غیبت اور نیوروسائنس

مصنف : ڈاکٹر فرانسسکا بوکا

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : ستمبر 2026

اصلاح و دعوت

غیبت اور نیوروسائنس

ڈاکٹر فرانسسکا بوکا

کبیرہ گناہوں میں سے غیبت شاید ایک ایسا گناہ ہے جس میں پابندِ صوم و صلوٰۃ مسلمان بھی کثرت سے مبتلا نظر آتے ہیں۔ یہ پیاز کی بدبو کی مانند ہے، جو خود کوئی بیماری نہیں بلکہ اندر موجود کسی بیماری کا پتا دیتی ہے۔ غیبت کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسے کرتے وقت انسان کو گناہ کا احساس ہی نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اس سے آپسی قربت اور دلی گرمجوشی محسوس ہوتی ہے، اور یہی چیز اسے حد درجے نقصان دہ بنا دیتی ہے۔

غیبت اور ارتقائی سائنسدان

شاید آپ سوچیں کہ دنیا میں کوئی بھی غیبت کے حق میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن اس ویڈیو کی تیاری کے دوران مجھے ایک مکمل سائنسی تحریر ملی جو اس کی حمایت کی کوشش کرتی ہے۔ "ارتقائی ماہرِ نفسیات رابن ڈنبار نے اپنی کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انسان کی زبان دراصل غیبت ہی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ بندروں کا گروہ ایک دوسرے کا جسم صاف کر کے باہمی تعلقات مضبوط کرتا تھا، لیکن جب انسانوں کی آبادی بڑھی اور سب کا الگ الگ خیال رکھنا مشکل ہو گیا، تو گفتگو کو اس کا ایک آسان بدل بنا لیا گیا۔ڈنبار کے مطابق انسانوں کی دو تہائی گفتگو دیگر لوگوں کے بارے میں ہوتی ہے، اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ زبان کا اصل مقصد ہی غیبت کرنا ہے۔

غیبت اور قرآن

اب اس نظریے کا موازنہ قرآن کے اس بیان سے کیجیے کہ زبان کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو سب سے پہلے انہیں تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ یوں انسانی تاریخ میں زبان کا پہلا استعمال اپنے رب سے حقائق کا علم حاصل کرنا تھا۔ان دونوں نظریات کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے؛ ایک طرف زبان کی پیدائش کا مقصد ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا بتایا گیا ہے، اور دوسری طرف اسے سچائی جاننے کی ایک ربانی نعمت قرار دیا گیا ہے۔

اس موضوع پر علم بشریات (Anthropology) کے ماہرین کی تحقیقات نہایت دلچسپ ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ غیبت انسان کی فطرت میں شامل نہیں ہے۔ مختلف ثقافتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ جتنا زیادہ غیر لچکدار اور سخت ہوتا جاتا ہے، غیبت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، کیونکہ لوگوں کے لیے براہِ راست سچائی جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ "چنانچہ غیبت وہاں جنم لیتی ہے جہاں ایک دوسرے کے بارے میں شفاف معلومات کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔" اس کے برعکس اسلام نے ہمیشہ ایسے شفاف معاشرے کو فروغ دیا جو چھوٹے اور قابلِ اعتماد اداروں پر قائم ہوں، جہاں لوگ ایک دوسرے کو براہِ راست جانتے ہوں اور افواہوں کے نظام کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ غیبت کو جنم دینے والے ساختہ نظام کو ختم کرنا ہی اسلامی معاشرے کی بنیادی روح ہے۔

غیبت میں اتنی لذت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

جب ہم غیبت کرتے ہیں تو دماغ میں حقیقی کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کسی کی ذاتی معلومات کا علم ہونا دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) خارج کرتا ہے، جو کسی بھی لت کے پیچھے موجود ایک کیمیائی مادّہ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح بے یقینی کی حالت میں ملتا ہے جیسے کسی جوا کھیلنے والی مشین پر انسان بیٹھا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اینڈورفن (Endorphins) کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو جسم کا اپنا درد کش نظام ہے اور یہ وہی احساس فراہم کرتا ہے جو سخت ورزش یا دوڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ " اس میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم اس سکون کی تلاش میں ہیں، تو یہی کیمیائی تسکین ہم دوڑ کر، ورزش کر کے یا کسی اچھے کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔خواہش سچی ہے، لیکن اسے پورا کرنے کے پاکیزہ ذرائع بھی موجود ہیں۔

