فكر ونظر
امتی كی اطاعت اور محبت
محمد مدثر
کیا کسی امتی سے محبت یا اس کی اطاعت بھی اسی طرح ضروری ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ضروری ہے؟کیا کسی امتی کی محبت آخرت میں نجات کا سبب بنے گی؟قرآن وحدیث میں صحابہ کی اطاعت سے کیا مراد ہے؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بعض شخصیات کو اس درجے تک بلند کر دیا گیا ہے کہ ان پر ایمان لانا گویا دین کا حصہ بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض گروہوں کے نزدیک اگر کوئی شخص ان مخصوص ہستیوں کو نہ مانے تو اس کا ایمان بھی مشکوک سمجھا جاتا ہے۔لیکن جب ہم قرآنِ مجید کو دیکھتے ہیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے۔ قرآن 23 سال تک نازل ہوتا رہا، مگر اس پورے عرصے میں ان ہستیوں میں سے کسی کا نام تک نہیں لیا گیا جن کے بغیر ہمارے ہاں بعض لوگوں کے نزدیک ایمان مکمل نہیں ہوتا۔قرآن نے جب بھی اطاعت کا حکم دیا تو صاف اور دو ٹوک انداز میں یہی کہا:"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ"
قرآنِ مجید نے دین و ایمان کو بنیادی طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے وابستہ کیا ہے اور ہدایت کا اصل معیار بھی یہی بیان کیا ہے۔ ان کے علاوہ قرآنِ مجید میں کہیں بھی اس بات کا ادنیٰ سا اشارہ تک نہیں ملتا کہ کسی بھی امتی (خواہ وہ اہلِ بیت ہوں، صحابۂ کرام ہوں یا سلفِ صالحین) کی محبت یا اطاعت کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہو۔
یقیناً ان ہستیوں سے محبت، ان کا احترام اور ان کا ادب ایک فطری امر ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ان کے قرب اور تعلق کی بنیاد پر دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قرآن نے نہ کبھی کسی امتی کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے اور نہ ہی کسی کی محبت کو نجات کا معیار ٹھیرایا ہے۔
اس پر بعض لوگوں کے ذہن میں کچھ اشکالات پیدا ہو سکتے ہیں جن کو واضح کر دینا ضروری ہے۔
1: پہلا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، تو پھر اس کی کیا توجیہ ہو گی؟
اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر میں اپنے بیٹے سے کہوں کہ اپنے استاد کا ادب کرو اور جو تمہارا استاد تمہیں کہے اس کی بات مانا کرو، تو میری اس تلقین میں یہ بات خودبخود شامل ہے کہ استاد جو بات استاد کی حیثیت سے کہے گا وہی مانی جائے گی۔ اگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کوئی ایسی بات کہتا ہے جو دین یا قانون کے خلاف ہو تو ظاہر ہے یہاں اس کی بات ماننے سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ وضاحت عام طور پر تلقین میں الگ سے بیان نہیں کی جاتی کیونکہ انسان کے پاس اتنی عقل ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ کس کی بات کس درجے تک ماننی ہے۔
اب فرض کریں کہ میں نے اپنے بیٹے کو استاد کی بات ماننے کا کہا، لیکن وہ جواب میں کہے کہ میں تو ارسطو کو اپنا استاد مانتا ہوں، یا یہ کہے کہ سات سو سال پہلے دمشق میں ایک بڑا مشہور استاد ہوتا تھا، میں تو اسی کی بات مانوں گا۔ تو ظاہر ہے اس جواب پر اسے سمجھایا جائے گا کہ وہ لوگ تمہارے استاد نہیں تھے، نہ انہوں نے تمہیں ذہن میں رکھ کر تمہارے حالات اور معاشرے کے مطابق کوئی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے اپنے زمانے اور اپنے شاگردوں کے حالات کے مطابق بات کی ہو گی۔ تم ان کا ادب کر سکتے ہو، ان کی باتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، لیکن عملی طور پر تم پر اپنے دور کے استاد کی رہنمائی پر عمل کرنا لازم ہے۔
