تاريخ
سسکتا بلکتا اور سلگتا" اہواز "
وسيم المحمدی
ایرانی سیاست اور فارسی ریاست کے نفاق ودہشت گردی کا نقطہ عروج
محل وقوع او رجغرافیائی حیثیت:
اہواز خلیج عربی کے مشرقی پٹى پر واقع ایک انتہائی زرخیر اور طبیعی دولت سے مالا مال ملک ہے، جو جنوب عراق سے مضیق ہرمز تک پھیلا ہوا ہے. اور یہ ایران کے مغربی حصہ میں واقع ہے، گویا کہ ایران خلیج عربی کے اہم ترین سمندری حصہ پر اہواز ہی کے راستے براہ راست آ سکتا ہے، اور یہ اہواز کے استعمار اور اس پر ایرانی قبضے کا ایک بہت بڑا سبب ہے.
خلیج عربی کے مشرقی پٹى پر ہونے کیوجہ سے اس کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ یہ عرب سنیوں کا علاقہ ہے، اور اس کے بالمقابل خلیج عربی کے مغربی پٹى پر عرب ممالک ہیں، لہذا اس اعتبار سے خلیج عرب کی یہ پٹى دونوں طرف سے عرب سنیوں سے گھری ہوئی ہے. ایک طرف اہوازی سنی عرب ہیں، اور دوسری طرف عراق کا جنوبی حصہ اور دیگر عربی ریاستیں ہیں، ایسی صورت میں اہواز کی مضبوط اسٹراٹیجک پوزیشن بہت واضح طور سے نظر آتی ہے.مزید اللہ رب العزت کا اس پر ایک خاص فضل یہ ہے کہ اہواز کا پورا علاقہ طبیعی دولت سے مالا مال ہے، اور عرب سنیوں کی یہ سرزمین اپنے سینے میں پٹرول اور گیس کے بیش بہا خزینے سموئے ہوئے ہے- یہ اکثر لوگ جانتے ہيں کہ ایران تیل نکالنے والے ممالک میں سرفہرست ملک ہے، مگر یہ جان کر بہت سے لوگوں کو تعجب ہوگا کہ ایران میں نکلنے والے تیل کا 90% حصہ اہواز سے نکلتا ہے جو کہ عرب سنیوں کا علاقہ ہے، یہی نہیں اہواز میں پایا جانے والا قدرتی گیس کا ذخیرہ روس کے بعد دنیا میں پائے جانے والے گیس کے ذخائر میں دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے- اسی طرح ایران کے زیر استعمال میٹھے پانى کا دو تہائی حصہ اہواز کے حدود میں ہے۔
گویا کہ ایران کی پوری اقتصادی زندگی اہواز کی سرزمین سے جڑی ہوئی ہے، اور اہواز ایران کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے. مگر افسوس کہ نہ صرف ایران کی رافضی اور مجوسی حکومت اس خیرات سے اس کے اصل حق داروں کو محروم رکھ کر خود اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہے، بلکہ اس عربی اور سنی سرزمین سے نکلنے والے خزانوں کا بھر پور استعمال پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور سنیوں کا قتل عام کرانے میں کر رہى ہے.
اہواز کا کل رقبہ تین لاکھ پچہتر ہزار (375000) مربع کیلو میٹر ہے، اور اس کی آبادی تقریبا ایک کروڑ ہے، تقریباً ایک کروڑ کی یہ آبادی ان عرب سنیوں پر مشتمل ہے جو ان مشہور عربی قبائل کا حصہ ہیں جن کے نام سے عرب قبیلے جانے پہچانے جاتے ہیں، چنانچہ اہواز اپنے اندر بنی کعب ،بنی تمیم، بنی اسد ،بنی مرہ اور خزرج کے ان سپوتوں کو سموئے ہوئے ہے جو عربوں کی شان اور ان کی پہچان ہیں، اور شجاعت وبہادری میں جن کے قصے زبان زد عام ہیں. جب آپ اہواز میں داخل ہوں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ عراق میں ہیں، وہاں کے لوگوں کی بول چال، رہن سہن، قد وقامت، رنگ بو سب کا سب عربی ہے، اور ایران کى جابرانہ پالیسی اور ظالمانہ نظام کے باوجود ان کا عربی وسنى تشخص بہت حد تک اب تک برقرار ہے۔
اہواز کا ایک معروف نام عربستان بھی ہے جو کہ ایرانیوں کا ہی دیا ہو ا ہے، شاہ اسماعیل صفوى کے دور میں اس کا یہ نام پڑا، اس نام سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خود ایرانیوں کے یہاں بھی یہ ایک مستقل عربی اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا، مگر اس کے اہم محل وقوع اور اس کی سرزمین میں موجود خزانوں نے اس کو سازشوں کا شکار بنا کر فارسی رافضی حکومت کے جبر واستبداد کے تابع کردیا.
