تہذيبی ا قوام

مصنف : رعایت اللہ فاروقی

سلسلہ : تاریخ

شمارہ : اپريل 2026

تاريخ

تہذيبی ا قوام

رعايت اللہ فاروقی

آیئے اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں جس کے تجزیئے میں کبھی تولوگ دیانتدارنہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں لیکن اکثر درست نتائج تک رسائی میں تعصب ہی رکاوٹ بن جاتا ہے-سوال یہ ہے کہ "ایرانی قوم" اتنی غیر متزلزل کیوں ہے ؟ وہ وقت کی سب سے بڑی سپر پاور کے آگے سرنڈر کرنے کی بجائے موت کو ترجیح کیوں دے رہے ہیں ؟86 برس کا ایک بزرگ بڑے آرام سے اپنی قوم سے یہ کیسے کہہ دیتا ہے-"اگر میں مارا جاؤں تو پروا مت کرنا، جنگ جاری رکھنا"

ایران کو سمجھنے میں پہلی مار ہم یہاں کھا جاتے ہیں کہ اس کا ذکر سنتے ہی ہمارے پردہ تصور پر ایک ہی لفظ ظاہر ہوتا ہے، اور وہ ہے"شیعہ"--پردہ تصور پر اس لفظ کا ظہور سب سے بڑا نقصان یہی پیدا کر دیتا ہے کہ ایرانی قوم سائیڈ میں رہ جاتی ہے اور شیعہ مذہب فوکس میں آجاتا ہےاور ایسا ہوتے ہی مذہبی تعصب کی وہ دو طرفہ دکانیں کھل جاتی ہیں جس کے بیچوں بیچ کھڑا ہم جیسا شخص سوچتا ہے-"ہم نے تو ایرانی قوم کا پتہ پوچھا تھا، یہ لاہوریوں نے ہم کو کہاں بھیج دیا ؟"سو عین آغاز میں ہی پاکستانی شیعہ سے عرض گزار ہیں-"بھائی جان ! ہماری اس پوسٹ کا موضوع آپ یا شیعہ مذہب نہیں، ہم "ایرانی قوم"کو موضوع بنا رہے ہیں، لہذا آپ نے جذباتی بھی نہیں ہونا اور ماتم بھی نہیں کرنا"

آپ نے "اقوام" لفظ تو سنا ہوگا، کبھی تہذیبی اقوام سنا ؟ یہیں سارا راز چھپا ہے-انسانی تاریخ میں کئی قومیں ایسی گزری ہیں جو تہذیب بن گئیں-ان میں سے کچھ بہت قدیم، تو کچھ قدیم اور کچھ اب بھی موجودتہذیب حی لایموت نہیں ہوتی، جلد یا بدیر اس کی موت واقع ہوکر رہتی ہے-جو تہذیبیں مر چکیں ان میں بہت قدیم کی لسٹ میں مایا، اور سندھی تہذیب وغیرہ ہیں جبکہ قدرے قدیم میں یونانی اور رومن تہذیبیں شامل ہیں-جو پرانی تہذیبیں اب بھی زندہ ہیں ان میں سے ایک چائنیز، اور دوسری ایرانی تہذیب ہے جس نے اپنی شکل بد ل لی ہے-اس نے شکل کیسے بدلی ہے یہ آگے چل کر واضح ہوجائے گا

تہذیبی قوم کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ کتنی ہی بری طرح کچل دی جائے، اس کی سانس اگر ابھی چل رہی ہے تو یہ کم بیک کر سکتی ہے-ہم چائنیز تہذیب کا کم بیک تو اپنی نظروں سے دیکھ ہی رہے ہیں-البتہ یہ بات آپ کے لئے شاید نئی ہو کہ ایرانی تہذیب نے دو بار فنا کے دہانے سے کم بیک کیا ہے-یہ جب پہلی بار ایک بڑی طاقت تھے تو انہوں نے بار بار کی شکست کے باؤجود یونانی تہذیب کو مستقل ہدف بنائے رکھا یہاں تک سکندر اعظم نے آکر انہیں تقریبا ًمٹا دیا-آپ نے جیو پالیٹکس میں"مشرق و مغرب کی کشمکش"تو سنا ہی ہوگا ! یہ مذہب سے بھی بڑے لیول کا تصادم ہے جو تہذیبی تصادم کہلاتا ہے !

