تاريخ
ايران پہلے سُنّی تھا
فہد حارث
اسلام کے پرچم کے زیر نگین آنے کے بعد سے ایران ہمیشہ سے ایک سنی المذہب و اہلسنت اکثریتی علاقہ تھا جہاں اہل تشیع کی حیثیت ایک اقلیت کی تھی۔ ملک میں زیادہ تر اہلسنت کا تعلق شافعی اور حنفی مذہب سے تھا۔ایران میں شیعیت کا زور صفوی خاندان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہوا۔ تاہم یہ یاد رہے کہ صفوی خاندان شروع میں شافعی مسلک اہلسنت تھا جس نے بعد میں صوفیت کے زیر اثر شیعیت کو قبول کرلیا تھا۔ صفویوں کے مورث اعلیٰ جناب شیخ صفی الدین تھے جو کہ مسلکاً شافعی صوفی تھے اور شیخ زاہد گیلانی کی خانقاۃ میں شیخ کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے تھے۔ شیخ صفی الدین کے صاحبزادے شیخ صدر الدین تھے اور ان کے صاحبزادے جناب خواجہ علی (المتوفیٰ ۸۳۰ ہجری) تھے جنہوں نے صفوی خاندان میں سب سے پہلے مذہب اثنا عشری قبول کرنے کا اعلان کیا، خواجہ علی صاحب نے نہ صرف مذہب اثنا عشریہ قبول کیا بلکہ اس کے متعصب داعی و مبلغ بھی تھے۔خواجہ علی کے مذہب شیعیت کو قبول کرنے کے بعد ہی صفوی خاندان رافضیت کا پیروکار بنا۔ تاہم اس وقت تک یہ خاندان ملک گیری اور سیاست میں کچھ خاص مقام نہ رکھتا تھا یہاں تک کہ خواجہ علی کے بعد ان کے جانشین شیخ شاہ ہوئے اور شیخ شاہ کے جانشین ان کے صاحبزادے شیخ ضبید ہوئے جنہوں نے شروان شاہ سے اقتدار چھیننے کی اول کوشش کی ۔
تاہم نہ شیخ ضبید اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی ان کے صاحبزادے شیخ حیدر جنہوں نے اپنے مقلدین کو ۱۲کونوں والی سرخ ٹوپی پہننا کا حکم دیا۔ یہ لوگ قزلباش کہلاتے تھے اور ٹوپی کے ۱۲ کونے اثنا عشری مذہب کے بارہ اماموں کی یادگار کے طور پر تھے۔ یہ سب حضرات مذہب شیعیت میں سخت غلو رکھتے تھے، تاہم اقتدار ہاتھ میں نہ ہونے کے سبب کچھ کر نہ سکتے تھے یہاں تک کہ ۹۰۷ ہجری میں شیخ حیدر کے بیٹے شاہ اسمعٰیل صفوی اول کے ہاتھ میں اقتدار آگیا، جس نے مذہب شیعیت کی تبلیغ میں بڑی سرگرمی دکھائی اور لوگوں کو زبردستی شیعیت قبول کرنے پر مجبور کیا۔ جن لوگوں نے شیعیت قبول کی ان کو بڑے بڑے عہدوں اور خلعتوں سے نوازا گیا جبکہ جنھوں نے اس بابت فرمان شاہی ماننے سے انکار کردیا ، ان کی جاگیریں ضبط کرلی گئیں اور ان کو صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ شاہ اسمعٰیل کے بعد اقتدار طہماسپ کے ہاتھ میں آیا، یاد رہے یہ وہی طہماسپ ہے جس کے پاس مغل بادشاہ ہمایوں نے شیر شاہ سوری سے ہزیمت و شکست کھاکر پناہ لی تھی، اور اسی پناہ کے نتیجے میں ہندوستان میں ایرانیوں اور اہل تشیع کی پہنچ ایوان اقتدار تک ہوسکی تھی ۔ طہماسپ صفوی کے مورث اعلیٰ سنی المذہب تھے یہ اتنی عام و مشہور بات تھی کہ عبید خان ازبک جیسے بندے نے اپنے ایک خط میں طہماسپ صفوی کو اس بابت اشارہ کیا تھا کہ "پدرکلاں شما جناب شیخ صفی را ہمچنیں شنیدہ ایم کہ مردے عزیز اہل سنت و جماعت بودہ"۔ گویا ایران کے سر پر سنت کا تاج ہوتا تھا اس وقت جس کو بعد ازاں صفوی دور میں شیعیت کا گہن لگ گیا۔