گویا کہ یہ مکمل عربی سنی علاقہ بلکہ ملک ہے، جس پر ایران نہ صرف اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہے، بلکہ وہاں پر موجود ثروات کے بل بوتے پر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو فروغ دینے میں مصروف، اور پوری دنیا خصوصا ًمشرق وسطى میں دہشت گردی پھیلانے میں مشغول ہے-
مصیبت کا آغاز:
اہواز دراصل ایک مستقل اسٹیٹ تھا جو کہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا، اور یہاں پر موجود عربی قبائل کے اتفاق ورضامندی سے ان کا ایک مستقل امیر ہوا کرتا تھا جو دولت عثمانیہ سے براہ راست رابطے میں رہتا تھا، خلافت عثمانیہ کے زوال پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ اہواز بھی تقریباً ایک مستقل ملک کی شکل اختیار کر گیا. جن کا اپنا مستقل حاکم ہوا کرتا تھا جس کا تعلق بنو کعب سے ہوتا تھا.اس کی مصیبت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب روس نےاپنى سلطنت کو وسیع کرنا شروع کردیا، اور برطانیا کو یہ خوف ہوا کہ کہیں روس خلیج عربی کے پانیوں میں پہنچ کر اس کے وجود اور مطامع ومصالح کو خطرہ میں نہ ڈال دے، لہذا اس کو اس علاقے میں ایک مضبوط پارٹنر کی ضرورت محسوس ہوئی، جو کہ ایران سے زیادہ کوئی مناسب نہ تھا۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ خلیج عربی کا مشرقی کنارہ مکمل طور سے اہواز سے جڑا ہوا تھا، اور ایران اور اس کنارے کے درمیان اہواز حائل تھا، برطانیا نے بہت کوشش کی کہ اہواز ایران سے الحاق کرلے تاکہ اس کے مصالح اس علاقے میں محفوظ ہو جائیں، اور ایران کو اس علاقے کی چوکیداری دے کر روسى مطامع کے آگے بند باندھ دی جائے، مگر چونکہ اہوازی عرب ان رافضیوں کو اچھى طرح جانتے تھے، اور بھلا عربوں سے بہتر انھیں کون جان سکتا ہے؟ لہذا اہواز کے حاکم وقت شیخ خزعل بن جابر الکعبی کسی طرح سے اس پر تیار نہ ہوئے، اور انھوں نے صاف لفظوں میں برطانیہ کو بتا دیا کہ عرب سنیوں کا یہ علاقہ کسی صورت ایران کی مجوسی صفوى حکومت سے الحاق نہیں کرسکتا۔ برطانیہ کو یہ جواب پسند نہ آیا، اور اسکی ماکرانہ اور خبیثانہ سیاست نے ایک نئی سازش رچ ڈالی۔چنانچہ سب سے پہلے برطانیانے ایران کو اہواز کی اسٹراٹیجک حیثیت سے بخوبی آگاہ کرایا، اور اس میں موجود بیش بہا خزانوں کى حقیقت اور مستقبل میں اس کى حیثیت سے روشناش کراکر اس کے طمع میں مزیداضافہ کیا، ایران کی صفوى حکومت تو کب سے اہواز پر نظر رکھے ہوئی تھى، برطانیہ کی شہ نے اسے اہواز پر قبضہ کے لئے سب کچھ کر گزرنے پر تیا رکردیا، چنانچہ وہ خونی پلان ترتیب دیا گیا جس کے نتیجے میں اہواز خاک وخون میں نہا کر ایران کى صفوی حکومت کے ما تحت آگیا۔
جب برطانیہ نے دیکھا کہ اہواز کے امیر شیخ خزعل بن جابر الکعبی کسی طرح اس کے دام فریب میں آنے والے نہیں ہیں تو اس نے 1925م میں ایک خطرناک چال چلی اور برطانوی قونصل جرنل کے الوداعی تقریب میں شیخ خزعل کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا۔ جب شیخ خزعل پروگرام میں آئے تو پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق انھیں اور ان کے بیٹے کو گرفتار کرکے ایران کے حوالہ کر دیا، جہاں دس سال سے زیادہ قید وبند اور ظلم وستم کے بعددونوں باپ بیٹے زہر دے کر مار دیئے گئے۔
