اصلاح و دعوت
كمزوروں كی مدد
مظہر صديقی
کل جب شام اتر رہی تھی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی، تب میں قدیر آباد محلے کی ایک معروف دکان سے سوہن حلوہ لینے گیا تو میرا ایک دوست بھی ساتھ تھا۔ جب میں سوہن حلوہ لے کر دکان سے باہر آیا تو میرا دوست ایک انتہائی بزرگ پٹھان سے اپنا جوتا پالش کروا رہا تھا۔ بزرگ دکان کے شیڈ تلے سخت سردی میں بڑے منفرد انداز میں پالش کرنے میں محو تھے۔ جب جوتا پالش ہو گیا تو دوست نے پوچھا، "خان صاحب، کتنے پیسے؟" خان صاحب نے جواب دیا، "پچاس روپے۔" میرے دوست نے بابا جی کو 500 روپے دے دیے۔ بابا جی کے چہرے پر جو خوشی تھی، وہ میں نے پہلے کبھی کسی چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔
چند دن پہلے لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب ایک انتہائی ضعیف العمر بزرگ سٹیل کی چھوٹی بالٹی میں کالے چنے کی چاٹ بیچ رہے تھے۔ میرا بیٹا میرے ساتھ تھا۔ اس نے کہا، " قبلہ !ایک پیکٹ بنا کر دے دیں۔" بابا جی نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اخباری کاغذ میں مخصوص انداز میں چاٹ پیک کر کے دے دی۔ بیٹے نے ان سے پیسے پوچھے تو انہوں نے کہا، "پچاس روپے۔" میرے بیٹے نے بٹوے سے ایک ہزار روپے نکال کر بابا جی کے ہاتھ میں دے دیے۔ بابا جی کے چہرے پر خوشی رقص کرتی محسوس ہو رہی تھی ۔
مجھے یاد آیا کہ میرے دادا جان ہمیشہ گھر کے لیے گوشت، سبزی، گروسری، مٹھائی اور دیگر ضروری چیزیں انہی دکانوں سے خریدتے تھے جہاں بزرگ دکان دار ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ راہ چلتے ہوئے زائد العمر خوانچہ فروشوں سے چھلی، بسکٹ، دال سویاں، لچھے، چنا چاٹ، موتی چور لڈو اور برفی خرید لیتے۔ ایک بات جو میں نے نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ دادا جان یہ چیزیں خود نہیں کھاتے تھے بلکہ کسی نہ کسی کو پیش کر دیتے تھے۔ ایک بار میں نے پوچھ لیا، "دادا جان! آپ یہ سب چیزیں خرید کر کیوں کسی اور کو دے دیتے ہیں؟ خود کیوں نہیں کھاتے؟"دادا جان نے ایک لمحے کو ٹھہر کر فرمایا:"بیٹا، یہ بزرگ افراد دن بھر دھوپ میں، ٹھنڈ میں، تھکے ہوئے پاؤں اور کانپتے ہاتھوں سے محنت کرتے ہیں۔ ان کی کمائی اکثر بس دو وقت کی روٹی تک پہنچتی ہے۔ جب ہم ان سے کچھ خریدتے ہیں تو ان کی کمائی ہوتی ہے، لیکن جب ہم انہیں کچھ دے کر خوش کرتے ہیں تو ان کے دل میں امید جاگتی ہے کہ اللہ نے ابھی انہیں نہیں بھلایا۔ ان کی آنکھوں میں جو چمک آتی ہے، وہ روشنی ہمارے گھر کی روشنی سے زیادہ قیمتی ہے۔ دادا جان کچھ دیر توقف کے بعد گویا ہوئے، " جب ہم خود کھاتے ہیں تو بس ایک پیٹ بھر جاتا ہے، مگر جب یہ چیز کسی غریب بچے، کسی مسافر یا کسی اور بزرگ کو دے دیتے ہیں تو اللہ کے ہاں ہمارا صدقہ جاری ہو جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، بیٹا... جب میں ان بزرگ ہاتھوں کو دیکھتا ہوں جو زندگی بھر محنت کرتے آئے اور اب بھی جھک کر کام کر رہے ہیں، تو میرا دل کہتا ہے کہ شاید میرا باپ بھی کہیں ایسا ہی تھا، شاید میری ماں بھی ایسی ہی تھی۔ میں انہیں دے کر گویا اپنے ماں باپ کی خدمت کا کچھ قرض اتار لیتا ہوں۔ جب تک یہ ہاتھ کانپتے رہیں گے اور یہ چہرے مسکرائیں گے، میرا دل چین سے رہے گا۔ ورنہ یہ دنیا کی ساری مٹھائیاں بھی منہ میں کڑوی لگیں گی۔"
دادا جان کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ آج بھی جب کوئی بزرگ مجھے مسکرا کر دیکھتا ہے تو لگتا ہے دادا جان اب بھی میرے ساتھ ہیں، اور ان کی وہ بات میرے دل میں زندہ ہے۔