فكر ونظر
كيا احمدی امام كے پيچھے نماز پڑھنا جائز ہے
صفتين خان
غامدی صاحب کی احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت کی دو جہتیں ہیں۔ ان کے استدلال کا پہلا مرکزی نکتہ ان کے نزدیک مسلمان ہونے کی تعریف ہے۔ دوسرا یہ سوال کہ امام کے عقیدے کا اثر مقتدیوں کی نماز پر پڑتا ہے یا نہیں۔پہلے زاویے کو دیکھیں تو ان کی رائے انتہائی کمزور بنیاد پر کھڑی ہے۔ اتنی کمزور کہ خود ان کے کئی براہ راست شاگرد اسے نہیں مانتے۔ جاوید غامدی صاحب جب ایک رائے بنا لیں تو بعض دفعہ حرفیت پسندی اور سادہ فکری میں دوسرے پہلو اوجھل ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی شخص کے اسلام کے بارے ميں فیصلے کے قانونی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ محض کوئی تصوراتی یا فلسفیانہ اعلان نہیں ہوتا جسے ہر شخص کی ذاتی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ محض نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی سماجی نتائج ہیں۔
یہی وجہ ہے اس کے چند نمایاں مظاہر مقرر کیے گئے اور اسی سے مسلمانوں کی الگ شناخت کا فطری تصور پیدا ہوا۔ اسلامی تشخص کا یہ داعیہ اور بیانیہ ہے جو مسلمانوں کو فرد اور ریاست دونوں سطحوں پر اپنے آپ کو ایک خاص سانچے میں ڈھالنے کا حکم دیتا ہے۔
خود قرآن نے جب مشرکین مکہ کی جان بخشی کا اعلان کیا تو صرف زبانی ایمان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نماز و زکات کو شامل کیا۔ ختم نبوت کے بعد یہ شرطیں عائد کی گئیں اس سے الگ نہیں۔ غامدی صاحب یہ دلیل اسلامی شہریت کی شرائط میں دینے کے باوجود اس سے امت کی اسلامی شناخت والا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔
اصل میں ساری غلطی اس نظریے سے پیدا ہوئی ہے کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہلوائے اس کے ایمان کو ہر صورت ماننا لازمی ہے۔ چاہے وہ بنیادی اسلامی شناخت کے تشکیلی عناصر پر ہی پورا نہ اترے۔ جب آپ اصول میں غلط جگہ کھڑے ہو جائیں تو ایسے عجیب اطلاقات ہی وجود میں آتے ہیں۔ چونکہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے کسی الگ ریاستی شناخت کے ہی خلاف ہیں اس لیے ان کے بیانیہ میں یہ اہم ترین عنصر موجود نہیں۔ جو شخص متوازی نبوت کھڑی کر کے نماز پڑھے وہ اسلامی ریاست کے شناختی ضابطے کے مطابق مسلمان نہیں کہلا سکتا۔
رسالتِ محمدی ﷺ کا اقرار ایمان محض معروف اور روایتی معنوں میں مطلوب نہیں بلکہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ لازم ہے۔ ان شرائط میں سب سے اہم شرط ختمِ نبوت ہے۔ یہ کوئی جزئی یا تکمیلی شرط نہیں بلکہ ایسی شرط ہے کہ اگر اس شرط کو منہا کر دیا جائے تو رسالتِ محمدی ﷺ کا اقرار اپنی اصل بنیاد کھو کر بے معنی ہو جاتا ہے۔دیگر عقائد اور عقیدۂ رسالت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ باقی تمام عقائد کی جڑ اسی پر قائم ہے۔ اس لیے اگر اس کی کسی اہم شرط پر سمجھوتہ کیا جائے تو پورا دین اپنی بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔ چنانچہ جب آپ کسی اور شخص کو نبی مانتے ہیں تو دین کے تنہا ماخذ کو چھوڑ دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا کی نبوت کے اسی اصول پر احمدی حضرات مسلمانوں کے پیچھے نماز کے قائل نہیں۔
دوسرے نکتے کے بارے میں عرض یہ ہے کہ وہ دین جو امام کے جمالیاتی پہلو کے بارے میں اتنا حساس ہو کہ اس کے خوش آواز اور خوش شکل ہونے کو امامت کی اہلیت کے طور بیان کرے وہ اس کے عقیدہ و ایمان جیسے لطیف اور روحانی پہلو سے کیسے اغماض برت سکتا ہے۔یہ دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ نماز محض ظاہری آداب کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک روحانی وابستگی ہے اور امام کی شخصیت و عقیدہ اس وابستگی کے مرکز میں کھڑا ہوتا ہے۔اگر امام کا عقیدہ مقتدیوں پر بالکل موثر نہیں تو کیا اس بات کا ہلکا سا امکان بھی مانا جا سکتا ہے کہ عہد ابوبکر میں مسلمانوں کا امیر المومنین کسی منافق یا مرتد کو مسلمانوں کی نماز کے آگے کر دے۔ اس لیے کہ منافقین اور مرتدین مسیلمہ کذّاب بھی نبوت کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ صرف رسالت محمدی میں شرکت کا دعویٰ کرتے تھے۔
اس سے آگے بڑھ کر شریعت میں جمعہ کی امامت صرف عبادت نہیں مذہب کا ریاستی اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے صرف حکمران یا اس کا نمائندہ منبر پر کھڑا ہونے کا حق رکھتا ہے۔
کیا ہماری ریاست اور نماز کا امام ایک ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو امت سے کاٹ کر مسلمانوں کے کفر کا عقیدہ رکھتا ہو۔