اس دوران ایران کی پوری کوشش رہی کہ کسی طرح شیخ خزعل اہواز کے الحاق پر راضی ہو کر رسمی طور سے اس پر دستخط کردیں، تاکہ ایران قانونی طور سے اہواز پر قبضہ کرلے، مگر جب وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے، تو انھیں اور ان کے بیٹے کو زہر دے کر مار دیا گیا۔اس دوران ایرانی فوجی اپنی مکمل دہشت گردی کے ذریعے اہواز پر اپنا مکمل قبضہ کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے، یہاں تک کہ اس پر مکمل طور سے قابض ہو گئے۔
یہاں سے اہواز پر ظلم وستم کا ایک نیا دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اہوازی عربی سنیوں پر ہو رہے ایرانی اور فارسی مجوسی مظالم اس قدر دردناک اور ہولناک ہیں کہ انھیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آجائے، آئے دن ان کے نوجوانوں کو مختلف بہانوں سے گرفتار کیا جاتا ہے، مختلف حیلوں اور بہانوں سے انھیں پھانسیاں دے دی جاتی ہیں، کتنے اہوازی ایسے ہیں جن پر بنا کوئی مقدمہ چلائے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے، اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا.
مظالم کی ایک طویل داستان:
اہوازی عربی سنیوں پر ایرانی مظالم کی داستان بہت طویل ہے، یہاں مختصراً چند مظالم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں تاکہ قاری یہ جان سکے کہ ایران کی رافضی مجوسی حکومت کا سنیوں کے تعلق سے عموما ًاور عرب سنیوں کے تعلق سے خصوصا کیا رویہ رہا ہے، اور تاکہ ہم یہ اچھی طرح جان لیں کہ جو کچھ لبنان عراق سوریا اور یمن میں ہو رہا ہے یہ ایک ہی فکر کا نتیجہ ہے، اور وہ ہے رافضی اور فارسی مجوسی فکر جو سنیوں کی ازلی دشمن اور ان کا عدو لدود ہے.
• ایران نے اہواز پر قبضہ کرنے کے بعد اسے حرس ثوری (ایرانی افواج کا اہم ترین رکن) کے حوالے کر دیا جنھوں نے وہاں پر جبر واستبداد کی تمام سنتیں تازہ کردیں، جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کرکے، اور فوجی چوکیاں وتفتیشی اڈے بنا کر اہواز کو جیل میں تبدیل کردیا، اور اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو کچلنا اپنے فرائض میں داخل کرلیا.
• عربی اہوازی سلطنت کے تمام سیاسی اداری اور عدالتی محکموں کو ختم کردیا گیا، تاکہ اس کی جگہ ایرانی سلطنت کے تمام ادارے لا ئے جائیں، اور اس طرح اہواز کو مجوسی اور فارسی ملک میں تبدیل کر دیا جائے. یہی حال ماضی قریب میں عراق کا ہوا جہاں ایران کے مجوسیوں اور ان کے ہم نوا رافضیوں کے تعاون سے امریکہ داخل ہوا، اور داخل ہوتے ہی ایران واسرائیل کی خواہش کے مطابق صدام کے دور میں قائم تمام اداروں کو ختم کرکے مجوسی اداروں کو ان کی جگہ لایا گیا تاکہ ایرانی مجوسی اور اس کے ہم نوا رافضی وہاں پوری طرح اپنا قدم جما سکیں، اور عربی تشخص کو پوری طرح ختم کیا جاسکے، اور ان نجس مجوسیوں اور ان کے ہم نوا رافضیوں کے ذریعے سنیوں کا قتل عام کیا جاسکے. کل یہی کھیل اہواز میں کھیلا گیا تھا، اور یہی آج عراق میں کھیلا جا رہا ہے.
• عربوں کو ان کے ہر چھوٹے بڑے حقوق سے محروم کردیا گیا، نہ تعلیم نہ صحت، اور نہ دیگر سہولیات، اور آج بھی جب ایران کا سارا بجٹ اہواز سے نکلنے والے تیل اور گیس کی مرہون منت ہے، وہاں رہنے والے اہوازی عام سہولیات اور اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں.
• اہواز کے مختلف حصوں کو اس سے الگ کرکے دیگر فارسی صوبوں سے جوڑ دیا گیا تاکہ ان کے اثر اور ان کی طاقت کو کم کیا جاسکے.