قرآنِ مجید بھی مسلمانوں کو یہی ہدایت دیتا ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں، رسول کی اطاعت کریں اور اولی الامر کی اطاعت کریں۔ اولی الامر سے مراد صاحبِ اقتدار لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے ملک اور ریاست کے نظام اور قوانین کی پابندی کی جائے تاکہ معاشرے میں فساد پیدا نہ ہو۔ اسی کے ساتھ قرآن یہ اصول بھی بیان کر دیتا ہے کہ اگر اولی الامر کے ساتھ کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ اللہ اور رسول کے حکم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کی کوئی مستقل دینی حیثیت نہیں بلکہ یہ اطاعت بھی اللہ اور رسول کے احکامات کے تابع ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے صحابہ کو یہ نصیحت کی کہ میرے بعد ہدایت یافتہ خلفا کی پیروی کرنا۔ دراصل یہ بھی اسی اصول کا بیان ہے جو قرآن نے اولی الامر کے بارے میں دیا ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کے نظم کو برقرار رکھنا اور انتشار و فساد سے بچانا تھا۔ یہاں خلفا کو کوئی ایسی مستقل دینی حیثیت نہیں دی جا رہی تھی کہ جس طرح اللہ اور رسول کی اطاعت کی جاتی ہے اسی طرح ان کی اطاعت بھی قیامت تک دین کا لازمی حصہ ہو۔
لیکن بعد کے ادوار میں اس نصیحت کو ایک مستقل دینی نظریہ بنا دیا گیا، یہاں تک کہ خلفا کے سیاسی اور انتظامی فیصلوں کو بھی ایسا سمجھ لیا گیا جیسے وہ قیامت تک کے لیے دین کا حصہ ہوں۔ حالانکہ وہ فیصلے اپنے زمانے اور اپنے حالات کے مطابق کیے گئے تھے۔
آج ہمارے اولی الامر وہ نہیں ہیں اور نہ ہمارے حالات وہی ہیں۔ قرآن کے اصول کے مطابق ہر معاشرے میں لوگوں کو اپنے دور کے نظم اور اپنے اولی الامر کے ساتھ معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ ہم سے سوال بھی ہمارے اپنے حالات اور ہمارے اپنے اجتماعی نظم کے بارے میں ہو گا، نہ کہ ہزار سال پہلے کے حکمرانوں کے فیصلوں کے بارے میں۔
2: دوسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید تو کئی مقامات پر صحابہ اور اہل ایمان کی پیروی کا حکم دیتا ہے تو اس کو کیسے سمجھا جائے گا؟
درحقیقت قرآن جب مشرکینِ مکہ یا اہلِ کتاب کو مخاطب کرتا ہے تو وہ صحابہ کی مثال دے کر یہ بتاتا ہے کہ دیکھو تم میں سے ہی کچھ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی اللہ اور رسول کے لیے وقف کر دی ہے، اپنی انا اور ضد کو چھوڑ دیا ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں۔اس کے مقابلے میں تم لوگ ہو جو حق کو پہچاننے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہو۔ تم کو تو چاہیے کہ ایمان والوں کے طریقے کو اختیار کرو اور اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے یہ لوگ ایمان لائے ہیں۔
اسی طرح سورۃ الفاتحہ میں مسلمان یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں ان لوگوں کی راہ پر چلائے جن پر اس نے انعام فرمایا ہے۔ خود صحابہ بھی یہی دعا کرتے تھے۔ان آیات میں کسی فرد یا کسی مخصوص گروہ کی مستقل اطاعت کا حکم نہیں دیا جا رہا بلکہ ایک عملی مثال پیش کی جا رہی ہے۔
اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک استاد کے دو شاگرد ہیں۔ ایک محنت کر کے پاس ہو جاتا ہے اور دوسرا فیل ہو جاتا ہے۔ تو استاد فیل ہونے والے شاگرد سے کہتا ہے کہ تمہیں اپنے اس ساتھی سے سیکھنا چاہیے جو محنت اور توجہ کے ساتھ پڑھائی کرتا ہے۔ یہاں استاد یہ نہیں کہہ رہا ہوتا کہ جس طرح تم میری اطاعت کرتے ہو اسی طرح اس دوسرے شاگرد کی اطاعت بھی تم پر لازم ہے۔ بلکہ وہ صرف ایک مثال دے رہا ہوتا ہے۔
قرآن کا اسلوب بھی اسی طرح کا ہے۔ وہ اہل ایمان کو بطور نمونہ پیش کرتا ہے، نہ کہ انہیں دین کا مستقل مرجع بنا دیتا ہے۔
3: تیسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں صحابہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں یا ان سے محبت کی ترغیب دی گئی ہے تو اگر کسی صحابی سے محبت ایمان کا لازمی جزو نہیں ہے اور نجات کا ذریعہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں فرمایا؟
یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ صحابۂ کرام یا اہلِ بیت سے محبت نہ کی جائے۔ ان سے محبت ہونا تو ایک فطری بات ہے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے، جنہوں نے دین کے لیے قربانیاں دیں، جنہوں نے اپنے مال، جان اور وقت کو اسلام کے لیے پیش کیا، ان کے لیے ہر مسلمان کے دل میں احترام اور محبت ہونا ایک بالکل قدرتی بات ہے۔ بلکہ آج بھی اگر کوئی شخص دین کے لیے یا امتِ مسلمہ کے لیے کوئی بڑی قربانی دیتا ہے تو مسلمان اس کو محبت اور احترام کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔
اس لیے اس تحریر کا مقصد محبت سے روکنا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ کسی امتی کی محبت کو ایمان کے صحیح یا باطل ہونے کا معیار قرار نہیں دیا جا سکتا، اور نہ اللہ تعالیٰ نے نجات کا دارومدار اس بات پر رکھا ہے کہ کون شخص کسی خاص فرد سے محبت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔
اب آتے ہیں ان احادیث کی طرف تو حقیقت یہ ہے کہ ایسی احادیث بھی اپنے مخصوص سیاق و سباق میں کہی گئی تھیں۔ مدینہ کے معاشرے میں ایک وقت ایسا آیا جب مسلمانوں اور منافقین کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس دوران مختلف موقعوں پر رسول اللہ ﷺ نے منافقین کی چند نشانیاں بیان کیں۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ جو شخص سچے دل سے ایمان لایا ہو گا وہ مسلمانوں سے محبت کرے گا اور ان کی خیرخواہی چاہے گا۔ جبکہ منافقین مسلمانوں کے درمیان بغض، بدگمانی اور نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے تھے۔
اس پس منظر میں بعض صحابہ کے حوالے سے یہ بات کہی گئی کہ جو ان سے محبت کرے گا وہ مومن ہے اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ منافق ہو گا۔ اس کا مقصد کسی فرد کو قیامت تک کے لیے ایمان کا معیار بنانا نہیں تھا بلکہ اس مخصوص معاشرتی صورتحال میں منافقانہ رویوں کی نشاندہی کرنا تھا۔
اصل اصول یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان بغض، عداوت، کینہ اور بدگمانی ایسے گناہ ہیں جن سے قرآن بار بار منع کرتا ہے۔ یہ حکم کسی ایک فرد یا چند افراد تک محدود نہیں بلکہ تمام اہل ایمان کے لیے ہے۔ کسی بھی مومن سے بغض یا نفرت کا انجام سنگین ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جن احادیث میں صحابہ کے فضائل بیان ہوئے ہیں وہ بھی مختلف مواقع اور حالات میں کہی گئی باتیں ہیں جن کا مقصد اصلاح اور ترغیب تھا۔ لیکن بعد میں انہیں اس طرح پیش کیا جانے لگا جیسے یہ قیامت تک کے لیے مستقل دینی احکام ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کا اصل مشن اللہ کا دین پہنچانا اور لوگوں کی اصلاح کرنا تھا۔ اصلاح کے لیے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے محبت کریں، رحم دلی سے پیش آئیں اور باہمی نفرت سے بچیں۔ لیکن یہ کہنا کہ کسی خاص فرد سے محبت ایمان کے لیے لازمی ہے اور اس سے نفرت کرنے سے ایمان باطل ہو جائے گا، یہ درحقیقت شخصیت پرستی کی ایک انتہا ہے۔
اگر کسی شخصیت کی ذات واقعی ایمان کی بنیاد ہوتی تو قرآن مجید کو لازماً اس کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے تھا۔ لیکن قرآن نے کسی بھی امتی کا نام لے کر اس کی اطاعت یا اس سے محبت کو ایمان کا لازمی جزو قرار نہیں دیا۔
جب بھی اطاعت کا حکم دیا گیا تو وہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے طور پر بیان ہوا۔ اور خود رسول اللہ ﷺ نے بھی جب لوگوں کو دعوت دی تو یہی کہا کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور مجھ پر ایمان لاؤ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس کے بعد کبھی کسی سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ میرے فلاں اور فلاں ساتھی پر بھی ایمان لائے، ورنہ اس کا ایمان قابلِ قبول نہیں ہو گا۔