آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟

مصنف : ابوالحسين آزاد

سلسلہ : تاریخ

شمارہ : اپريل 2026

 تاريخ

آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟

ابوالحسين آزاد

سوشل میڈیا کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے لوگوں نے اب پڑھنا اور تحقیق کرنا چھوڑ دیا ہے اور صرف کسٹمرز کی خواہش پہ تحریری آرڈر تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کی تازہ مثال آبنائے ہُرمز کی وجۂ تسمیہ کا شوشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مشہور عراقی حاکم ہُرمز کے نام پر ہے، جو ساسانی سلطنت کا ایک جرنیل تھا اور عربوں کے عراق پر پہلے حملے میں جنگِ ذات السلاسل میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حالاں کہ آبنائے ہُرمز کا اُس ہُرمز سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہُرمز فارسی کا مشہور لفظ ہے ۔ لغت نامہ دھخدا کے مطابق یہ خدا کا ایک نام ہے، زرتشتی خدائے واحد کو اہورامزدا کہتے تھے، اسی لفظ کی ایک تخفیف ہُرمز بھی ہے۔ نیز یہ لفظ خدا کے علاوہ نیک بختی کے ستارے مشتری، مہینے کے پہلے دن (جسے مبارک سمجھا جاتا) اور جمعرات کے معنی میں استعمال ہواہے۔ فارس میں جگہوں اور اشخاص کے ناموں میں یہ ہمیشہ استعمال ہوتا آیا ہے یہی وجہ ہے کہ ساسانی بادشاہوں کا مشہور و معروف نام رہا ہے۔ اسلام سے پہلے تیسری صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی تک ایران میں ہُرمز نام کے پانچ بادشاہ گزرے ہیں اور اُنھوں نے بھی اپنے ناموں پر بعض شہر آباد کیے۔ ”المحدث الفاصل“ نامی اصولِ حدیث کی معروف کتاب لکھنے والے محدث، انھی بادشاہوں کے آبادہ کردہ ایرانی شہر رام ہُرمز کی نسبت سے ، رامہرمزی کہلاتے ہیں۔

ہُرمز بن ماہان نامی مشہور صحابی بھی ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتۂ ولا کی بنا پر اہلِ بیت میں سے قرار دیا اور صدقہ لینے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے: اسم ہرمز، اسد الغابہ از ابن اثیر اور الاصابہ از ابن حجر) بعد میں بھی یہ نام مسلمانوں میں رائج رہا اور حدیث کے بعض راویوں کا نام بھی ہُرمز ملتا ہے۔(دیکھیے تقریب التہذیب از ابن حجر)۔ ابن ہرمز کے لقب سے شہرت پانے والے ایک تابعی مدینہ کے معروف فقہاء میں سے ہوگزرے ہیں جو امام مالک کے اساتذہ میں سے تھے۔

اب آجائیے آبنائے ہُرمز کی طرف، اس کے نام کے پیچھے ایک پوری عربی سلطنت کی تاریخ کھڑی ہے، جو آج تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔ ایران کے جنوب میں موجودہ شہر میناب کے پاس ایک”ہُرمز“ نام کی بندرگاہ تھی، جہاں سکندرِ اعظم بھی لنگر انداز ہوا تھا ۔ بی بی سی  فارسی کے مطابق اِس نام کی قدامت کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے سائرسِ اعظم ہی کے زمانے سے یعنی 600 قبل مسیح سے ہُرمز کہا جاتا ہے، جب کہ دوسری روایت کے مطابق اسے ساسانی عہد میں پانچ ہُرمز نامی بادشاہوں کے عہد میں ہُرمز کہا جانے لگا۔ کیوں کہ تب یہ اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

ابن خرداذبہ تیسری صدی ہجری کا جغرافیہ دان ہے، تب سندھ تک پورا خطہ عربوں کے اقتدار میں تھا، اس نے تب بھی اس شہر کا نام ہرمز ہی ذکر کیا۔ ادریسی نے نزهة المشتاق میں ہرمز نام کے متعدد شہر گنوائے ہیں اور ساحلی ہرمز کا مفصل حال بیان کیا ہے۔

