اصلاح و دعوت
نگاہ كی حفاظت اور غض بصركے فوائد
فلافطين
کسی ماہر نفسیات نے لکھا تھا اور اس کی زبانی ہی یوں تھا کہ :ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی تھی. اس خاندان میں جلد شادی کا رواج تھا لیکن لڑکی کسی صورت نہیں مان رہی تھی. عمر پچیس سال سے اوپر ہو گئی تھی اور والدین بے تحاشا پریشان. مجھے بات کرنے کا کہا کہ اگر اس کے پاس خود کوئی آپشن ہے تو بھلے اس کا بتا دے لیکن شادی کے لیے مان جائے، خاندان والے باتیں بنا رہے ہیں.میں اس سے ملا، دو تین ملاقاتیں ہوئیں. بچی انتہائی سمجھدار پڑھی لکھی اور سنجیدہ مزاج تھی. کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، شادی کے لیے کوئی نہایت میچور اور پریکٹیکل لڑکا چاہیے تھا لیکن کوئی پسند بھی نہیں تھا. گھر والوں نے ہر طرح کے رشتے دکھائے اس کے باوجود کہتی تھی کہ جو رشتے میرے گھر والے دکھاتے ہیں میرے ذہن میں لڑکا ویسا نہیں ہے.اب ظاہر ہے اگلا کام یہ ڈھونڈنا تھا کہ اس کے ذہن میں جیسا لڑکا ہے وہ کون ہے اور کہاں پایا جاتا ہے. باتوں سے اندازہ نہیں ہوا تو میں نے اس کے گھر جانے کا سوچا، چونکہ فیملی ٹرمز تھے تو اس کے کمرے میں جا کر بھی دیکھا، اس لڑکے کے حوالے سے مزید باتیں بھی پوچھیں.اسی دوران ایک چیز تھی جس نے مجھے چونکایا، اور وہ یہ تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ جس راہداری میں کھلتا تھا وہاں ایک بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی. میں نے بچی سے پوچھا کہ دروازہ بند رہتا ہے یا کھلا رکھتی ہو تو کہنے لگی کہ، فجر کی نماز پڑھ کر کھول دیتی ہوں اور رات سونے سے پہلے بند کر دیتی ہوں. دن میں دروازہ کھلا ہی رہتا ہے.اب وہ تصویر جس جگہ پر تھی بچی کا پلنگ اس کے بالکل سامنے تھا، یعنی دن میں اس کی بارہا اس تصویر پر نظر پڑتی ہوگی. رات سونے سے پہلے دروازہ بند کرتے ہوئے آخری منظر اور صبح جاگنے کے بعد دروازہ کھولتے ہوئے پہلا منظر وہ تصویر تھی. اب وہ تصویر یہ تھی کہ: ایک نہایت خوبرو انگریز سپاہی، سنہری بالوں اور گوری رنگت والا، زرہ بکتر میں ملبوس گھوڑے پر بیٹھا ہے، اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور وہ کسی جنگی مہم پر جانے کے لئے بالکل تیار دکھائی دے رہا ہے-اس بچی کے ذہن نے مستقل وہ تصویر دیکھ کر اپنے ذہن میں آئیڈیل کا ایک بت تراش لیا تھا اور وہ بت یہ تھا کہ، ایک خوبرو انگریز جنگجو کی شکل صورت کا مالک بہادر نوجوان، جس کے خیالات بھی اس لڑکی سے ملتے ہوں. پانچ نمازیں بھی پڑھے، کتب بینی کا بھی شوقین ہو، فلسفہ بھی سمجھتا ہو اور مزاج کا بھی سنجیدہ ہو.ظاہر ہے، یہ ساری چیزیں ایک انسان میں ملنا اور خاص طور پر پاکستان میں ملنا ناممکن نہیں، لیکن اتنا مشکل ضرور تھا کہ جیسے چراغ لے کر ڈھونڈنے کو نکل کھڑے ہو.
یہ واقعہ جب میں نے پڑھا تو تب مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی معمولی سی چیز اتنا بڑا اثر ڈال سکتی ہے لیکن اب حیرت نہیں ہوتی. کیونکہ اب مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ نظر کبھی بھی معمولی چیز نہیں ہوتی اور اس کا اثر کبھی بھی معمولی نہیں ہوتا.
آپ نے اکثر وہ لوگ دیکھے ہوں گے جن کو روز کسی نہ کسی پر کرش ہو جاتا ہے. کبھی سوچا ہے بھلا ایک نظر کسی کو دیکھنے سے اس پر کرش ہو سکتا ہے ؟ نہیں نا؟ کرش بننے کی وجوہات ہی یہ ہوتی ہیں کہ اس انسان کو سٹاک کیا جاتا ہے.اس کی ٹائم لائن کی تصویریں ، ٹیگ تصویریں یہاں تک کہ دوستوں کے اکاؤنٹس کھول کر اس میں سے ڈھونڈ کر اس کی تصویریں دیکھی جاتی ہیں. جب ایک انسان کو صرف ڈھونڈ ڈھونڈ کر دیکھنے میں آپ دن کے کئی گھنٹے ضائع کر رہے ہیں تو ظاہر ہے اس پر کرش بھی ہوگا اور اتنی جلدی ختم بھی نہیں ہوگا. اتنا زیادہ تو انسان کسی جانور کو دیکھ لے تو اس سے بھی محبت ہو جائے.
