آواز دوست
عمل ، رد عمل اور نفسياتی عوامل
محمد صديق بخاری
و ہ دونوں ہم عمر تھے – اُن كی شادی كے بتيس برس بہت ہنسی خوشی گزرے تھے – ستاون برس كی عمر ميں وہ حج كے ليے روانہ ہوئے – اس دوران ميں ان كی جوانی اور عمر كے پلوں كے نيچے سے بہت سا پانی بہہ چكا تھا- بيوی كے گھٹنوں ميں درد نے ڈيرے ڈال ديے تھے اس كی وجہ سے نہ صرف يہ كہ اس كی چال ميں لڑكھراہٹ آ گئی تھی بلكہ اس كے ليے زيادہ چلنا پھرنا اور سيڑھيا ں چڑھنا بھی مشكل ہو گيا تھا-
حج كا سفر ايك مشقت كا سفر ہے – ان كی رہائش مكہ مكرمہ كے نواحی محلے عزيزيہ ميں تھی جہاں سے دو بسيں بدل كر حرم پہنچنا ہوتا تھا- بس كی سيڑھياں چڑھنا اور اترنا اس كی بيوی كے ليے ايك مسئلہ تھا – وہ اسے سہارا دے كر بس ميں سوا ر كرواتا اور اسی طرح سہارا دے كر نيچے اتارتا- يہ منظر ديكھ كر بہت سے لوگ پوچھ بيٹھتے ،كيا يہ آپ كی والدہ ہيں؟
حج كے بعد ان كی زندگی كے كچھ سال ابو ظبی ميں بھی گزرے تھے- ان كے سامنے والے فليٹ ميں ايك انڈين نرس رہا كرتی تھی جس كی زبان مالا باری تھی اور وہ اپنی زبان اور انگلش كے سوا كچھ نہ سمجھتی تھی – كبھی آتے جاتے اس سے ہيلو ہائے ہو جاتی – وہ اُس كی بيوی كو اكثر لڑكھڑاكر چلتے ہوئے بھی ديكھا كرتی ليكن اس سے بات چيت نہ ہو پاتی كيونكہ اس كی بيوی انگلش سے نابلد تھی – ايك دن وہ اپنی بيٹی كے ساتھ لفٹ ميں آ رہا تھا كہ اس ہمسائی سے ملاقات ہو گئی – ہيلوہائے كے بعد وہ پوچھنے لگی كہ آپ كے ساتھ جو بوڑھی خاتون رہتی ہيں ،كيا وہ آپ دونوں كی امی ہيں؟بيٹی نے يہ بات سن كر ہنستے ہوئے چہرہ دوسری طرف كر ليا ليكن اس نے فوراًوضاحت كر دی كہ نہيں وہ ميری بيوی ہے اور بيٹی كی طرف اشارہ كر كے كہا كہ اِس كی امّی ہے -ليكن اس نے يہ بات اپنی بيوی كو كبھی نہ بتائی كيونكہ اسے محسوس ہو رہا تھا كہ اس كے ليے اس كو برداشت كرنا بہت مشكل ہو گا-اور اس سے چند برس پہلے جب كہ شايد وہ دونوں پچپن برس كے ہوں گے، وہ پاكستان ميں اپنی بيوی كو گھٹنوں كے علاج كےليے آرتھو پيڈك ڈاكٹر كے پاس لے كر گيا تھا- وہ ڈاكٹر كو اپنی حالت بتاتی رہی جبكہ وہ خاموش بيٹھا رہا- بعد ميں ڈاكٹر نے اس سے پوچھا كہ يہ آ پ كے ساتھ كون ہيں – اُ س نے بتايا كہ ميرے ہسبينڈ ہيں- ڈاكٹر نے دونوں كو پھر سے ايك نظر ديكھا اور اُ س سے كہنے لگا كہ ہسبينڈ تو بہت جوان ركھے ہوئے ہيں- اس واقعے سے ايك سال قبل بھی اسی طرح كا مذاق ہو ا تھا-ہوا يوں كہ جب وہ اپنے دوسرے بيٹے كی منگنی كرنے شيخوپورہ پہنچےتو پہلے اس كی اہليہ گھر ميں داخل ہو ئی اور پيچھے وہ ،اپنے بيٹے كے ساتھ – بيٹے كی ہونے والی ساس پوچھنے لگی كہ بيٹے كےوالد صاحب نہيں آئے ؟ اہليہ نے بتاياكہ يہی تو والدہيں جو بيٹے كے ساتھ ہيں تووہ كہنے لگيں ، ميں سمجھی كہ اس كے بڑے بھائی ہيں-
