ذہنی صحت كے پانچ اصول

مصنف : پروفيسر رضا رحمان

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : مئی 2026

طب و صحت

ذہنی صحت كے پانچ اصول

پروفيسر رضا رحمان

انسان کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کسی ایک دوا یا وقتی مشورے سے نہیں بنتی، بلکہ چند سادہ مگر گہرے اصولوں سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ اصول اگر روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو انسان اندر سے متوازن اور پُرسکون رہتا ہے۔

1-سب سے پہلا نکتہ نیچر سے ملنا، لوگوں سے ملنا اور اپنے آپ سے ملنا ہے۔

نیچر سے ملنے سے مراد چاند، سورج، آسمان، درخت، ہوا اور قدرت کے مناظر سے ربط قائم کرنا ہے۔ یہ مناظر انسان کے اندر ٹھہراؤ اور وسعت پیدا کرتے ہیں۔لوگوں سے ملنا انسان کو تنہائی اور خود ساختہ خوف سے نکالتا ہے۔ میل جول، مسکراہٹ اور گفتگو دل پر جمی گرد کو صاف کر دیتی ہے۔اور سب سے اہم، اپنے آپ سے ملنا—یعنی خاموشی میں خود کو سننا، اپنی کمزوریوں اور صلاحیتوں کو پہچاننا، اور خود سے ایماندار ہونا۔ یہ خود شناسی ذہنی بوجھ کم کر دیتی ہے۔

2-دوسرا نکتہ  مل بیٹھنا اور مشورہ دینا ہے۔

جب انسان کسی کے کام آتا ہے، وقت دیتا ہے یا خیر خواہی کے ساتھ مشورہ دیتا ہے تو وہ صرف دوسروں کی نہیں، اپنی بھی مدد کر رہا ہوتا ہے۔ دینا دل کو وسیع اور سوچ کو مثبت بناتا ہے۔

3-تیسرا اصول  نعمت پر شکر ہے۔

شکرگزاری انسان کو احساسِ محرومی، حسد اور بے چینی سے بچاتی ہے۔ جو میسر ہے، اسی میں سکون تلاش کرنا ذہنی صحت کی بڑی علامت ہے۔

4-چوتھا نکتہ معلومات میں اضافہ ہے۔

سیکھتے رہنا ذہن کو زندہ رکھتا ہے۔ علم خوف کو کم اور سمجھ کو بڑھاتا ہے۔ باخبر انسان حالات کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوتا۔

5-پانچواں اصول ورزش ہے۔

جسمانی سرگرمی ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے، نیند بہتر بناتی ہے اور انسان کو تازہ دم رکھتی ہے۔ فعال جسم کے ساتھ ہی متوازن ذہن ممکن ہوتا ہے۔