غیبت کا سائنسی اور روحانی علاج

نیورو سائنس کی تعلیم کے دوران میں نے اللہ تعالیٰ کی اس رحمت پر ہمیشہ غور کیا ہے کہ گناہ کی عادات جتنی بھی تباہ کن ہوں، ان کے اثرات زائل کرنے کا ایک پاکیزہ اور خوبصورت طریقہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر کیمیا سے ہٹ کر دیکھیں، تو غیبت کی اصل وجہ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ غیبت ہمیں وہ کام کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہمیں ہرگز نہیں کرنا چاہیے، یعنی کسی دوسرے کی تحقیر سے لطف اندوز ہونا۔ نفسیات میں اسے منفی معاشرتی موازنہ کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی کی ناکامی یا خرابی کا ذکر کرتے ہیں، تو ہمیں ایک خاموش تسلی ملتی ہے کہ شکر ہے میں ایسا نہیں ہوں۔ اس طرح دوسرے کی پستی وہ چبوترہ بن جاتی ہے جس پر کھڑے ہو کر ہم خود کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔

اسلام بھی ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنے کی ہدایت کرتا ہے، لیکن بالکل مختلف مقصد کے لیے۔ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم تر ہیں تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔" جب نظر نیچے جاتی ہے تو دل شکر سے بھر جاتا ہے، اور یہی شکر رحمدلی بن کر انسان کو دوسروں کی مدد پر ابھارتا ہے۔ نظر کا رخ ایک ہی ہے، لیکن ایک طریقہ دل کو اللہ سے جوڑتا ہے اور دوسرا طریقہ دوسرے کی تذلیل پر انا کو پھلا دیتا ہے۔

غیبت کے ذریعے ہم اپنے نفس کی ایک بنیادی حقیقت بھی سیکھ سکتے ہیں۔ "جب بھی ہم کوئی حرام کام کرتے ہیں، تو نفس صرف گناہ کا احساس ہی پیدا نہیں ہونے دیتا، بلکہ ایک ایسا جھوٹا جواز گھڑ لیتا ہے جس سے انسان سکون کے ساتھ گناہ جاری رکھ سکے۔" اسلامی روایت میں اسے نفس کا دھوکا کہا جاتا ہے۔ غیبت کے لیے بھی کئی بہانے تراشے جاتے ہیں، جیسے میں تو بس دل کا غبار نکال رہا ہوں، یا میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں تاکہ تم محتاط رہو۔ یہاں تک کہ چغلی جیسا شدید حرام کام بھی میں تو تمہاری حفاظت کے ليے كر رہا ہوں کا لباس پہن لیتا ہے۔ اگر غور کریں تو ہم نفس کو اس کی چالاکیوں سمیت پکڑ سکتے ہیں۔ ان خوبصورت بہانوں کو پہچاننا اس لیے ضروری ہے کیونکہ نفس باقی تمام گناہوں کو جائز قرار دینے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کرتا ہے۔

غیبت کو راستہ دینا انسان کی شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ جب بھی ہم دوسروں کا ذکر تحقیر کے ساتھ کرتے ہیں، ہم اپنے اندر بدگمانی کی مشق کرتے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں کو عیب جوئی کی نظر سے دیکھنا ہماری عادت بن جاتا ہے۔ اس سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ سننے والے کے دل میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ جو زبان آج کسی اور کی برائی کر رہی ہے، وہ کل کو میری برائی بھی کرے گی۔ یوں دوسروں سے اعتماد اٹھنے کے ساتھ ساتھ خود سے بھی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے تو ہم بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔

حتیٰ کہ غیبت سے پیدا ہونے والی اپنائيت بھی فرضی ہوتی ہے، جو کسی تیسرے شخص کی قیمت پر حاصل کی جاتی ہے۔ جب ہم اسلامی روحانی روایت کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک عجیب بات نظر آتی ہے۔ غیبت کی ممانعت ہر جگہ موجود ہے، لیکن نفس کے مدارج اور روح کی ترقی کے راستے بتانے والی بڑی کتابوں میں اس کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ انہوں نے فرض كيا ہوتا ہے کہ اس راستے کا مسافر اس بنیادی برائی سے پہلے ہی آگے نکل چکا ہے، گویا غیبت اتنی چھوٹی خامی ہے کہ اسے اعلیٰ روحانی سفر کے نقشے میں شامل کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔

تاہم اس سلسلے میں مولانا روم کی مثنوی ایک بہترین استثنا ہے۔ یہ کتاب قرآن پاک کی ایک طرح سے سماجی تفسیر ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ اسلامی اقدار عام زندگی میں کس طرح جاری ہوتی ہیں۔ یہ ان مقامات پر بھی روشنی ڈالتی ہے جنہیں بڑی کتابیں چھوڑ دیتی ہیں۔ مثنوی سے ہمیں خود احتسابی کے لیے دو مثالیں ملتی ہیں۔

