الفاظ

مصنف : نامعلوم

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مارچ 2026

اصلاح و دعوت

الفاظ

طارق

"الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں۔۔کچھ "غلامی"۔کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں۔اور کچھ "وار"۔

ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،تو سمجھ آیا۔۔!! کہ۔۔لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، یہ تو دانت بھی رکھتے ہیں۔۔جو کاٹ لیتے ہیں۔یہ ہاتھ بھی رکھتے ہیں،جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں۔یہ پاؤں بھی رکھتے ہیں،جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں۔اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے،تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جانا،انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔کیونکہ یہ آپ کے ادا کرنے کے غلام ہیں اور آپ ان کے بادشاہ۔اور "بادشاہ" اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے "بڑے بادشاہ" کو جواب دہ بھی۔