• کتنے ہی عربوں کو نہایت منظم انداز میں ان کی زمینوں سے بے دخل کرکے فارسی رافضیوں کو وہاں بسا دیا گیا، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، تاکہ ایک خالص سنی عربی علاقے میں جگہ جگہ ان فارسی مجوسیوں کو بیٹھا کر ان سنیوں کے سروں پر مسلط کیا جاسکے.
• اہواز کے اندر ہر طرح کی چھوٹی بڑی نوکریوں تجارتی مراکز ودیگر خدماتی اداروں پر فارسی مجوسیوں کو بیٹھا کر وہاں کے عرب سنیوں کو بالکل بے دخل کر کے تمام طرح کی سرکاری نوکریاں انھیں مجوسیوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، یہ نہ صرف اہواز پر پوری طرح اقتصادی قبضہ کئے ہوئے ہیں بلکہ وہاں کے اصل باشندے ان کے ہاتھوں اس طرح سیاسی سماجی اقتصادی اور امنی ناحیے سے یرغمال بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کی پناہ! انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک جیل میں مقید ہیں، اور مجوسیوں کے ہاتھوں میں وہ مجبور محض ہیں.
• یہی نہیں عربوں کو ان کی زرعی زمینوں سے بے دخل کرکے انہیں فارسی مجوسیوں اور رافضیوں کے حوالے کر دیأ گیا، اور ان عربوں کے لئے زرعی زمینیں خریدنا ممنوع قرار دے دیا گیا.
• اس فارسی حکومت کی سرپرستی میں اہوازی نوجوانوں کے اندر نہایت منظم انداز میں نشہ آور ادویات، اور اخلاقی گراوٹ کو رواج دیا گیا تاکہ وہ بدمست ہو کر برباد ہوجائیں، اور ان مجوسیوں کے ہاتھوں ہمیشہ مجبور ولاچار بن کر رہ جائیں.
• شاید بات اتنی ہی ہوتی تو کچھ کم لگتی کہ استعماری قوتیں ہمیشہ اس طرح کے ہتھکنڈے اپنے دشمنوں کے ساتھ اپناتی ہیں، مگر یہاں تو مسئلہ فارسی مجوسیت اور عربی سنیت کا تھا، اور ایران کو جس طرح سنیوں سے مذہبی بغض ہے، اسی طرح ان فارسی مجوسیوں کو عربوں کی عربیت سے بغض ہے، یہی وجہ ہے کہ اہواز کے عربوں کا عربی تشخص اور عربی تہذیب وتمدن ختم کرنے کے لئے ایران نے ہر وہ ہتھکنڈہ اپنایا جو اپنایا جا سکتا تھا اور دیگر کئی ابواب کی طرح اس باب میں بھی اسرائیلیوں سے سبقت لے گئے:
• چنانچہ عرب اہوازیوں کو ان کے بچوں کا عربی نام تک رکھنے سے منع کیاگیا، خاص طور سے مشہور صحابہ کرام کا نام رکھنا جرم قرار پایا، چنانچہ ابو بکر عمر عثمان عائشہ جیسے نام رکھنا مشکل کر دیا گیا، بلکہ بے شمار لوگوں کا عربی نام بدل کر جبراً فارسی نام رکھ دیا گیا.
• ان عربوں کو ان کا مخصوص قومی لباس –مثلا جبہ عقال وغیرہ- تک پہننے سے منع کیا گیا، اور اگر یہ اس لباس میں کسی سرکاری ادارے میں چلے جائیں تو ان کی تنقیص وبے عزتی اورتذلیل وتحقیر کو اس طرح سے رواج دیا گیا کہ یہ دوبارہ اس کا رخ نہ کریں، یا پھر فارسی لباس پہن کر جائیں. یہی حال مارکيٹوں اور عام شاہراہوں کا ہے.
• ان عربوں کو ان کے مخصوص مہمان خانوں اور عام اجتماع گاہوں میں جمع ہونے سے روک دیا گیا، اور ہفتہ واری زیارتیں اور مہمان نوازی جو عربوں کا شعار ہے یہ اس سے بھی دور کر دیئے گئے.
• عربی زبان میں تعلیم بلکہ گفتگو تک پر پابندی لگادی گئی، چنانچہ تمام تعلیمی ادارے فارسی ہیں، اور پورے اہواز میں ایک بھی سرکاری تعلیمی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں کا طریق تعلیم عربی ہو.
