج عام طور پر بیماری کے بجائے غذائی عادات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

تاہم برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق اگر گیس کے اخراج میں مسلسل تبدیلیاں آئیں، خاص طور پر جب اس کے ساتھ پیٹ میں درد، اسہال، قبض، وزن میں کمی یا پیٹ پھولنے جیسی علامات بھی موجود ہوں تو یہ کسی بنیادی نظامِ ہاضمہ کے عارضے کی علامت ہو سکتی ہیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز، ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق آنتوں کی جلن کا سنڈروم، لیکٹوز برداشت نہ ہونا، سیلیک بیماری اور معدے اور آنتوں کے بعض انفیکشنز جیسی حالتیں گیس کی پیداوار یا آنتوں کی گیس کے لیے حساسیت کو بڑھا سکتی ہیں۔

لیکٹوز برداشت نہ ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ جب دودھ کی مصنوعات میں موجود شکر یعنی لیکٹوز درست طور پر ہضم نہیں ہوتی تو بڑی آنت کے بیکٹیریا اسے خمیر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس، پیٹ پھولنا اور اسہال ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر گیس کا زیادہ اخراج پاخانے میں خون، مسلسل پیٹ درد، بغیر کسی واضح وجہ کے اچانک وزن میں کمی، دائمی اسہال، قے یا شدید پیٹ پھولنے جیسی علامات کے ساتھ ہو تو نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق طبی مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

کیا خوراک میں تبدیلی سے نتائج میں فرق آ سکتا ہے؟

زیادہ گیس یا بدبو دار گیس کے اخراج کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے نیشنل ہیلتھ سروس متعدد عملی اور قابلِ عمل طریقے تجویز کرتی ہے۔

ان میں ’کم مقدار میں کھانا کھانا، آہستہ آہستہ چبا کر کھانا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا شامل ہے جو بار بار ان علامات کو بڑھاتے ہیں۔‘

پانی کا مناسب استعمال بھی اہم ہے کیونکہ یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور آنتوں کی حرکت کو آسان بناتا ہے۔ کچھ افراد کو کاربونیٹیڈ مشروبات، مصنوعی مٹھاس اور زیادہ پراسیسڈ غذاؤں میں کمی سے فائدہ ہوتا ہے۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر رہنمائی کے خوراک میں بڑی تبدیلیاں نہ کی جائیں کیونکہ اس سے غذائی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ مناسب طریقہ یہ ہے کہ کسی مستند ماہرِ غذائیت سے مشورہ کیا جائے۔

بنیادی طور پر ماہرین گیس کو اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ نظامِ ہضم کام کر رہا ہے۔ وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ گیس کو روکنے کی کوشش اپھارے اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔آنتوں میں پھنسنے والی گیس سے اپھارہ (بلوٹنگ)، پٹھوں میں درد اور پیٹ پر دباؤ ہو سکتا ہے۔

وہ آٹھ چیزیں جو پیٹ میں موجود گیس کے اخراج کی وجہ بن سکتی ہیں

انسانی جسم سے گیس کا اخراج ایک نارمل بات ہے۔ ایک عام انسان دن میں پانچ سے 15 مرتبہ گیس خارج کرتا ہے۔گیس کے اخراج سے ہونے والی شرمندگی سے قطع نظر کسی دن گیس کا زیادہ اخراج اچھی صحت کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔تو کون سے کھانے آپ کے جسم سے گیس کے اخراج کی وجہ بنتے ہیں، کون سے کھانے اس گیس کو بدبودار بناتے ہیں اور کب آپ کو اس بارے میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

چکنائی والے کھانے

چکنائی والی غذائیں ہاضمے کے عمل کو سست کر دیتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ آپ کی آنتوں میں پھنس سکتی ہیں، اور بدبو پیدا کر سکتی ہیں۔چربی والا گوشت امینو ایسڈ میتھیونین سے بھرپور ہوتا ہے، جس میں سلفر ہوتا ہے۔آپ کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا، سلفر کو ہائیڈروجن سلفائیڈ میں تبدیل کر دیتا ہے، جس سے سڑے ہوئے انڈے کی بو پیدا ہوتی ہے۔

پھلیاں

پھلیوں اور دال میں بہت سارے فائبر ہوتے ہیں لیکن ان میں ریفینوز بھی ہوتا ہے، ایک طرح کی شکر، جو ہم اچھی طرح سے ہضم نہیں کر سکتے۔یہ شکر آنت میں جاتی ہے تو آپ کی آنت اس کو توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ہائیڈروجن، میتھین اور یہاں تک کہ بدبودار سلفر کا اخراج ہوتا ہے۔

انڈے

عام خیال کے برعکس انڈے گیس کے اخراج کی وجہ نہیں بنتے۔لیکن ان میں سلفر سے بھری میتھیونین ہوتی ہے۔ تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جسم سے گیس کا اخراج بدبو دار نہ ہو تو انڈوں کو ایسے کھانوں کے ساتھ ہرگز نہ کھائیں جو گیس کے اخراج کا سبب بنتے ہیں، جیسے کہ پھلیاں یا چربی والا گوشت۔اگر انڈے آپ کو پھولا دیتے ہیں یا جسم میں ہوا پیدا کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ انھیں ہضم نہیں کر سکتے یا آپ کو ان سے الرجی ہے۔

