سيرت صحابہ
دل صاف کیجیے
روبينہ قريشی
حضرت عبداللہ کی شادی ان کے والد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک معزز خاندان کی خاتون سے کرائی تھی۔ حضرت عبداللہ اس وقت اپنی عبادت میں اس قدر مگن رہتے تھے کہ دنیاوی معاملات کی طرف ان کا رجحان بہت کم تھا۔شادی کے بعد کئی دن گزر گئے لیکن حضرت عبداللہ نے اپنی اہلیہ کی طرف کوئی توجہ نہ دی، کیونکہ وہ سارا دن روزہ رکھتے اور پوری رات عبادت اور نمازِ تہجد میں گزار دیتے تھے۔ جب ان کے والد حضرت عمرو بن العاص نے اپنی بہو سے حال احوال پوچھا تو انہوں نے بڑی دانائی سے جواب دیا-"وہ بہت نیک انسان ہیں، لیکن انہوں نے ابھی تک ہمارا بستر نہیں دیکھا اور نہ ہی جب سے ہم آئے ہیں انہوں نے ہمارا حال پوچھا ہے۔"
حضرت عمرو بن العاص نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ تم کیسے روزہ رکھتے اور نماز پڑھتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ روزہ رکھتے ہیں اور ہر رات قرآن ختم کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے انہیں اعتدال کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:مہینے میں صرف تین دن کے روزے رکھو (پھر رعایت دیتے ہوئے اسے داؤدی روزے تک لائے یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ)۔قرآن کو مہینے میں ایک بار ختم کرو۔پھر اسے کم کرتے کرتے سات دن تک لائے، (یہاں تک تین دن سے پہلے قرآن پاک ختم کرنے کی ممانعت کی گئی) ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا-"تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کا تم پر حق ہے اور تمہاری اہلیہ کا بھی تم پر حق ہے۔"
یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص تھے جن کی پرہیزگاری اور عبادت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "ابھی تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا جو جنتی ہے۔" تھوڑی دیر بعد ایک انصاری صحابی تشریف لائے جن کے وضو کا پانی داڑھی سے ٹپک رہا تھا اور انہوں نے جوتے بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے۔یہی عمل مسلسل تین دن ہوا؛ ہر بار نبی ﷺ فرماتے کہ ایک جنتی آنے والا ہے اور ہر بار وہی انصاری صحابی داخل ہوتے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ یقیناً حیران ہوئے ہوں گے کہ یہ کون سی نیکی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنتی ہونے کا کہا۔ جب کہ وہ خود انتہا درجے کے نیک انسان تھے اور زہد و تقویٰ کے بہت اعلیٰ مقام پر تھے وہ بہت حیرت زدہ تھے اور سوچا کہ اس شخص میں ضرور کوئی ایسی خاص بات ہے جس کی وجہ سے زبانِ نبوی ﷺ سے ان کے لیے تین بار جنت کی بشارت ملی۔ چنانچہ وہ ان صحابی کے پاس گئے اور بہانہ بنایا کہ "میرا اپنے والد سے جھگڑا ہو گیا ہے، کیا آپ مجھے تین دن اپنے گھر رہنے کی جگہ دیں گے؟" ان انصاری صحابی نے بخوشی اجازت دے دی۔حضرت عبداللہ تین دن تک ان کے گھر ٹھہرے اور انہوں نے دیکھا کہ وہ صحابی انکی طرح رات بھر عبادت نہیں کرتے، جب سو کر اٹھتے یا کروٹ بدلتے تو اللہ کا ذکر کرتے اور پھر فجر کے لیے اٹھتے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ دن میں کوئی خاص نفلی روزے بھی نہیں رکھتے تھے۔وہ صرف فرائض کی پابندی کرتے اور زبان سے ہمیشہ بھلی بات نکالتے تھے۔جب تین دن مکمل ہو گئے تو حضرت عبداللہ نے ان سے سچ کہہ دیا کہ "میرا والد سے کوئی جھگڑا نہیں تھا، میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ وہ کون سا خاص عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو جنتی کہا گیا؟ لیکن میں نے آپ کو کوئی بہت زیادہ نفلی عبادت کرتے نہیں دیکھا۔"
وہ صحابی مڑے اور بڑی سادگی سے فرمایا:"میرا عمل وہی ہے جو تم نے دیکھا، البتہ ایک بات ہے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لیے بغض، کینہ یا حسد نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کو ملنے والی اللہ کی نعمت پر جلتا ہوں۔"حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: "یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے اور یہی وہ کام ہے جو ہم (آسانی سے) نہیں کر پاتے۔"سبحان اللہ...!
یہاں ایک بات میں اپنے تجربے کی آپ سے شئر کرنا چاہتی ہوں کہ ہم سب انسان ہیں ہم کئی مرتبہ کسی کو اپنے سے بہتر حالات میں دیکھتے ہیں تو دل میں سوچتے ہیں اسے تو اللہ نے اتنا کچھ دیا ہمیں کیوں نہیں دیا-تو جب کبھی ایسی صورتحال میں ہوں تو جو شخص آپ سے بہتر ہے اسے پورے خلوص دل کے ساتھ دعا دیا کریں "یااللہ اس کی نعمتوں کی حفاظت فرما،،یقین کریں آپ کے دل کو ایسی خوشی اور سکون ملے گا جس کے اظہار کے لیے میرے پاس لفظ نہیں۔جس طرح ہرروز ہم اپنے کمرے، اپنے بستر، اپنے لباس کی صفائی کا اہتمام کرتے ہیں اسی طرح ہرروز اپنے دل کی صفائی کا بھی خیال رکھا کریں۔اپنے دلوں کو کینہ، بغض اور حسد سے پاک رکھنے کے لیے جب اپنے لئے دعا کریں تو سب کو اپنی دعاؤں میں شامل کیا کریں-