اسی طرح كی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتيں وہ سنتی بھی رہی اور ديكھتی بھی رہی اور اس كے دل ميں ان باتوں كا لاوہ پكتا رہا اور جب 60 برس كی عمر ميں وہ ابو ظبی سے پاكستان منتقل ہو ئے تو يہ لاوہ پھٹ پڑا- اس كی بيوی نے اسے كہنا شروع كر ديا كہ داڑھی كو رنگنا چھوڑ ديں – اسی طرح وہ اكثر يہ بھی كہنے لگ گئی كہ آپ جوان بننے كی كوشش نہ كياكريں جبكہ حقيقت يہ تھی كہ اُ س نے سوائے داڑھی كو خضاب كرنے كے اور كوئی بھی كوشش جوان بننے كی نہ كی تھی –سر كے بال تو اُس كے قدرتی طور پر ہی سياہ تھے اور چال ڈھال بھی جوانوں والی تھی – اور چال ڈھال كا بھی اسے تب پتہ چلاجب اس كی بہو نے اسے بتايا كہ اُس كی چال ميں بوڑھوں والی كوئی بات بھی نہيں – اس نے عرض كيا كہ يہ ميرے اللہ كا كرم ہے اس ميں ميرا كوئی بھی كمال نہيں اور پھر ہنستے ہوئے اپنی بہو كو بتاياتھاكہ اب اگر وہ 60 برس كی عمر ميں 40 برس كا لگ رہا ہے تو اس نے وہ دور بھی ديكھا ہےكہ جب 25 برس كی عمر ميں لوگ اسے 50 برس كا سمجھا كرتے تھے اور شايد يہ اسی پرانی ذہنی اذيت كی اللہ نے بڑھاپے ميں تلافی كر د ی تھی –
اب جب كہ اس كی داڑھی بھی سفيد ہو گئی ہے ،جسم پہ لباس بھی ڈھيلا ڈھالا اور سر پہ ٹوپی بھی آ گئی ہے پھر بھی اس كی بيوی كی تسلی نہيں ہوتی اور وہ اُ سے مزيد بوڑھا ديكھنا چاہتی ہے اور وہ اسے ہنس كر كہتا ہے كہ كيسا عجيب منظر ہے كہ لوگوں كی بيوياں اپنے خاوندوں كو جوان ديكھنا چاہتی ہيں اور جبكہ ميری بيوی جلدی سے مجھے بوڑھا ديكھنا چاہتی ہے –
بہر حال يہ ساری باتيں بتانے كا مقصد نہ تو اپنی بيوی كی رام كہانی سنانا مقصو د ہے اور نہ ہی اپنی ، كہنا صرف يہ ہے كہ جب بھی آپ كسی نارمل انسان كی كو ئی ابنارمل بات ،مطالبہ ، رويہ يا جھنجلاہٹ ديكھيں تو جان جائيے كہ اس كے پس منظر ميں ضرور كوئی نہ كوئی نفسياتی عامل ياعوامل كام كر رہے ہيں- جب تك ان كو تلاش نہ كر ليا جائے نہ ہی عمل كو كما حقہ سمجھا جا سكتا ہے اور نہ ہی يہ فيصلہ كيا جا سكتا ہے كہ رد عمل كيا ہونا چاہيے – رد عمل سے پہلے ان نفسياتی عوامل كو جاننے كی كوشش كيجيے يقين جانيے كہ ان كو جا ن جانے سے نہ صرف آپ ميری طرح مطمئن ہو جائيں گے بلكہ آپ پريشان اور جھنجھلائے بغير دوسرے شخص كی بہتر طريقے سے مدد بھی كر سكيں گے -