• عربی قومیت کا اعتراف سرکاری طور سے خارج قرار پایا، چنانچہ گورنمنٹ کے یہاں ایران میں کوئی عربی قوم رسمی حیثیت کی حامل نہیں ہے.
• عربی زبان کو ملک تو درکنار اہواز میں بھی سرکاری درجہ نہیں دیا گیا، اور تقریباً ایک کروڑ کے عربی سنی عوام پر فارسی زبان کو لاد دیا گیا، اور انھیں ان کے آباء واجداد، اور قرآن وسنت کی مبارک زبان سے قانوناً دور کر دیا گیا۔ ایک طرف تو یہ حال ہے، دوسری طرف عراق جیسے خالص عربی ملک میں ان رافضیوں اور مجوسیوں کا یہ مطالبہ ہے کہ فارسی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ مل جائے، چنانچہ منافقت کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف عراق میں اس حجت سے کہ یہاں کچھ فارسی نژاد بستے ہیں فارسی کو پورے ملک کا سرکاری زبان قرار دینے کا مطالبہ ہے، دوسری طرف اہواز جہاں تقریباً ایک کروڑ عرب سنی بستے ہیں اور جو ان کا اپنا علاقہ اور ملک ہے، وہاں کی سرکاری زبان فارسی ہے، اور ملک تو درکنار، اہواز کے اس علاقے میں بھی عربی زبان کو کوئی سرکاری حیثیت نہیں دی گئی ہے۔
• اہواز سے عربی تشخص کو ختم کرنے کے لئے وہاں کے شہروں بستیوں اور مختلف علاقوں کے عربی ناموں کو بدل کر فارسی نام رکھ دیا گیا ہے، اور ہر وہ چیز جس سے عربیت کی خوشبو آئے اسے فارسی رنگ دے دیا گیا ہے۔
• اہواز کے اندرمختلف محکموں اور عدالتوں میں عربی زبان کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا، اور کسی عربی کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ عربی میں اپنا قضیہ پیش کر سکے، بلکہ اس کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ کوئی مترجم لے کر آئے اور اپنا مدعا بیان کرے، بلکہ اس پر واجب کر دیا گیا کہ وہ فارسی زبان میں اپنا مدعا پیش کرے ورنہ مدعا کی کوئی حیثیت نہیں.
• فارسی عنصریت اور بدبودار مجوسی عصبیت کو سرکاری درجہ دے دیا گیا، چنانچہ ایک فارسی کے سامنے ایک عربی کی کوئی حیثیت نہیں رکھی گئی، اور نتیجہ یہ ہے کہ کوئی فارسی اگر کسی اہوازی عربی کا کچھ ہڑپ لے تو سرکاری سطح پر اس کی کو ئی شنوائی نہیں ہوتی.
• جس طرح اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر مسلسل یہودی کالونیاں بنانے میں مصروف ہے، ٹھیک اسی طرح ایران کی رافضی حکومت اہواز میں عربوں کی سرزمین پر فارسی الاصل رافضیوں مجوسیوں اور ملحدوں کی کالونیاں بنانے میں مصروف ہے، تاکہ عربوں کے اکثریتی وجود کا مقابلہ کیا جاسکے، اس پر مستزاد یہ کہ عموما ًیہ رافضی مسلح ہوتے ہیں اور ایرانی فوج اور پولیس ان کے پشت پر ہوتی ہے جس کی بنا پر یہ اہواز ی عربوں کے حقوق بخوبی ہڑپ کرتے رہتے ہیں.
اور آج کل تو ایران کی رافضی حکومت اس اسرائیلی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اہواز میں نئی نئی کالونیوں کی زور وشور سے منظورى دے رہی ہے، تاکہ آبادی کے حقیقی توازن پر کاری ضرب لگا سکے.