یہ لفظ پہلی بار جیو پالیٹکس میں یونانی ہی لائے تھے اور اس دعوے کے ساتھ لائے تھے

"مغرب برتر اور مشرق گھٹیا ہے"ان کی حدتک زمینی صورتحال میں یہ دعوی درست تھا

کیونکہ یونانی تہذیب انسانی تاریخ کی ایک غیر معمولی تہذیب رہی ہے-وہ تہذیب جس نے اس "ماڈرن اور منظم علم" کی بنیاد رکھی جس نے دنیا کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا ہے-سکندر نے ایرانی تہذیب کو ایسے وقت میں آکر اجاڑا تھا جب یونانی تہذیب خود موت سے ہمکنار ہونے کو تھی سو ایک دن رومن آئے اور یونانی تہذیب کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیایوں شروع ہوگیا رومن ایمپائر کا دوربیچ میں حضرت عیسی علیہ السلام آئے اور گزر گئے-جلد ہی رومن ایمپائر نے عیسائی مذہب قبول کرکے مذہبی ریاست کی شکل بھی حاصل کرلی-اب یہ صدیوں کا سفر ہے سو خلاصے پر گزارہ کیجئے کہ اسی بیچ ایرانی ایک بار پھر بڑی پاور بن کر کھڑے ہوگئےاور یہی وہ ایرانی پاور ہے جس کے ہاتھوں رومن ایمپائر کی شکست پر سورہ روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اور اللہ کے رسول ﷺ کو خوشخبری دی گئی کہ اداس مت ہوں، جلد رومن پھر غالب آجائیں گے-

ہے نا دلچسپ بات کہ مسلمان ابھی اتنی ابتدائی شکل میں تھے کہ معاشرہ بھی نہ تھے، بس گنتی کے چند تھے جو مکہ کے مشرک معاشرے کا حصہ تھے اور وہ رومن ایمپائر کی شکست پر اداس تھے-کون سوچ سکتا تھا کہ جلد ہی یہ اداس چہرے رومن اور پرشین دونوں ایمپائرز کا ایک ساتھ بھرکس نکال دیں گے !

رومنز اس وقت ہمارا موضوع نہیں، سو آیئے ایران کی طرف-مسلمانوں کے ہاتھوں فارس کی شکست اس کی تاریخ کا دوسرا بڑا سنگین بحران تھا-وہ دوسری بار مٹنے کے قریب پہنچ گئے تھے-یعنی بطور تہذیب انہیں موت حیات کی کشمکش جیسے لمحوں کا سامنا تھا

یہاں ایک اہم نکتہ سمجھ لیجئے !-تہذیبی اقوام کی ایک بڑی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ اس کے آگے سرنڈر نہیں کرتیں جسے خود سے کمتر سمجھتی ہوں اور وہ بھی تعصب نہیں بلکہ دلائل کی بنیاد پریہ محض نسلی تفاخر نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ان کے تہذیبی سفر کی صدیوں پر مشتمل تاریخ کھڑی ہوتی ہے-سو ایسی قوم جب کسی دوسری قوم کو دیکھتی ہے تو اس کی نگاہ یہی ڈھونڈتی ہے کہ اس قوم کی تاریخی لحاظ سے اوقات کیا ہے ؟ اس کی عمر کیا ہے ؟ اس نے کارنامے کیا کیا انجام دیئے ہیں ؟ اس مقام سے جب رستم نے مسلم لشکر کو دیکھا تو اس کے ذہن میں پہلا ہی خیال گویا یہ آیا کہ یہ پھٹیچر لوگ پتہ نہیں کہاں سے اٹھ کر آگئے ہیں !چنانچہ اس کا پہلا ردعمل کیا تھا ؟یہی کہ کھانا، اور کپڑے آفر کرکے گھر لوٹنے کا مشورہ دیدیا-اس کے تو باپ نے بھی نہ سوچا تھا کہ یہ پھٹیچر لوگ ہی ان کی تاریخ کے ایک اہم باب کا تتمہ لکھنے آئے ہیں-اب آپ ایرانیوں کا کمال دیکھئے !

