كائنات كب ساتھ ديتی ہے

مصنف : ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : فروری 2026

اصلاح و دعوت

كائنات كب ساتھ ديتی ہے

عاصم اللہ بخش

کہتے ہیں جب آپ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو یاد رکھیں، ساری کائنات آپ کے اس ارادے کی تکمیل کے لیے سرگرمِ عمل ہو جاتی ہے۔ کیا سچ میں ایسا ہی ہوتا ہے ؟

اس پر مزید بات کرنے سے قبل آپ کو ایک انگریزی فلم کا سین بتاتا ہوں۔ منظر کچھ یوں ہے، ایک ادھیڑ عمر خاتون ہے جو اپنے میاں کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ ان کے بچے بھی ہیں اور ہر طرح سے معاشی اور معاشرتی آسودگی بھی حاصل ہے۔ لیکن گھر کے حالات ایسے ہیں کہ خاتون نہایت دل گرفتہ ہے۔ وہ اسی کیفیت میں ایک ریستوران میں جاتی ہے۔ وہاں اسے ایک ویٹر ملتا ہے جو دراصل ایک خدائی فرستادہ ہے۔ باتوں باتوں میں جب ویٹر اس خاتون کی اداسی کا سبب پوچھتا ہے تو بے اختیار خاتون کے آنسو نکل آتے ہیں۔ وہ کہتی ہے، میں نے ہمیشہ اپنے خاندان کے لیے باہم محبت اور جڑے رہنے کی دعا کی ۔۔۔ لیکن لگتا ہے میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ آج ہم بہت پریشان کن صورتحال میں گِھر چکے ہیں۔فرستادہ دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر لیے اس کی بات پوری توجہ سے سنتا ہے اور پھر کہتا ہے، دیکھو تمہارا کیا خیال ہے اگر تم کہو کہ خدا مجھے صبر دے تو وہ صبر کی کوئی مقدار آپ کے اندر انڈیل دے گا ؟ یا اگر آپ خاندان میں اتحاد اور محبت کی دعا کریں تو اچانک وہ اطاعت اور محبت کا کوئی پیکج آپ کو فراہم کر دے گا ؟

خدا کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ صبر کی بات کریں گے تو وہ ایسے حالات سے آپ کو گزارے گا کہ آپ صبر کرنا سیکھ جائیں گے۔ اگر آپ خاندان میں محبت کی بات کریں گے، آپس میں بہتر رکھ رکھاؤ کی بات کریں گے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی بات کریں گے تو وہ ایسے حالات سے آپ کو گزارے گا جن سے یہ اوصاف آپ کے اندر پیدا ہو سکیں۔ خدا کے ہاں سے کوئی سپلیمنٹ یا کیپسول نہیں آتا جس سے آپ کے یہ کام جھٹ پٹ ہو جائیں۔ خدا کا نظام اور طرح سے کام کرتا ہے۔

اب آتے ہیں اپنے اس سوال کی طرف کہ کیا کائنات واقعی آپ کو کامیاب کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہے۔

تو اس کا جواب لگ بھگ ایسا ہی ہے جیسا اوپر فلم کا منظر بیان ہوا۔ جیسے ہی آپ کسی کام کا عزم کرتے ہیں تو اچانک ہی حوصلہ شکن مشکلات یا توجہ بٹانے کے لیے آسان اور دلفریب متبادل آپ کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگنے لگتا ہے کہ یہ تو بہت مشکل کام کا بیڑا اٹھا لیا۔ راستے میں رکاوٹیں انگنت ہیں اور میں تنہا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہونے لگے تو شکر کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی دعا قبول کر لی گئی۔ اب تو اس سے آگے کا مرحلہ شروع ہؤا ہے ۔ آپ کی اس تربیت، صفائی اور رگڑائی کا کام شروع ہو گیا ہے جو اس کام کے تکمیل کے لیے بنیادی شرط ہے جس کا عزم آپ نے کیا۔ ہر راستہ روکنے والی مشکل یا توجہ بٹانے والا بظاہر آسان آپشن دراصل آپ کے فوکس اور یکسوئی کی جانچ کرتا ہے اور آپ میں استقلال پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔مسلسل جدوجہد کی بدولت جب آپ ان تمام رکاوٹوں سے گزر جاتے ہیں تو آپ ان لوگوں سے ممیز ہو جاتے ہیں جو خواہش تو کرتے ہیں لیکن ان کی خواہش ارادے کی مضبوطی سے خالی ہوتی ہے۔ وہ پہلے يا دوسرے سنگ میل پر ہی تھک کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ البتہ جو لوگ ان رکاوٹوں سے گزرتے جاتے ہیں اور اپنا سفر بیچ راہ ختم نہیں کرتے منزل انہیں مل کر رہتی ہے۔

اس قول سے اصل سبق یہ ملتا ہے کہ اگر آپ کندن بننا ،چاہتے ہیں تو کسوٹی بھی موجود ہے اور آنچ بھی ۔۔ سو آئیے  بسم اللہ، کندن بن جائیے۔ البتہ جو لوگ کندن تو بننا چاہتے ہیں لیکن آنچ سے گھبراتے ہیں، صرف ان کے لیے کندن بننے کے راستے مسدود ہیں۔

ممکنات کی دنیا وسیع ہے لیکن اس کے لیے خود کو اہل ثابت کرنا لازم ہے۔ اور کائنات آپ کی اسی اہلیت کے حصول کے لیے آپ کا ساتھ دیتی ہے۔ اپنے طریقے سے !