اسلامی فتوحات کے بعد بارھویں صدی عیسوی میں یہاں ایک عرب سردار نے سلطنت قائم کی۔ جو خلیج میں عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت تک پھیل گئی۔ اس کا دار الحکومت یہی ہُرمز شہر تھا۔ یہ عربی سنی بادشاہت تھی جو تقریبا چار سو سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی، اور تاریخ میں مملكة هرمز کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے بادشاہوں کو مُلوکِ ہُرمز کہا جاتا تھا۔ چودھویں صدی میں منگولوں کے حملوں کی وجہ سے اس ساحلی شہر ہُرمز کو چھوڑ کر آبادی آبنائے میں موجود جزیرے میں آباد ہو گئی اور اس جزیرے کا نام ہُرمز رکھ دیا۔ یہی جزیرہ ازاں بعد دار الحکومت بنا اور تاریخی، ثقافتی اور تجارتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ سولھویں صدی میں پرتگالی استعمار کے ہاتھوں سلاطینِ ہُرمز کی اس سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ (دیکھیے ابراہیم بشمی کی کتاب: مملكة هرمز)

ہرمز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا اگر انگوٹھی ہے تو ہرمز اس کا نگینہ، مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں اسے مشرق کے تین اہم ترین خطوں میں شمار کیا۔ ہرمز کی فراوانی اور مال و دولت کے چرچے قرونِ وسطی کے یورپ میں اتنے مقبول تھے کہ جان ملٹن نے "فردوسِ گم گشتہ" میں ہندوستان اور ہرمز کی دولت کو بطور ضرب المثال بیان کیا: The wealth of Ormus and of Ind

مکرر یاد دہانی کہ یہ ایک عربی سنی سلطنت تھی جس کا نام مملکتِ ہرمزیہ تھا، اور اس کے دار الحکومت کا نام ہُرمز تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اس جزیرے میں موجود اس شہر کی ساری آبادی آج بھی سنی ہے اور عربی، بلوچی اور فارسی زبان بولتی ہے۔ اسی سلطنت اور اس کے مشہور شہر کی وجہ سے آبنائے ہُرمز کا نام ہُرمز پڑا۔ اس کا اُس ساسانی عراقی ہُرمز سے ایسے ہی کوئی تعلق نہیں جیسے عبد الرحمن الداخل کا عبد الرحمن بن ملجم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

برصغیر کے لوگوں کو دین تو اپنی سادہ عربی میں پسند نہیں آ سکا اور سینکڑوں سالوں کے تسلسل میں مسلسل اسے سناتنی رسوم سے رنگین کرتے رہے، حتی کہ ذات پات اور مطلقہ و بیوہ خواتین کے تاحیات تجرد جیسی غیر انسانی رسوم تک کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا اور آج تک ان کے اثر سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر پائے لیکن انھیں علاقوں اور جگہوں کے ناموں کے ختنے کرنے کا شدید شوق ہے۔

ان کے خیال میں اعتقادی، اخلاقی اور سماجی سطح پر عہدِ جاہلیت کی مشرکانہ رسوم باقی رہیں تو اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مٹی اور پتھروں میں ماضی کا کوئی نقش سلامت نہیں رہنا چاہیے، تاریخ کو مکمل سپاٹ بنا دیا جائے اور ماضی کو ہماری خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بامیان میں بدھا کے ہزاروں سالہ پرانے یادگاری مجسمے گرنے پہ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں اور مصر میں میوزیم کھلنے پہ سر پیٹتے ہیں۔بی جے پی کی طرح ان کی نظر میں علاقوں کے نام بدلنا بڑا کارنامہ ہوتا ہے، آپ بے شک آبنائے ہرمز کو کل سے آبنائے مادھو لال یا آبنائے ٹرمپ کہنا شروع کر دیں۔