پیاز

پیاز اور لہسن میں فریکٹوز ہوتے ہیں، ایسے کاربوہائیڈریٹس جو گیس میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈیری مصنوعات

گائے اور بکریوں سے حاصل ہونے والی ڈیری مصنوعات میں لیکٹوز (کیمائی مرکب) پایا جاتا ہے، ایسا شکر جو گیس پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ کہ دنیا کی تقریباً 65 فیصد بالغ آبادی کسی حد تک لییکٹوز کو ہضم نہیں کر سکتی اور ڈیری مصنوعات کھانے سے وہ خود کو پھولا ہوا اور جسم میں گیس محسوس کر سکتے ہیں۔

گندم اور اناج

گیس پیدا کرنے والا نشاستہ اور فائبر اناج میں پائے جاتے ہیں، جیسے جو اور گندم کی مصنوعات اور اسی لیے روٹی، پاستا اور سالم اناج جسم میں ہوا کا باعث بن سکتے ہیں۔اس کے علاوہ کچھ سالم اناج، جیسے گندم اور جو میں گلوٹین (ایک قسم کا پروٹین) پایا جاتا ہے۔اگر آپ کو گلوٹین کو ہضم کرنے میں مشکل ہوتی ہے تو ایسا کھانا کھانے سے آپ کے جسم میں اضافی گیس پیدا ہو سکتی ہے۔

بروکولی، گوبھی اور بند گوبھی

گوبھی، بروکولی، پھول گوبھی اور دیگر سبز پتوں والی سبزیوں میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ سب کچھ آپ کے جسم کے لیے ہضم کرنا بہت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے لیکن آپ کی آنت میں موجود بیکٹیریا اسے توانائی کے لیے استعمال کرنا پسند کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ گیس کی صورت میں نکلتا ہے۔ان میں سے بہت سی سبزیوں میں سلفر بھی ہوتا ہے جو گیس کو انتہائی بدبودار بنا دیتا ہے۔

ایسی سبزیاں جن میں سلفر ہوتا ہے وہ گیس کو انتہائی بدبودار بنا دیتی ہیں۔ ۔

پھل

بہت سے پھل جیسے سیب، آم اور ناشپاتی میں قدرتی طور پر بہت زیادہ نشاستہ (فرکٹوز) ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیب اور ناشپاتی کی کچھ اقسام فائبر سے بھری ہوتی ہیں۔

بہت سے لوگوں کو فریکٹوز کو ہضم کرنے میں مشکل محسوس ہوتی ہے اور ان کو یہ میٹھا کھانے سے گیس ہو سکتی ہے۔

لیکن فریکٹوز سے الرجی، لیکٹوز (دودھ میں پایا جانے والا کیمائی مرکب) کی الرجی کی طرح عام نہیں۔

کیا آپ گیس کے اخراج کو روک سکتے ہیں؟

سبزیاں، پھل اور دالیں گیس کی وجہ بنتی ہیں لیکن ایک دن کے دوران ان غذاؤں کی کچھ مقدار کھانا ہوا کو ختم کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اگر آپ پہلے سے ہی ریشے دار غذائیں نہیں کھاتے ہیں اور آپ اچانک ان کو زیادہ مقدار میں کھانا شروع کر دیتے ہیں تو ایسا آپ کے لیے بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔

منفی اثرات کو روکنے کے لیے اپنی خوراک میں آہستہ آہستہ فائبر شامل کریں۔

جسم میں پانی کی قلت نہ ہونے دینے سے قبض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ قبض اضافی گیس کا سبب بن سکتی ہے۔اگر پاخانہ آپ کے آنتوں میں رہتا ہے، تو یہ فرمینٹیشن کے کیمائی عمل سے گزرے گا، جس سے ایسی اضافی گیس پیدا ہو سکتی ہے، جو بہت زیادہ بدبودار ہو۔

اس کا حل یہ ہے کہ آپ ہر کھانے کے ساتھ پانی ضرور پیئیں اور اپنے جسم میں پانی کی قلت نہ ہونے دیں۔برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس بھی گیس سے نجات کے لیے پودینے کی چائے پینا تجویز کرتی ہے۔سافٹ ڈرنکس جیسے مشروبات میں گیس ہوتی ہے، تو اگر آپ ان کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو بہت زیادہ ڈکار آئیں اور گیس کا اخراج ہو۔چمچ کے ساتھ سوپ پینے یا سیریل کو چمچ سے کھانے اور چیونگم چبانے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ ہوا نگلتے ہیں تو یہ کہیں تو جائے گی۔

کیا آپ کو اس بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت ہے؟

زیادہ تر کیسز میں گیس کا اخراج کوئی پریشانی کی بات نہیں اور اس کے لیے تشخیص یا علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن کچھ کیسز میں گیس کا بہت زیادہ اخراج کسی سنگین حالت کی علامت بھی ہو سکتا ہے تو اگر آپ کو اس بارے میں تشویش ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بدبودار گیس کا اخراج کچھ ادویات کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