پہلی مثال میں مولانا روم بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کی چھپی ہوئی برائیاں ہماری باتوں کے ذریعے باہر آ جاتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے پیاز کی بدبو۔ آپ جتنا بھی قسمیں کھا لیں کہ آپ نے پیاز نہیں کھایا، لیکن آپ کی سانس سچائی ظاہر کر دیتی ہے۔ اسی طرح دل میں چھپا ہوا تکبر اور حرص زبان کے ذریعے باہر نکل آتا ہے، یہاں تک کہ اس بدبو کی وجہ سے ہماری دعائیں بھی رد کر دی جاتی ہیں۔ غیبت دراصل وہی پیاز کی بدبو ہے، یہ خود بیماری نہیں بلکہ اندر موجود بیماری کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم زبردستی منہ بند کر کے غیبت سے نہیں بچ سکتے، جیسے سانس روکنے سے پیاز کی بدبو ختم نہیں ہوتی۔ جب دل پاک ہوتا ہے تو زبان خود بخود پاکیزہ ہو جاتی ہے۔

جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ غیبت ہمیشہ کسی دوسری بیماری کا نتیجہ ہے، تو دوسری کہانی سامنے آتی ہے جو ایک بہرے شخص اور اس کے بیمار پڑوسی کی ہے۔ ایک بہرا شخص اپنے بیمار پڑوسی کی عیادت کے لیے جاتا ہے۔ چونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا، اس لیے وہ ذہن میں گفتگو کا ایک خاکہ تیار کر لیتا ہے کہ میں حال پوچھوں گا، وہ کہے گا میں بہتر ہو رہا ہوں، میں کھانے کا پوچھوں گا، وہ کسی غذا کا نام لے گا، میں طبیب کا پوچھوں گا اور اس کی تعریف کروں گا۔ جب وہ پہنچتا ہے اور اپنا سوچا ہوا جملہ بولتا ہے کہ آپ کیسے ہیں؟ تو بیمار پڑوسی آہ بھر کر کہتا ہے کہ میں مر رہا ہوں۔ بہرا شخص خوش ہو کر کہتا ہے کہ اللہ کا شکر ہے۔ پھر پوچھتا ہے کیا کھایا؟ وہ کہتا ہے زہر، تو بہرا کہتا ہے کہ یہ آپ کو شفاء دے گا۔ گفتگو اسی طرح جاری رہتی ہے اور بہرا شخص یہ سوچ کر مطمئن چلا آتا ہے کہ اس نے عیادت کا حق ادا کر دیا، جبکہ اس نے اپنے ہر جواب سے بیمار کا دل دکھایا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اپنے ذہن میں بنے ہوئے تصور کا جواب دیا تھا۔

جب ہم غیبت کرتے ہیں تو ہم بھی اکثر اسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن میں کسی شخص کا ایک خاکہ بنا لیتے ہیں، اس کی نیت کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں، اور پھر اس فرضی کردار کو سچ مان کر اس کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح کام کر رہے ہیں جبکہ اصل نقصان ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔

یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں غیبت سے روکنے کے لیے نہایت سخت تشبیہات استعمال کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں پوچھا گیا کہ "کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟" اسی طرح "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی شب ایسے لوگوں کو دیکھا جو تانبے کے ناخنوں سے اپنے ہی چہروں کو نوچ رہے تھے، اور پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھاتے تھے۔ "یہ منظر کشی اتنی سخت اس لیے کی گئی ہے تاکہ انسان اس گناہ کی دلکشی کے سحر سے باہر نکل سکے۔

لہٰذا اگر ہم خود کو غیبت کرتے ہوئے پائیں، تو اصل سوال یہ نہیں ہے کہ زبان کو کیسے روکا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پیاز کہاں ہے؟ وہ کون سا تکبر، حسد، خالی پن یا اندرونی زخم ہے جو اس گفتگو کے ذریعے باہر آ رہا ہے؟ اس کی نشاندہی کیجیے، اسے ایمانداری سے قبول کیجیے، اسے اللہ کے سامنے رکھیے اور اس کا علاج کیجیے المعالج کے ذریعے۔ جب آپ اندرونی بیماری کا علاج کر لیں گے تو زبان خود بخود خاموش ہو جائے گی، زبردستی بند کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اندر کی بیماری شفاء پا چکی ہوگی۔