• فارسی صفوی تسلط کے بعد سے ہی اہوازی سنیوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے، اور ہر وہ اہوازی جو دین پسند، یا قیادی ذہنیت کا مالک ہے وہ فارسی حکومت کی نظر میں مجرم ہے، اور اس طرح اس عربی نسل کو منظم انداز میں پامال کیا جارہا ہے. بلکہ خمینی انقلاب کے بعد جب ایران پر متعہ باز مُلاوں کا قبضہ ہو گیا تب سے اس میں خوفناک حد تک شدت آگئی ہے، چنانچہ اہواز کے نوجوانوں کو یومیہ کے حساب سے پھانسیاں دینا معمول کا حصہ بن چکا ہے، اور ہر وہ اہوازی سنی جو دین پسند، یا اہواز کے تعلق سے درمند دل رکھتا اور اس جبر واستبداد کے بارے میں سوچتا ہے وہ ناقابل معافی مجرم ہے. ایران کی جیلیں ان عربوں سے پٹی پڑی ہیں، انہیں ان کی عورتوں اور بچوں سمیت قید میں رکھا جاتا ہے، چنانچہ آج کتنی ہی اہوازی عورتیں اپنے بچوں سمیت جیلوں میں سڑ رہی ہیں اور ان کا کوئی پر سان حال نہیں!
چنانچہ ان غیور عربوں کی جان ان کا مال ان کی عزت کچھ بھی محفوظ نہیں، سب ان مجوسیوں اور رافضیوں کے رحم وکرم پر ہے، انھیں قانوناً کم اور غیر قانونی طور سے زیادہ مسلسل قتل کیا جارہا ہے، ان کے لئے اس فارسى مجوسی حکومت نے اس طرح کے قوانین وضع کئے ہیں جس طرح کبھی نصرانیوں نے اندلس میں مسلمانوں کے لئے وضع کئے تھے۔
البتہ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ انتہائى درجہ کے ظلم وستم اور جبر واستبداد کے باوجود ان جانباز اور باغیرت عربوں نے ہار نہیں مانی ہے۔ ان کا شعور بیدار اور ضمیر زندہ ہے۔ نہ تو ان کا حوصلہ پست ہوا ہے، اور نہ ہی وہ مایوسی کا شکار ہوئے ہیں، چنانچہ استعمار کے روز اول سےآج تک انھوں نے اپنے اوپر نہ ایران کی حکومت کو قبول کیا، اور نہ ہی خود کو ان کے زیر نگیں تسلیم کیا ہے. لہذا اس رافضی مجوسی حکومت کے خلاف ان کی جدو جہد روز اول سے ہی جاری وساری ہے، جس کے چند نمونے درج ذیل ہیں:
1925م ہی میں اس فارسی احتلال کے فقط تین مہینے بعد ہی اہوازیوں نے انقلابی قدم اٹھالیا، اور اپنى آزادی کے لئے منظم انداز میں کوششیں شروع کردیں، چنانچہ اسی سال ان کی پہلی انقلابی کوشش ہوئی جس کو ایران نے پوری قوت سے کچل دیا۔
اس کے بعد 1928م میں محی الدین زبیق کی قیادت میں آزادی کے یہ متوالے اٹھے اور انھوں نے اپنی ایک مستقل حکومت بھی تشکیل کر لی جو چھ مہینوں تک چلی، اس انقلابی کوشش کو (انقلاب حویزہ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پھر 1940م اور 1943م میں بھی انھوں نے آزادی کی ناکام کوشش کی لیکن ایرانی طاقت کے ذریعے کچل دیئے گئے۔
1944م میں تو شیخ عبد اللہ بن شیخ خزعبل اس انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے محمرہ شہر پر قابض ہوگئے اور اپنے والد کے شاہی محل میں داخل ہو گئے۔ پھر 1945 میں جب ایرانی حکومت نےان عربوں کو عربی لباس پہننے اور ہتھیار رکھنے سے منع کیا تو یہ ان کے خلاف ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔
اس کے بعد 1946م میں عبادان میں ان عربوں نے (حزب السعادۃ) نامی ایک جماعت تشکیل دی جس کا ہدف یہ تھا کہ عربی تشخص کی حفاظت کی جائے، اور عربوں کو دیگر اقلیات کی طرح ان کے جائز حقوق ملیں، انہیں مختلف قسم کی ادبی وثقافتی محفلوں کے انعقاد کی اجازت دی جائے، اسی طرح ان کو عربی جرائد ومیگزین نکالنے کی اجازت ملے، اور ان کا نصاب تعلیم عربی زبان میں ہو تاکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی عربی تہذیب وثقافت کو ساتھ لے کر چل سکیں.مگر اس کے جواب میں ایران اور برطانیا نے مل کر وہ حرکت کی کہ اہواز ی دہل کر رہ گئے، چنانچہ انھوں نے وہاں پر لا کر بسائے گئے فارس نژاد رافضیوں کو جو اسلحوں سے لیس تھے کھلی چھوٹ دے دی، تاکہ وہ چن چن کر ایسے لوگوں کا صفایا کردیں جو اس طرح کا شعور رکھتے اور اس کے لئے کوششیں کر تے ہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ اس تنظیم سے جڑے لوگوں کو خاص طور سے ٹارگٹ کیا گیا، اور یا تو وہ قتل کر دیئے گئے یا پھر انھوں نے بھاگ کر جان بچائی، اور قتل وغارت گری اور لوٹ مار کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک یہ تنظیم بکھر کر ختم نہ ہوگئی.