ایک بات یاد رکھیں کہ دل کا ہر مسئلہ نظر سے شروع ہوتا ہے. دل بیمار ہو تو وجہ ہمیشہ نگاہ ہوگی. نگاہ بھٹکے گی تو دل بھی قابو میں نہیں رہے گا.آپ نے خود کو بچانا ہے، اپنے آپ کو بے توقیر ہونے سے بچانا ہے، لوگوں کے سامنے اپنی سیلف رسپکٹ قائم رکھنی ہے تو بس نگاہ سنبھالنا سیکھ لیں. نگاہ قابو میں رہے گی تو دل بے قابو نہیں ہوگا اور جب دل بے قابو نہیں ہوگا تو آپ کسی کی ایک نظرِ التفات کے لئے خود کو بے توقیر نہیں کریں گے، اپنی عزت کریں گے، اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے. ایک چیز کی قربانی تو دینی ہوگی، فیصلہ آپ کا ہے. دل قربان کرنا ہے یا نگاہ.
غضِ بصر ، اپنی نگاہ کو پست رکھنے، نظر کی حفاظت کرنے کے دس فائدے.
پہلا، یہ الله کا حکم ہے. اور جو بھی انسان فلاح پاتا ہے وہ حکمِ الہٰی مان کر ہی فلاح پاتا ہے اور جو ناکام ہوتا ہے وہ حکم نہ ماننے کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے.
دوسرا فائدہ، نامحرم کی نظر جو زہر آلود تیر تمہارے دل تک پہنچا کر تمہارا دل ہلاک کرتی ہے. آنکھ کی حفاظت سے وہ تیر تمہارے دل تک نہیں پہنچے گا.
سوئم، نظر کی حفاظت سے دل میں پوری توجہ سے الله کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے ورنہ جن لوگوں کی نگاہ آزاد اور آوارہ رہتی ہے ان کا دل منتشر رہتا ہے. آزاد نگاہی بندے اور الله کے درمیان حائل ہو جاتی ہے.
چہارم، آنکھ کی حفاظت سے دل مضبوط اور پر سکون رہتا ہے. اور آزاد نگاہی یعنی ہر غلط چیز یا شخص کو دیکھ لینے سے دل مغموم رہتا ہے.
پنجم، نگاہ پست رکھنے سے دل میں’’نور‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ سورۃ نور میں الله نے غضِ بصر کی آیت کے بعد ہی آیتِ نور پیش کی؟ کیونکہ دل میں نور نظروں کی حفاظت سے داخل ہوتا ہے اور جب دل نورانی ہو جائے تو ہر طرف سے خیر اور برکت اس انسان کی طرف دوڑتی ہے. اور جن کے دل اندھیر ہوں ان کو شر اور تکالیف کے بادل گھیرے رکھتے ہیں.
ششم، تم الله کا اصول جانتے ہو. اس کے لئے جو چھوڑو گے وہ اس سے بہتر عطا کرے گا. تم’’ نگاہ‘‘ چھوڑو، وہ بدلے میں ’’نگاہ ‘‘عطا کرے گا. وہ تمہیں بصیرت دے گا. فہم و فراست کی نگاہ عطا کرے گا. اور تمہاری فراست کبھی خطا نہیں ہو گی. مومن اسی نگاہ کی وجہ سے ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا.
ساتویں چیز، آزاد نگاہی سے انسان ذلیل ہوتا ہے. اپنے نفس کے قدموں میں خود کو رول کر بے توقیر کر دیتا ہے مگر جو نگاہ کی حفاظت کرتا ہے الله اس کو عزت دیتا ہے. لوگوں میں بھی، فرشتوں میں بھی.
آٹھویں بات، نگاہ کے ذریعے شیطان اتنی تیزی سے دل میں جا پہنچتا ہے جتنی تیزی سے کسی خالی جگہ میں خواہشات بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ وہ امیدیں دلاتا ہے. گناہوں کی توجیہات پیش کرتا ہے اور انسان گناہ کی آگ میں یوں جلتا ہے جیسے کسی بکری کو تنور میں ڈال کر بھونا جائے. اسی لئے شہوت پرستوں کو قیامت کے دن آگ کے تنوروں میں ڈالا جائے گا.
نویں چیز، غضِ بصر سے دل کو قرآن پہ غور و فکرکرنے کا موقع ملتا ہے. ورنہ جن کی نگاہیں آوارہ ہوں ان کے دل اتنے پھنسے اور الجھے ہوتے ہیں کہ یہ فراغت ان کا مقدر نہیں بن سکتی.
آخری یعنی دسویں چیز! انسان کے دل اور آنکھ کے درمیان ایک سوراخ ہے، ایک راستہ ہے۔ جس کام میں آنکھ مشغول اسی میں دل مشغول ہوتا ہے. ایک کی اصلاح سے دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے. ایک کے فساد سے دوسرے کا فساد ہوتا ہے.
اس لئے اپنی نگاہ کو صاف رکھو. اس چیز یا شخص کو نہ دیکھو جس کی طرف دل ہمکتا ہے کیونکہ یہ تمہارے لئے حرام ہے. اگر حلال ہوتا تو ٹھیک تھا. لیکن حلال نہیں ہے۔ سو جب اپنی نگاہ کے مالک بن جاؤ گے تو دل کو بھی واپس حاصل کر لو گے.