شکست تو ہوگئی لیکن عرب قوم کے آگے سرنڈر نہیں ہوا-انہوں نے اپنی شناخت اور بقاء کے لئے حکمت عملی کیا اختیار کی ؟سنی کے بالمقال شیعہ اسلام کھڑا کرکے اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھنے میں 100 فیصد کامیاب ہوگئے-عربوں کے ساتھ ایک ہی مذہب کی دوسری برانچ بن گئے مگر ان کا حصہ نہیں بنے-اور آپ ہوشیاری کی حد دیکھئے کہ عربوں سے ہی چھین کر رسول اللہ ﷺ کی آل پر اپنی مکمل اجارہ داری قائم کرنے میں بھی پوری طرح کامیاب ہوگئے-جب وہ کہتے ہیں سیدنا حسین کو یزید نے مارا تو ساتھ ہی بنو امیہ کو جوڑتے ہیں کہ نہیں ؟وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟اس اقدام سے وہ عربوں کے سنی حصے کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں-یوں گویا انہوں نے بطور ایرانی یا فارسی تہذیب اپنی الگ شناخت ہی نہ بچائی بلکہ مذہب میں مکمل حصہ داری کو اہل بیت پر اجارہ داری سے مستحکم بھی کر لیا-

اگر آپ کو یہ سب بہت حیران کن لگا ہے تو ذرا دھیرج ! حیرت کا اصل جھٹکا تو اب آرہا ہے-آپ ے "مسلم تہذیب" کا لفظ تو سنا ہوگا ؟ -سنا ہی کیا آپ میں سے ہر ایک اس پر فخر بھی کرچکا ہے-ہم بھی فخر کرنے والوں میں شامل ہیں اور امید کرتے ہیں کہ احیاء جدید ہوگا انشاءاللہ لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ اگر ایران کو بیچ سے ہٹا دیں تو "مسلم تہذيب"کے لئے اپنا وجود باقی رکھنا ہی ناممکن ہوجاتا ہے ؟

بنو امیہ کا دور 70 ، 80 سال پر مشتمل ہے-یہ عباسی دور ہے جو ایک لحاظ سے 500 اور دوسرے لحاظ سے 750 سال تک چلااور جس نے "مسلم گولڈن ایج" کو وجود بخشا

یوں گویا مسلم تہذیب ایک لحاظ سے ایرانی تہذیب کا ہی اسلامی ورژن تھا-ہم یہ بالکل نہیں کہہ رہے کہ سنیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں-مسلم سپین بنو امیہ کا تسلسل تھا، اور عباسیوں کی مہربانی کہ اسے چھیڑا نہیں یوں سائنس اور ماڈرن علوم میں وہاں سے بھی بڑا حصہ مسلم تہذیب کا بڑا پیس بنا مگر کلیدی رول عباسی ایران کا ہی ہے۔فلسفہ، منطق، ریاضی اور طب وغیرہ کے لیجنڈری مسلم نام ایرانیوں کے ہی ہیں۔ یہاں بھی غزالی اور ابن عربی وغیرہ کی صورت سنی اسلام کی نمائندگی موجود ہے مگر کلیدی کردار ایرانیوں کا ہے-یوں آج کی ایرانی قوم بھی جب امریکہ کو اپنے روبرو پاتی ہے تو اسے کوئی سپر طاقت نظر ہی نہیں آتی۔ وہ تہذیبی قوم ہے، اس کے پرکھنے کا معیار ہی کچھ اور ہے

تہذیبی قوم تو سب سے پہلے حریف کی عمر دیکھتی ہے، سو ایرانیوں کو امریکہ فقط ڈھائی سو سال کی عمر والا لونڈا نظر آتا ہے۔ ایک ایسا لونڈا جو عمر میں اس سے 2300 سال چھوٹا ہے

اس کے بعد ایرانی ان کی ثقافت اور کلچر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ کلچر کے نام پر تو ان کے پاس خرد باختگی کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں-اس کے بعد یہ اس کی علمی خدمات پر نظر آڈالتے ہیں تو سوچتے ہیں"اچھا تو سائنس میں یہ بہت ماڈرن ہیں، ہتھیار ہم سے بہتر ہیں، لہذایہ ہمیں مار سکتے ہیں ! تو ٹھیک ہے مر جائیں گے ناں ، مرنا کونسا مشکل ہے ؟ مگر اپنے سے کمتر کے آگے سرنڈر نہیں کریں گے"

جانتے ہیں ہم ایرانی قوم سے جڑے اس راز تک کیسے پہنچے ؟-قرآن مجید نے پہنچایا تھا !

قرآن نے کہا تھا-"وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ"ترجمہ: اور ہم نے تمہیں قوم قبیلوں میں بنایا تاکہ شناخت پاسکو-یوں ایک روز ہم نے طے کیا کہ اقوام کا "تعارف" حاصل کرنا ہے-چائنیز، رشینز، عرب، بنی اسرائیل، پشتون، ایرانی، اور جرمنز وغیرہ کا تعارف حاصل کرچکے-اور یہ سفر ابھی جاری ہے-