اس سے ددردناک کہانی وہ ہے جو ان عرب اہوازیوں کے ساتھ 1979م میں پیش آئی، جب خمینی نے آتے ہی اپنے ابتدائی دور میں ان سے وہ سلوک کیا کہ آج تک یہ اس کو بھلا نہیں پائے ہیں.قصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ جب خمینی نے اپنے انقلاب کے لئے کوششیں شروع کیں تو اس نے اہواز (عربستان) کے عربوں سے بڑے بڑے وعدے کئے، اور انھیں خوب سہانے خواب دکھلائے ، اور یہ باور کرایا کہ انقلاب آنے کے بعد جب وہ صفوی سلطنت سے نجات پاجائیں گے تو ان کی تقدیر بدل جائیگی، اور ان کو مکمل آزادی اور اپنے تمام حقوق کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہوگا. نتیجہ یہ نکلا کہ ان اہوازیوں نے خمینی انقلاب کا بھر پور ساتھ دیا، یہاں تک کہ خمینی ایران کے تخت پر براجمان ہوگیا.
جب خمینی انقلاب کامیابی سے دوچار ہوا تو ان اہوازیوں نےخوب خوشی منائی، اور اپنا ایک وفد خمینی کے پاس بھبجا جو درج ذیل مطالبات لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوا:
1- اہوازیوں کو فارسی کی طرح عربی زبان میں گفتگو کرنے اور مختلف معاملات میں اسے استعمال کرنے کی سرکاری طور سے اجازت دی جائے.
2- ان کے لئے ایسے مدارس ہوں جہاں کا نصاب تعلیم فارسی کے ساتھ ساتھ عربی بھی ہو.
3- انھیں مختلف قسم کی تنظیمیں بنانے کی اجازت دی جائے.
4- انھیں عربی زبان میں پرچے اور میگزین نکالنے کی اجازت دی جائے.
اس وفد کو یہ خوش فہمی تھی کہ حسب وعدہ خمینی ان کے مطالبات فوراً مان لے گا، اور اس نام نہاد انقلاب کے لئے انھوں نے جو کاوشیں کی ہیں اس کا انھیں کم از کم اتنا بدلہ تو ضرور دے گا.
مگر جواب میں جو کچھ ہوا وہ ان کے تصور سے بالا تر تھا، خمینی نے فوراً عربستان کےفوجی حاکم کو جو کہ بحرى فوج کا کمانڈر بھی تھا حکم دیا کہ وہ اپنى فوج کے ساتھ اہوازیوں پر عذاب بن کر نازل ہو، چنانچہ اس نے ایک ہی دن میں سو (100) اہوازی نوجوانوں کو قتل اور تقریبا ًپانچ سو (500) کو گرفتار کرلیا، یہ واقعہ 29 مئی 1979 کو پیش آیا، جسے اہوازی آج بھی (یوم الأسود) یعنی روز سیاہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ایک وہ سیاہ دن تھا اور ایک آج کا دن کہ ان اہوازیوں کی مصیبتیں کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتی ہی گئیں۔ جس خمینی انقلاب کو وہ اپنے لئے خوش آئند سمجھ رہے تھے اور جس کے لئے انھوں نے کافی جدو جہد کی تھی، وہ ان کے لئے پہلے سے بد تر حکومت ثابت ہوئی۔
آج حالت یہ ہے کہ وہ خالی ہاتھ ہر طرح کی سیاسی سماجی تعلیمی وطبی سہولیات سے محروم ہیں، اور ایران کی مجوسی حکومت پوری طرح سے یہ کوشش کر رہی ہے کہ ان عربوں کی تہذیب وثقافت دین وعقیدہ مکمل طور سے تاراج کرکے اسے فارسیت ومجوسیت کا رنگ دے دے، اور نہ ان کا مذہب رہے، اور نہ ان کی تہذیب رہے، نہ ان کا عقیدہ رہے، اور نہ ہی ان کی ثقافت رہے، اور مختصر یہ کہ وہاں عربی تو رہیں مگر عربیت بالکل نہ رہے!.
