دين و دانش
الوھاب
ڈاكٹر طفيل ہاشمی
میں اللہ کے نام "الوہّاب" کو پڑھتا تھا تو اکثر سرسری طور پر گزر جاتا تھا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید یہ "الرّزاق" یا "الکریم" ہی کا مترادف ہے۔یہاں تک کہ کتابِ الٰہی میں نور کے کچھ باریک دھاگوں نے مجھے تدبر كے ايك ايسے سفر پر ڈال دیا جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا- میرے تصورِ بادشاہی، رحمت، اولاد بلکہ اپنے وجود کے بارے میں سوچ کو ازسرِنو ترتیب دے دیا۔
میرا یہ سفر ایک سوال سے شروع ہوا:جو ہم کماتے ہیں اور جو ہمیں عطا کیا جاتا ہے، ان دونوں میں اصل فرق کیا ہے؟اور یہ عظیم نام، الوہّاب، انسانی بے بسی اور اسباب کے ختم ہو جانے کے مواقع کے ساتھ ہی کیوں جڑا ہوا ہے؟یہیں سے تدبر کا دروازہ کھلا، اور میں اس مربوط قرآنی دھاگے کو تھامنے لگا۔
سب سے پہلا مقام جس نے مجھے ٹھہرنے پر مجبور کیا، سورۃ ص میں یہ پرجلال نسبت تھی:
﴿أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾میں نے سوچا: یہاں "العزیز" کیوں؟
تب دل نے عقل سے پہلے یہ بات قبول کر لی کہ عطا کرنا اقتدار چاہتا ہے۔جو خود عاجز ہو، وہ کسی کو کیا دے گا؟لیکن اصل حیرت تو تب ہوئی جب اسی سورت میں سلیمان علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایسا اقتدار مانگ رہے ہیں جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے، اور اس دعا میں خاص طور پر یہی نام لے رہے ہیں:﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾
یہیں مجھے پہلا سرا ملا:الوہّاب وہ ہے جو وہ عطا کرتا ہے جو انسان کے تصور سے بھی آگے ہو،چاہے کچھ اسباب موجود ہوں یا زمین کے تمام قوانین جواب دے چکے ہوں۔
سلیمانؑ نے رزق میں اضافہ نہیں مانگا، بلکہ معمول سے ہٹ کر اقتدار مانگا، ہوا اور شیاطین پر تسلط مانگا۔اور اس ناممکن دعا کی کنجی تھا: الوہّاب۔
پھر یہ دھاگا مجھے انبیاء کے گھروں تک لے گیا، جہاں میں نے دیکھا کہ انسانی رشتوں میں سب سے نازک اور قیمتی رشتہ، یعنی اولاد، سراسر ایک الٰہی عطیہ ہے۔
میں نے ابراہیمؑ کو بڑھاپے میں یہ کہتے سنا:﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ﴾"بڑھاپے میں"جب جوانی ڈھل چکی تھی اور اسباب سوکھ چکے تھے،
تب الوہّاب نے اعلان کیا کہ اس کی عطا نہ عمر کی پابند ہے اور نہ حیاتیاتی قوانین کی۔
یہی منظر زکریاؑ کے ساتھ دہرایا گیا، اور پھر ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایا:﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾یہاں میں نے جانا کہ اولاد محض حیاتیاتی نتیجہ نہیں،بلکہ ایک ربانی ہدیہ ہے،جو ناامیدی کی انتہا سے بھی پھوٹ سکتا ہے،تاکہ انسان اپنے علم اور طب پر گھمنڈ نہ کرے۔
پھر یہ قرآنی دھاگا مجھے نصرت اور رفاقت تک لے گیا۔موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا:
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا﴾یہاں میں ٹھٹھک گیا۔یہاں تک کہ نیک ساتھی، مضبوط بازو، اور مشکل وقت کا سہارا بھی اللہ کی عطا ہے۔
تب میری نظر اپنے دوستوں اور بھائیوں پر بدل گئی۔اب وہ محض سماجی اتفاق نہیں رہے،
بلکہ وہ ہبات بن گئے جو الوہّاب نے میرے لیے چن لیں۔
پھر یہ سفر مجھے اس سے بھی بلند مقام تک لے گیا:عقل، فہم اور نورِ حکمت۔
موسیٰؑ کہتے ہیں:﴿فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾سمجھ اور بصیرت،یہ محض موروثی ذہانت نہیں،نہ صرف مطالعے کا نتیجہ،بلکہ ایک نور ہے جو اللہ جس کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے۔اسی لیے اہلِ علم یہ دعا کرتے ہیں:
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا… وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾
کیونکہ ہدایت خریدی نہیں جا سکتی،اور اس پر قائم رہنا ہماری مہارت نہیں،بلکہ اس کی مسلسل عطا ہے۔
سورۃ الشورٰی میں یہ اصول اور واضح ہو گیا:﴿يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾یہ لفظ "یَهَبُ"انسان سے اختیار کا وہم چھین لیتا ہے۔
اولاد ہماری ملکیت نہیں،بلکہ ایک امانت ہے،جس پر فخر نہیں، شکر واجب ہے۔
اسی طرح عباد الرحمن کی دعا میں بھی:﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾
کیونکہ جتنا بھی انسان کوشش کرے،دلوں کی اصلاح اس کے ہاتھ میں نہیں،یہ بھی الوہّاب کی عطا ہے۔اس قرآنی تدبر نے میری نظر بدل دی۔
میں نے جانا کہ الوہّاب وہ ہے جو مانگے بغیر دیتا ہے،بلا معاوضہ نوازتا ہے،اور بلا غرض عطا کرتا ہے۔وہ انہیں بھی دیتا ہے جو اس سے امید نہیں رکھتے،تو جو اس سے امید رکھے، اس کا کیا حال ہوگا؟
اب ناامیدی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔کیونکہ جس رب نے یحییٰؑ کو بڑھاپے اور بانجھ پن میں عطا کیا،وہ آج بھی وہی ہے۔میں نے سیکھ لیا کہ اللہ سے اپنے عمل کے سہارے نہیں،
اپنے فقر کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔اور اس سفر کے اختتام پر میرا دل گواہی دیتا ہے
کہ میرے سینے کی ہر سانس،میرے ذہن کی ہر چمک،میرے دل کا ہر سکون اس کے نام الوہّاب کا فیضان ہے۔
اے اللہ!اگر میں اپنے عمل کے سبب مانگنے کے لائق نہیں،تو تو اپنے جود وسخاکے سبب دینے کے لائق ہے۔ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما،ہمارے معاملات سنوار دے،اور ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں کا شکر گزار بنا۔اور درود و سلام ہو محمد ﷺ پر،جو ہدایت کے امین ہیں۔