اب آتے ہیں اس اہم ترین سوال کی طرف جس میں الزامی جواب دیتے ہوئے مسلمان فرقوں میں شرک اور بدعت کی مثالیں دے کر انہیں احمدیوں کے برابر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہ جوابی الزامی بیانیہ بظاہر بہت مضبوط نظر آتا ہے کہ پھر مختلف مسالک میں عقیدہ کے انحراف کے بعد انہیں اسلامی نظام ایمان (شناخت) اور صلوٰۃ میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ احمدیوں کے معاملے کو مسلمانوں کے مختلف مسالک جیسے بریلوی، صوفیاء اور شیعہ پر قیاس کرتے ہوئے ان میں پائے جانے والے شرکیہ عقائد جیسے وحدت الوجود، غیر اللہ سے مدد اور امامت کو بنیاد بنا کر ان کے اسلام اور نماز پر اعتراض کرتے ہیں وہ دراصل ایک بنیادی اور اصولی مغالطے کا شکار ہیں۔
احمدیوں اور باقی مسالک کی مثال مشرکین اور اہل کتاب کی سی ہے۔ جیسے خدا نے اہل کتاب کی طرف بدترین شرک کی نسبت کرنے کے باوجود نظریہ توحید کی وجہ سے انہیں مشرکوں سے الگ تشخص دے کر اور گمراہ ابراہیمی مذاہب قرار دیتے ہوئے ان سے مذہبی و سماجی تعلقات بنانے کی اجازت دی، ویسے ہی مسلمانوں کے فرقے عقیدے کے تمام تر انحرافات کے باوجود قانونی طور پر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیے جا سکتے۔اس لیے کہ ان تمام مسالک میں بنیادی ضروریات دین کا انکار نہیں کیا جاتا۔ تعبیر دین میں غلطی اور ماخذ دین میں زیادتی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ تمام انحرافات ایک درجے کے نہیں ہوتے، اور ہر قسم کی گمراہی کفر(غیر اسلام) تک نہیں پہنچتی۔
جہاں تک توحید میں انحراف کا معاملہ ہے تو یہ یاد رہے کہ شرکیہ اعمال پر کسی ایک مسلک میں اجماع نہیں ہے۔ بریلویوں اور شیعہ کے بہت سے مفکرین ان سے اعلان برات یا تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے کسی پورے مسلک پر یکساں حکم لگانا درست نہیں ہوگا۔
اس تمام بحث میں یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ یہاں کسی گروہ پر اسلامی امت کے اطلاق کا حکم لگانے کی بحث ہو رہی ہے، حقیقی ایمان کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ اعتقادی انحرافات کو دیکھتے ہوئے مسلمان فرقے بھی قیامت کے دن شاید غیر مسلموں کی طرف جمع کر دیے جائیں۔
ایک اور اہم ترین تنقید جو کی جاتی ہے وہ مختلف مسالک کے ایک دوسرے کے بارے میں تکفیر کے فتوے ہیں۔ کسی عالم، فرقے یا ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ اس لیے کہ تکفیر ایک خاص قانونی پوزیشن ہے جو صرف رسول کے دور میں بروئے کار آتی ہے اور جس پر لوگوں کی زندگیوں کی حرمت کا انحصار ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جہاں بھی آپ کو تکفیر نظر آئے گی اس کے بعد جان کی حرمت کو بھی پامال کیا جائے گا۔
اسلامی شریعت کے ماہرین صرف رابطہ کرنے پر اسلامی ریاست کو مسلمان کی تعریف کے باب میں علمی مشورہ دے سکتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ صرف ریاست کا اختیار ہے کہ وہ مسلمان کی قانونی شناخت کی حد بندی کرے۔
اسلامی ریاست کو یہ اختیار اسلامی تصور اجتماعی کے نظم میں فطری اور شرعی طور پر حاصل ہے، بالکل اسی طرح جیسے جہاد اور حدود و تعزیرات میں براہ راست نص نہ ہونے کے باوجود تمام فقہاء ریاست کے قانون سازی کے حق پر اجماع رکھتے ہیں۔
دور اول میں آپ کو فقہا کے ہاں جو کفر و ایمان کی بحثیں ملتی ہیں ان کا پس منظر بھی یہی تھا۔ اس لیے کہ ان فقہی فیصلوں پر بہت سے قانونی احکام مثلاً قتل و جزیہ کا دارومدار تھا۔
ہمارے مدرسے اور ممبر پر بیٹھے مولویوں یا متکلمین کی طرح فرقہ وارانہ تعصب سے نکلیں وہ کوئی ذہنی مشقیں نہیں تھیں۔
آخر میں، شرک یا بدعت میں مبتلا امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے حکم کے بارے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چونکہ امام نماز کے روحانی مرکز اور جمعہ میں اسلامی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے کھڑا ہوتا ہے، لہذا اس کے عقیدہ و عمل کے بارے میں بے حسی یا لاتعلقی اختیار نہیں کی جا سکتی۔اسی بنا پر فقہا نے ایسے امام کی اقتدا کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
اگر وہ علانیہ کسی شرک یا بدعت پر تاویل کے بغیر اصرار نہ کرے تو اس کی اقتدا میں ادا کی جانے والی نماز پر شرعی طور پر کوئی اعتراض یا قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہا نے اسے مکروہ ( ناپسندیدہ) کہا ہے لیکن باطل یا فاسد قرار نہیں دیا۔
میرا ذاتی رحجان اور مزاج یہ ہے کہ اسلام کے تصور خیر و شر کے درجات، ترجیحات دین اور اجتماعی مصالح کو دیکھتے ہوئے صرف اکراہ یا فرقہ پرست امام کے ہونے کی وجہ سے مسجد کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت کی نماز کو انفرادی نماز پر قربان کرنے کے لیے یہ دلیل کافی نہیں۔