ان فارسیوں کےسنیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم صرف اہوازی سنیوں تک محدود نہیں، بلکہ اہواز دراصل سنیوں پر ڈھائے جانے والے ایرانی مظالم کا ایک نمونہ ہے، ورنہ یہی حال وہاں پر بسنے والے بلوچی اور کردی سنیوں کا بھی ہے، مگر چونکہ فارس النسل رافضیوں کو عرب سنیوں سے ایک خاص قسم کا بغض ہے، اس لئے اہوازی کچھ زیادہ ہی مظالم کا شکار ہیں.
آج جب ہم اہواز کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، اور وہاں پر موجود سنیوں کے حالت زار کا مطالعہ کرتے ہیں، اور پھر ایران کی ان بداعمالیوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو اس نے ایران سے باہر سنیوں کے خلاف اور رافضیوں کے حق میں روارکھی ہیں تو ایرانی حکومت کا نفاق اور فارسی ریاست کی دہشت گردی کھل کر سامنے آجاتی ہے.
آج اہواز سسک رہا ہے بلک رہا ہے، مگر افسوس کہ کوئی اس کا آنسو پوچھنے والا نہیں، آج اہواز زخمی زخمی ہے مگر افسوس کہ صحیح معنوں میں اس کے زخموں پر کوئی مرہم رکھنے والا نہیں، آج اہواز ایرانی ظلم وبربریت کے خلاف سلگ رہا ہے مگر افسوس کہ اس چنگارى کو کوئی شعلہ بنانے والا نہیں۔
حقوق انسانی کی وہ مختلف تنظیمیں جو بلی اور چوہا مرنے پر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں وہ ٹک ٹک دیدم کچھ نہ شنیدم کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہیں۔ وہ نفاق زدہ تنظیمیں جنھیں عورت کا حجاب تو بوجھ لگتا ہے، مگر اس کے پاؤں میں پڑی ثقیل بیڑیاں انھیں نظر نہیں آتی، جو عورتوں کواگر ڈرائیونگ کی اجازت نہ ملے تو اسے اس کی آزادی کے منافی سمجھتی ہیں، مگر اس کی عزت وآبرو لٹتی رہے تو انھیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ انھیں ان اہوازیوں کے حقوق اور ایران کے یہ مظالم بالکل نظر نہیں آتے، حتى کہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کو اس پر قلق بھی نہیں ہوتا، منافقت کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!.
بلا شبہ آج اہواز اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے، ایران کے مظالم کو سہتے سہتے اس کے صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا ہے، اس کے نوجوان قتل کئے جارہے ہیں، اور ایرانی عقوبت خانے ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ دیکھ کر تڑپ رہے ہیں، نہ ان کا جان ومال محفوظ ہے اور نہ عزت، وہ بے کسی اور بے بسی کی تصویر بنے کسی غیبی مدد کے منتظر ہیں!
اس تکلیف دہ موضوع میں ایک خوش آئند بات یہ ہےانتہائى درجہ کے ظلم وستم اور جبر واستبداد کے باوجود ان جانباز اور باغیرت عربوں نے ہار نہیں مانی ہے اور اول یوم سے ان کا جہد مسلسل جاری ہے۔
بس ضرورت اس بات کہ ہے تمام مسلم ممالک عموماً اور عرب ممالک خصوصا ًاس طرف خصوصی توجہ دیں، مظلوم اہواز کی آزادی کے لئے سرگرم جاں نثاروں اور سر فروشوں کی بھر پور مدد کریں اور وہ آگ جو اہوازیوں کے سینے میں دہک رہی ہے اس کو ایسے شعلے میں تبدیل کر دیں جو ان مجوسیوں کے آشیانوں کو خاکستر کردے، تاکہ نہ صرف اہواز میں بسنے والے عرب سکون کی سانس لے سکیں، بلکہ اس مجوسی حکومت کو اس حقیقت کا پتہ چلے کہ جب پڑوسیوں کے گھروں میں آگ لگائی جائے گی تو اس کے شعلے اپنے گھر تک بھی پہنچیں گے۔
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ اپنے خصوصی فضل وکرم سے ایران میں بسنے والے مظلوم سنیوں کی مدد فرمائے، انھیں اس رافضی حکومت کے مظالم سے جلد از جلد نجات دے، اور وہ صبح جلد از جلد لائے جس کا سورج ان کی آزادی کا پیغام لے کر طلوع ہو، آمین! ۔
(27/06/2015)