سير ت صحابہ
حضرات صحابہ کے تعلق بالقرآن کے چند احوال و آثار
سيد متين احمد
قرآنِ کریم دلوں کی کھیتی پر اثر کرنے والا ابر نیساں ہے۔ اس کے تاثیری اعجاز کو وہ خود مختلف مواقع پر بیان کرتا ہے۔ اس تاثیری اعجاز کا سب سے زیادہ حظِ وافر جس خوش قسمت نسل نے پایا، وہ حضرات صحابہ رض کی جماعت ہے۔
سورۂ انفال میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ } [الأنفال: 2] (یقیناً ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کو اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔) اسی طرح سورۂ زمر میں اہلِ ایمان کے قرآن سے تاثر کے بارے میں ارشادہے: { اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ } [الزمر: 23]( اللہ نے نہایت اچھی اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں کتاب (جس کی آیات) ملتی جلتی ہیں (اور) دہرائی جاتی ہیں جن سے ان لوگوں کے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بدن کانپ اٹھتے ہیں پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور جس کو اللہ گم راہ کردیں سو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔) اس طرح کی آیات کی سچی تصویر حضرات صحابہ رض کی زندگیوں میں ملتی ہے۔
• علامہ ابنِ کثیرؒ ، محدث ابنِ ابی الدنیا ؒ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں نکلے۔ راستے میں ایک مسلمان کے گھر کے پاس سے گزر ہوا۔ اتفاق سے وہ شخص کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر اس کی قراءت سننے کے لیے رک گئے۔ اس نے سورۂ طور کی تلاوت شروع کی اور جب اس آیت تک پہنچا: ”بے شک تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں“ تو حضرت عمر نے کہا:”یہ قسم ہے ، رب کعبہ کی قسم، بالکل سچی ہے۔“پھر وہ اپنی سواری سے اتر آئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور کافی دیر تک اسی حالت میں رہے۔ اس کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔ وہاں ایک مہینے تک لوگ ان کی عیادت کے لیے آتے رہے، مگر کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی بیماری کی اصل وجہ کیا ہے۔(تفسیر ابن کثیر، ج: 7، ص: 430)
• علامہ سیوطیؒ بیہقی کی شعب الایمان کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ ٹھنڈا پانی پیا تو رو پڑے، پھر ان کا رونا بہت بڑھ گیا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟انھوں نے فرمایا: مجھے اللہ کی کتاب کی ایک آیت یاد آگئی ہے: ”اور ان کے اور ان چیزوں کے درمیان پردہ حائل کر دیا جائے گا جن کی وہ خواہش کریں گے۔“ (سبأ: 54)تب مجھے خیال آیا کہ اہلِ جہنم کو تو بس ٹھنڈے پانی کی ہی خواہش ہوگی، اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے (کہ وہ اہلِ جنت سے کہیں گے): ”ہم پر کچھ پانی ہی بہا دو یا اس رزق میں سے کچھ دے دو جو اللہ نے تمھیں عطا کیا ہے۔“(الدر منثور، 3: 469۔)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سورۂ جاثیہ کی تلاوت کر رہے تھے۔جب اس آیت پر پہنچے :” یہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہوگی یہ لوگ بہت برا فیصلہ کرتے ہیں ۔“وہ اسے مسلسل دھراتے رہے اور روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوئی اور وہ اسی مقام پر تھے۔(كتاب الزهد لابن المبارك، 13/ 357)
• حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: اگر دل پاکیزہ ہوتے تو وہ قرآن سے کبھی سیرنہ ہوتے۔ علامہ ابنِ تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: اور جو شخص اللہ کے کلام اور اس کے رسول کے کلام کو توجہ کے ساتھ سنے، اسے اپنی عقل سے سمجھے اور دل سے اس میں غور و فکر کرے، تو وہ اس میں ایسی بصیرت، ایسی لذت و حلاوت، ایسی ہدایت، دلوں کے لیے ایسی شفا، اور ایسی برکت و منفعت پاتا ہے جو اسے کسی اور کلام میں نہیں ملتی؛نہ اس کلام میں جو نظم کی صورت میں ہو اور نہ اس میں جو نثر کی شکل میں ہو۔(اقتضاء الصراط المستقيم، ص: 384۔)
• حضرت عبداللہ بن مسعود رض کا فرمان ہے: بے شک یہ دل برتنوں کی مانند ہیں، لہٰذا انھیں قرآن سے بھر دو اور انھیں کسی دوسری چیز میں مشغول نہ کرو۔(حلية الأولياء، 1: 131)یہ واقعات علوی بن احمد العیدروس کی کتاب "لذة القرآن" سے لیے گئے ہیں۔
یا رب! قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار، سینوں کا نور، ہمارے غموں کا مداوا اور دکھوں کے دور ہونے کا سبب بنا دے۔ آمین۔